قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کافیصلہ کن کردار

دنیامیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی کو سراہا اور تسلیم کیا جا رہاہے۔ پاکستان اگر دہشت گردوں بشمول القاعدہ کا مقابلہ کا میابی سے نہ کرتاآج دنیا میں امن نہ ہوتا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی قربانیوں اورکردار کوکسی صورت نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔جس وقت دنیا تذبذب یاکنفیوژن کاشکار تھی، پاکستان نے ایک دوٹوک اورواضح پالیسی بنائی ،افغانستان اورپاکستان کے بارڈر پرچھپے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنزشروع کیے، جامع حکمت عملی ترتیب دی اوردہشت گردوں کاقلع قمع کردیا۔ایک طرف القاعدہ اوردولت اسلامیہ جیسی تنظیموں کانیٹ ورک تھاجو، عرب ممالک ،افریقہ اوربعض یورپی ممالک میں پھیلاہواتھا۔داعش یورپ اورافریقہ سے دہشت گردوں کوبھرتی کرکے شام اورعراق بھیج رہی تھی۔ …مسلمانوں کوبدنام کرنے کاباعث بن رہی تھی ۔دوسری طرف بھارت ،پاکستان کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہاتھا۔ان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )،بلوچستان لبریشن آرمی اوربعض دوسری بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں شامل تھیں۔یہ تنظیمیں سرکاری تنصیبات اوربے گناہ شہریوں ،سکیورٹی فورسز کونشانہ بنارہی تھیں ۔ دہشت گردی کایہ نیٹ ورک بھارت کی سرپرستی میں افغانستان سے چلایا جارہا تھا۔ پاکستان نے اس معاملے کوکئی بار بین الاقوامی فورمز اوراقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پراٹھایا،بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت بھی اقوام متحدہ کے حوالے کیے۔ہمیں اب تک اس بات کاانتظارہے کہ عالمی برادری بھارتی دہشت گردی کانوٹس لے گی اوربھارت پرپابندیاں عائد کی جائیں گی۔پاکستانی قوم یہ سوال بھی پوچھ رہی ہے کہ کیاعالمی برادری دہشت گردتنظیموں کی مدد کرنے کے جرم میں بھارت پرپابندیاں لگانے کے لیے پاکستان کی مدد کریں گے؟کیاایف اے ٹی ایف بھارت کوبلیک لسٹ کرے گی یا امریکہ اورمغربی ممالک چین سے دشمنی کے چکرمیں بھارت کی مدد جاری رکھیں گے؟
  افغانستان میں افغان طالبان کی فتح اورسابق صدراشرف غنی کے فرارہونے کے بعد امید ہے کہ طالبان ان دہشت گردگروپوں کوختم کریں گے جنھیں دلی سے آپریٹ کیاجارہاتھا،اشرف غنی کے دورمیں افغانستان سازشوں کاگڑھ بن گیا تھا۔ طالبان رہنماؤں نے دنیا کواس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ امیدہے کہ افغانستان میں جلد ایک  وسیع البنیاد حکومت قائم ہوجائے گی ،جوبھارت کے زیراثرنہیں ہوگی۔افغانستان میں بھار ت نوازحکومت کے خاتمے کے بعد وہاں موجود بھارتی دہشت گردی نیٹ ورک بھی ٹوٹ گیاہے۔بھارتی میڈیا بھی اپنے وزیراعظم نریندرمودی سے سوال کررہاہے کہ اربوں ڈالرخرچ کرکے حاصل کیاہوا؟ سوائے رسوائی اوربدنامی کے افغان عوام نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کومسترد کردیا۔بھارتی میڈیا چیخ رہاہے، کل تک بڑھکیں مارنے والے مود ی آج خاموش ، حیران و پریشان ہے۔
    دہشت گردوں نے چند سال پہلے عراق کے کچھ علاقوں میں عارضی کامیابی کے بعددولت اسلامیہ کی شکل اختیارکرلی تھی اوراس کامقصد خلافت کاخودساختہ نظام دیگرمسلم ممالک میں بھی نافذکرناتھا۔ القاعدہ اوردیگر دہشت گروپوں میں قربت بڑھی یابڑھائی گئی۔ بھارت نے خطے میں اپنے مقاصدکے لیے دہشت گردوں کی مدد شروع کردی ،بھارت پاکستان میں انتشاراوردہشت گردی پھیلارہاتھا۔پاکستان کے لیے یہ فیصلے کی گھڑی تھی ، ان دہشت گردگروپوں کے خلاف کیا حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ حکومت اورعسکری قیادت نے ایک مربوط فیصلہ لیااورٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کوبڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان برداشت کرناپڑا۔آرمی پبلک سکول پشاور جیساسانحہ بھی ہوا،لیکن قوم دہشت گردوں کے خلاف ڈٹی رہی ،دنیاکویقین نہیں تھاکہ پاکستان تنہاان دہشت گرد گروپوں کاقلع قمع کردے گا،آج دنیاپاکستان آرمڈ فورسزکی صلاحیتوں پردنگ ہے۔عزم ،حوصلہ اورقربانی کاجذبہ ہوتومشکل سے مشکل اورناممکن کام کو بھی ممکن بنایاجاسکتاہے۔بعض دہشت گرد گروپوں اورٹی ٹی پی کے بیس کیمپ افغانستان میں تھے جہاں اشرف غنی کی حکومت انھیں ختم کرنے میں ناکام ہوگئی تھی ،کچھ بھارتی دباؤ اورسازشیں تھیں ،ایک نہیں کئی شہروں میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے سیل اورتربیتی مراکز کام کررہے تھے جوان دہشت گردگروپوں کوہرقسم کی مددفراہم کررہے تھے۔ ایک طرف پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہاہے تودوسری طرف بھارت دہشت گردگروپوں کواسلحہ اورپیسہ فراہم کرکے پاکستان میں داخل کررہاتھا۔اس بات کااعتراف امریکی جریدے فارن پالیسی کے ایک شمارے  نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کیااوربھارت اور داعش کے گٹھ جوڑ کو عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔افغانستان میں داعش اورٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کوبھارت کی مکمل سپورٹ حاصل رہی ہے۔بھارت پاکستان میں دہشت گردی بھی کرواتا رہا اور پاکستان پرپابندیاں لگوانے کی سازشیں بھی کرتارہا۔ان دہشت گردکارروائیوں کے باعث قوم کوسترہزارجانوں کی قربانیاں دینے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالرکانقصان بھی برداشت کرناپڑا۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے گرفتاری کے بعد کئی راز اُگلے اوراس بات کااعتراف کیاکہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان میں دہشت گردی کراتی رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا21اگست کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہنابالکل درست ہے کہ ''تمام ترمشکلات کے باوجودآج کاپاکستان اقوام عالم میں مضبوط اورترقی کرتا ہوا پاکستان ہے ۔ پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے،پاکستان کوتنقید کانشانہ بنانے کی کوششوں پرخاموش نہیں رہ سکتے ۔یہ سازشیں کرنیوالے وہی ہیں جوعلاقائی امن میں رکاوٹ ہیں ۔ دشمن قوتوں نے ہائبرڈ وار کے ذریعے پاکستان کوکمزورکرنے کی سازشیں کیں۔ جنگ کی نوعیت مسلسل بدل رہی ہے،مستقبل کی جنگ میں غیرروایتی اندازجنگ کااہم کردار ہوگا''۔ پاکستان نے ایک طرف دہشت گردتنظیموں کے خلاف جنگ لڑی تودوسری طرف اپنے خلاف ہونیوالی پروپیگنڈہ وار کابھی سامنا کیا۔ پاکستان ففتھ جنریشن وارفئیرکا مقابلہ بھی کررہاہے۔
 سی پیک منصوبوں کاآغازہواتوبعض ممالک نے اس کی شدیدمخالفت کی اورچین کے ون  بیلٹ ون روڈ منصوبے کے خلاف سازشی مفروضے پیش کرناشروع کردیں۔مغربی ممالک کی طرف سے پاکستان پردباؤ  ڈالاگیاکہ ان منصوبوں سے علیحدہ ہوجائے،لیکن حکومت نے ان منصوبوں کوجاری رکھنے کافیصلہ کیا۔بھارت بھی سی پیک منصوبوں کواپنے مفادات کے خلاف سمجھتاہے،وہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اورجدید انفراسٹرکچر قائم ہونے پرپریشان ہے ،سیدھی سی بات ہے پاکستان کی ترقی بھارت کوایک آنکھ نہیں بھاتی۔بھارت،چین اورپاکستان کی مستحکم دوستی سے پریشان ہے،جب بھارت سی پیک منصوبوں کو نہ  رکوا سکا،اس نے دوبارہ دہشت گردی کاسہارا لیا۔ان منصوبوں اورچینی ماہرین کو نشانہ بناناشروع کردیا، داسو بس پر ہونے والادہشت گر دحملہ اس کاایک ثبوت ہے ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اس حملے میں بھارت اورافغانستان کی خفیہ ایجنسیاں ملوث تھیں۔داسو بس حملے کے چند ہفتوں بعد ہی 21اگست کوگوادرمیں چینی قافلے پرخودکش حملہ کیاگیا،اس حملے میں دوپاکستانی بچے شہید ہوگئے،جبکہ ایک چینی زخمی ہوا،سکیورٹی پرمامورجوانوں نے بروقت کارروائی کرکے بڑے سانحے سے بچالیا۔


خطے اوردنیامیں قیام امن کے لیے عالمی برادری کوپاکستان کی مدد اورحمایت جاری رکھنی چاہیے تاکہ دہشت گردوں کے جوبچے کھچے گروپ رہ گئے ہیں ان کابھی صفایاکیاجاسکے۔پاکستان دہشت گردتنظیموں سے لڑنے اورانھیں شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتاہے،یہ بھی ثابت ہوگیاہے کہ امریکہ اورنیٹونے دہشت گردی کے خلاف جتنے وسائل اورڈالرز ضائع کیے پاکستان نے اس کاصرف ایک فیصد خرچ کرکے دہشتگردی کاخاتمہ کردیا۔امریکی میڈیا اورامریکی حکام اس بات کااعتراف کررہے ہیں کہ وہ افغان فوج کواس قابل نہیں بناسکے کہ وہ اپنے ملک کادفاع کرسکیں،وقت آنے پرافغان فوجی ہتھیارڈال کراپنے گھروں کوچلے گئے۔


 غیر سرکاری تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار اکنامک اینڈ پیس کی ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے باعث عالمی معیشت کوکئی سو ارب  ڈالرسے زیادہ کانقصان پہنچ چکاہے۔کئی صنعتیں تباہ ہوگئیں۔دولت اسلامیہ کی دہشت گردکارروائیوں کے باعث بہت سے یورپی اورعرب ممالک میں خوف ہراس میں اضافہ ہوا۔چند سال قبل داعش کے کچھ جنگجوؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کابھی رخ کیا۔تاہم انہیں ناکامی ہوئی۔عراق،افغانستان،لیبیااورشام میں لڑی گئی جنگ میں آٹھ لاکھ افراد مارے گئے جبکہ تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کواپناگھربارچھوڑ کردوسرے ممالک ہجرت کرناپڑی۔  ایک ترقی پذیرملک ہونے کے باعث معاشی دباؤ کابھی شکارہوئے لیکن ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت گئے ۔ہم نے نہ صرف اپنے ملک کے اندرموجود مختلف دہشت گرد گروہوں کاخاتمہ کیابلکہ انہیں پاکستان کے اندرداخل ہونے سے روکنے کے بھی اقدامات کیے۔  افغانستان اورپاکستان کے درمیان ایک طویل اور مشکل ترین سرحد ہے،جو 2640 کلومیٹرہے،حکومت نے دہشتگردوں کی آمد روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پرباڑ لگانے کافیصلہ کیا جس پرفوری طورپرکام شروع کردیاگیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق نوے فیصد کام مکمل کرلیاگیاہے،جبکہ دشوارگزار علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔دہشت گردوں کے سرغنہ جانتے تھے کہ باڑ لگانے کاکام مکمل ہوگیا توپاکستان میں کارروائیاں کرنامشکل ہوجائیں گی۔انہوں نے باڑرکوانے کے لیے ہرحربہ استعمال کیا،سکیورٹی فورسزکونشانہ بنایاگیا جس میں ہمارے کئی افسراورجوان شہید ہوگئے لیکن کام جاری رہا،اب یہ کام کافی حدتک مکمل ہوگیا ہے اورہماری افغان سرحد محفوظ ہے،افغان سرحد کے بعد پاک  ایران بارڈرپربھی باڑلگانے کاکام جاری ہے۔اس کافائدہ ایران اورپاکستان دونوں کوہوگا۔
 پاکستان کی کوششوں اورقربانیوں سے آج خطے سے دہشت گرد تنظیموں کاخاتمہ ہوچکاہے،ان میں داعش ،القاعدہ اورٹی ٹی پی جیسے منظم گروہ شامل تھے جوچنددہشتگرد بچ گئے ہیں وہ بھی جلداپنے انجام کوپہنچیں گے۔بدقسمتی سے ان تینوں عالمی دہشت گردتنظیموں کامرکز افغانستان بن گیا تھا۔ داعش اورالقاعدہ نے دنیابھرمیں جس طرح تباہی مچائی سب کے سامنے ہے۔پاکستان نے کم وسائل کے باوجود جذبے اورجانی ومالی قربانیاں دے کریہ جنگ جیتی ہے۔ابتدا میں عالمی سطح پروہ پذیرائی نہیں ملی جس کی قوم کوتوقع تھی۔کچھ ممالک کی جانب سے پاکستان پرڈبل گیم کاالزام بھی لگایا گیا، باربارڈومور(Do more)کامطالبہ کیاگیا۔آج پوری دنیا پاکستان کے کردار کی تعریف کررہی ہے۔پاکستان کے دوست چین نے ہمیشہ اورہرمشکل میں پاکستان کاساتھ دیاچین نے کئی مرتبہ عالمی برداری سے مطالبہ کیاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اورقربانیوں کااعتراف کرناچاہیے۔
خطے اوردنیامیں قیام امن کے لیے عالمی برادری کوپاکستان کی مدد اورحمایت جاری رکھنی چاہیے تاکہ دہشت گردوں کے جوبچے کھچے گروپ رہ گئے ہیں ان کابھی صفایاکیاجاسکے۔پاکستان دہشت گردتنظیموں سے لڑنے اورانھیں شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتاہے،یہ بھی ثابت ہوگیاہے کہ امریکہ اورنیٹونے دہشت گردی کے خلاف جتنے وسائل اورڈالرز ضائع کیے پاکستان نے اس کاصرف ایک فیصد خرچ کرکے دہشتگردی کاخاتمہ کردیا۔امریکی میڈیا اورامریکی حکام اس بات کااعتراف کررہے ہیں کہ وہ افغان فوج کواس قابل نہیں بناسکے کہ وہ اپنے ملک کادفاع کرسکیں،وقت آنے پرافغان فوجی ہتھیارڈال کراپنے گھروں کوچلے گئے۔افغانستان میں امریکہ اورنیٹوفورسز کوجس مشکل صورتحال کاسامناکرناپڑا وہ دنیاکے سامنے ہے۔امریکی صدرجوبائیڈن نے بھی اپنے بیان میں اس بات کوتسلیم کیاکہ وہ افغان فوج میں لڑنے کاجذبہ پیدانہیں کرسکے۔امریکہ کی تمام ترکوششوں کے باوجود القاعدہ اورداعش،افریقہ ،لیبیا،شام اورعراق میں موجود ہے۔ پاکستان کی دلیر اور باہمت آرمڈ فورسز کی وجہ سے ان دونوں دہشت گردتنظیموں کانیٹ ورک ختم کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے افغانستان کاچیمپیئن بننے کی کوشش کی لیکن افغان عوام نے اسے دھتکاردیا،جلد ہی امریکہ کوبھی اس بات کااحساس ہوگیاکہ افغانستان کی بدلتی صورتحال میں بھارت کاکردار'بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ 'کاہے۔بھارت کانہ افغانستان سے کوئی تعلق تھااورنہ افغانیوں سے، لیکن شادی میں شریک بھانڈوں کی طرح سب سے زیادہ شوروہ مچارہاتھا۔جب دنیاکواس بات کااحساس ہواتواسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کرپھینک دیاگیا۔
افغانستان میں طالبان کی فتح اور وسیع البنیاد حکومت کے بعد امید ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔افغانستان جوبھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے جنت بن گیاتھااب اس کے لیے جہنم ثابت ہوگا۔افغان طالبان اورداعش کے درمیان نظریاتی اورعسکری اختلافات موجود ہیں۔ماضی میں دونوں میں کئی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔افغان طالبان کواب القاعدہ اوردیگرعالمی دہشت گردگروپوں سے تعلقات بنانے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ عالمی برادری  کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلناچاہتے ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ہمارا بڑاہدف خطے میں مکمل امن اورترقی ہے۔چین ،پاکستان،ایران ،افغانستان اورترکی مل کراس خطے کومغربی ممالک کے مقابلے میں ایک نئی معاشی قوت بناسکتے ہیں افغانستان میں امن کے بعد سنٹرل ایشیاتک ترقی کے دروازے کھل جائیں گے۔پاکستان نے خودمختارپالیسی اختیارکی، دہشت گرد تنظیموں کو شکست دی اورخطے میں امن بھی قائم کیا۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 354مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP