متفرقات

خاطر غزنوی اور سات کا ہندسہ

جناب خاطر غزنوی کی ولادت تو 31اکتوبر 1925کو ہوئی تھی مگر بلدیہ پشاور میں ان کے نام کا اندراج 5نومبر 1925 کو ہوا تھا۔ وہ ہر مہینے کی 16تاریخ کو خوف زدہ رہا کرتے تھے۔ ایک انجانا اندیشہ سارا دن انہیں اپنے حصار میں لئے رہتا تھا۔ کیا 16دسمبر 1971کا المیہ مشرقی پاکستان آپ کو آزردہ رکھتا ہے؟ میں نے استفسار کیا!! وہ بولے: ’’سقوط ڈھاکہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہمارا آپ کا سانجھا دکھ ہے۔ مگر میرا کرب میری ذات سے جڑا ہوا ہے۔ وہ اس طرح کہ 16دسمبر 1962 کو میرے والد فوت ہوئے۔ جبکہ 16فروری 1966کو والدہ صاحبہ کی وفات ہوئی اور بیوی 16جون 1990کو ہمیشہ کے لئے عدم سدھار گئی۔ یہی وجہ ہے کہ میں 16تاریخ کو کسی نئے سانحے کے لئے خوف زدہ رہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا! علم الاعداد کی روشنی میں سولہ کا سنگل عدد سات بنتا ہے۔ پاکستان کی بدنصیبی کا عدد بھی سات ہی ہے۔ آپ کی ولادت کی بلدیہ میں رجسٹریشن بھی 5نومبر یعنی پانچ گیارہ کو ہوئی جس کا سنگل عدد سات ہے۔ جبکہ ولادت کا سن 25ہے سنگل عدد اس کا بھی سات ہی ہے۔ لہٰذا آپ کے خوف کا دن 16نہیں سات ہے۔ انہوں نے کہا۔ تیرا کیا خیال ہے اب مہینے میں دو دن میں خوف زدہ رہا کروں؟ خاطر صاحب نے وضاحت چاہی۔ میں نے کہا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ ساتویں مہینے یعنی جولائی کا سارا مہینہ ابتلاء میں گزارنا پڑا کرے گا۔

 

میری اُن سے پھر آخری ملاقات 7مئی 2006کو پشاور کی گلبہار کالونی میں اُن کے گھر پر ہوئی۔ طبیعت میں اضمحلال کے باوجود اس روز ڈیرہ اسماعیل خان کی قرطبہ یونیورسٹی میں وہ مشاعرہ پڑھنے گئے ہوئے تھے۔ فون پر بات ہوئی تو فرمایا تم گھر بیٹھو میں ایک گھنٹے تک پہنچ جاؤں گا ا ور پھر آتے ہی مجھ سے کہا ’’میں تمہارے علم الاعداد کی بالکل بھی پروا نہیں کرتا۔ اب میں سات تاریخ کو خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ اس دن کے خوف کو بھول جاؤں۔‘‘

 

وہ بہت بڑے استاد تھے۔ ساری عمر انہوں نے علم و نور تقسیم کیا۔ میں انہیں کیسے بتاتا کہ علم الاعداد میرا نہیں ہے۔ یہ باقاعدہ ایک علم ہے۔ طبری کی ایک روایت کے مطابق جب اﷲ تعالیٰ نے چھ دنوں میں ساری کائنات بنائی تو ہر دن کا ایک نام تھا۔ مثلاً ابجد‘ ہوز‘ حطی‘ کلمن‘ سعفص اور قرشت ۔ خاطر صاحب بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے مگر خود کو ڈھارس بندھانے کے لئے سات تاریخ کو ضرورت سے زیادہ مصروف رہنے لگے تھے۔ آخر کب تک وہ ایسا کرتے، دھیرے دھیرے پھر ان کا وہم حقیقت میں ڈھلتا چلا گیا۔ 2008 میں جب وہ فوت ہوئے تو ساتویں مہینے کی سات تاریخ تھی۔

 

پروفیسر ڈاکٹر خاطر غزنوی کا حقیقی نام مرزا ابراہیم بیگ تھا۔ وہ اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کا کوئی بہن بھائی حتی کہ چچا، تایا، پھوپھو بھی نہیں تھیں۔ ان کے والد حاجی مرزا عبدالکریم جو گورنمنٹ کنٹرکٹر تھے، وہ بھی اکلوتے تھے۔ وہ شلوار قمیض پر واسکٹ پگڑی اور نکٹائی لگایا کرتے تھے۔ خاطر غزنوی کی ادب کے لئے غیرمعمولی خدمات تھیں۔ وہ ایک رجحان ساز شاعر تھے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر 45کتابیں لکھیں۔ ان کی کتابوں کا بنیادی موضوع معاشرہ ہے۔ وہ انسانی اقدار اور محبت کے جذبے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ ان کی فعال زندگی تین ادوار میں منقسم رہی۔ وہ 1943سے 1947تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے اور تقسیم برصغیر پاک و ہند کے بعد 1947سے 1962تک ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرتے رہے اور پھر 1962سے 1984تک وہ پشاور یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو اور صدر شعبہ چینی زبان بھی رہے۔ وہ عربی‘ فارسی اور ملائی زبان کے بھی ماہرین میں شامل تھے۔ خاطر غزنوی ملایا یونیورسٹی ملائشیا میں بطور پروفیسر صدر نشین اردو چیئر اور مطالعہ پاکستان بھی رہے۔ پشتو معاشرے میں پروان چڑھنے والے میٹھے لہجے کے دھیمے شاعر کے گلے میں بھی اپنائیت تھی

 

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

 

میں نے ایک بار خاطر صاحب کی شخصیت میں ٹھہراؤ‘ گفتگو میں ملائمت اور لفظوں کی شیرینی کا سبب ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگے۔ ’’ساری عمر صنفِ نازک

میں گزار دی۔ بچپن ماں کی گود میں‘ چلنے پھرنے لگا تو اڑوس پڑوس کی خواتین کا لاڈلا بن گیا۔ اتفاق سے پشاور کے محلے ہشت نگری، جہاں میری ولادت ہوئی تھی، وہاں گردوپیش میں سب کی بیٹیاں تھیں۔ یوں میرا بچپن لڑکیوں میں گڑیاں کھیلتے گزرا۔ میں توکپڑے بھی لڑکیوں جیسے پہنا کرتا تھا۔ جب پہلی بار سکول گیا تو ایک سال تک فراک پہن کر جاتا رہا۔ مجھے خاص طور سے میری ضد کے پیش نظر لباس میں رعایت دے دی گئی تھی۔ پھر بچپن میں ساتھ کھیل کر بڑی ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک سے میری شادی کر دی گئی تھی۔ تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں مگر پھر تین بیٹیاں بیوہ ہو کر میرے پاس واپس آ گئی ہیں۔ آگے اُن کی بھی بیٹیاں ہیں۔ یوں میں نے ساری عمر بیٹیوں‘ لڑکیوں اور خواتین میں گزار دی ہے۔ لہجہ نرم تو ہونا ہی تھا۔

 

سراقہ بن جعشم سے روایت ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمدﷺ نے فرمایا ’’تیری وہ بیٹی طلاق پا کر یا بیوہ ہو کر تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا کوئی اس کے لئے کمانے والا نہ ہو، اگر اس کی کفالت کرے تو اس سے بڑا صدقہ کوئی اور نہیں۔‘‘

 

خاطرغزنوی سے میری پہلی ملاقات 1975 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اُن دنوں میری شاعری کے پہلے مجموعے ’’مرحلے‘‘ کا فلیپ لکھا تھا۔ پھر اسی کتاب کی تعارفی تقریب 3اپریل 1979 کو راولپنڈی میں کرنل محمد خان کی صدارت میں ہوئی۔ خاطر مہمان خصوصی تھے‘ تقریب ختم ہوئی تو وہ کہنے لگے۔ ’’پشاور جلدی جانا ہے۔ کیونکہ آج میرے بیٹے انیس کی مہندی کی رسم ہے۔‘‘میں نے حیرت سے کہا بتا دیا ہوتا نہ آتے۔ لیکن خاطر صاحب نے کمال شفقت سے کہا۔ ’’تو بھی تو میرا انیس ہے۔ تیری بھی تو آج ’’جنج‘‘ تھی۔

 

ممتاز شاعر شہزاد احمد کو خاطر غزنوی ایک خود دار انسان کہا کرتے تھے جنہوں نے بیماری کے دوران اور ضرورت کے باوجود اکیڈمی کا’’ بلینک چیک‘‘ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ خاطر صاحب کو کالم نگار ایاز امیر بھی بہت پسند تھے کہ ایاز نے اصولوں کی بنیاد پر 15اپریل 1977کو ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کا سیکنڈ سیکرٹری ہوتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

 

خاطر صاحب کو اعجاز راہی کی موت کا بہت دکھ تھا۔ انہیں اس بات کا بھی قلق تھا کہ انہیں عمر بھر کی ادبی خدمات پر ملنے والے سونے کے سارے تمغے کالے ہو گئے تھے۔ وہ تمغہ امتیاز تو تھے مگر 2008 میں ان کا نام ستارۂ امتیاز کے لئے گیا جو کاٹ دیا گیا تھا۔

 

شاعر، ادیب، صحافی، کالم نگار، محقق اور استاد خاطر غزنوی کو کتابوں اور گڑیوں سے محبت تھی۔ انہوں نے چھ ہزار کتابیں قرطبہ یونیورسٹی اور بائیس ہزار پشاور یونیورسٹی کو تحفہ دی تھیں، وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جاتے تو واپسی پر بے تحاشہ گڑیاں خرید لاتے تھے۔ خاطر صاحب تانبے کا کام (کاپرورک) بھی جانتے تھے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی میٹل ورک تصویریں بھی بنائی تھیں۔ وہ بہت اچھے فوٹو گرافر بھی تھے۔ خاطر غزنوی سید ضمیر جعفری کو درویش دوست اور جمیل الدین عالی کو قلمکار برادری کی آبرو کہا کرتے تھے۔ خاطر غزنوی کی زندگی کا آخری شعر ملاحظہ فرمائیں

 

اپنے دل میں حسرتوں کا اک جہاں لے جاؤں گا

چھوڑ جاؤں گا بہاریں اور خزاں لے جاؤں گا

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 190مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP