رپورٹ

درست فیصلہ سازی کے لیے قابلیت اور اعتماد  کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنرل قمرجاوید باجوہ


گزشتہ دنوں برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ  (RMAS) میں 213 ریگولرکمیشنگ کورس کی منعقد ہونے والی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجودہ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے سینڈہرسٹ برطانیہ کی پریڈ میں شرکت کی۔
پاس آئوٹ ہونے والے کیڈٹس میں برطانوی کیڈٹس کے علاوہ 26 مختلف ممالک کے 41 انٹرنیشنل کیڈٹس بھی شامل تھے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے دو پاکستانی کیڈٹس کیڈٹ محمد عبداللہ بابر ملک اور کیڈٹ مجتبیٰ احمد ملک بھی پاس آئوٹ ہونے والے کیڈٹس میں شامل تھے۔
کیڈٹ مجتبیٰ احمدملک کے والد بھی پاک فوج میں تھے جبکہ کیڈٹ عبداﷲ بابر ملک کے پردادا اور نانا بھی پاک فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ان کے والدِ محترم اورایک بھائی بھی پاک فوج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
رائل ملٹری اکیڈمی پہنچنے پر چیف آف آرمی سٹاف کو سلامی پیش کی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف نے پریڈ کا جائزہ لیا اور پاس آئوٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دی اور ممتاز کیڈٹس کو ایوارڈز بھی دیئے۔
اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے وہاں پر موجود سی جی ایس برٹش آرمی جنرل سَر پیٹرک سینڈرز، کمانڈنٹ رائل ملٹری اکیڈمی میجر جنرل ڈنکن کیپس ، جنرل آفیسرز، فیکلٹی ممبران اور معزز مہمانوں سے خطاب بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ سینڈہرسٹ میں سوورین ڈے پریڈ میں شرکت کرنا میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔میں تمام گریجویٹ کیڈٹس اور ان کے اہل خانہ کو اکیڈمی میں تربیت کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سینڈہرسٹ، دو سو سال سے زیادہ عرصے سے برطانیہ، دولت مشترکہ کے ممالک اور دنیا بھر سے رائلٹی کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تیار کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ دنیا کے بہترین فوجی اداروں میں سے ایک ہے جس نے عظیم ترین فوجیوں کو تیار کیا ہے۔ سینڈہرسٹ سے گریجویشن یقینا بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ آپ کے ساتھ دو پاکستانی کیڈٹس بھی فارغ التحصیل ہوں گے۔ مجھے آپ سب پربھی اتنا ہی فخر ہے جتنا مجھے ان پر فخر ہے۔



انہوں نے کہا آج یہاں میری موجودگی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گہرے تعلقات کی گواہی دیتی ہے جو باہمی احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہے جسے دونوں ممالک نے کئی دہائیوں سے احتیاط سے پروان چڑھایا ہے۔ برطانیہ میں موجود پاکستانی تارکین وطن ہمارے تاریخی تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح، دونوں مسلح افواج کے درمیان بندھن بھی منفرد طور پر خاص ہے، جو عظیم جنگوں کے میدانوں میں قائم کیا گیا ہے اور خصوصی رجمنٹل وابستگیوں اور تربیت میں قریبی پیشہ ورانہ رابطے اور دیگر عسکری سرگرمیوں کے ذریعے برسوں تک زندہ رکھا گیا ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے آفیسرکیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا آگے کا سفر چیلنجنگ اور دلچسپ ہے۔ جیسے جیسے آپ سروس میں آگے بڑھیں گے، پیشہ ورانہ فوجی خدمات کے تقاضوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ آپ کو اپنے ماتحتوں کا احترام اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو قیادت کی اعلیٰ صفات سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
یاد رکھیں، کوئی بھی پیشہ ورانہ علم لے کر پیدا نہیں ہوتا، اسے مسلسل جستجو سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر آپ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل نہیں کر سکتے جو کہ کامیاب فوجی قیادت کی پہچان ہے۔
آج ایک لیڈر کے طور پر، آپ کو مشکل فیصلے لینے اور پھر پوری ذمہ داری قبول کرنے کی ہمت اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ درست فیصلہ سازی کے لیے قابلیت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، جو صرف اعلیٰ درجے کی فوجی تعلیم، سخت تربیت اور مسلسل مطالعہ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
سر باسل لڈل ہارٹ کے الفاظ کے حوالے سے "ایک افسر جس نے فوجی تاریخ کا سائنس کے طور پر مطالعہ نہیں کیا ہے، وہ کپتان کے عہدے سے زیادہ کام کا نہیں ہے"۔
چوتھے صنعتی انقلاب کے آغاز پر مصنوعی ذہانت کی قیادت میں دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز اور مخصوص صلاحیتیں مستقبل کی جنگ کے کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہیں۔ کل کا میدان جنگ انتہائی درستگی، مہلک اور شفافیت کا حامل ہو گا جو کہ فوجی لیڈروں، خاص طور پر نوجوان افسروں کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر چیلنج ہو گا۔



میں آپ کو میدان جنگ میں کچھ ایسی حقیقتوں کے بارے میں بتاتا ہوں جو تکنیکی ترقی کے لحاظ سے محفوظ ہیں اور کبھی بھی تبدیل نہیں ہوں گی، میں چند ایک کا شمار کرتا ہوں۔
•  اپنے فوجیوں کے سامنے ایک بہادر چہرہ رکھنے کی قدر، جب آپ اندر سے ان سب کی طرح بکھرے ہوئے اور خوفزدہ ہوں۔
   جب آپ جوانوں میں حوصلہ مند رہنے کو باور کروائیں تو ان کی رہنمائی عملی طور پر کریں گے نہ کہ محض الفاظ سے۔ یاد رکھیں میدان جنگ میں افسر فرنٹ پر رہتے ہوئے اپنے جوانوں کو لیڈ کررہا ہوتا ہے افسر اپنے جوانوں کو خود سے آگے بڑھنے کا نہیں کہتا بلکہ ہمیشہ کہے گا میرے پیچھے چلو اور خود اُنہیں لیڈ کرے گا۔
   اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود کو اپنے سے پہلے رکھنے کی اہمیت، ایک کامیاب فوجی لیڈر کی پہچان ہے۔
    فیلڈ مارشل فلپ والہاس چیٹ ووڈ کے الفاظ جو میں دہرا رہا ہوں اور اس کے آخری نکتے کا نچوڑ اس سے بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا:
''آپ کے ملک کی حفاظت، عزت اور فلاح ہمیشہ اور ہر وقت سب سے پہلے آتی ہے۔جن لوگوں کو آپ کمانڈ کررہے ہوں ان لوگوں کی عزت اور فلاح اُس کے بعد اور آپ کا اپنا ذاتی سکون، راحت اور حفاظت ہمیشہ سب سے آخری ہوتا ہے۔ '' 
یہ لازوال الفاظ آج بھی پاکستان ملٹری اکیڈمی کے بریگیڈیئر فرانسس انگل میموریل ہال کی دیواروں پر نقش ہیں تاکہ ہر افسر کیڈٹ کو فوجی قیادت کے ان سنہری اصولوں کی اہمیت باور کرائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ  مسلح افواج کے وجود میں آنے کا مقصد جنگوں کے اسباب پیدا کرنا  نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ رونما ہی نہ ہوں۔ بنی نوع انسان کی تقدیر، پہلے سے کہیں زیادہ، ہماری اجتماعی صلاحیت پر منحصر ہے کہ ہم اکٹھے ہوں اور تصادم کے بجائے امن اور تعاون کا راستہ اختیار کریں۔
عالمی امن کے مفاد میں ہمیں کثیرالجہتی اداروں میں غیرجانبداری، مطابقت اور اندرونی احساس کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، عالمی عقائد کے اجتماعی دفاع پر اتفاق اور بین الاقوامی قانون کے وقار کو برقرار رکھنا چاہیے۔
آخر میں کیڈٹس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ، میں آپ کے آگے کے سفرکے لیے نیک خواہشات کی دعا کرتا ہوں۔ آپ اپنے ممالک کی عزت، وقار اور فخر کے ساتھ خدمت کریں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس شاندار پریڈ کے لیے کمانڈنٹ رائل ملٹری اکیڈمی اور ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور کمانڈنٹ رائل ملٹری اکیڈمی میجر جنرل ڈنکن کیپس کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ تحریر 116مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP