قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوشل میڈیا کامثبت اورمنفی استعمال

موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتورترین ہتھیارکے طورپرسامنے آیاہے۔اس کی اہمیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔جہاں اس کے بہت سے فائدے ہیں وہاں کئی نقصانات بھی ہیں۔اب یہ ہم پرمنحصرہے کہ ہم اس کامنفی استعمال کررہے ہیں یامثبت ،ہم جوکچھ کررہے ہیں ملک وقوم اورخود ہمیں اس  سے فائد ہ ہورہاہے یاہم دوسروں کونقصان پہنچانے کاسبب بن رہے ہیں۔پاکستان سمیت دنیابھرمیں سوشل اورڈیجیٹل میڈیاکے صارفین کروڑوں سے اربوں تک پہنچ چکے ہیں۔سوشل میڈیا نہ صرف ہمیں متاثرکررہاہے بلکہ اس کے اثرات ملکی پالیسیوں اورقوموں کے درمیان تعلقات پربھی پڑرہے ہیں۔سوشل میڈیا جنگ اورامن دونوں کے لیے بہت اہم کردار ادا کررہاہے، اس کی اہمیت سے انکارممکن ہی نہیں۔سچی بات یہ ہے کہ ہم سب کچھ نہ کچھ وقت سوشل میڈیا پرضرورگزارتے ہیں ،کہیں دوسروں کی پوسٹ اورکمنٹس دیکھتے اورپڑھتے ہیں توکہیں اپنی رائے کابھی اظہارکرتے ہیں۔ایک بات پرہم سب متفق ہیں اورکچھ پریشان بھی کہ بعض لوگ سوشل میڈیا کی آزادی کاغلط استعمال کررہے ہیں۔سوشل میڈیا کی مادرپدرآزادی کے باعث جس کے دل میں جوآتاہے وہ پوسٹ اورشیئرکرتاہے۔نہ کسی کاڈراورنہ بازپرس کاخطرہ ۔کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فازم نے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ریاستی قوانین سے بالاترہیں۔امریکہ میں بھی آج یہ بحث ہورہی ہے کہ کیاسوشل میڈیا امریکی ریاستی قوانین سے بالاترہے؟وہاں کی عدالتوں اورقانون سازوں کاکہناہے کہ ہرگزنہیں ،امریکہ کے اندرسوشل میڈیا کوامریکی قوانین کی پابندی کرناہوگی،صدرجوبائیڈن کی انتظامیہ اس کے لیے قانون سازی کررہی ہے۔عدالتیں سوشل میڈیا کے خلاف کئی فیصلے دے چکی ہیں۔
 روایتی میڈیاکے مقابلے میں سوشل میڈیاصارفین خود کو اس پابندی سے آزادسمجھتے ہیں کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ انقلاب فرانس کاجشن جاری تھاایک شخص اپنی چھڑی سے کرتب دیکھارہاتھا غلطی سے وہ چھڑی پروفیسر کی ناک کولگ گئی ،پروفیسرنے اسے ڈانٹاتووہ شخص بولا فرانس آزاد ہوچکاہے اب مجھے آزادی ہے جیسے مرضی چھڑی گھماؤں۔پروفیسر نے جوجواب دیاوہ اظہاررائے کی آزادی  کے لیے ضرب المثل بن گیا''تمھیں آزادی میسر ہے لیکن جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے،تمھاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے''۔سوشل میڈیا فیس بک ٹوئٹر،یوٹیوب ،انسٹا گرام اورٹک ٹاک وغیرہ  پرہم نے خود کوہرچیزسے آزاد سمجھ لیاہے۔یقینامیری طرح آپ بھی ایسی ایسی واہیات اورعجیب وغریب پوسٹیں دیکھتے ہوں گے جن پرعقل دنگ رہ جاتی ہے۔منفی استعمال اس حدتک بڑھ گیاہے کہ خداکی پناہ۔اپنے کھانے پینے، سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے کی پوسٹیں توقابل برداشت ہیں لیکن دوسروں کی اچھی بھلی شکل کے میمز بنانا۔مختلف سافٹ وئیر استعمال کرکے دوسروں کی تضحیک کرنا،بیانات اورباتوں کامذاق اڑانا ،گالم گلوچ ،دھمکیاں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا۔سب سے حساس معاملہ یہ ہے کہ بعض غیرذمہ داراورمجرمانہ ذہن رکھنے والے خواتین کوبھی نہیں بخشتے۔انھیں اس بات کااحساس ہی نہیں ہوتاکہ ان کی ایک جھوٹی پوسٹ کسی کی زندگی تباہ کرسکتی ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ بعض لوگ سوشل میڈیا کااس حد تک غلط استعمال کیوں کررہے ہیں ،نہ انھیں خوف خد اہے اورنہ کسی کاڈر۔کئی ممالک نے اس حوالے سے قانون سازی کرلی ہے اورسوشل میڈیا صارفین کوبھی اس بات کااندازہ ہوگیاہے کہ وہ کیاچیز پوسٹ کرسکتے ہیں اورکیانہیں ،ان کی آزادی کہاں تک ہے اورکہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آزادی کادوطرح سے غلط استعمال کیاجارہاہے ایک طرف بعض لوگ اپنی ذاتی خواہشات اورذاتی پسندوناپسندکی بنیاد پرمعاشرے میں نفرتیں پھیلارہے ہیں۔دوسری طرف بعض سیاسی ،مذہبی اورفرقہ پرست گروپ بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سوشل میڈیا کاغلط استعمال کررہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے گروپوں کامقصد ہی معاشرے میں انتشارپھیلانااورلوگوں کوآپس میں لڑاناہے۔کسی جگہ کوئی واقعہ ہوتاہے،کوئی متنازع بیان سامنے آتاہے،بس اس پرردعمل کی پٹاری کھل جاتی ہے۔ حامی اورمخالف اپنی توپوں کارخ ایک دوسرے کی طرف کردیتے ہیں۔اورسوشل میڈیا پرگھمسان کارن پڑتاہے۔ہرکوئی ایک دوسرے پربازی لے جانے کی کوشش میں تمام اخلاقیات کوپاؤں تلے رونددیتاہے۔مہذب قوموں کی طرح ہمیں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کوخود روکناہوگاتاکہ اس کی آزادی کوبرقراررکھاجاسکے۔
 کیاآپ یقین کریں گے بہت سے گروپ اورتنظیمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے ٹوئٹرپرمنفی ٹرینڈشروع کرتی ہیں اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ ایشوز ٹاپ ٹرینڈزمیں شامل ہوجاتے ہیں۔ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی متحرک ہوتے ہیں جنھیں ان ٹرینڈز کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد کاعلم ہی نہیں ہوتا۔ ایسے ایسے ٹرینڈز چلائے جاچکے ہیں کہ میرے لیے ان کے نام لکھنابھی باعث شرم ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ اپنے قومی اداروں تک کونہیں بخشا جاتاکبھی عدلیہ کے خلاف کبھی فورسز کے خلاف ٹرینڈز بنادیے جاتے ہیں۔ان ٹرینڈزکے پیچھے کوئی ایک شخص نہیں ہوتابلکہ منظم گرو ہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات ان ٹرینڈز کوبیرون ملک سے کنٹرول کیاجارہاہوتاہے۔کیاحکومت کیااپوزیشن سب کوخوب رگڑالگایاجاتاہے۔کسی لیڈر،عالم دین یادانشور کی بات پسند نہیں آتی اس پراتناطوفان بدتمیزی برپاکیا جاتاہے کہ خدا کی پناہ۔قتل کے فتوے تک جاری کردیے جاتے ہیں۔محدود وسائل کے باعث حکومت کے لیے سوشل میڈیا کی ہرپوسٹ پرنظررکھناممکن نہیں۔لیکن کیایہ سلسلہ یونہی چلتے رہنا چاہیے؟ میرا جواب ہوگا ہرگزنہیں،ہمیں آزادی کی اس لکیرسے آگے نہیں بڑھناچاہیے جوامریکہ اوریورپ میں بھی نہیں۔ان ممالک میں بھی اپنے قومی اداروں کی تضحیک نہیں کی جاسکتی۔ہرملک نے سوشل میڈیا کی آزادی کے لیے کچھ حدود وقیود مقررکردی ہیں۔جودوست یوٹیوب چینل چلارہے ہیں وہ جانتے ہیں یوٹیوب کی پالیسی کتنی سخت ہے۔یوٹیوب پرآپ یوٹیوب کی پالیسی کے خلاف ایک تصویراورایک جملہ تک نہیں بول سکتے ،یوٹیوب بغیرکسی وارننگ کے آپ کاچینل ہی بند کردیتاہے۔نہ کہیں اپیل اورنہ کہیں شنوائی ۔چاہے آپ کے اس چینل پرکروڑوں روپے لگ چکے ہوں یامہینے کی لاکھوں کی آمدنی ہو۔اسی طرح ٹوئٹراورفیس بک نے بھی اپنی اپنی پالیسیاں بنارکھی ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز کوتویہ نہیں کہاجاتاکہ وہ اپنے کاروباری مفادات کے لیے آزادی اظہارکی خلاف ورزی کررہے ہیں اورلوگوں سے ان کاحق چھین رہے ہیں۔صرف ریاستی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بنایاجاتاہے۔
 ہمیں اپنی رائے کے اظہارکی آزادی ہونی چاہیے ،یہ ہمارا حق ہے۔لیکن ہماری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں ملک وقوم کی سلامتی یادوسرے کی عزت کامعاملہ ہو۔قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنی رائے کااظہارکرتے ہوئے اخلاقیات اورملک وقوم کامفاد بھول جائیں۔ ہماری باتوں سے معاشرے میں بدامنی یاامن وامان کامسئلہ پیداہوجائے جوقوم میں نفاق اورانتشارکاباعث بنے۔ سوشل میڈیا کواس وقت دنیا کاطاقت ورترین ذریعہ سمجھاجاتاہے۔آپ  پاکستان کے کسی دوردراز گاؤں میں بیٹھے ہیں یاامریکہ یاافریقہ کے کسی علاقے میں ،اپنی بات یاکوئی خبر انٹرنیٹ کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسروں تک پہنچاسکتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کاغیرضروری استعمال  ایک نشے کی شکل اختیارکرچکاہے۔جسے یہ لت پڑجائے پھرمشکل سے ہی چھوٹتی ہے۔
     اگرآپ مجھ سے پوچھیں سوشل میڈیاکے فائدے ہیں یانقصان؟ میں آپ کویہ ہی جواب دوں گاکہ سوشل میڈیا کے بے حد فائدے ہیں۔ہمیں اس کااستعمال ضرورکرناچاہیے لیکن اپنی روایات اوراخلاقیات کے اندررہتے ہوئے۔ ہرچیز میں اعتدال انتہائی ضروری ہے۔ بلاضرورت اورگنجائش سے زیادہ آپ پانی اورچائے بھی پیتے جائیں گے تواس کابھی نقصان ہوگا۔ ایک گلاس پانی کی بجائے اگرآپ یکدم چوبیس گلاس پانی پی لیں توکیاہوگا؟ دن رات سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نہ صرف اپناوقت برباد کرتے ہیں بلکہ مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں اوردباؤکاشکاربھی ہوجاتے ہیں۔ 
  ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق سوشل میڈیاایک نشہ بن چکاہے۔سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے دماغ کاایک مخصوص حصہ متحرک ہوجاتاہے۔جسے nucleus accumbens کہتے ہیں۔ان ماہرین کے مطابق یہ حصہ اس وقت متحرک ہوتاہے جب آپ کوئی نشہ کرتے ہیں۔آپ ایک خیالی ،تصوارتی دنیامیں پہنچ جاتے ہیں آپ خود کوہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دن رات سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کواس بات کااحساس بھی نہیں ہوتاکہ وہ ایک بہت جدید قسم کے نشے کاشکارہوچکے ہیں۔اسی طرح ایک مطالعہ سے یہ ثابت ہواہے کہ دن میں چھ سے زیادہ سیلفیاں لینے والاذہنی خلل یاکسی ذہنی بیماری کاشکارہوچکاہوتاہے۔سیلفیاں لینے کاخبط ایک سِنڈروم بن چکاہے۔گذشتہ ماہ پاکستان میں ہی ایسی بہت سی خبریں آئیں کہ ریلوے لائن پرسیلفی یاٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنانے گئے لیکن ٹرین کے نیچے آکراپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھوبیٹھے ۔یقینا آپ نے بھی ایسی خبریں دیکھی یاپڑھی ہوں گی ۔اس لیے دوستوں میرا مشورہ ہے کہ سوشل میڈیاضرور استعمال کریں لیکن اعتدال اوربہت ذمہ داری کے ساتھ۔یہ آپ کے ہاتھ میں ایک تلوار یابندوق جیساہے۔آپ کی ایک غلط پوسٹ بہت سے لوگوں کونقصان بھی پہنچاسکتی ہے۔
کئی والدین نے اپنے اٹھارہ سال سے کم عمربچوں کوبھی اس بات کی اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کاآزادانہ استعمال کریں ۔جبکہ زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے ضروری ہے کہ صارف کی عمر کم ازکم اٹھارہ سال ہونی چاہیے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک مرتبہ اُس وقت کے امریکی صدراوبامہ سے کسی نے سوال کیاکہ کیاآپ کی بیٹی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے؟ ،صدراوبامہ کاجواب تھا''اس کی عمر ابھی اٹھارہ سال نہیں ہوئی، اسے ہم نے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ''۔لیکن اسی عرصے میں ،میں اپنے بہت سے عزیزوں اوردوستوں کوجانتاہوں جن کے بچے اٹھار ہ سال سے کم ہونے کے باوجود دن رات بغیر کسی روک ٹوک کے سوشل میڈیا استعمال کررہے تھے۔ امریکہ جیسے ملک میں پابندی اورپاکستان میں کوئی روک ٹوک نہیں ۔
دنیاکی بڑی خفیہ ایجنسیاں بھی سوشل میڈیا کوخوب استعمال کررہی ہیں،دوسرے ممالک میں اپنے پروپیگنڈے اورجاسوسی کے لیے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کواستعمال کیاجاتاہے،ہم اکثر یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کاساراڈیٹا کسی ادارے کوفراہم کردیاگیاہے۔آپ کویہ پڑھ کرشاید حیرت ہو کہ دنیا میں اس وقت سب سے قیمتی چیز یہ ڈیٹایااعدادوشمارہی ہیں۔یہ ڈیٹا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے بھی بہت اہم ہے ۔گوگل کوہمارے بارے میں اس حدتک معلومات ہوں گی جوشاید حکومت کے پاس بھی نہ ہوں۔گوگل ،فیس بک یایوٹیوب یہ آپ کوبہت آسانی سے یہ بات بتاسکتے ہیں کہ پاکستان کے کس شہر،علاقے یاگاؤں میں کتنے لوگ صبح کتنے بجے اٹھتے ہیں،کیاکرتے ہیں،ان کی پسندیدہ چیز کیاہے،ان کے نظریات کیاہیں؟وہ کیاسوچتے ہیں اورکیاکرناچاہتے ہیں؟پاکستان میں کوئی بھی واقعہ ہوتاہے گوگل جانتاہے کہ اس پرپاکستانی قوم کی کیارائے ہے،وہ کیاسوچ رہی ہے اورکیاچاہتی ہے۔ففتھ جنریشن وارفیئر کاتوآپ نے سناہی ہوگا۔یہ روایتی اورسوشل میڈیا کے ذریعے مسلط کی جانیوالی نفسیاتی جنگ ہے،جس میں دشمن پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتاہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیے کی یہ جنگ جیتنابہت آسان ہوگیاہے۔ 
   ایک حقیت یہ ہے کہ سوشل میڈیا یاڈیجیٹل میڈیا تیزی سے روایتی میڈیا یعنی اخبارات اورٹی وی چینلز کی جگہ لے رہاہے۔سوشل میڈیا نے ہمارا کلچرہی بدل کررکھ دیاہے۔چند سال پہلے تک پوری فیملی ایک کمرے میں ایک ٹی وی کے آگے بیٹھ کرکوئی ڈرامہ یاپروگرام دیکھتی تھی ۔ لیکن اب ہرایک کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے،یہ چلتاپھرتاٹی وی بھی ہے اورکمپیوٹر بھی بلکہ ان دونوں سے بھی بہت آگے۔اس میں لگا ہواکیمرہ ایک ویڈیو کوسیکنڈوں میں ہزاروں میل دور پہنچادیتاہے۔ پور ی دنیا حقیقی معنوں میں مٹھی میں آگئی ہے۔موبائل آن کریں دنیا کے کسی بھی ملک کاچینل ،اخبار ،فلم ،ڈرامہ یا گاناسنیں یادیکھیں۔کسی کو فٹبال میچ دیکھنا ہے یاکرکٹ میچ سب کچھ اس چند انچ کے سمارٹ فون میں مل جائے گا۔ دوسری طرف ای کامرس نے بھی شاپنگ کاطریقہ بدل کررکھ دیاہے۔اب آپ گھربیٹھے ہرچیز کاآرڈر دے سکتے ہیں۔آپ چاہیں تو ای کامرس کی ویب سائٹس کے ذریعے اپناکاروباربھی شروع کرسکتے ہیں۔حکومت کی کوششوں سے دنیاکی بڑی ای کامرس کمپنی ایمزون نے پاکستان میں کام شروع کردیاہے۔نوجوانوں کے پاس موقع ہے کہ وہ انٹرنیٹ پرتفریح کے ساتھ ساتھ کچھ وقت ای کامرس پرکام کرکے پاکستان کی ایکسپورٹ اوراپنی آمدنی بڑھانے کابھی سوچیں۔ہرچیزکے فائدے اورنقصان ہیں ،لیکن ہم نے ابھی تک سوشل میڈیا خاص کرای کامرس سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا۔
   دوسروں کی طرح سوشل میڈیاپرمیرے بھی ہزاروں دوست ہیں،لیکن ان میں سے چند ہی ہیں جومیرے حقیقی دوست ہیں اورزندگی میں عملا میری خوشی اورغمی میں شریک ہوتے ہیں۔باقی ایک تصوراتی یاورچوئل دنیا ہے۔ سوشل میڈیا پر میں نے کئی انتہائی غیرذمہ دارانہ پوسٹ دیکھی ہیں جس میں دوسروں کے مذاہب ،فرقے اورزبان کامذاق اڑایاجاتاہے۔اس قسم کارویہ کسی طوربھی قابل معافی نہیں۔مذہبی جذبات اپنی جگہ لیکن اپنی کوئی بھی پوسٹ اورکمنٹس کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کی بات کسی کادل توڑ سکتی ہے اورکسی کی جان بھی لے سکتی ہے۔آپ کہیں غلطی سے کوئی ایسی بات تونہیں لکھ رہے جس سے کسی خاص فرقے یامذہب سے تعلق رکھنے والے کی جان خطرے میں پڑجائے۔ آپ کسی سنی سنائی بات پراپنے غم وغصے کااظہارتونہیں کررہے۔آپ کی پوسٹس یاکمنٹس ایک خنجرکی طرح ہیں جوکسی کے دل میں پیوست ہوکرنفرت پھیلانے کاباعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے حددرجہ احتیاط اورذمہ داری کی ضرورت ہے۔یہ ایموجیز کادور ضرور ہے۔لیکن ان بنے بنائے ایموجیز کوسلیکٹ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیاکریں۔اس کامطلب کیاہے؟دوسرے اس بات کوبھی ذہن میں رکھیں کہ کہیں آپ اس ٹیکنالوجی کے غلام تونہیں بن گئے۔ٹیکنالوجی کواپناغلام بنائیں، آپ کاوقت بہت قیمتی ہے،اس وقت کوسوچ سمجھ کرسوشل میڈیا پراستعمال کریں۔کیاآپ اس بات کوجانتے ہیں کہ سوشل میڈیاپلیٹ فارم فیس بک ٹوئٹر،واٹس ایپ ،انسٹاگرام اوریوٹیوب وغیرہ آپ کی وجہ سے ہرسال کھربوں روپے کامنافع کمارہے ہیں۔اگرآپ سوشل میڈیا کااستعمال چھوڑدیں تویہ کمپنیاں دیوالیہ ہوجائیں گی۔ان سوشل میڈیاپلیٹ فارم کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے صارفین اس کے ساتھ جڑے رہیں اورزیادہ سے زیادہ وقت گذاریں۔ اس لیے دوستوں اپنے وقت کی قدرکریں اوراپنی ذمہ داریوں کااحساس کریں۔سوشل میڈیا کواپنے فائدے کے لیے استعمال کریں ،اس کے غیرضروری اورمنفی استعمال کوترک کردیں۔ ||


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی متعدد کُتب شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 245مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP