اداریہ

قومی سلامتی کے تقاضے

باہمی یگانگت، اتحاد، رواداری اور عدم برداشت ایسے اوصاف ہیں جن پر کوئی بھی معاشرہ مساویانہ بنیاد پر پروان چڑھتا ہوا ایک متوازن معاشرہ قرار پاتا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستانی معاشرے کی بنیاد ایسے ہی اعلیٰ ترین اصولوں پر رکھی اور ایک ایسا سماج تشکیل دینے کی کوشش کی جہاں انصاف، مساوات، برابری اور حقوق کا تعین بہت شفاف اور بہت واضح ہو اور ایک ایسا معاشرہ پنپ سکے جہاں عوام کے لئے ترقی اور آگے بڑھنے کے مواقع یکساں اور انصاف کے اصولوں کی بنیاد پر وضع کئے جائیں۔بانی ٔ پاکستان  نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلی عیدالفطر کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا''ہم نے پاکستان حاصل کر لیا ہے لیکن یہ ہمارے مقصد کی ابتداء ہے، ابھی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔حصولِ پاکستان کے مقابلے میں اس ملک کی تعمیر پر کہیں زیادہ کوششیں صَرف کرنی ہیں اور اس کے لئے قربانیاں بھی دینی ہیں۔''
وطنِ عزیز پاکستان کے قیام کے لئے قوم نے ان گنت قربانیاں پیش کیں یہ جذبہ آج بھی اسی طرح سے موجزن ہے یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد جس طرح سے دہشت گردی نے جنوبی ایشیاء اور بالخصوص پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس میں پوری پاکستانی قوم نے انتہائی بہادری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرکے دنیا پر واضح کردیا کہ ہم پاکستان کی سلامتی اور امن کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہ انہی قربانیوں کا ثمر ہے کہ آج وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقے  صوبہ پختونخوا کے اضلاع میں تبدیل ہوچکے ہیں اوراُنہیں ملک کے باقی علاقوں کے ہم پلہ بنانے کے لئے تعلیم، صحت، بہترین شاہراہیں اور دیگر حقوق کے لئے تمام مساعی بروئے کار لائی جارہی ہیں۔ اسی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی الحمدﷲ ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں عوام کے لئے بہترین تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ بہترین روڈ انفراسٹریکچریقینی بنانے کی سعی کی جارہی ہے جس سے یقینا ترقی کے مزید راستے کھلیں گے۔
 پاکستان بلا شبہ ایک ایسا گلدستہ ہے جسے باہمی محبت اور اپنائیت کے جذبوں کے ساتھ محفوظ رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سارے صوبے اس گلدستے کے خوبصورت پھول ہیں جو اپنی اپنی جگہ بہت اہم ہیں۔ یہ سب باہم مل کر ایک ایسے پاکستان کی تصویر پیش کرتے ہیں جو ہم سب کا پاکستان ہے اور اس کی سلامتی اور مضبوطی کو اوپر دئیے گئے اصولوں اور اخلاقی اوصاف کی بنیاد پر یقینی بنانا ہمارا فریضہ ہے۔
بلاشبہ ماضی میں جو خامیاں اور کوتاہیاں رہ گئی تھیں اُنہیں دور کرکے پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کسی بھی معاشرے کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے وہاں کے سماج کو انصاف، میرٹ اور ترقی کے یکساں مواقعوں کی فراہمی یقینی بنانا ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرہ اور سماج باہمی یگانگت اور ہم آہنگی پر چلتے ہوئے پاکستان کو ایک خوشحال اور مضبوط ریاست میں تبدیل کرنے میں ضرورکامیاب ٹھہریں گے۔پاکستان ہمیشہ سلامت رہے!!
 

یہ تحریر 92مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP