فکاھیہ کالم

میری کہانی، میری زبانی

 میرا نام ع ہے ، میری عمر بائیس سال ہے اور میں ایک دکان میں بطور سیلز گرل کام کرتی ہوں، ویسے اسے دکان تو نہیں کہنا چاہیے یہ عورتوں کے کپڑوں کا ایک بہت بڑا سٹو ر ہے جہاں ہر وقت رش لگا رہتا ہے ، خاص طور پر آج کل عید کے دن ہیں تو عورتیں یوں کپڑے خریدتی ہیں جیسے مفت مل رہے ہوں، ایک کے بعد ایک آنٹی آتی ہے اور کپڑوں کا تھیلا اٹھا کر لے جاتی ہے ۔مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا، کبھی کبھی اِن عورتوں کو کچھ پسند نہیں آتا بس گھوم پھر کر چلی جاتی ہیں ۔کل ایسی  ہی ایک آنٹی آئیں اور گھنٹہ بھر مجھ سے کپڑے نکلوا نکلوا کر دیکھتی رہیں ،آخر میں ناک سکوڑ کر بولیں کوئی بھی اچھا نہیں اور پھر اچانک مجھ پر یوں غصہ نکالنے لگیں جیسے میرا کوئی قصور ہو، مجھ سے پوچھنے لگیں تمہاری عمر کیا ہے ، میں نے بتائی تو کہنے لگیں دیکھنے میں تو تم اٹھارہ کی بھی نہیں لگتی، کچھ کھاتی پیتی نہیں ، میں مسکرا کر چُپ ہو گئی ،انہیں کیا بتاتی کہ میں پروٹین سے بھرپور غیر ملکی سیریل کا نہیں بلکہ چائے میں ڈبل روٹی ڈبو کر ناشتہ کرتی ہوں اور اسی کو لنچ سمجھ کر دوپہر میں کچھ نہیں کھاتی ، شام تک میرے چار چھوٹے بھائی بہن اگرگھر میں کوئی سالن بچا دیں تو روٹی کے ساتھ کھا لیتی ہوں، دودھ،مکھن ، گوشت، پھل ، میوے اور ہر قسم کی قوت بخش غذا ہمارے غربت کے مذہب میں حرام ہے ۔اس سٹور میں کام کرتے ہوئے مجھے تقریباً چھ ماہ ہو گئے ہیں، پندرہ ہزار تنخواہ ہے ، جو کچھ کرنا ہے انہی پیسوں میں کرنا ہے ، کمپنی صرف دو یونیفارم بنا کر دیتی ہے جو سکارف سمیت ڈیوٹی پر پہننا لازم ہے ، باقی آنا جانا، کھانا پینا سب تنخواہ میں سے خود کرنا ہے ۔ سٹور میں ایک لڑکا بھی کام کرتا ہے جو موٹر سائیکل پر آتا جاتا ہے ، نوکری کے چند ہفتوں بعد مجھے پتا چلا کہ وہ اسی علاقے میں رہتا ہے جہاں میرا گھر ہے ، پھر ایک دن خود اُس نے کہا کہ میں تمہیں واپسی پر گھر چھوڑ آیا کروں گا ۔شروع میں تو میں بہت گھبرائی ، لوگ کیا کہیں گے ، پھر سوچا کہ اگر میری پندرہ ہزار تنخواہ میں سے دو ہزار آنے جانے میں لگ گئے تو پھر لوگ کیا کہیں گے ،مہینے کے آخری دنوں میں اگر میرے بھائی بہن بھوکے سو گئے تو پھر لوگ کیا کہیں اور اگر مالک مکان نے کرایہ ادا نہ کرنے پر ہمیں نکال باہر کیا تو پھر لوگ کیا کہیں گے ، جواب آیا کہ پھر لوگ کچھ نہیں کہیں گے، یہی سوچ کر میں نے اُس لڑکے کے ساتھ سٹور آنا جانا شروع کر دیا۔میں اسے بھائی کہتی ہوں اور دل سے بھائی مانتی ہوں مگر اِس کے باوجود میری ماں کی تسلی نہیں ہوئی، ایک دن مجھے بتائے بغیر وہ برقع اوڑھ کر مسجد کے مولوی صاحب کے پاس چلی گئی اور یہ مسئلہ بیان کیا ، مولوی صاحب نے کہا کہ جوان لڑکی کا نا محرم لڑکے کے ساتھ موٹر سائیکل پر جُڑ کر بیٹھ کے جانا درست نہیں ، پھر کہنے لگے کہ بہتر ہوگا لڑکی کا نکاح کسی صالح اور دیندار شخص کے ساتھ پڑھوا دو بھلے وہ شادی شدہ یا بال بچے دار ہی کیوں نہ ہو۔ مولوی صاحب ماشااللہ شادی شدہ ہیں اور پانچ بچوں کے باپ ہیں۔میری ماں چپ چاپ واپس آگئی ۔ 
اِس سٹور میں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں ، اکثر لوگ مجھے اپنا کارڈ دے جاتے ہیں جن پر اُن کا فون نمبر لکھا ہوتا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، شاید انہیں میری شکل اچھی لگتی ہے مگر میں خود کو دیکھوں تومیرا قد چھوٹا ہے ،چہرہ بے رونق ہے اور خوراک کی کمی نے مجھے لاغر کر رکھا ہے ، ایسے میں نہ جانے انہیں مجھ سے کیا چاہیے۔ مگر اب میں اِن باتو ں کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی، عادی ہو گئی ہوں،ان کے جانے کے بعد کارڈ کوڑے دان میں پھینک دیتی ہوںاور دعا کرتی ہوں کہ کبھی وہ دن نہ لائے جب مجھے یہ کارڈ پھینکنے سے پہلے کچھ سوچنا پڑے۔امیر والدین کی بیٹیوں کو شاپنگ کرتے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ خدانے آخر انہیں کتنا پیسہ دیا ہے جو ختم ہونے میں ہی نہیں آتا، ابھی کل ہی ایک ماں اپنی بیٹی کے ساتھ آئی اور کھڑے کھڑے ڈیڑھ لاکھ کی خریداری کرکے چلتی بنی ،اس دوران بیٹی یوں منہ بناتی رہی جیسے اسے کچھ بھی پسند نہ آ رہا ہو اور ماں کہتی رہی کہ کوئی بات نہیں ایک دفعہ پہننے میں کیا برے ہیں!جب بھی ایسا کوئی خریدار آتا ہے تو میر ے دماغ میں از خود کیلکولیٹر چلنے لگتاہے ، میں سوچتی ہوں کہ اس عورت نے ایک سوٹ پندرہ ہزار کا خریدا ہے جومیری ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے ، میں نے اِس تنخواہ میں پورا مہینہ زندہ رہ کر دکھانا ہے جبکہ اِس عورت نے دو مرتبہ یہ سوٹ پہن کر الماری میں لٹکا دینا ہے۔مگر پھرفوراً ہی میں یہ مفسد خیالات اپنے دماغ سے جھٹک دیتی ہوں، رب کی مرضی ،اُس کی منشا ،وہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے ، ہم کون ہوتے ہیں اُس کی تقسیم پر سوال اٹھانے والے ، جو مجھے مل رہا یہی میرے حق میں بہتر ہوگا ،میرے اﷲ کو تو سب پتا ہے ،کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ،وہی رازق ہے وہی منصف ہے ، ایک دن میری دعابھی قبول کرے گا۔ مگر پھر میرے خیالات کی رو بہک جاتی ہے اور مجھے علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے جو میں نے دسویں میں پڑھا تھا ، اچھی طرح یاد نہیں کیا تھا ، بس مطلب یہ تھا کہ خدا ٰ ہر شے کا اختیار رکھتا ہے اور خود کو عادل بھی کہتا ہے تو پھر ہم مزدوروں کے دن رات اتنے مشکل کیوں کٹتے ہیں!میٹرک کے بعد ابو فوت ہو گئے تھے اس لیے میں نے پڑھائی چھوڑ دی ،وہ کہا کرتے تھے کہ میں اپنی بیٹی کو اِس سفاک معاشرے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا ، میں تمہیں پڑھا لکھا کر اِس قابل بناؤں گا کہ تم اعتماد کے ساتھ سر اٹھا کر جی سکو ، آسمان پر دمکتے ہوئے ستارے کی طرح جسے کوئی چھو نہ سکے۔مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ، ابو کے بعد حالات ایسے ہو گئے کہ گھر میں کھانے کے لالے پڑ گئے، بہن بھائی چھوٹے تھے سو مجبوراً مجھے نوکری کے لیے نکلنا پڑا ، ماں بھی سلائی کڑھائی کرکے کچھ پیسے بنا لیتی ہے سو گزر بسر ہو جاتی ہے ۔بس کبھی کبھار غصہ آ جاتا ہے تو اپنے رب سے گلہ کر لیتی ہوں کہ میں نے آخر اُس کا کیا بگاڑا تھا جس کی سزا ملی ، مگر پھر فوراً ہی توبہ کر لیتی ہوںاور خود پر دم کرکے سو جاتی ہوں تاکہ صبح آرام سے نوکری پر جا سکوں ، کہیں غلطی سے بھی بیمار ہو گئی تو چھٹی کرنی پڑے گی اور تنخواہ میں سے پیسے کٹ جائیں گے اور دوائی الگ سے خریدنی پڑے گی ،لوگ کیا کہیں گے۔۔۔لوگ کچھ نہیں کہیں گے! ||


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP