یوم آزادی

ہجرت پاکستان کے لئے

ڈھلتے سورج کی مریل کرنیں ٹاہلی کی شاخوں سے جھانک رہی ہیں۔وقت اپنی کینچلی اتار کر رینگتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔میری منزل ایک ایسا ریلوے سٹیشن ہے جس پر مہاجروں کی مسخ شدہ لاشیں ٹرین کے ڈبوں میں بھر کر پاکستان آئی تھیں۔موجودہ جنریشن اس بات سے نابلدہے کہ آخرپاکستان کیسے بنا اور ہمیں کیوں اس عظیم ملک کی قدر کرنی چاہیے۔کیوں ہمیں اس ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا چاہیے اور کیوں اس ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ پھر کبھی ہماری قوم کو ہجرت نہ کرنی پڑے۔
سرکنڈوں کی دیواریں ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ بلند ہوتیں تو کہیں غائب ہو جاتیں۔ بصری دائروں کے سافٹ وئیر یکایک تبدیل ہو گئے تھے۔ ایک کلرفُل دنیا سے رابطہ منقطع ہو کر سیاہ اور سفید کہانیوں کے سٹیلائٹ سے جا جُڑا تھا۔چشمِ تصور میں ہزاروں مہاجر دوڑتے اور جان بچاتے نظر آتے اور میری سماعتوں سے شہنائی کی درد بھری لے ٹکراتی۔ہم فراز سے نشیب کی طرف سفر کرنے لگے تھے۔میری آنکھوں میں برہنہ چھاتیوں کے نُچڑے ہوئے منظر جھانکنے لگے۔میرے ہاتھوں میں خوف سے لرزش محسوس ہونے لگی تھی۔بسے بسائے گھروں میں انتشار پھیلانے والوں نے خون کے دریا بہا دئیے۔
میں شکر گڑھ کے راستے پر اُجڑے ہوئے اُس ریلوے ٹریک پر جا اُتراجو ٹریک کبھی جسڑ سے جموں تک جاتا تھا اور ایک بائی پاس کی شکل میں دریائے راوی کے اوپر سے گزر کر گُورداس پور جانے کی سہولت مہیا کرتا تھا۔ متحدہ پنجاب میں مخلوط ثقافتی رنگ عروج پر تھا۔کہیں بیساکھی کے میلے تو کہیں ہولی کے رنگوں کی بہار تھی۔کہیں عید اور شب برات کی خوشیاں تو کہیں مذہبی رسومات اور تہواروں کا جشن ہوتا تھا۔یہی وہ پہلا ریلوے سٹیشن تھا جس پر ٹرین کے لاشوں سے بھرے ڈبے رُکے تھے۔وہ لوگ جو جھولیوں کی شکل میں بانسوں کے ساتھ چادریں باندھ کر اپنے بوڑھے والدین کو لانے والے تھے،وہ راستے میں ہی سائبیریا کے پرندوں کی طرح دم توڑ گئے تھے۔یہ پرندے جب ایشیا کی طرف سفر شروع کرتے ہیں تو نجانے کتنے طویل پرواز کی نقاہت سے مر جاتے ہیں۔یہ ایسے خونی فسادات تھے کہ رواداری کا پھل انسانی لہجوں کے درختوں سے ختم ہو چکا تھا۔بلوائی حملے کرتے تھے تو گلی کوچوں اور چوباروں سے لہو بہتا تھا۔
راگ کی خوبصورتی کو بگاڑنے والا وِدادی راگ ہے جو ردھم کے دوران اچانک لگے تو راگ کا حسن بگڑ جاتا ہے۔ویسا ہی سُر پُرسکون دریائے راوی کے گِردو نواح میں آباد انسانوں نے سُنا تھا۔جب اچانک نرسنگھے پھونکے گئے۔ کھیتوں میں پکی فصلوں میں غیر معمولی حبس محسوس کیا گیا اور فلک سے ایک وحشت کی وبا اُتری جس نے ہر انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انسانی تاریخ کی اس ہجرت کی منہ زور ہوائوں نے درخت اکھاڑ کر اور مکانات مسمار کر کے فراق کے برزخ میں پھینک دیے۔لاکھوں انسان دربدری پرمجبور ہوئے۔کتنے ہی لوگ کہیں راستوں میں ہی گم ہو گئے۔لوگ بے نام رنج و الم کی خاک میں اٹے اپنے پپوٹے ، خون آلود خوابوں سے بھری آنکھیں اُٹھائے اور اپنے پائوں سر پر رکھے نااُمید دریائوں کی کشتیوں میں سوار ہو گئے۔وہ مسافر آج تک لاپتہ ہیں۔اُن کی نسلوں میں آج بھی اس بے حساب ہجرت کا غم منایا جاتا ہے۔مہاجر اپنے گدھوں، خچروں، اونٹوں، بیلوں اور بیل گاڑیوں پر گھروں سے موسمِ بہار کی اُمیدیں اُٹھائے روانہ تو ہو گئے تھے مگر تمام رستے پت جھڑ کا موسم اِن سے خراج وصول کرتا رہا۔
اس سٹیشن پر اُگے پیپل کے بوڑھے درخت نے فصلوں کی طرح  انسانو ں کے کٹنے کاوہ خون آشام منظر دیکھا تھا۔اس سٹیشن کے دروبام پرہشت اطراف سے آئے بدنصیب انسانوں کے خون کے دھبے موجود ہیںکہ جن پر زمین نے راستہ مسدود اورآسمان نے بے رحم برسات شروع کر رکھی تھی۔نرسلوں کی جڑوں میں لامتناہی بوسیدہ یادیں چیختی ہیں۔وہ بے زبان آوازیں اس سٹیشن کی چھتوں سے چپکی ہوئی ہیں اوروہ فریادیں بھی جو خوفزدہ کمسن بچیوں اور خوبصورت عورتوں نے اپنی عصمتوں کو بچانے کے دوران کیں۔وہ اندوہ ناک کرب اس ریل کی پٹریوں نے یوں جذب کر لیا کہ آج میرے بدن کی سرنگوں سے وہ دُکھ کُوکتا ہوا آنکھوں کے راستے بہہ رہا تھا۔گِدھ ماس نوچتے تھے اور نوچ نوچ کر تھک گئے تھے۔ مگر انسانی لاشوں کی فراوانی انہیں اور کھانے پراُکساتی تھی۔امن کی چڑیاں ہر بنیرے پر ساکت و خاموش بیٹھی تھیں۔کُتے بازاروں میں لہو چاٹتے تھے۔وقت سست کچھوے کی طرح چل رہا تھا۔درد کا وہ عالم تھا کہ تھکاوٹ سے شرابور لوگ اپنے ہی بچوں کو تنہا چھوڑنے پر مجبور تھے۔سرخ پھول سیاہ ہو گئے تھے۔گھاس لہو کی چپچپاہٹ سے تر تھی۔وسیع و عریض چراگاہوں میں خیمہ بستیاں آباد تھیں۔آٹا، چاول اورآگ یہ تینوں چیزیں نایاب ہو چکی تھیں۔بھوک کے ہاتھو ں ہلکان مہاجروں کے چمکتے چہرے دن کی روشنی میں بھی سیاہ پڑ چکے تھے اورپائوں شل ہونے لگے تھے۔ہیضہ، تپ دق، ملیریا جیسی بیماریوں سے بدن مرجھانے لگے تھے۔بے سروسامانی کا ایسا عالم کہاں ہوگا۔
برسات بھی کالے جادو کی طرح اُن دِنوں زمینی مسافروں پر اک  قہر کا سبب تھی۔شدید بے بسی تھی کہ مِندر کور اپنی گُڑیا جسڑ گائوں کے اپنے صحن میں چھپاتے ہوئے اپنی اماں سے پوچھ رہی تھی کہ ہم واپس کب آئیں گے؟ اُدھر امرتسر سے محمد بخش روزے کی حالت میں سرشام اپنے خاندان سمیت نکلتا ہے تو اُس کی افطاری بہشت کی وادیوں میں ہوتی ہے۔تاسف تھا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا۔غم بے حِساب تھا۔حویلیاں بنانے والے ہاتھ اپنے درودیوار کو چوم کر چھوڑنے پر روتے تھے۔فصلوں میں جانوروں کے بٹوارے ہو چکے تھے۔وبائی امراض چار سو پھیل چکے تھے۔نیند سے چُور آنکھوں والے لوگ تھک چکے تھے۔اب وہ مرنا چاہتے تھے۔رقت آمیز عالم میں دریائے راوی کا پانی اس سٹیشن سے پانچ کلو میٹر دور دو ملکوں میں بٹ چکا تھا۔ مختلف مذاہب کی خواتین نے جدائی کے بھاری ستون اپنے سینوں پر اْٹھائے۔اُس کرب کی تھکاوٹ بہت ساری نسلوں کے حصے میں آئی۔اس تقسیمِ ہند نے مکینوں کو ان کے دریچوں اور چلمنوں سے دورکردیا۔جھروکوں اور آنگنوں میں یاس کے طویل سائے پھیل گئے۔
میری دادی سردیوں کی راتوں میں کربلا کے مسافروں کے مصائب  سناتے سناتے  موضع سلیم پور کی سِکھ سہیلیوں کے قصے سنانے لگتی اور اس آخری ملاقات کا بتاتی جب سِکھ عورتیں نے جان کی بازی لگا کر جتھوں سے اُن کی جان بچائی۔وہ اِس ہجرت کواُجاڑہ کہتی تھی۔اپنے آخری وقت تک دادی جان موضع سلیم پور جانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی۔ہمارے گھر میں جب کوئی فقیر دستک دیتا اور صدا لگاتا کہ وہ مہاجر ہے تو دادی اماں دوڑ کر اُسے خیرات دیتی تھی۔سلیم پور کے راستے تو اب تک سانپوں کی آماجگاہ بن چکے ہونگے۔ان عمارتوں کو دیمک چاٹ چکی ہو گی اورنئے بننے والے پلازوں کی بنیادوں میں کہیں میری دادی کی حویلی دم توڑ چکی ہوگی۔ مندروں کی گھنٹیوں کو زنگ لگ گیا ہوگا۔ گرودوارے سنگتوں کے بغیر بے آباد ہو چکے ہوں گے۔بوہڑ اور پیپل کے پتوں پر بچھو، سانپ اور چھپکلیوں کی بھرمار ہوگئی ہوگی۔مسجدوں پر تالے لگ گئے چرچ بے خدا ہو گئے۔ابابیلوں کے مسکن اُجڑ گئے۔رام، رحیم اور بھگوان سب چپ چاپ کسی طوفان کے گزرنے کے بعد الگ الگ ملکوں میں اپنی عبادت گاہوں میں آباد ہوگئے۔عدنان بشیر نے مہاجر دلوں کی کیفیات کا خوب سراغ لگایا ہے۔
یہاں تو ہم تھے ہمارے چراغ جلتے تھے
ہمار ے گھر تھے ہمارے درخت پھلتے تھے
ہم ان چھتوں پہ منڈیروں پہ بھاگتے تھے کبھی
ہم آنکھیں بند کیے سیڑھیوں میں چلتے تھے
غدر کے بعد مہاجر گھروں کی اینٹوں میں
 سُنا ہے سونے کے زیور چُھپا نکلتے تھے
ہجرت تو انسانی زندگی کا حصہ رہا ہے۔تاریخی طور پرحضرت نوح علیہ السلام نے کشتی پر جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلا م نے مصر سے کنعان کی طرف ہجرت فرمائی۔حضرت یعقوب کا یوسف علیہ السلام کی یاد میں گریہ کرنا تو تاریخ کا اہم باب ہے۔مگر میرے پیارے نبیۖ نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ نے ہجرتِ مدینہ کے وقت فرمایا ''اے مکہ! تو خدا کا شہر ہے تو مجھے کس قدر محبوب ہے۔ اے کاش! تیرے باشندے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں تجھ کو نہ چھوڑتا''۔
آج پچھتر سال بعد میں اُس طوفان کی سرسراہٹ محسوس کرتا ہوااس سٹیشن پر جا پہنچا۔مجھے دیکھتے ہی اس سٹیشن کی ہر شے پکار اٹھی۔سب گونگی کہانیوں نے میرے روبرو تہذیبی داستانوں کے انبار لگا دئیے۔سب نے اپنے سینوں کا کرب چاک کِیا اور کیکر،نیم اور شیشم کے پتوں کی خراشوں نے مجھے باولا کر دیا۔میرا ناک بہتے ہوئے زمین سے جا لگا۔پھنکارتے ناگ میری جانب پچھتر سال سے اپنے اندر کا زہر لئے ڈسنے کو دوڑے۔میرے پائوں کے ساتھ مہاجروں نے دو بھاری پتھر باندھ دئیے تھے کہ چلنا دو بھر ہو گیا۔ میں روتا ہوا ایک دیوار کی طرف منہ کر کے اپنے دوست سے نظریں چُرانے لگا۔میں کہ جو نئے سماج کا آدمی تھا ایک دَم اپنے شانوں پر اُن اکیس لاکھ مہاجروں کی گمشدہ لاشوں کا بوجھ لاد کر غبار آلود ماضی کے پاتال میں اُتر گیا۔


پاکستان 

لوگ کہتے تھے بے جان دھرتی پہ، 
گل بانی ممکن نہیں 
پھول بھی کِھل اُٹھے شاخ لہرا گئی
دشت پر بادلوں کے جہازوں کی پرواز ممکن نہ تھی
بارشیں بھی ہوئیں موت شرما گئی 
لڑکھڑاتے ہوئے، دوڑنے لگ پڑے
جن کے، لکنت تھی وہ بولنے لگ پڑے
دھول، سونے میں بھی تولنے لگ پڑے

وقت کا گھائو پل پل جنہوں نے بھرا
رات کا پیٹ روشن دنوں نے بھرا 
جو غنیمِ وطن تھے وہ پسپا ہوئے
دیکھ لو کہ یہ خطہ ہرے کا ہرا 

پربتوں پہ سلامت رہیں ڈالیاں 
ہے کوئی سورما؟ 
 جو چُرانے کوآئے تری لالیاں
مائوں کے لال سینہ سپر ہوکے
کرتے ہیں رکھوالیاں
مالکا! پھیل جائیں ہمارے وطن کی، 
جہاں بھر کے دیسوں میں ہریالیاں ||


مضموں نگار، شاعر، سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 161مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP