یوم پاکستان

یومِ پاکستان پریڈ۔ چند یادیں چند باتیں

’’پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں‘ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے‘ حربی سامان اپنے دفاع کے لئے ہے‘ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘ کشمیریوں کی سیاسی‘ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے‘ دشمن جان لے کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ سلامت نہیں رہے گی‘ آپریشن ضربِ عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔‘‘ صدراسلامیہ جمہوریہ پاکستان ممنون حسین نے واضح اور دو ٹوک خطاب میں دشمنان پاکستان اور حریفانِ اسلام کو باور کرایا کہ وہ کسی غلط فہمی نہ رہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دشمن نے جب بھی جارحیت کی تو اُسے دندان شکن جواب ملا۔ صدرِ پاکستان نے کہاکہ ہم خطے میں دفاعی توازن پر یقین رکھتے ہیں‘ وہ پاکستان کے 76 ویں یومِ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد میں افواج کی مشترکہ سالانہ پریڈ سے خطاب کررہے تھے۔

 

پریڈ ایونیو اﷲ اکبر کے نعروں سے گونجتا رہا۔ ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی فضائی مہارت اور عسکری قوت کا شاندار مظاہرہ ‘ ایٹمی میزائل‘ غوری‘ غزنوی‘ ابدالی کی نمائش‘ وزیرِاعظم ‘ وزراء‘ تینوں مسلح افواج کے سربراہان‘ سفارت کار اعلیٰ سول و فوجی حکام‘ سیاسی قیادت‘ عوام کا جوش وخروش‘ عید کا سماں۔ صدرِ محترم کی آمد۔ تالیاں اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا استقبال لوگوں نے کھڑے ہو کر کیا۔ وہ منظر بڑا ہی دیدنی تھا جب پیراٹروپرز کی قیادت کرنے والے میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ دس ہزار فٹ کی بلندی سے پاکستانی پرچم تھامے عین سٹیج کے سامنے اُترکرجب صدرِ محترم کو پرچم پیش کرنے لگے تو اُنہوں نے پرچم کو چوما‘ پھر آنکھوں سے لگایا تو لوگ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیار اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر نعرۂ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگ گئے۔ پاکستانی عوام دراصل انتہائی حساس‘ معاملہ فہم اور باشعور ہیں یہی وجہ تھی کہ چاروں صوبوں سے آئے سکول کے بچوں نے ملی نغمے سنائے اور جنرل راحیل شریف سے انتہائی عقیدت اور اپنائیت کا اظہار کیا اور بیشتر نے ’سیلفیاں‘ بھی بنائیں۔آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی نے دراصل جنرل راحیل شریف کو عوام کے قریب کر دیا ہے وگر نہ ماضی قریب میں اقتدار اور اس کی تقریبات سمٹ کر وزیرِاعظم سیکرٹریٹ اور ایوانِ صدر تک محدود ہوگئی تھیں۔ اگر بلوچستان میں کسی پل کا افتتاح ہونا ہوتا تھا تو ایوانِ صدر میں اس کی نقاب کشائی اور اندرونی پنجاب کی فصلیں وزیرِاعظم سیکرٹریٹ میں کاٹی جارہی ہوتی تھیں مگر جنرل راحیل شریف کی دلیرانہ قیادت نے نہ صرف فوج کے وقار میں اضافہ کیا بلکہ عام آدمی کی زندگی میں خوف کی لہر کا خاتمہ بھی کیا ہے۔ کراچی‘ بلوچستان اور فاٹا اس کی واضح مثالیں ہیں۔

 

جنرل راحیل شریف کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے عسکری قیادت سنبھالتے ہی افواجِ پاکستان کی 23 مارچ کی مشترکہ پریڈ بحال کی جو گزشتہ سات برسوں سے تعطل کا شکار تھی۔ یوں نئی نسل اپنے ملی اور قومی تہواروں سے شناسائی کھوتی جارہی تھی۔ گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی بلکہ ہمیشہ کی طرح صبح کا آغاز ملک کی صوبائی مساجد اور عبادت گاہوں میں خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں21-21 اور اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی۔ قائدِاعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے مزاروں پر گارڈ کی تبدیلی‘ پنجاب حکومت کے وزیرِاعلیٰ نے ایوانِ اقبال لاہور میں تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کو گولڈ میڈل تقسیم کئے سندھ کی قیادت مزارِ قائد پر پہنچی۔ بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ نے زیارت ریزیڈنسی پر پاکستانی پرچم لہرایا۔ ملک بھر کی نمایاں خدمات انجام دینے والی 164 شخصیات کو صدارتی ایوارڈ دیئے گئے۔ پاکستان بھر میں نجی و سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں میں خصوصی تقریبات اورجنرل اسمبلی کی خصوصی محفل میں راحت فتح علی نے قوالی پیش کی۔ مقبوضہ کشمیر‘ سری نگر میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے گونجے‘ گھروں پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیئے گئے۔ اسلام آباد کی مرکزی پریڈ میں چاروں صوبوں کے ثقافتی فلوٹ تو تھے ہی‘ لاہور میں عوام نے بھی 23 مارچ1940 قراردادِ لاہور کی مناسبت سے ’’عزمِ پاکستان‘‘ ریلی نکالی جس میں اکثریت اخباری کارکنان اور مالکان کی تھی۔ قریب قریب سارے بڑے اخبارات کے فلوٹ ریلی میں شامل تھے۔ اونٹ گاڑیاں‘ رکشہ ڈرائیورز‘ خواتین موٹر سائیکل سوار‘ لاکھوں لوگوں نے عوامی ریلی کو دیکھا۔ ادھر اسلام آباد میں ایک اندازے کے مطابق افواجِ پاکستان کی 23 مارچ 2016 والی اس پریڈ کو صرف ٹیلی ویژن پر یکھنے والی تعداد چار کروڑ سے بھی زیادہ تھی۔ گزشتہ برس 23 مارچ کو بھی اسی طرح کا جوش و جذبہ تھا اور اب کے برس بھی وہی تمکنت تھی۔ چند ماہ پہلے 6 ستمبر 2015 کو معرکہ پاک بھارت کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر بھی جی ایچ کیو راولپنڈی کے احاطے میں لوگوں کا وہی جوش وخروش تھا۔ جنرل راحیل شریف کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کے گھر میں دو نشانِ حیدر اور ایک ستارۂ جرأت موجود ہیں۔ ان کے سپہ سالار بننے کے موقع پر جنرل راحیل کی والدہ صاحبہ نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کر آب دیدہ کردیا تھا کہ’ ’ہم نے اپنا سارا کچھ وطن کے دفاع پر لگا دیا ہے۔‘‘ 23 مارچ والی اسلام آباد کی اس پریڈ کی انتہائی اہم بات یہ ہے کہ اس تقریب میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ طلباء و طالبات بھی بے تحاشہ تھیں‘ بچے اور خواتین بھی اکثریت میں تھیں‘ قوموں کو ہمیشہ مائیں تیار کیا کرتی ہیں‘ اساتذہ شخصیت کی تراش خراش کرتے ہیں اور قومی تقریبات میں نوجوان نسل کے سیکھنے سمجھنے کے کافی مواقع پوشیدہ تھے۔ لوگوں کے جوش وجذبے کا یہ عالم کہ صبح ساڑھے سات بجے ہی شکرپڑیاں کا پنڈال بھر چکا تھا۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک لش پش کرتے تمغے اور مکلف وردیاں زیب تن کئے عوام میں گھل مل کر بیٹھے تھے۔ فوجی انتظامیہ جو عموماً پریڈ کے شرکاء میں منرل واٹر اور چھتریوں کے تحفے دیا کرتی تھی‘ اب کی بار لنچ بکس بھی وافر مقدار میں نشستوں پر پہلے سے رکھے ہوئے تھے۔

 

 

23مارچ کی پہلی پریڈ 1956میں ہوئی تھی۔ ان دنوں وفاقی دارالحکومت کراچی میں تھا۔ اس لئے فوج کی بڑی اور مشترکہ پریڈ کراچی میں ہی ہوئی تھی جبکہ باقی شہروں میں علاقائی تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس روز چونکہ جمعہ تھا سرکاری چھٹی کے علاوہ کاروباری طبقے کی بھی چھٹی تھی۔ لہٰذا اس قدر لوگ گھروں سے نکلے تھے کہ راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے قریب سیڑھیوں والا پل (پوہڑی والا پل) عوام کا بوجھ برداشت نہ کر سکاتھا اور اس کے ٹوٹنے سے 32افراد جان بحق اور 58زخمی ہوئے تھے۔ پھر جب وفاقی دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہوا تھا تو چونکہ اسلام آباد میں ابھی کوئی قابل ذکر عمارت تیار نہیں ہوئی تھی‘ اس لئے بعض وفاقی ادارے راولپنڈی میں کام کرتے رہے جیسے سفارت خانے سارے مری روڈ اور سیٹلائٹ ٹاؤن میں قائم رہے۔ اور قومی اسمبلی لالکڑتی ڈیفنس لائبریری والی عمارت میں تھی جسے اُن دنوں ایوب ہال کہا جاتا تھا اور 23مارچ کی سالانہ پریڈ راولپنڈی ریس کورس گراؤنڈ میں ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں چونکہ سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہ تھا‘ اس لئے ہم نوجوانی میں باقاعدگی سے 23مارچ کی پریڈ دیکھنے جایا کرتے تھے اور کوئی باقاعدہ دعوت نامہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ نہ ہی آج کی طرح مخصوص رنگ ہوا کرتے تھے۔ کہ سرخ رنگ میں کس نے بیٹھنا ہے نیلے‘ پیلے اور سفید کن کے لئے مخصوص ہیں۔ اُن دنوں سب ایک رنگ کے ہوا کرتے تھے۔ ہم ایک سرے سے پریڈ کو دیکھتے دیکھتے دوسرے سرے تک ہو آتے تھے۔ پریڈ کے خاتمے پر فوجی سازوسامان اور اسلحہ کی نمائش ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں پریڈ میں ملٹری پولیس والے موٹر سائیکلوں کے کرتب بھی دکھایا کرتے تھے۔ فوج کے محکمہ خچر کا دستہ بھی پریڈ کا حصہ ہوا کرتاتھا۔ 23مارچ1965 کے سب سے پہلے فوجی پریڈ والے دن حکومت نے دو اعلان بھی کئے تھے۔ ایک یہ کہ اس روز مشرقی بنگال کا نام بدل کر مشرقی پاکستان کر دیا گیا تھا جبکہ فیڈرل کورٹ کو سپریم کورٹ کا نام دے دیا گیاتھا۔ بہرطور 23مارچ کی پریڈ جو حالات اور تاریخ کے تلخ تجربات سے گزرتی اسلام آباد تک پہنچی وہ الگ ایک کہانی ہے۔ 23مارچ 1969کی پریڈ تو اس لئے منسوخ ہوئی تھی کہ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر تھیں اور 23مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن نے اعلان بغاوت کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں سے پاکستانی پرچم اتار کر بنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا تھا۔ ان حالات میں مغربی پاکستان میں بھی پریڈ منسوخ کرنا پڑ گئی تھی۔ بہرطور 23مارچ کی مذکورہ فوجی پریڈ‘ 23مارچ 1990کو جب محترمہ بے نظر بھٹو وزیراعظم اور غلام اسحاق خان صدر مملکت اورجنرل اسلم بیگ بری فوج کے سربراہ تھے، راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کر دی گئی تھی۔ اسلام آباد میں وہ پریڈ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں ہوا کرتی تھی۔ 23مارچ 1998 تک پاکستان کی مسلح افواج کے قیام کی گولڈن جوبلی تقریب تک ڈی چوک میں ہی ہوئی پھر اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس میں ہوتی رہی اور اب 2015سے شکر پڑیاں کے جنوب میں نمائش گراؤنڈ کو پریڈ گراؤنڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پلان کے مطابق سیکٹر ایچ 12 23مارچ کی پریڈ کے لئے مختص تھا مگر اسے تعلیمی ضرورتوں کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ 23مارچ کو مذکورہ پریڈ قرارداد لاہور 1940 کی خوبصورت یاد کے طور پر منعقد کی جاتی ہے۔ 1940میں جس پارک میں قرارداد لاہور منظور ہوئی تھی۔ اسے پہلے منٹو پارک کہا جاتا تھا۔ پھر اقبال پارک کہا گیا اور اب قرارداد پاکستان پارک کہا جاتا ہے۔ 1942 تک قرارداد پاکستان کو قرار داد لاہور ہی کہا جاتا رہا ہے۔ مگر غیرمسلم اخبارات اس کو پاکستان کا نام دے کر اس کی پرزور مخالفت کرتے رہے۔ یوں پھر یکم مارچ 1942 کو قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج لاہور کے وسیع میدان میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ

 

’’ہم نے قرارداد لاہور کو پاکستان کا نام نہیں دیا تھا مگر غیرمسلم اخبارات ہمیں چڑانے کے لئے اس نام کو استعمال کر رہے ہیں تو ہم اس سے چڑیں گے نہیں بلکہ اب سے اس کو قرار داد لاہور کے بجائے قرار داد پاکستان کے نام سے ہی پکارا کریں گے۔‘‘ پھر تاریخ نے دیکھا کہ ساڑھے سات سال کی انتہائی قلیل مدت میں قائداعظم نے علامہ اقبال کے خواب کو اﷲ پاک کے فضل و کرم سے تعبیر سے ہمکنار کر دیا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی مملکت بن کے ابھرا۔ 23مارچ کو صدارتی ایوارڈ بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس کا آغاز 23مارچ 1958کو ایک حکم نامے پر دستخط سے ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں قومی خدمات انجام دینے والوں کویومِ جمہوریہ پر صدارتی ایوارڈ دیئے جایا کریں گے یوں 23 مارچ 1958کو جب پہلی بار شہری اعزازات صدارتی ایوارڈ کا اجراء ہو اتو وہ ایوارڈ پانے والوں میں خود اُس وقت کے صدر سکندر مرزا اور ان کی بیگم ناہید سکندر مرزا بھی شامل تھیں اس برس کل پندرہ ایوارڈ دیئے گئے تھے۔ باقی تیرہ لوگوں میں خواجہ ناظم الدین بیگم وقار النساء نون‘ بیگم رعنا لیاقت علی خان‘ عبدالرحمن چغتائی‘ زین العابدین‘ پروفیسر عبدالسلام‘ حفیظ جالندھری‘ ڈاکٹر شہیداﷲ‘ کوی جسیم الدین‘ ہاشم‘ حوالدار عبدالخالق‘ عبدالحفیظ کاردار اور فضل محمود شامل تھے۔

 

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے اپنے دور میں شہری اعزازات معطل رکھے! 10 جنوری 1960 کو یومِ مسلح افواج منایا گیا تھا۔ پاکستان بھر میں تقریبات منعقد کی گئی تھیں۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کئے تھے مگر دوبارہ اس دن کی بازگشت سنائی نہیں دی۔ شاید 23 مارچ ہی وہ دن ہے جسے یومِ مسلح افواج کہنا چاہئے اس میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا عوام کو اندازہ ہوتا ہے۔ دشمن کے لئے دفاعی قوت کا مظاہرہ بھی۔ لیکن میرے خیال میں اس عظیم الشان پریڈ کے لئے شکر پڑیاں اسلام آباد کا موجودہ گراؤنڈ ناکافی ہے اس میں پندرہ سے بیس ہزار یا زائد لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہے پھر اس میں داخلے کے دو ہی راستے ہیں‘ فیض آباد یا زیرو پوائنٹ۔ لہٰذا23 مارچ کی پریڈ کسی ایسی جگہ منعقد کی جائے جہاں نہ شہری زندگی متاثر ہو اور نہ ہی پریڈ میں آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ چونکہ ایک قومی پریڈ ہے‘ وطنِ عزیز کا وقار ہے لہٰذا اس کیلئے جگہ بھی ایسی ہو جہاں عوام کی کثیر تعداد اس کو دیکھ سکے اور دارالحکومت یا دیگر اہم دفاتر میں کام کاج کا حرج نہ ہو سکے۔


مضمون نگار معروف سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ [email protected]

یہ تحریر 209مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP