یوم دفاع

لعلِ وطن،جانِ وطن،افواجِ من

جذبہ ستمبر کے حوالے سے دانیال مصطفی گوپانگ کی تحریر

چھ ستمبر حق و باطل کا دن جو قوم کو حیات تازہ بخش گیا،یہ تو دراصل حمیّت و یک جہتی کا وہ حوالہ ہے جب بزدل بھارت کی پانچ گنا فوج کاہمارے بہادر جوانوں اور اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی 10 کروڑ عوام نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سامنا کرتے ارض وطن کا دفاع کیا۔یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا معرکہ ہے جسے امت مسلمہ کی مائیں آج بھی گود میں بچوں کولوری کے طور پرسناتی ہیں۔ جسے جوان آج بھی گنگناتے ہیں۔چھ ستمبر برصغیر کی تاریخ کاوہ میلہ ہے جسے غیورقوم نے جیت لیا۔یہ دوقومی نظریہ کاوہ رخ ہے جس کے لئے سرسیداحمدخان سے لے کرقائداعظم اورمفکر پاکستان علامہ اقبال نے وہ بیج بویا تھا جو چھ ستمبر 1965 کو خون کی آبیاری سے تناور درخت بنا اور حق کے لئے سایہ دار درخت بن گیا۔رہی بات باطل کی تو وہ ازل سے اندھیروں میں ہی پناہ لیتا ہے اور ہمارے  ازلی دشمن بھارت کو منہ چھپانے کو جگہ نہ مل سکی۔ چھ ستمبر 1965 کو  خون کی آبیاری سے حق وباطل کی لکیردنیا میں ایک پیغام کی صورت میں آئی کہ غیور قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کر نے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ یہ دن ہمارے دلوں کی چوکھٹ پروہ وارتھاکہ جو طاقت کے نشے میں مست ہاتھی بھارت کوگرانے کا باعث بنا۔ہندوتوا کے پرچارک بھارت کی تاریخ کایہ دکھ ایسا ہے کہ جو صدیوں کی مسافت کے بعدبھی مندمل نہیں ہو سکے گا۔



لاہور کے جم خانہ میں چائے پینے کا سہانا خواب سجائے دشمن نے شب خون مارا تو ہماری بہادر، جری، جاں فروش افواج کے ساتھ وطن کا ہر جوان، بوڑھا، بچہ پروانوں کی طرح شمع پاکستان پر دیوانہ وار قربان ہونے کو تیار تھا،مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گیا۔ صدرمملکت ایوب خان نے جب اپنی بارعب آواز میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے عزیز ہموطنو! دشمن نے ہماری سرحدوں پر حملہ کر دیا ہے لیکن بھارت کے جنگی جنونی یہ نہیں جانتے کہ اُنھوں نے کس قوم کو للکارا ہے؟ گرجدار لہجے سے ادا کئے جانے والے یہ الفاظ ایسے تھے کہ سننے والوں کے رگ و پے میں بجلیاں سی دوڑا گئے۔فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی اور کیا بچے،کیا جوان،کیا بوڑھے اور خواتین سب ہی جذبہ حمیت سے سر شار ہوکر باطل کو مٹانے کو تیار ہوگئے۔اس جنگ میں ہر شعبہ ہائے زندگی نے اپنے حصے کا کردار اداکیا جو آج بھی قابل تقلید ہے۔اہل قلم سے لے کر سڑک پر پتھر توڑنے والا مزدور،امام مسجد، مقتدی،سب نے اپنے اپنے حصے کی شمع جلائی۔بھارتی سورما ئوںکو چت کرنے کے لئے پوری قو م تینوں محازوں پر پیدل ہی ڈنڈے ''کدال'' بیلچے حتیٰ کہ جو ہاتھ میں آیالئے دوڑی،اور بھیڑ ایسی کہ افواج پاکستان کے لئے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔واہگہ بارڈر پر تو یہ صورتحال تھی کہ پاک فوج کے افسران کی جانب سے یہ وعدہ کرکے ان جانبازوں کو واپس بھیجا جاتا رہا کہ ضرورت پڑی تو انہیں ضرور بلایا جائے گا۔جنگ کے زخمیوں کے لئے خون کی اپیل آئی توہسپتالوں کے باہر خون عطیہ کرنے والوں کی لائن لگ گئی۔ 80سال کے بزرگ سے لے کر نوجوانوں تک،مادروطن کی حفاظت کے لئے اپنا خون بہانے والوں کے لئے خون عطیہ کرنے میں ہر کوئی بازی لے جانا چاہتا تھا۔خواتین نے اپنے زیور بیچ کر جنگ کے لئے وقف کردئیے۔وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے فوجی قافلوں کا نعرہ تکبیر کے نعروں اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے استقبال کیا جاتا،لوگ کھانے پینے کی اشیائ،نقدی غرض متاع کل یعنی اپنے بچے تک لے کر کھڑے ہوجاتے۔کیا دور جنون تھا کہ فضائی حملے کے لئے الرٹ کرنے کے لئے سائرن بجتا جو الرٹ کرتا کہ دشمن کے جہاز بمباری کے لئے آرہے ہیں تو گھروں میں اندھیرا کرلو اور مورچوں میں پناہ لے لومگر جذبہ جہاد سے سرشار قوم بھلا روشنیاں کیوں بند کرتی؟ اہلیان لاہور تو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے اورپلک جھپکتے ہی چھتوں پر آن واردہوتے۔ فضا میں دشمن کا طیارہ ہوتا اور اسکے تعاقب میں سیسل چودھری کی قیادت میں ہمارے شاہین،ادھرچوہے بلی کاکھیل شروع ہوتا اور ہواؤں میں شور برپا ہوجاتا اور جب دشمن کاجہاز زد میں آتا اوردھوئیں کی لکیر بناتا قلابازیاں کھاتا دور کہیں آگ کا گولا بن جاتا توادھر چھتوں پر فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھتی۔ تب سے ہی اس شہر کو زندہ دلان لاہور کا نام دیا گیا۔رئیس امروہی نے لاہوریوں کو کچھ یوں خراج تحسین پیش کیا
خطہ لاہور تیرے جاںنثاروں کو سلام
غازیوں کو شہریوں کو شہسواروں کو سلام
دشمن نے لاہور میں منہ کی کھانے کی خفت مٹانے کے لئے سیالکوٹ کے چونڈہ سیکٹر میں ٹینکوں کی فوج لے کر چڑھائی کی تو اہلیان سیالکوٹ پاک فوج کی مدد کے لئے چونڈہ جاپہنچے۔پھر تاریخ رقم ہوئی کہ بری افواج نے دشمن کے چھ سو سے زائد جدید ٹینکوں کو کس بہادری سے روکا اور چونڈہ کا میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیاجسے آج بھی جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔
پاک آرمی کی بات کی جائے تو بری فوج نے تو بہادری وشجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ دشمن انگشت بدنداں اور اپنے اب بھی نازاں ہیں۔ عزم و ہمت اور دلیری کے پیکر جنگ ستمبر کے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی داستان شہادت ہویا پھر میجر شفقت بلوچ کی ثابت قدمی کی جذبہ ایمانی بیدار کردینے والی کہانی،یقین مانیے حرف حرف پر جان دینے کو دل چاہنے لگ جاتا ہے۔بھارت نے تین ڈویژن فوج کے ہمراہ تین اطراف سے حملہ کیا تو یہ میجر عزیز بھٹی ہی تھے کہ جنہوں نے مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کو 6دن تک اس کی پوزیشن سے ایک انچ آگے نہ آنے دیا۔بیان کرنے والے تو اس،عزم،ہمت،دلیری،شجاعت اور جوان مردی سے ڈٹے رہنے کومعجزات سے ہی تشبیہ دیتے ہیں۔بی آربی نہر پر قبضہ کا خواب لئے بھارتی فوج جدید اسلحہ،ٹینکوں اور سات گنا زیادہ نفری شہادت کی تمنا سے سرشار کمانڈر میجر عزیز بھٹی شہید کی بہترین جنگی حکمت عملی کے سامنے نہ ٹک سکی۔ وہ جو پاکستان کو سرپرائز دینے آئے تھے ، خود سرپرائز ہوگئے،الفا کمپنی کے ساتھ سینہ سپر میجر عزیز بھٹی دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے فاروروڈ ٹروپس کے ساتھ رہے۔دشمن کی توپیں چھ دن تک مسلسل آگ برساتی رہیں،تابڑ توڑ حملے ہوتے رہے مگر آپ ثابت قدمی کے ساتھ منہ توڑ جواب دیتے رہے۔جب اُن کے کمانڈنگ آفیسر نے پیغام بھیجا کہ وہ کافی دنوں سے وطن کا دفاع کر رہے ہیں، تھوڑا آرام کر لیں لیکن عزیز بھٹی نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ''وطنِ عزیز کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔''وہی ہوا اس بہادر سپوت نے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔جس پر انہیں نشان حیدر کا حقدارٹھہرایاگیا۔اس شہید کی جواں مردی پر تودشمن بھی تعریف کرنے پر مجبورہوا اور اقرار کیا گیا کہ ایسا جذبہ استقلال بھارت کے پاس ہوتا تو شاید وہ کامیاب ہو جاتے اورجم خانہ چائے کا خواب پورا ہوجاتا۔
بزدل دشمن کی قبیح حرکت نے پوری قوم میں ایسا جزبہ ایمانی جگایا کہ ہمارے شعرائوادباء اور فنکاروں نے تو بغیر کسی نام و نمود کی خواہش، لالچ یا بغیر کسی اعزازئیے کے حصول کی طلب کے دفاع وطن میں حصہ ڈالااور جہاد کے لئے ملک کے نشریاتی اداروں کا رخ کیا۔ وطن سے محبت کا یہ عالم کہ ملکہ ترنم نورجہاں نے خود ریڈیو پاکستان میں فون کیا اور ملی نغمے اور رزمیہ ترانے ریکارڈ کروانے کے لئے ریڈیو پاکستان پہنچیں۔یوں چھ ستمبر سے 23 ستمبر تک ہر روز ایک نیا ملی نغمہ گاکر قوم اور محاذ جنگ پر لڑنے والوں کا حوصلہ بڑھانے میں کردار ادا کیا۔صوفی غلام مصطفی تبسم کے والہانہ کلام کو جب ملکہ ترنم نورجہاں کی لازوال آواز ملی تو اس خوبصورت امتراج سے 'اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے' ، میرے ڈھول سپاہیا جیسے گیت وجود میں آئے۔جنہیں آج بھی سن کر بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے،خون کھول اٹھتا ہے، جذبہ حمیت بیدار ہوجاتا ہے اور آنکھیں نمناک ہوجاتی ہیں۔اکثر اوقات جب ریکارڈنگ کے دوران فضائی حملے کا سائرن بجتا اورعملے کی جانب سے ملکہ ترنم کو ریڈیو پاکستان کے صحن میں کھدی خندقوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا تھا تو وہ یہ کہتے ہوئے انکار کردیتی تھیں کہ مرنا لکھا ہے تو وہ چھپ کرمرنے کے بجائے یہیں پر مرنا پسند کریں گی۔
فضائی اور بحری محافظوں کے کارناموں کا تذکرہ کیا جائے تو ایم ایم عالم کی جانب سے ایک منٹ میں پانچ بھارتی طیاروں کو تباہ کرنے سمیت نو طیارے گرانے کا اعزاز ہو یا پھر پاک فضائیہ کے شاہینوں کا سرگودھا میں بھارتی جہازوں کو دھول چٹانا ہو،یا پاک بحریہ کی جانب سے آپریشن دوارکا کے ذریعے بھارتی بحریہ کا کراچی پر قبضے کا مشن ناکام بنانا ہو۔دشمن افواج کے مقابلے میں سامان حرب کے حوالے سے ہم تو اعدادو شمار میں ہی نہیں آتے تھے،کہاں بھارت کے پاس روسی ساختہ جدید ترین مگ 21 طیارے اور پاکستان کی فضائیہ کے پاس محدود وسائل مگر جنگیں تو اسلحہ اور بارود سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں،یوں جب میدان جنگ میں آمنا سامنا ہوا تو اقوام عالم نے دیکھا کہ پہلے ہی دن بھارت کو 21 طیاروں کی تباہی کا نقصان اٹھانا پڑا۔اس جنگ میں مجموعی طورپر شاہینوں نے110بھارتی طیارے گرائے جبکہ ایک سو پچاس ٹینک، چھ سو فوجی گاڑیاں،گولہ بارود سے بھری چار بھارتی ٹرینیں اور سو کے قریب توپیں تباہ کیں جس کی دستاویزی گواہی بھی موجودہے۔
آج اس جنگ کے 56سال گزرجانے کے بعد پھر اسی باہمی یگانگت اور یقین محکم کی ضرورت ہے کہ جب بھارت کی جانب سے ففتھ جنریشن وار سے نفسیاتی جنگ کا سامنا ہے تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے پھر سے تجدید عہد کرنا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس کے لئے افواج پاکستان اور عام شہریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہو یا کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی آواز ہو، اسے ہمیں بطور قوم خود دبانا ہوگا۔ چیف آف آرمی سٹاف کی سربراہی میں ہماری افواج کا مورال بلند ہے قوم بھی اسی سپہ سالار کی قیادت میں رات کو سکون سے سوتی ہے۔ افواج پاکستان کے ہر سپوت اور ہر ماں نے 65 کے معرکہ میں ایسے جواہرسرانجام دئیے جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر پائے گی۔ پاکستانی ترانہ کے مصداق قوم، ملک اور سلطنت کا ترانہ گانے والے اگر حقیقی طور پر ایک قوم بن کر اس ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے سرگرم ہوں تو سلطنت پاکستان کسی بھی کٹھن سے کٹھن چیلنج سے نبرد آزما ہو سکتی ہے ۔ قائد اعظم  کا فرمان ایمان، اتحاد اور تنظیم ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور اسی پر چل کر ہم ہر مشکل کو دُور کر سکتے ہیں۔ ||


 [email protected]
     

یہ تحریر 761مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP