متفرقات

یادوں کے دریچے

50 سال قبل پہلی نیشنل سروس بٹالین میں گزارے دن
یہ مادرِ وطن کے ان نوجوان سپوتوں کی کہانی ہے جنہوں نے اپنے وطن کے دفاع کے لئے اپنی جانوں اور خون کے نذرانے دینے کے لئے لبیک کہا ۔  دسمبر 1970 کے اواخر میں صدرِ پاکستان جنرل محمد یحییٰ خان نے نیشنل سروس کے قیام کا فیصلہ کیا۔ جس کا مقصد نوجوانانِ لاہور کو وطن پاکستان کے دفاع میں حصے دار بنانے کا موقع فراہم کرنا تھا ۔ انٹر میڈیٹ وسط کیریئر کا بہت اہم امتحان گنا جاتا ہے جس کے بعد نوجوان اپنے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے اور فیصلہ کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر بننا ہے کہ انجینئر ۔ فوج کے شعبے میں جانا ہے کہ پڑھنے کے لئے باہر جانا ہے۔ مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں جانا ہے کہ پولیس میں نوکری کرنی ہے۔ پڑھ کے اپنے والد کا کاروبار کرنا ہے کہ میری زمین کافی ہے میں اس کو کاشت کروں گا اور سیاست میں حصہ لوں گا ۔ نوجوان بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں اور ان کے حصول کی جدوجہد میں کوشاں ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جن بچوں کی بات میں کر رہا ہوں وہ دوسرے تمام بچوں سے مختلف تھے ۔ 
جب مادرِ وطن کی پکار ان کے کانوں تک پہنچی ان کو اپنے تمام خواب بھول گئے۔ سوچ تھی کہ اگر وطن باقی رہا تو خواب دوبارہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں اور ان کو حاصل بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قطعا ً نہیں بھولے تھے کہ جس راہ پر جانے کے لئے انہوں نے لبیک کہا ہے وہاں خون کا نذرانہ بھی دینے کے لئے تیار ہو کے جانا پڑے گا۔ لیکن جان کی کس کو پروا تھی سوچ یہ تھی کہ موٹر سائیکل کے حادثے میں بھی تو جان جا سکتی ہے۔ لاہور کے سب سے قیمتی علاقے کے رہائشی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے تیسرے سال کے طالبعلم کے طور پر جب میرے کانوں تک یہ صدا پہنچی تودل مچل گیا ۔ فوج میں جانے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا کہ اچانک وہ سچ ہوتا ہوانظر آیا ۔ اگلے ہی دن میں اپنے دوستوں کے ساتھ لاہور کے مشہور فورٹریس سٹیڈیم جہاں پر اب لاہور کا سب سے زیادہ پسندیدہ خریداری کا مرکز بن چکا ہے ، کے باہر پہنچ گیا ۔ ہمارے خیال کے مطابق وہاں چند لڑکے ہوں گے لیکن لڑکوں کا جمِ غفیر تھا ، جن میں صرف لاہور سے نہیں بلکہ ارد گرد کے شہر قصور، شیخوپورہ، پتوکی ، ننکانہ صاحب اور دیگر شہروں کے لڑکے بھی ہم سے پہلے قطاروں میں کھڑے ٹیسٹ کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان سب کا جذبہ دیدنی تھا۔ یہاں پر موجودلڑکے معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے ۔ امیر سے امیر ۔ غریب سے غریب ۔ متوسط طبقے سے بھی لڑکے آئے تھے ۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس حمود الرحمان کا بیٹا حامدالرحمان میری کار میں، ہم باقی دوستوں کے ہمراہ اس فریضے کی ادائیگی کا مجاہد بننے کے لئے آیا تھا۔ بنیادی معلومات لینے کے بعد آپ کی چھاتی کی پیمائش کی جاتی تھی اور آنکھیں چیک کرنے کے بعد ڈاکٹر آپ کا تفصیلی معائنہ کرتا تھا۔ شہری ماحول سے یہ فوجی ماحول بڑا مختلف تھا ۔ کلف لگی وردی میں ملبوس چاق چوبند فوجی بڑے متاثر کن تھے۔ لمبے قد اور بڑی بڑی کالی مونچھیں، ان کی چال میں ایک بانکپن تھا۔ بہت سارے نوجوان لڑکوں نے فوجیوں کو اتنے قریب سے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ میری نظروں میں درمیانے قد کا تیکھی مونچھوں کے ساتھ نہایت خوبصورت صوبیدار رحیم خان آج تک پھرتا ہے۔ کچھ لڑکوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کو واپس جانے کے لئے کہہ دیا گیا۔ حامدالرحمان نے پہلے ہی فوج میں افسر کے طور پر شامل ہونے کے لئے درخواست دے رکھی تھی۔ اس لئے ان کو بھی جانے کے لئے کہہ دیا گیا۔ حامد الرحمان نے دسمبر 1971 میں 48 لانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد لاہور میں مقیم ہوئے۔ 
تمام چنے گئے لڑکوں کو ساتھ لے کر آنے والے سامان کی فہرست کے ساتھ ایک کاغذ تھما دیا گیا اور اتوار20 دسمبر 1970کو فورٹریس سٹیڈیم کے دوسرے کنارے پر واقع31 ایف ایف میں رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا۔ عجیب عالم تھا ۔انجانے اور ان دیکھے حالات کا سوچ کر عجیب سا محسوس ہو رہا تھا ۔ مقررہ تاریخ پر سٹیل کے ایک ٹرنک اور سردیوں کے بستر سمیت یونٹ پہنچ گئے ۔ بڑے تپاک سے استقبال کیا گیا اور کاغذی کارروائی کے بعد چائے اور بسکٹ سے تواضع کی گئی۔ مختلف لڑکوں کو مختلف پلاٹونیں اور کمپنیاں الاٹ کی گئی تھیں ۔ مجھے7پلاٹون سی کمپنی میں بھیجا گیا ۔ ٹرنک کے اوپر بستر رکھ کے سامان ایک طرف سے ایک سپاہی نے اٹھایا اور ایک لمبی سی بیرک میں سلیٹی رنگ کی لوہے کی نیوار کی چارپائی جس کو ٹیوبلر کہا جاتا ہے ، تک چھوڑ آیا۔ بہت سارے لڑکے پہلے ہی آ چکے تھے اور باقی لڑکوں کی آمد کا سلسلہ متواتر جاری تھا۔ ایک بیرک کی چھت کے نیچے تقریبا ًساڑھے تین سو لڑکوں کو ٹھہرایا گیا تھا ۔ شام کو 7 پلاٹون کے تمام لڑکوں کو سیڑھیوں کے سامنے جمع کر کے پلاٹون حوالدار گل محمد نے روزانہ کی تربیت کے معمول سے آگاہ کیا ۔ گل محمد بھوری مونچھوں کے ساتھ گورا چٹا نہایت دھیمی طبیعت کا پٹھان تھا۔ کسی بھی بڑے بزرگ کی طرح ہر لڑکے کے سوال کا معقول جواب دیا کرتا۔ رات کو سونے کے اوقات دس بجے تھے اور دس بجے بتی گل کئے جانے کا مژدہ بھی سنا دیا گیا۔ اگلے دن سب کو اکٹھا کر کے لائن بنا کے وردیاں اور باقی سازوسان دلوایا گیا اور اس کی احتیاط اور استعمال سے آگاہی دی گئی۔ پہلے دن شام کو ہی نائی کی دکان سے جا کے بال کٹوانے کا حکم صادر ہوا۔ لڑکوں نے بڑے سٹائلش بال رکھے ہوئے تھے، ان کے اس بے دردی سے کٹ جانے سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچی تھی۔ 
تیسرے دن سے باقاعدہ تربیت کا آغاز ہو گیا تھا۔ وردی پہننے سے لے کر ، پریڈ، مختلف ہتھیاروں سے آگاہی اور کھولنا جوڑنا سکھایا گیا ۔ ہر ایک مضمون کے لئے مختلف صوبیدار مامور تھا۔ پی ایم اے سے تربیت یافتہ صوبیدار افسر پریڈ کا انچارج تھا اس نے لڑکوں کی تربیت کا معیار پی ایم اے کے معیار کے عین مطابق رکھا ہوا تھا۔ صوبیدار افسر بعد میں صوبیدار میجر بن کے تھرڈ پاک بٹالین پی ایم اے میں تعینات ہو کے آگئے تھے۔ ساڑھے تین سو لڑکوں کے لئے سولہ غسل خانے اور بارہ لیٹرینیں تھیں۔ شہری اور ناز وپیار کے پلے لڑکوں کے لئے یہ خاصا مشکل مرحلہ تھا۔ لیکن جذبہ جوان ہو تو انسان ہر مشکل بخوشی جھیل لیتا ہے ۔ کسی شان و شوکت یا تنخواہ کی لالچ میں تو وردی نہیں پہنی تھی۔ فقط بیس روپیہ ماہانہ تنخواہ مقرر ہوئی تھی۔ اچھے گھروں کے لڑکے تو روزانہ اس سے زیادہ پیسے کینٹین پر خرچ کردیتے تھے۔ بیس روپے ماہانہ تو مذاق لگتا تھا لیکن ان نوٹوں کی بہت اہمیت تھی۔ ایسے عظیم مقصد کے حصول کے لئے لاکھوں روپے ماہانہ بھی ناکافی ہوتا۔ اصل میں اس عزم اور جذبے کی قیمت نہ لگائی جا سکتی ہے نہ ہی اس کی ادائیگی کے لئے دنیا کی کوئی بھی کرنسی کافی ہو گی۔ اس کی قیمت لگانے والے بیوقوفوں کی دنیا میں رہتے ہیں ۔
تربیت کے شروع کے دنوں میں باہر جانے کی اجازت نہیں تھی، اسی لئے تفریح کے لئے شام کو لڑکے کینٹین کا رخ کرتے اور اس کے ساتھ تفریح کے لئے ایک کمرہ بنایا گیا تھا جس میں ٹیلیوژن کے ساتھ کیرم بورڈ، لڈو، تاش اور شطرنج کی سہولت فراہم کی گئی تھی ۔ عموماً شام کو مقامی جنرل افسراور کور کمانڈر لڑکوں کی حوصلہ افزائی اور دل جوئی کے لئے آ جاتے تھے ۔ لڑکوں کے ساتھ وقت گزارتے اور کئی مرتبہ شطرنج کی بازی بھی لگاتے اور چائے بھی پیتے تھے۔ لڑکوں کے اس جذبے کو سراہتے تھے۔ 
ہمارے افسروں میں کچھ بنگالی افسر بھی تھے جس میں سی کمپنی کمانڈر کیپٹن بشرالحسن اور کمپنی افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ ضیا تھے ۔ ضیا ہماری عمر کا پکے رنگ میں مضبوط جسم کے ساتھ لمبے قد کا مالک تھا۔ ایف ایف کے لیفٹیننٹ کرنل جان گل خان کمانڈنگ آفیسر تھے اور میجر سید محمد جو بعد میں بریگیڈیر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، سیکنڈ ان کمانڈ تھے۔ تربیت کے مراحل بڑھتے جا رہے تھے ۔ صبح پی ٹی کے بعد لائن لگا کر گرم گرم چائے اور اس کے ساتھ بٹھورا لے کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے کھانے کا جو مزہ آتا تھا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ رات کو روٹ مارچ بھی شروع ہوچکی تھی ۔ رات کا کھانا لڑکوں کو باندھ کے ساتھ دے دیا جاتا تھا تاکہ وہاں وقفے کے دوران کھا لیا جائے۔ لیکن کئی شیر ایسے تھے جو وہیں رات کا کھانا بھی کھا لیتے تھے، کہتے تھے ساتھ بھی تو اٹھانا ہے بہتر ہے پیٹ میں ہی رکھ لیں۔21میل چل کے آنے کے بعد رات کو اپنا سازوسامان، بوٹ اور وردی اگلے دن کے لئے تیار کرتے اور اگلے دن وہی روزانہ کا معمول شروع ہو جاتا۔دشمن پر سنگین سے حملہ کرنا بھی سکھایا جاتا تھا جس کی ذمہ داری بڑی بڑی کالی مونچھوں والے صوبیدار زراعت خان کی تھی۔ وہ سنگین مارتے ہوئے کہتے ''سور کی طرح شکل بنا، کہ دیکھتے ہی دشمن کا دَم نکل جائے۔ ''
رائفل کا فائر سکھانے کے لئے ،جہاں اب لاہور ڈیفنس کا فیز ایک کا ڈبلیو بلاک ہے وہاں چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کی جگہ بنی ہوئی تھی ، لے جایا گیا اور لڑکوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ رائفل کے فائر کا تجربہ حاصل کیا۔ گرمیوں میں ایک ماہ کی مشترکہ تربیت کے لئے لے جایا گیا ۔ دو دو لڑکوں کو چھوٹے تنبوئوں میں جس کو بیوک کہتے ہیں، رہنے کا موقع ملا تھا۔ 
اسی دوران میں لڑکوں کا دوسرا بیج لاہور اور ارد گرد کے علاقوں سے 49 بلوچ جو کہ31 ایف ایف کے بالمقابل ہی تھی، میں تربیت کے لئے آ چکا تھا۔ 
سپاہی کی چھ ماہ کی بنیادی تربیت مکمل ہو جانے پر پاکستان آرمی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار چنے جانے والے لڑکوں کو''نیشنل سروس کمیشن ''سے نوازا گیا۔ چار لڑکوں میں میر حیدر علی جو کہ بعد میں پاک فوج سے میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، ایاز بشیر جو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ، جمیل بخاری جو6 بلوچ میں سے کپتانی میں فوج کو خیرباد کہہ گئے اور فیاض احمد نون جنہوں نے فوج میں شمولیت حاصل نہیں کی ،کو ایک سادہ سی تقریب میں سکینڈ لیفٹیننٹ کے عہدے کا رینک پہنایا گیا ۔ جنہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا ان کو اس ''نیشنل سروس کمیشن''کی بنیاد پر3 اپریل 1972 تک سینیارٹی دے دی گئی تھی ۔ 
مشرقی پاکستان میں حالات دن بدن کشیدہ ہوتے جا رہے تھے ۔ مجیب الرحمان کی گوریلا فورس ''مکتی باہنی ''کی پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیاں زور پکڑتی جا رہی تھیں۔ ہندوستان مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کی نہ صرف حمایت کر رہا تھا بلکہ ہر طرح سے مدد بھی کر رہا تھا۔  ایڈ مرل ایس ایم احسن کے بعد بگڑتے حالات کو قابو میں لانے کے لئے جنرل محمد ٹکا خان کو مشرقی پاکستان میں گورنر بنا کے بھیجا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور وہ بھی اگست 1971 میں واپس مغربی پاکستان آ گئے ۔ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی ، اے اے کے نیازی جو کہ ٹائیگر نیازی کے نام سے فوج میں جانے پہچانے جاتے تھے، نہایت دلیر افسر تھے۔ وہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر بھی تھے۔ وہ اس تمام سیکٹر کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی پاکستان پر بھی جنگ کے بادل منڈلانے لگے ۔
31 ایف ایف میں لڑکوں کی تربیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھی اور اکتوبر کے اواخر میں لڑکوں کو ایک ماہ کے لئے قصور کے پاس سالانہ سرمائی مشقوں کے لئے لے جایا گیا ۔ مشقوں کے ختم ہونے کے قریب مشرقی پاکستان میں جنگ شروع ہو چکی تھی اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ بھارت مغربی پاکستان کو بھی اس کی لپیٹ میں لے لے گا۔ خبریں آنے لگیں کہ نیشنل سروس کے لڑکوں کو گھر بھیج دیا جائے گا  جس پر لڑکے خوش نہیں تھے کیونکہ ان کو محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ جس جذبے سے وہ آئے تھے جب اس کا پھل کھانے کا وقت آیا تو ان کو علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری خبر یہ آئی کہ نہیں ان تمام لڑکوں کو اگلے مورچوں پر بھیجا جائے گا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔ ابھی یونٹ قصور شہر کے باہر ہی کیمپ لگائے ہوئی تھی کہ جنگ کا اعلان ہو گیا ۔
ناتجربہ کار اور نوجوان لڑکے غیر معمولی صورت حال کے باعث پریشان تھے اور شام ہوتے ہی دشمن جنگی جہاز ایس یو - 7 ہوا میں چکر لگانے لگے۔ شام کے بعد بلیک آئوٹ کا حکم بھی مل گیا اور تمام قصور شہر کی بتیاں گل کر دی گئی تھیں لڑکوں نے بازار سے جا کر کچھ خریداری کی اور بوندی سے اپنے اپنے تھیلے بھر لئے کہ نامساعد حالات میں کام آئے گی۔ 
اگلے ہی دن تین کمپنیوں کو دیپالپور کے نزدیک بی آر بی نہر کے کنارے 26 پنجاب آر اینڈ ایس اور بی کمپنی کو 2 پنجاب کے زیرِ کمان بھیج دیا گیا ۔ 26 پنجاب نے لڑکوں کو بی آر بی کے کنارے پر مختلف پلوں پر تعینات کر دیا جہاں وہ ہر آنے جانے والے کو چیک کرتے اور ان پر نظر رکھتے تھے۔ جنگ اپنے زوروں پر تھی اور پاکستانی فوج گنڈا سنگھ والہ قصور سیکٹر میں حملہ کر کے دریائے ستلج کے کنارے تک کے علاقے پر قبضہ کر چکی تھی ۔ قصور -گنڈا سنگھ والا پر دریائے ستلج کے پل کے دونوں کناروں پر تقریبا پچاس پچاس فٹ اونچے قلعے بنے ہوئے ہیں جن میں سے پاکستان کے قبضے میں آنے والے کو ''قیصرِ ہند'' اور فیروز پور والی طرف والے کو '' فخرِ ہند ''کہتے ہیں ۔ ہندوستانی فوج نے پسپا ہوتے وقت افراتفری میں فیروز پور والے کونے پر دریا کے پل کا ایک حصہ بارود لگا کے اڑا دیا جبکہ ان کا ایک ٹینک اسی جگہ سے گزر رہا تھا نتیجتاً وہ ٹینک دریائے ستلج میں گر گیا اور جنگ کے کافی عرصہ بعد تک وہیں پڑا رہا۔ دریا کے مشرقی کنارے پر ہندوستانی فوج اور مغربی کنارے پر پاکستانی فوج قابض تھی۔ قیصرِ ہند یا پل پر کھڑے ہو کے دیکھتے تھے تو فیروزپور شہر کی لائٹیں نظر آتی تھیں اور ریل گاڑی کی آواز صاف سنائی دیتی تھی۔ 
لڑکوں میں بڑا جوش و جذبہ پایا جاتا تھا اور ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ بارڈر پار کر کے دشمن کی ٹھکائی کر کے آئیں ۔ دشمن کے ایس یو7  جنگی جہاز بلا روک ٹوک مورچوں پر نیچی پروازیں کرتے جس پر لڑکوں کا غصے سے خون کھولتا اور وہ افسروں کو کہتے کہ ان پر فائر کرنے کی اجازت دیں ۔ لیکن بی کمپنی کمانڈر میجر مشتاق نے بہت سختی سے منع کر رکھا تھا۔ بی کمپنی میں ایک ایم جی کے مورچے پر موجود دو لڑکوں خواجہ طاہر ضیا اور بٹ سے نہ رہا گیا اور ایس یو 7 کی نیچی پرواز کے بعد دوسرے چکر پر آیا تو انہوں لاہوری زبان کی مخصوص گالیوں کی بوچھاڑ میں سامنے سے آتے ہوئے جہاز پر فائر کھول دیا ۔ جہاز وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا لیکن ایک اور مورچے کے زمینی فائر سے اس کو گرا لیا گیا۔ دسمبر کے اواخر میں 31ایف ایف کو لاہور واپس بھیج دیا گیا اور 15 جنوری 1972 کو ایک سرٹیفیکٹ کے بدلے گھر بھیج دیا گیا ۔ 
یہ چند سطور لکھنے کا مقصد صرف اور صرف ان نوجوانوں کے جذبے کو سراہنا اور نئی نسل کو آگاہی دینا ہے ۔ ایسی قوم کو کسی حالت میں بھی شکست نہیں دی جا سکتی جس کا بچہ بچہ اپنے ملک کی سالمیت پر جان دینے کے لئے ہر لمحہ تیار ہو۔ آج اس تمام واقعہ کو پچاس سال بیت گئے ہیں اور وہ تمام نوجوان سوائے چندایک کے، حیات ہیں ۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ان نوجوانوں کے ساتھ یہ تاریخ کا روشن پہلو بھی چند صفحات کے ساتھ کتابوں میں دب کے رہ جائے گا۔ وہی قومیں ہمیشہ ترقی کرتی ہیں جو اپنے شہیدوں اور غازیوں کے کارناموں کو یاد رکھتی ہیں اور فخر محسوس کرتی ہیں ۔ آج پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی یہ کل کے نوجوان گزرے لمحوں کو یاد کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ اور آج بھی ضرورت پڑنے پر اسی جذبے کے ساتھ محاذ جنگ پر جانے کے لئے تیار ہیں۔ ||


 [email protected]
 

یہ تحریر 385مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP