قومی و بین الاقوامی ایشوز

ممبئی سے پٹھان کوٹ تک

پٹھان کوٹ واقعے سے بھارت نے جو فائدہ حاصل کرنا تھا کر لیا۔ پاک بھارت وزارت خارجہ کے سیکرٹری صاحبان اعزاز چوہدری اور سبرامنیم جے شنکر، کی جو ملاقات 15جنوری کو ہونا تھی غیر معینہ مدت کے لئے التوا میں چلی گئی۔ بس یہی بھارت چاہتا تھا۔ پاکستان نے حتی الوسع کوشش کی کہ معاملات بہتری کی طرف جائیں۔مگر بھارت کا انتہا پسند حلقہ کسی طور بھی خطے میں امن کا خواہاں نہیں ہے۔ ہر چند کہ پٹھان کوٹ واقعے کے بعد بھارتی حکمرانوں نے محتاط رویہ اختیار کئے رکھا وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے 9جنوری کو ائربیس پر عسکریت پسندوں کے حملے کی تفصیلات کا ذاتی طور سے مشاہدہ کرنے کی خاطر دورہ کیا۔ بھارتی وزارت دفاع اور فضائیہ کے سینئر دفاعی اور سکیورٹی حکام نے انہیں بریفنگ دی مگر مودی کا ماضی کوئی اتنا شاندار نہیں ہے۔ تیرہ برس تک جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ رہے تو مسلمانوں پر جو گزری ایک عالم گواہ ہے۔ جس پر تاریخ ندامت سے منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام والا محاورہ شاید اسی قسم کے شواہد کی وجہ سے بنایا گیا ہوگا۔

 

ممتاز صحافی الطاف حسن قریشی صاحب نے لاہور کے ہفتہ وار ’’بجنگ آمد‘‘ کو انٹرویو میں ایک بات کہی ہے کہ بھارتی قیادت اداکار ہے وہ وقت پڑنے پر چاپلوسی بھی کر لیتے ہیں اور پاؤں بھی پڑ جاتے ہیں۔ تو کیا اس جملے سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا چاہئے کہ پیرس میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات، جس میں پہل نریندرمودی نے کی تھی، وہ سب نظر بندی کا کمال تھا۔ شعبدہ تھا، اداکاری تھی۔ قومی سلامتی کے مشیروں کی بنکاک میں ہونے والی ملاقات جو پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل(ر) نصیر جنجوعہ اور بھارتی ہم منصب کے درمیان ہوئی تھی اور جسے پاک بھارت کے درمیان پیش رفت کا عملی آغاز سمجھا جاتا ہے، وہ محض وقت گزاری تھی کیا؟ نریندرمودی کا اچانک 25دسمبر کو لاہور جاتی امراء پہنچ جانا اداکاری تھا؟ پھر 8دسمبر2015کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا اسلام آباد ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے آنا محض ایک دکھاوا تھا؟ پاکستان نے ہمیشہ امن و بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے کی بات کی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ نریندرمودی نے اپنا الیکشن پاکستان دشمنی کی بنا پر جیتا اور حکومت میں آیا۔ مگر پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے نریندرمودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کر کے جس ڈپلومیسی کی بنیاد رکھی تھی وہ ماضی کو بھلا کر ایک اچھی ہمسائیگی کی طرف پیش رفت تھی۔ ملکوں کی سفارت کاری میں ایسا ہی ہوتا ہے ماضی کو فراموش کر کے یا اس سے صرف نظر کر کے مستقبل کو مقدم جانا جاتا ہے۔ مگر نریندرمودی پاکستان کے اس انسان دوستی کے جذبے کی اہمیت کو سمجھنے سے نہ صرف قاصر رہے بلکہ اپنے آپ کو انتہائی چالاک سیاستدان ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ویسے تو 8 اپریل 2015 کو ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے نریندرمودی نے کہا تھا کہ بھارت شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کے تحت مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ اس سے اگلے روز مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام مسائل پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ پھر 10جولائی 2015 کو روس کے شہر اوفا میں نریندرمودی نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور اپنی اسی خواہش کو دہرایا کہ بھارت پاکستان سے مذاکرات کا خواہاں ہے۔ مگر اسی عرصے میں بھارت سفارت کاری کی آڑ میں افغانستان میں تخریب کاروں کی مدد اور پلاننگ میں لگا رہا۔

 

شیوسینا کے غنڈوں نے ،جنہیں بھارت کی مرکزی حکومت کی آشیرباد حاصل ہے، 2اکتوبر 2015 کو، ممبئی میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تعارفی تقریب کے میزبان سدھینداکلکرنی کا منہ کالا کر دیا۔ پھر 19اکتوبر کو رکن مقبوضہ کشمیر اسمبلی انجینئر عبدالرشید کے ریاستی پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کے دوران بعض افرادنے سیاہی پھینک کر اُن کا منہ کالا کر دیا۔ پھر اسی روز بھارتی کرکٹ بورڈ انتظامیہ کی دعوت پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے شہریارخان اور نجم سیٹھی کو ہراساں کرنے کے لئے ممبئی بھارتی کرکٹ بورڈ ہیڈکوارٹرز پر شیوسینا نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

 

پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے ہی دیکھ لیں پاکستان نے اسی عرصے میں 3سے 15جنوری کے دوران میاں نوازشریف کی صدارت میں ایپکس کمیٹی کے دو اجلاس طلب کئے۔یہ کمیٹی جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، خارجہ امور کے لئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز‘ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی اور اعلیٰ فوجی و سول حکام شامل تھے، میں فیصلہ کیا گیا کہ بھارت کی حکومت کے ساتھ مشاورت سے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم پٹھان کوٹ، جائے وقوعہ پر، بھیجی جائے گی اور بھارت سے مزید شواہد بھی مانگے جائیں گے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے مقابلے اور اس کی بیخ کنی کے فیصلے کے عین مطابق پاکستان اس موقع پر بھارت کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہے گا۔ مزیدبرآں وزیراعظم پاکستان نے پٹھان کوٹ معاملے پر تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ جو شواہد اور بھارتی الزامات کا جائزہ لے گی چھ رکنی کمیٹی کے کنوینر آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب رائے طاہر ہوں گے اور دیگر ممبران میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، کے پی کے، صلاح الدین خان، ڈائریکٹر آئی بی لاہور عظیم ارشد اور ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور عثمان انور شامل ہیں۔ اس خصوصی کمیٹی میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید اور ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا بھی شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی ہفتہ دس دنوں یا پندرہ دنوں کی ابتدائی کارروائی ہے۔ مگر اسی دوران بھارت کی طرف سے بجرنگ دل نے دہلی میں پاکستان ایئرلائنز کے دفتر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی، اس موقع پر بھارتی آرمی چیف کا رویہ کسی طور بھی بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے غنڈوں سے کم نہ تھا۔

 

پاکستان تو خلوص نیت سے بھارت سے اچھے ہمسائیوں والے تعلقات کا خواہش مند ہے۔ نریندرمودی اگر دوستی کے لئے ایک قدم اٹھاتے ہیں تو پاکستان دو قدم بڑھانے پر تیار ہوتا ہے۔ 1948 کے گولڈن ٹمپل سانحے کا دُکھ، سِکھ کمیونٹی میں ابھی تازہ ہے اور وہ بھولے نہیں، وہ بھارت سے کسی وقت اچانک بدلہ چکانے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ لہٰذا بھارت کو اپنے اندر ’’جھاتی‘‘ مارنی چاہئے۔ کشمیریوں پر غاصبانہ تشدد بھارت کی جمہوریت پسندی پر بدنما دھبہ ہے۔ بھارت میں بے روزگاری‘ افلاس‘ بھوک اور بیماری سے عام بھارتی کا زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔13مارچ 2015 کو ایک بے روزگار نوجوان نے بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کے گھر کے باہر خود کو آگ لگا کر بے روزگار زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ بھارت کے اپنے کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ 2009 میں 568 افراد نے خودکشی کی تھی۔ پھر بالترتیب 2010 میں 1583 افراد‘ 2011 میں 519افراد‘ 2012 میں 745افراد‘ 2013 میں 750افراد اور 2014 میں صرف 58افراد نے خودکشی کی۔ بھارتی حکومت بجائے مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیتی، اس نے اعداد و شمار میں ہیراپھیری شروع کر دی ہے۔ 2014 میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی مگر جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے صرف 58افراد کی موت ظاہر کی گئی تھی۔

ایشین ہیومن رائٹس کمشن نے اپنی 2015 کی رپورٹ میں حال ہی میں بتایا کہ بھارتی علاقے اترپردیش کے بندھیل کھنڈ جو سات ہزار کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس کی آبادی 18.3ملین ہے، وہاں کے باشندے گھاس کھانے پر مجبور ہیں۔

 

اترپردیش سے ہی منوج واجپائی ایک نوجوان کو چند ماہ پیشتر امیتابھ بچن کے پروگرام’ ’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ میں لائے ہوئے تھے، جس نے بتایا کہ ان کے علاقے کے تقریباً 40لاکھ خاندان نالے کا پانی پیتے اور چوہے کھاتے ہیں۔ انہیں موسٹر کہا جاتا ہے۔ پپلی نام کی ایک دستاویزی فلم بھی اس سلسلے میں دکھائی گئی تھی۔ ایسا کھانا پینا محض غربت اور بے روزگاری کے سبب ہی ہے۔

دل دہلا دینے والے یہ واقعات بھارت سرکار کو یقیناًدکھائی تو دیتے ہوں گے مگر پھر بھی حکومتی سورماؤں کی متکبرانہ گفتگو میں ذرابرابر فرق نہیں آیا۔ 22جنوری 2016 کے ایک ٹی وی پروگرام میں نوجوان طلباء و طالبات کے سامنے اینکر کے ایک سوال کے جواب میں بھارتی سلامتی کے مشیر سبرامینم نے کہا کہ ’’پاکستان باز نہ آیا تو پہلے اس کے دو ٹکڑے کئے تھے، اب چار کریں گے۔ پھر بھی باز نہ آیا توآٹھ کریں گے۔ یوں بات ختم ہو جائے گی۔‘‘ اس پر طلباء و طالبات نے بہت زور سے تالی بجائی۔ اس قسم کی گفتگو کر کے بھارت کا حکمران ٹولہ اپنے اندر کے حالات سے چشم پوشی تو کر ہی رہا ہے، دکھ اس بات کا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔

بھارت کے اندر کئی تحریکیں بِس گھول رہی ہیں۔ اس لئے پاکستان کی طرف منہ کر کے آگ اور شعلے نکالنا کسی طورمناسب نہیں۔ داخلی طور سے جب تک حالات ٹھیک نہیں کئے جاتے پاکستان پر الزام لگانا آسمان پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

 

پاکستان کے آج کے سیاسی منظر نامے میں تقریباً ساری سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہونے چاہئیں۔ نریندرمودی کے حالیہ 25دسمبر کے دورہ جاتی امراء پر جہاں عالمی برادری نے مثبت جذبات کا اظہار کیا تھا پاکستانی سیاسی جماعتوں نے بھی مودی کے اس اقدام کو سراہا تھا چین نے بھی دورے کو خوش آئند کہا تھا۔ جماعت اسلامی کے ہلکے پھلکے احتجاج کو اس لئے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے کہ جماعت اسلامی تحریک انصاف کی اتحادی ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی میں خود بھارت جا کر نریندرمودی کو پاکستان دورے کی دعوت دے آئے تھے۔ نریندرمودی کا دورہ کسی بھارتی سربراہ کا گیارہ برس بعد پاکستان کا دورہ تھا۔ 1999 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ اور اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا وہ امرتسر سے ’’دوستی بس سروس‘‘ سے لاہور پہنچے تھے۔ مینار پاکستان جا کر انتہائی جذباتی نظم بھی سنائی تھی مگر نتیجہ پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔

 

پاکستان اور بھارت کے عوام مل جل کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ تنازع کی وجہ صرف مسئلہ کشمیر ہے۔ جس کا حل ایک مدت سے مذاکرات کی میزوں پر تلاش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بیک ڈور ڈپلومیسی کو کارگر ہتھیار کہا جا رہا ہے۔ ماضی میں کرکٹ ڈپلومیسی کی اصطلاح بھی استعمال ہوئی اور پھر برتھ ڈے ڈپلومیسی، جس کے بانی نریندرمودی ہیں، سے پہلے چین کے صدر شی چن پنگ نے ہوم ٹاؤن ڈپلومیسی متعارف کرائی تھی وہ جب 17ستمبر 2014کو بھارت کے تین روزہ دورے پر پہنچے تھے تو انہوں نے اپنے دورے کا آغاز بیجنگ میں شی چن پنگ کے گھر سے کیا تھا۔ پھر اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نریندرمودی نے 25دسمبر 2015کو جاتی امراء جا کر دلوں کو مسخر کرنے کی سعی کی تھی۔ اسلامی روایات میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر دشمن بھی گھر کی دہلیز تک پہنچ جائے تو وہ دشمن نہیں رہتا۔ مہمان بن جاتا ہے۔ نریندرمودی کی جاتی امراء یاترا کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نریندرمودی پر عالمی دباؤ تھا۔ بھارت کے اندرونی حالات بھی کافی کشیدہ ہیں۔ دانشورقلمکار اور فنون لطیفہ کے لوگ نہ صرف یہ کہ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں بلکہ اہل دانش نے بھی اپنے ایوارڈ حکومت کو واپس کر دیئے ہیں۔ حتیٰ کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سابقہ فوجیوں نے اپنے تمغے احتجاجاً واپس کر دیئے ہیں۔ کیونکہ بھارت کی اشرافیہ جن سنگی غنڈوں کی آوارگی اور حکومتی بے حسی اور بے اعتنائی سے عاجز آ چکے ہیں بہرطور حالات کیسے بھی ہوں یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ ہمیں خوش گمانی کا اظہار کرنا چاہئے۔

 

پٹھان کوٹ کے واقعے کے بعد امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے 9جنوری 2016کی شام وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو فون کر کے کہا ان مشکل حالات میں آپ کا قائدانہ کردار قابل ستائش ہے۔ مذاکرات کا تسلسل یقینی بنانے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنا علاقے کے استحکام کے لئے بھی اہم ہے۔ جواب میں میاں نواز شریف نے کہا ’’شفاف طریقے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہماری مستعدی اور خلوص کو پوری دنیا دیکھے گی ۔ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

 

جان کیری نے پٹھان کوٹ واقعے کے سچ کی تلاش کے لئے مکمل تعاون اور حمایت کی پیش کش اور یقین دہانی بھی کرائی۔ مسٹر کیری نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے تدبر کی تعریف کی، لیکن جان کیری کی خواہش کے باوجود مذاکرات نہ ہو سکے اور 15جنوری والی سیکرٹری خارجہ صاحبان کی ملاقات ملتوی کر دی گئی، جس کا ذکر ہم نے مضمون کے آغاز میں کیا ہے۔ نریندرمودی کو چاہئے کہ وہ پہلے ان لوگوں کو تہذیب کے دائرے میں لائیں، جو حالات کی بگاڑ میں پیش پیش ہیں، تاکہ معاملات کی درستی کے لئے آگے بڑھا جائے۔ بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے علاقے ’’ڈیرہ دون‘‘ میں تین روزہ صنعتی نمائش جو 7سے 10جنوری 2015 تک جاری رہی جسے انڈوپاک کے نام سے شروع کیا گیا تھا۔ شیوسینا کے غنڈوں نے پاکستان کی مصنوعات کے سٹالز پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی، لوٹ مار بھی ہوئی، پاکستان کے سٹالز بند کرا کے نمائش کا نام بدل کر اور انڈوایشیاء کے لئے بینر لگا کر نمائش جاری رکھی۔ ان حالات میں اور انتہا درجے کی نفرت میں خیر کی توقع کرنا چنداں آسان نہیں جبکہ بھارتی آرمی چیف کا لب و لہجہ بھی قابل مذمت ہو۔

 

امریکی ادارے اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی دس بڑی افواج کے سربراہان میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف دنیا کے 10ممتاز جرنیلوں میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیرسنگھ آٹھویں نمبر ہیں اور امریکی فوج کے سابقہ چیف جنرل مارٹن ڈمپسی دوسرے نمبر پر ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے کمال تدبر سے افواجِ پاکستان کی ساکھ کو اوجِ کمال پر پہنچایا۔ ان کی شبانہ روز انتھک کاوشیں، دہشت گردوں کی سرکوبی اور پاکستان کی ہر آفت اور مُصیبت میں خدمت کے باعث، عوام میں مقبول ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی فوجی کمانڈروں کی درجہ بندی کی فہرست میں جنرل راحیل شریف بہترین جرنیل قرار پائے۔ اس کی ایک بڑی وجہ باہمی اعتماد، اداروں میں عدم مداخلت سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک پیج پر ہونا ہے۔ جبکہ بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ نریندرمودی اور جنرل دلبیر سنگھ اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ قومیں تلخ نوائی، جارحیت اور عددی برتری سے نہیں بلکہ مثبت فکر، تدبر، حوصلے اور کردار سے بنا کرتی ہیں۔ بھارت کو ہجوم سے قوم بننے کی کوشش کرنا ہو گی۔ کیونکہ دنیا کتنی ہی گلوبل ویلیج بن جائے، سمٹ کر بھلے ایک نقطے پر آ جائے، جب تک ذہنوں کی کدورتیں اور دلوں کے فاصلے کم نہیں ہوں گے سارا کچھ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ جیسا کہ پٹھان کوٹ کے واقعے میں ہوا ہے۔

 

آج کل دنیا کی آبادی کم و بیش ساڑھے سات ارب نفوس پر مشتمل ہے آج سے 85برس بعد یعنی سن اکیس سو میں یہ آبادی گیارہ ارب تک پہنچ جائے گی۔ سب سے بڑا مسئلہ خوراک اور صاف پانی کا ہو گا۔ رازق تو اﷲ پاک ہی ہیں مگر شعور کی دولت ہمیں اسی لئے عطا ہوئی ہے کہ ہم فکروتدبر کریں۔ سب سے زیادہ خوراک کی کمی کا جو خطہ شکار ہو گا وہ ایشیا ہی ہے۔ 2050تک بھارت کی اپنی آبادی کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی۔ اس کے لئے یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ ایسے میں اگر خطے کے حالات یوں بدامنی اور بے اعتمادی پر منتج رہے تو آنے والی نسلیں خواہ کسی بھی دین، دھرم اور رنگ و نسل کی ہوں گی بھوک اور افلاس ان کا مقدر بن جائے گا۔ جس ملک کا شاعر اس قسم کی شاعری کر رہا ہو تو اس دیش کے حکمرانوں کو بہت سوچ سمجھ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

 

تُو تو رزاق ہے تجھ سے کیا پردہ

کل سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا

(میثم علی آغا)

 

مہذب قوموں کے شجرے نہیں دیکھے جاتے وہ اپنی گفتگو سے پہچانی جاتی ہیں۔ 30دسمبر 2015 کو مردان کے نادرا آفس کے گیٹ پر خودکش حملے میں 26 شہری شہید ہوئے، 56 زخمی ہوئے مگر پاکستانی میڈیا نے مردان کے اس حملے کو، جس کے تانے بانے افغانستان میں بھارتی نیٹ ورک سے ملتے محسوس ہونے کے باوجود اسے اچھال کر، ماحول خراب کرنے کی بجائے معمول کے فالو اپ میں رکھا جبکہ بھارتی میڈیا پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے سابق وزیرداخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ کا واقعہ خالصتاً بھارتی خفیہ ایجنسی را کی کارروائی ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ بھارتی میڈیا کے زیادہ تر لوگ راکے پے رول پر ہیں۔ بھارتی حکومت نے بھی اپنے میڈیا کی بے ہنگم معلومات سے متاثر ہو کر پٹھان کوٹ واقعے میں استعمال ہونے والی کالز کے سلسلے میں جو دونمبر پاکستان کو دیئے تھے انکوائری کرنے پر وہ غیررجسٹرڈ نکلے۔ پاکستان میں ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

 

ممبئی حملوں میں بھی بھارت نے پاکستان پر بے سروپا الزامات لگا دیئے تھے۔ جن کی صداقت سے بھارت خود ہی مکر گیا تھا جس کا انکشاف امریکی محکمہ خارجہ کی خفیہ دستاویز کی حامل وکی لیکس نے پاکستان میں متعین اس دور کے امریکی سفیر این ڈبلیو پیڑسن کے حوالے سے کیا تھا۔ کہ بھارت نے ممبئی حملو ں کے حوالے سے پاکستان کے خلاف جو ثبوت دیئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ 11جولائی کے ممبئی حملوں میں پاکستان ملوث ہے۔ لیکن جب بھارتی قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائن سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ الزامات ٹھوس ہیں؟ تو بھارتی نمائندے نے ان کے غیر حقیقی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ شواہد ٹھوس ہیں۔ البتہ اچھے ہیں۔

 

امریکی صدر باراک اوباما گزشتہ برس، 26جنوری کو جب بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھارت کے دورے پر آئے تھے اور دونوں ملکوں کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تھا اس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک اور داؤد ابراہیم کے خلاف پاکستان کارروائی کرے۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کے بے سروپا الزامات اُن بدگمانیوں، فاصلوں کو بڑھاتے ہیں۔ دنیا دھیرے دھیرے بدل رہی ہے۔ حال ہی میں جمہوری پبلیکیشنز نے ایک روسی جرنیل کی کتاب، جو یاداشتوں پر مشتمل ہے، شائع کی ہے۔ محموت گاربیف نے اپنی اس کتاب کا نام ’’میری آخری جنگ‘‘ رکھا۔ اس کتاب کا انتساب 16دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں شہید ہو جانے والے بچوں کے نام کیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی مثبت تبدیلی ہے بھارت کو بھی حقائق سے چشم پوشی سے اجتناب برتنا ہو گا۔ سچ اور جھوٹ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سچ کو آنچ نہیں اور جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی جھوٹ بولنا پڑتے ہیں۔ سچ کی مثال اس بیج جیسی ہے جو دھرتی کا سینہ چیر کر اگنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتا ہے۔ بھارت کی دروغ گوئی سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دنوں میں بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شا تھے جو بعد میں فیلڈ مارشل بنا دیئے گئے تھے۔ جنرل مانک شا کے سٹاف آفیسر بریگیڈیئر دپندر سنگھ نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب سولجرنگ وِدڈگینٹی میں لکھا ہے کہ ہم نے مکتی باہنی کو تیار کیا تھا جن میں سے کچھ کو ہم پاکستانی فوج کی وردیاں پہنا کر مشرقی پاکستان میں لوٹ مار اور آبروریزی کا ٹاسک دے کر بھیجا کرتے تھے۔ جس سے بنگلہ دیش کے لوگوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی تھی۔ پٹھان کوٹ کے مذکورہ واقعے میں بھی دہشت گرد فوجی وردیوں میں آئے تھے۔ بھارت کے ماضی کے ریکارڈ کی روشنی میں رحمان ملک کی بات دِل کو لگتی ہے کہ پٹھان کوٹ ڈرامہ را نے رچایا ہے۔ پٹھان کوٹ بھارت کا انتہائی اہم ایئربیس ہے مگر لاوارث پڑا ہوا ہے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے اپنے دو ایئر بیس پاکستان کے خلاف استعمال کئے تھے۔ایک آدم پور اور دوسرا پٹھان کوٹ کا۔ نارووال سے پٹھان کوٹ 28کلومیٹر اور دہلی سے 340 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ آپریشنل بھارتی ایئربیس ہے۔ کم و بیش جو 20ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ یہاں روسی ساختہ لڑاکا طیارے مگ 29اور 35ایم آئی ہیلی کاپٹر موجود رہتے ہیں۔ 1965 میں مگ 29 انتہائی جدید طیارہ ہوا کرتا تھا۔ پہلی بار جب یہ کوریا کی جنگ میں فضا میں بلند ہوا تو امریکی ایئرفورس لرز اُٹھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی مگ 29 صحیح و سلامت اتار لے گا اسے 30ہزار ڈالر انعام ملے گا۔ بھارت کو بھی اپنے مگ 29پر بڑا گھمنڈ تھا مگر پاک فضائیہ کے آٹھ ہوا بازوں نے سات ستمبر 1965کو پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر چند منٹوں میں بارہ طیارے تباہ کئے تھے جن میں سات مگ 29اور پانچ مسٹیئر تھے ان کے علاوہ دو ٹرانسپورٹ طیارے بھی ناکارہ کئے تھے۔ اس واقے سے چند دن پہلے یعنی 3ستمبر کو بھارت کا ایک مگ 29پسرور ہوئی اڈے پر صحیح و سلامت اتار لیا گیا تھا۔ جسے سکاڈرن لیڈر برج پال سنگھ اڑا رہا تھا طیارے کا نمبر ناٹ آئی ای 1083 تھا جو آج کل پاکستان کے کسی چوک میں نصب ہے۔ قیدیوں کے تبادلے میں برج پال سنگھ کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ خیر تاریخ ایک انتہائی دلچسپ موضوع ہے اور بے رحم حقیقت بھی۔ بات پٹھان کوٹ ایئر بیس کی ہو رہی تھی توپٹھان کوٹ ایئر بیس واقعے پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے مگر کیا کیا جائے کہ بھارت نے خود ہی اسے متضاد، مضحکہ خیز اور پراسرار بنا دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی پھرتیوں کا یہ عالم ہے کہ وقوعہ کے دو گھنٹے بعد ہی انہوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتا چلا لیا تھا کہ وہ لوگ کہاں سے آئے تھے، کون تھے، کتنے تھے، کس علاقے سے بھارت میں داخل ہوئے تھے؟ جبکہ بھارتی فورسز مسلسل تین روز آپریشن کرتی رہیں اور ہر روز نیا بیان جاری کر کے سنسنی خیزی پھیلائے رکھی، کہانی میں درد بھرنے کے لئے ایک فوجی کرنل کی جان بھی لے لی اور پہلے روز بتایا گیا کہ 4بھارتی فوجی اور 5حملہ آور ہلاک ہوئے۔ واردات سے قبل بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی گورداسپور کے ایس پی سلویندر سنگھ سے گاڑی اور موبائل فون چھینا گیا تھا۔ اسی موبائل فون پر انہوں نے مختلف جگہوں پر فون کئے۔ ایک دہشت گرد نے اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مرنے جا رہا ہے تو ماں نے اس کے جواب میں کہا کہ خالی پیٹ نہ جانا کچھ کھا لینا۔ یہ اطلاع بھی آئی کہ ایس پی سلویندرسنگھ کو دہشت گردوں نے اس لئے آزاد کر دیا تھا تاکہ وہ دہشت گردوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جا کر بتائے لیکن اسی شام ایس پی سلویندرسنگھ کو بھارت نے اس لئے حراست میں لے لیا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ دہشت گردوں کا ہم راز ہو۔ پھر یہ خبر بھی آئی کہ ایس پی سلویندرسنگھ کے بیان پر اعتماد نہیں لہٰذا اسے گورداسپور سے دہلی پہنچا دیا گیا اور کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے جھوٹ پکڑنے والی مشین سے اب سلویندرسنگھ سے تفتیش کرنی ہے۔ بھارتی میڈیا نے کالیں بھی ٹریس کر لیں اور یہ بھی پتا چلا لیا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق جیش محمد ‘ حزب المجاہدین اور جماعۃ الدعوۃ سے ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردوں سے پاکستانی ادویات اور سرنجیں بھی ملی ہیں۔

 

دباؤ بڑھانے کے لئے پٹھان کوٹ حملے کے شواہد عجلت میں اکٹھے کر کے بھارت سرکار نے امریکہ‘ فرانس‘ برطانیہ‘ کوریا اور جاپان کو فراہم کر دیئے۔ بھارتی سرکار نے ایئربیس پر حملے کا وقت صبح ساڑھے سات بجے بتایا اس روز 2جنوری تھی جب کہ میڈیا نے یکم اور دو جنوری کی درمیانی رات ساڑھے چار بجے حملے کی خبریں نشر کیں۔ کارروائی میں ٹینک اور ہیلی کاپٹر کے استعمال کی خبریں بھی آئیں دہشت گردوں کی رہائشی علاقے میں چُھپنے کی بھی اطلاعات ملیں۔ پٹھان کوٹ ایئر بیس جو انتہائی غیرمحفوظ علاقہ ہے کیونکہ اس کے اندر ہزاروں سویلین بھی قیام پذیر ہیں۔ گوالوں کے کئی خاندان بھی کیمپ ایریا میں رہائش قائم کئے ہوئے ہیں۔ مال مویشی چرانے والے 20روپے کے عوض بیس کی چراگاہ میں جا سکتے ہیں۔ ’’بیس ایریا‘‘ میں دکانیں اور بازار ہیں جو رات دس بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ مگر واردات والے روز رات سات ساڑھے سات بجے ہی دکانیں بند کروا دی گئیں تھیں۔ رستے صاف کر دیئے گئے تھے۔ کہا گیا ہے کہ بھارت کو حملے کی خبر تھی، اگر ایسا ہی تھا تو سد باب کیوں نہ کیا گیا؟ پھر یہ کہ دہشت گرد فوج کی وردی اور پولیس کی گاڑی میں تھے۔ تو پھر اسے مشکوک کیوں نہ سمجھا گیا؟ پھر پانچ جنوری کو بھارتی وزیردفاع منوہرپارکر نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر بتائیں گے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے البتہ انہوں نے اسلحہ پاکستان کا بنا ہوا استعمال کیا ہے۔ جبکہ بھارتی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ شردکمار نے بلاجھجک اور بغیر تحقیق کے فوراً بعدکہہ دیا کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے بھی شامی کمانڈوز کی آرام کرتے ہوئے تصویر دکھا کر خبر چلا دی کہ یہ کا لعدم تنظیم جیش محمد کے ارکان ہیں جو راولپنڈی میں بیٹھے پٹھان کوٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں مگر پاکستانی میڈیا نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ خیر پٹھان کوٹ واقعے کے دوسرے روز یعنی چالیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھارتی فورسز دہشت گردوں سے ایئربیس خالی نہ کرا سکیں اور مرنے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی بدل کر بتائی جاتی رہی۔ کبھی چار پانچ اور کبھی چھ۔ یہ خبریں بھی چلتی رہیں کہ چار دہشت گرد ہلاک کر کے ان کی میتیں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ اسی اثنا میں بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل نرنجن کے مرنے کی خبر بھی نشر کر دی گئی جو دہشت گرد کے جسم کے ساتھ بندھے بارود کو ناکارہ کر رہے تھے۔ اسی عرصے میں ایئر مارشل انیل کھوسلہ نے کہا کہ حملہ آوروں کی لاشیں ابھی تک برآمد نہیں ہو سکیں او رپھر حملے کے تیسرے روز بھی بھارتی فورسز حملہ آوروں کے سامنے بے بس دکھائی دیئے اور اب عالم یہ ہے کہ بھارت کو پٹھان کوٹ ناکام ڈرامے کی کمزور کہانی، اور بے سود اداکاری، دم توڑتی دکھائی دی تو بھارتی وزیرداخلہ منوہر پار کر جے پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روائتی ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور پاکستان کو کھسیانے انداز میں للکارنے لگ گیا ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو ایئر بیس میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اور یہ کہ پٹھان کوٹ حملے سے صبرجواب دے گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان نے پٹھان کوٹ واقعے کے منصوبہ سازوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا اب دنیا ایک سال میں نتائج دیکھے گی۔ یہ کیفیت یقیناًسازش میں ناکام رہ جانے والوں کی ہوا کرتی ہے۔ ممبئی سے پٹھان کوٹ، جہاں تک نگاہ جاتی ہے بھارت کی یہی سازشیں نظر آتی ہیں۔

 

پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ حالات بگڑنے نہ پائیں۔ بھارت کی خواہش پر کالعدم جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا گیا ہے ان کے کئی ساتھی بھی گرفتار ہیں حالانکہ پٹھان کوٹ حملوں کی ذمہ داری مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سید صلاح الدین قبول کر چکے ہیں لیکن بھارت کا خیال ہے کہ پٹھان کوٹ واقعے کا ماسٹر مائنڈ مولانا مسعود اظہر ہے۔ حالانکہ 1994 میں مولانا مسعود اظہر کو بھارت نے گرفتار کیا تھا۔ 1999 میں جب انڈین ائیرلائن کا طیارہ اغوا ہوا جس میں مولانا مسعود اظہر بھی موجود تھے اغوا کاروں نے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لہٰذا بھارتی حکومت نے انہیں رہا کر دیا وہ کچھ عرصہ افغانستان میں رہے پھر خاموشی سے پاکستان میں داخل ہو گئے۔ اسی عرصے میں انہوں نے جیش محمد تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جنرل پرویزمشرف کے دور اقتدار میں مولانا مسعود اظہر کی تنظیم جیش محمد پر پابندی لگا کر تنظیم کے سارے دفاتر سیل کر دیئے گئے تھے۔ مگر بھارت کا خیال ہے کہ مولانا مسعود اظہر نے تہاڑ جیل میں افضل گرو کی پھانسی کا بدلہ لینے کے لئے پٹھان کوٹ واقعے کی سازش کی ہے۔ بہرطور پاکستان تو بھارت سے تعاون کر رہا ہے۔ مگر بھارتی وزیرداخلہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت نہ تو ممبئی حملوں کا کوئی ثبوت پاکستان کو دے سکا ہے اور نہ ہی پٹھان کوٹ واقعے کی ابھی گرد بیٹھی اور پوری طرح حالات کا جائزہ لیا جا سکا ہے۔ باوجود اس کے بھارتی وزیرداخلہ کوگلہ ہے کہ پاکستان نے ممبئی اور پٹھان کوٹ واقعے کے مجرموں کے خلاف کارروائی نہیں کی اور بتلاؤ کہ بغیر ثبوت اور تحقیق کے پاکستان کر بھی کیا سکتا ہے۔ لہٰذا ممبئی سے پٹھان کوٹ معمہ ہے، سربستہ راز ہے، بھارت جس سے آگاہ ہے اور الزام پاکستان کے سر تھوپ کر مسئلہ کشمیر سے پہلوتہی اور مذاکرات سے فرار کی راہیں تلاش کر رہا ہے آخر کب تک؟؟


مضمون نگار معروف سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 253مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP