بیاد اقبال

اقبال کی انقلابی آرزو مندی

علامہ اقبال عہدِ حاضر کے نامور آفاقی شاعر اور فلسفی تھے۔
'' مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر''
 اُن کا وظیفۂ عمل تھا۔ ان کے زمانے کا مشرق مغربی استعمار کا صیدِ زبوں تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے انقلابی سفر کا آغاز سیاسی اور تہذیبی غلامی کے تہ در تہ اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مشرق کی تاریک فضاؤں میں اپنی قندیلِ نوا روشن کر رکھی تھی:
اندھیری شب ہے، جُدا اپنے قافلے سے ہے تُو
تیرے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل
ایشیا میں سب سے پہلے اقبال ہی نے روس کے اشتراکی انقلاب کا بڑے پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیاتھا اور اشتراکی قیادت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ لاسلاطیں، لاکلیسا اور لَا اِلٰہ کے مقامات ِ نفی سے آگے بڑھتے ہوئے اِلّا اللّٰہ کے مقامِ اثبات کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ورنہ وہ زوال کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ یہ مشورہ سُنا اَن سُنا کر دیا گیا اور دنیانے دیکھا کہ روس کا اشتراکی انقلاب حرف غلط کی طرح مِٹ کر رہ گیا۔ اقبال نے اپنی نظم ''انقلاب اے انقلاب'' میں مادی زندگی کو انقلاب آشنا کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا ہے اورروحانی ثروت مندی کی اہمیت  بھی اجاگر کی ہے:
خواجہ از خونِ رگِ مزدور سازد لعل ناب
از جفائے دیہہ خدا یاں کشتِ دہقاناں خراب
انقلاب!
انقلاب  اے  انقلاب!
در کلیسا ابنِ مریم را بدار آویختند
مصطفی از کعبہ ہجرت کرد با اُم الکتاب
انقلاب!
انقلاب  اے  انقلاب!
قیامِ پاکستان علامہ اقبال کے انقلابی اسلامی تصورات کی جغرافیائی صورت گری کی ایک مثال ہے۔ ہرچند علامہ اقبال کے فنی و فکری کمالات قومی، ملی اور آفاقی منطقوں پر چھائے ہوئے ہیں مگر آج کی گفتگو میں ہم قومی زندگی میں اُن کے فیضان کی بات کریں گے۔ اقبال نے ہماری قومی زندگی میں تاریخی طور پر جو عہد آفریں کردار سرانجام دیا ہے اُس کی جانب خود انھوں نے اپنے درج ذیل شعر میں بڑا بلیغ اشارہ کیا ہے:
دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
وہ اِک مردِ تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا
اقبال کا یہ شعر قومی زندگی میں اُن کے حقیقی کارنامے کی جانب بڑا چبھتا ہوا اشارہ ہے۔ اقبال برطانوی ہند کے ایک محکوم شہری تھے۔ اپنی اور اپنی قوم کی محکومی کا خیال اُن کے لیے سوہانِ روح تھا۔ اپنی ایک رُباعی میں وہ بتاتے ہیں کہ ہر چند وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر اُن کا سرچشمۂ فیضان حجاز ہے، اُن کا فکری قدوقامت جدید مغربی علوم و فنون کی آب و ہوا میں پروان چڑھا ہے۔ قدرت کے فیاض ہاتھوں نے اُن کی سرشت میں آزادی کا جو ہر کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ برطانوی ہند کے غلام آباد میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔
اقبال انسان کی آزادی اور عظمت کے بہت بڑے علمبردار تھے مگر جب وہ اپنے ان مثالی تصورات کو قومی غلامی کے پسِ منظر میں دیکھتے تھے تو اُن کے دل میں قومی آزادی کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل ہونے کا عزم پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ عمر بھر بڑے استقلال کے ساتھ قومی آزادی کی جدوجہد میں نظریاتی اور عملی طور پر شریک رہے۔ جب انھوں نے شعور کی آنکھ کھولی تو انھیں گرد و پیش کی زندگی پر غلامی کے بھیانک اثرات کارفرما نظر آئے۔ اُن کے دل میں قوم کی بے حسی اور بے عملی کا رنج اس قدر شدید تھا کہ انھوں نے اپنی ایک مختصر نظم میں اپنی ذات پر اللہ میاں کے الطاف و عنایات کا شکر ادا کرتے کرتے آخر میں یہ گلہ کرنا بھی ضروری سمجھا
'' لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضامند''۔
 اقبال نے غلامی کی اس تاریک فضا میں اپنا فنی و فکری جہاد اس عزم و استقلال کے ساتھ شروع کیا کہ:
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
چنانچہ اقبال کی شاعری نے اسلامیانِ ہند کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا، مشکلات و مصائب سے مردانہ وار پنجہ آزما ہونے کو تیار کیا، انہیں اپنی منفرد اور جداگانہ قومیت کا شعوربخشا، انہیں اپنی قومی بقا اور استحکام کی خاطر جمود توڑ کر حرکت وعمل پر آمادہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کے سامنے کامل آزادی اور دائمی بقا کا ایک واضح انقلابی نصب العین رکھا۔ اس سیاسی نصب العین کو تاریخ نے تصور پاکستان کا نام دیاہے۔ یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے یہ کہا تھا کہ اسلامیانِ ہند جدید معنوں میں ایک الگ قوم ہیں اور شمال مغربی برصغیر یعنی آج کے پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر ایک جدید مسلمان مملکت کا قیام مقدر ہو چکا ہے۔14اگست 1947 کو اسلامیانِ ہند نے بابائے قوم کی قیادت میں اس جدید مسلمان مملکت کے قیام کی پیش گوئی پوری کر دی۔ آج ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اقبا ل کے تصورات کی روشنی میں پاکستان کے اندر ایک جدید، وسیع النظر اور حرکت و عمل میں سرشار مسلمان معاشرے کو جنم دیں۔
ہماری قومی زندگی کی المناک ترین حقیقت یہ ہے کہ ہم طلوعِ آزادی سے لے کر اب تک اپنے اس قومی و ملّی فرض سے رُوگرداں چلے آ رہے ہیں۔ آج مغربی دنیا کی سپاہِ دانش ہماری اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر ہمیں تصورِ پاکستان سے دستبردار ہو جانے کی ترغیب دے رہی ہے۔ جاننا چاہیے کہ اقبال کا تصورِ پاکستان اسلامیانِ ہند کی فکری تاریخ کے ارتقا کا نکتۂ کمال ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ سے لے کر سرسید احمد خاں تک عہد در عہد بدلتے ہوئے زمان و مکاں کے سیاق و سباق میں ارتقائی صورت اختیار کرتی ہوئی اسلامی فکر اقبال نے ورثے میں پائی تھی۔ اس فکرِ اسلامی کی روشنی میں اقبال نے اپنا تجدیدی کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ تصورِ پاکستان اقبال کی دینی سیاسی فکر کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس میں حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اور شاہ ولی اللہ سے لے کر سرسید احمد خاں تک برصغیر کے مسلمان مفکرین کا فیضانِ نظر شامل ہے۔ نوجوان اقبال کی نظم ''سید کی لوحِ تربت'' اس حقیقت کی شاہدِ عادل ہے۔ یہ نظم ہمیں بتاتی ہے کہ دین، سیاست اور شاعری میں اقبال کے فنی، فکری اور سیاسی اجتہاد میں نقش بندی مجددی صوفیاء اور سیاسی مفکرین کا فیضان شامل ہے۔ یہاں میں نظم کے دو تین بند پیش کرتا ہوں جن میں بالترتیب دین، سیاست اور شاعری میں اقبال کا نصب العین سرسید احمد خاں تک پہنچتی ہوئی اسلامی فکر کی روایت سے سرسبز و شاداب نظر آتا ہے:
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
محفلِ نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سُن میری صدا
ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا
عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیّت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوتِ فرماں روا کے سامنے بیباک ہے
ہے اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم
شیشۂ دل ہو اگر تیرا مثالِ جامِ جم
پاک رکھ اپنی زبان تلمیذِ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خِرمنِ باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
تصورِ پاکستان اقبال کے شعلۂ آواز سے پھوٹاہے۔ اقبال کی آواز میں آغاز سے لے کر سرسید احمد خاں تک کتنے ہی مسلمان مفکرین کی آوازیں جذب ہیں۔ جب تک پاکستان میں اقبال کی آواز زندہ اور سرگرمِ کار ہے، یہ تصور بھی پاکستانیوں کے دل میں زندہ رہے گا۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر مغربی سپاہِ دانش اقبال کے شعلۂ نوا کو بجھا دینے میں کوشاں ہے تاکہ پاکستان کی حقیقی قومی شناخت کو مٹا کر پاکستان کی مغربی دُنیا کے مفیدِمطلب ایک نئی شناخت ایجاد کی جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ سپاہِ دانش کی ان 'پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا! ||



 

یہ تحریر 421مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP