قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر میں پر امن جدوجہد کے راستے میں رکاوٹیں  

 بھارت وہ ملک ہے جہاں  بدقسمتی سے جبر ،تشدد، طاقت، مذہبی جنونیت اور ریاستی دہشت گردی کا اس وقت راج ہے۔ واشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے انتہا پسند دہشت گردانہ فلسفے سے نظریاتی تربیت لینے والے نریندر مودی کے ملک بھارت میں پرامن بقائے باہمی کی بات کرنے والا فلسفہ گاندھی ایک دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت میں عملاً جبرو تشدد اور انتہا پسندی کا راج ہے جس کی حال ہی میں واضح مثال بھارت میں کشمیر ی آزادی پسندرہنما یٰسین ملک کی گرفتاری اور یکطرفہ وبوگس ٹرائل کے نتیجے میں ملنے والی سزا ہے ۔1988 میں مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے کشمیری آزادی پسند جماعتوں نے جب کٹھ پتلی جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا کڑوا گھونٹ محض اس وجہ سے پیا کہ بھارت کشمیریوں کی انتخابی عمل کے ذریعے جدوجہد کے نتیجے میں ان وعدوں پر عمل درآمد کر لے جس کے نتیجے میں کشمیریوں کو استصواب رائے کا موقع مل سکے ۔یٰسین ملک نے سری نگر کے حلقہ انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدوار سید یوسف شاہ کی انتخابی مہم چلائی۔ الیکشن میں عوام کے مسلم متحدہ محاذ کو بھاری ووٹ ملنے کے باوجود بھارتی سرکار نے دھاندلی کے ذریعے آزادی پسند اتحاد کے ووٹرز کی رائے بری طرح پامال کرتے ہوئے نتائج بدل کر بھارت کے کٹھ پتلی لوگوں کو جتوا کر کشمیری عوام کو زبردستی مسلح جدوجہد کی طرف دھکیلا۔


یٰسین ملک پر امن جدوجہد کے باوجود زیرِ عتاب رہنے والے کوئی اکیلے اسیر نہیں بلکہ سید شبیر شاہ، مسرت عالم، فریدہ بہن جی ، قاسم فکتو اور دیگر سیکڑوں ایسے آزادی پسند ہیں جو پر امن جدوجہد کے ذریعے بھارت کو اقوام متحدہ کے معتبر فورم پر بھارت ہی کی جانب سے کشمیریوں سے کیے جانے والے وعدے یاد دلانا چاہتے تھے ۔ڈاکٹر قاسم فکتو تیس سال سے بھارتی قید میں ہیں۔



کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردوں پر عمل درآمد کا مطالبہ لے کر کام کرنے والی پر امن سیاسی تنظیم ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی کو پارٹی رہنمائوں مولوی بشیر احمد، عبدالرشید اوردرجنوں کارکنوں سمیت سرینگر  میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے پر امن کارکنان جاوید احمد شالہ اور محمد صدیق صوفی کی بازیابی کے لیے ایک مظاہرے کی قیادت کر رہی تھیں۔


 مسلح جدوجہد کے ذریعے جب کشمیری آزادی پسندوں نے بھارت پر کافی حد تک دباؤ  ڈالا تو بھارتی سول سوسائٹی اور دانشوروں نے آزادی پسند رہنما یٰسین ملک کو مشورہ دیا کہ وہ اور انکی جماعت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اگر پرامن اور عدم تشدد کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرے گی تو ان کی آواز زیادہ مؤثر ہوگی اور بھارتی سول سوسائٹی ان کا ساتھ دے گی۔ 1994 میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے یکطرفہ طور پر تو جنگ بندی کا اعلان کر دیا لیکن یٰسین ملک اور ان کی جماعت کی پُر امن سیاسی جدوجہد بھی بھارت سے برداشت نہ ہو سکی۔ یٰسین ملک کو بار بار گرفتار اور نظر بند کر کے مختلف مقدمات قائم کیے گئے۔ صرف06.08.2016سے 16.08.2016 تک دس دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں سیاسی احتجاج کرنے والوں پر تقریباً  89 مقدمات درج کیے گئے۔2019 میں بھارت کی بدنام زمانہ  ایجنسی این آئی اے نے اس وقت تعصب کی حد کر دی جب پُر امن سیاسی جدوجہد کرنے والے یٰسین ملک کو دہشت گردی کا معاون اور دہشت گردی کے لیے بیرون ممالک سے فنڈز لینے کا الزام عائد کر کے دہشت گرد قرار دیا۔ جبکہ یہ وہی یٰسین ملک تھا جس سے بھارت کے نصف درجن سے زائد وزرائے اعظم نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی۔ بھارت نے انہیں پاسپورٹ دے کر دنیا بھر میں جاکر لیکچرز کی اجازت دی۔ یہی جواب یٰسین ملک نے دہلی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کو بھی دئیے لیکن بھارت چونکہ ایک پرامن جدوجہد کے داعی کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے تلا ہوا تھا،  لہٰذا بھارت نے یٰسین ملک کو سزا دینے کا جو منصوبہ بنایا ہوا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا دے دی۔ یٰسین ملک پر امن جدوجہد کے باوجود زیرِ عتاب رہنے والے کوئی اکیلے اسیر نہیں بلکہ سید شبیر شاہ، مسرت عالم، فریدہ بہن جی ، قاسم فکتو اور دیگر سیکڑوں ایسے آزادی پسند ہیں جو پر امن جدوجہد کے ذریعے بھارت کو اقوام متحدہ کے معتبر فورم پر بھارت ہی کی جانب سے کشمیریوں سے کیے جانے والے وعدے یاد دلانا چاہتے تھے ۔ڈاکٹر قاسم فکتو تیس سال سے بھارتی قید میں ہیں۔ شبیر شاہ کو محض پرامن سیا سی احتجاج میں شرکت کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور تیس سال سے پرامن سیاسی جدو جہد کرنے والے ضمیر کے قیدی قرار پائے۔ شبیر احمد شاہ کے والد کو بھی 1989 میں بھارتی پولیس نے پرامن سیا سی جدوجہد کی پاداش میں شہید کیا تھا۔کشمیری خواتین کی پر امن سیاسی دینی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی سمیت 12 کشمیری خواتین نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں علاج معالجے سمیت بنیادی سہولیات سے محروم پرامن جدوجہد کی سزا بھگت رہی ہیں۔ ان میں آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، شازیہ اختر، صاعقہ اختر، آسیہ اختر، نسیمہ بیگم، حنا بشیر بیگ، آسیہ بانو، رسکیم اختر، سیبا، انجم یونس، تبسم مقبول اور صائمہ اختر شامل ہیں۔ان میں ایک بھی خاتون کا مسلح جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خواتین پرامن اور عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں لیکن بھارت کے ریاستی جبر نے انہیں بھی دیوار سے لگا دیا۔ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردوں پر عمل درآمد کا مطالبہ لے کر کام کرنے والی پر امن سیاسی تنظیم ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی کو پارٹی رہنمائوں مولوی بشیر احمد، عبدالرشید اوردرجنوں کارکنوں سمیت سرینگر  میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے پر امن کارکنان جاوید احمد شالہ اور محمد صدیق صوفی کی بازیابی کے لیے ایک مظاہرے کی قیادت کر رہی تھیں۔
 قارئین یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جو خود کو دینا کی بڑی جمہوریہ کہلا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ بھارت میں مذہبی جنونیت، انتہا پسندی اور کشمیریوں سے تعصب اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہاں بغیر سوچے بھارتی حکمران، میڈیا بھارتی سیا سی جماعتیں حتی کہ بھارتی عدالتیں کشمیریوں پر جھوٹے الزامات لگانے میں یک زبان ہو چکے ہیں۔  اقوام متحدہ سے اپنے تسلیم شدہ حقوق کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پر فوراً دہشت گردی اور پاکستانی ایجنٹ ہونے  کا الزام اب روایت بن چکی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی پر امن اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے اٹھائی جانے والی آواز کو دبا کر یہ سمجھ رہا ہے کہ کشمیری ایسے اقدامات کے بعد خاموش ہو جائیں گے لیکن تاریخ یہی کہتی ہے کہ پر امن جمہوری آواز کو دبانے کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں رہا۔ بھارت کے انتہا پسندانہ اقدامات کشمیریوں کو ایک دفعہ پھر بند گلی میں دھکیل رہے ہیں جس کا نتیجہ بہتری کی صورت میں کبھی نہیں نکلے گا۔ کشمیریوں کی جائز آواز سنی جانی چاہیے اسی میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے امن کا راز مضمر ہے۔ ||


مضمون نگار آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی وتجزیہ نگار ہیں کشمیر میں امن کے لیے کام کرنے والی صحافیوں کی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں۔
[email protected] 

یہ تحریر 146مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP