یوم دفاع

دفاعِ وطن کے عصری تقاضے

آج کی دنیا میں ہر ملک جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنا اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ پرامن رہنا چاہتا ہے۔ انسانی ذہن کے ارتقا کی بدولت سکندر، ہلاکو خان، ہٹلر اور مسولینی کے خوں سے لبالب زمانے ماضی کی داستان بن کے رہ گئے ہیں۔ عالمی سطح پر سیاسی مفکروں اور عمرانیات کے ماہرین کی یہ کوشش جاری ہے کہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات طے کرائے جائیں، مگر ہوسِ اقتدار میں گرفتار طاقتیں سخت ناانصانی اور شرفِ انسانیت کی بے حرمتی کے ذریعے ایسی آویزشوں کو ہوا دیتی رہتی ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بنتی جاتی ہیں۔ کشمیر اور فلسطین تنازعات کی دردناک مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ انصاف پسند اقوام اپنے آپ کو ان خون ڈھائے جانے والے مظالم سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتیں۔ فلسطین عربوں کا ملک تھا جس پر برطانیہ قابض تھا۔ اس نے بالفور ڈیکلریشن کے ذریعے 1917 میں یہودیوں کے لیے فلسطین میں آباد ہونے کا راستہ کھول دیا، چنانچہ مالدار یہودیوں نے غریب عربوں سے اونچی قیمتوں پر زمینیں خریدنا شروع کر دیں۔ یوں وہ فلسطین کے ایک بڑے حصے کے مالک بن بیٹھے اور عربوں کو فلسطین سے نکالنے کی پالیسی پر چل نکلے۔



قائدِاعظم جو برِصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہے تھے، وہ فلسطین کے ابھرتے ہوئے مسئلے پر بھی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ انہیں اِس امر کا گہرا اِدراک تھا کہ ایک دن یہودی فلسطینیوں کو ان کی آزادی سے محروم کرنے کے لیے طاقت بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس خدشے کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں 1937 سے فلسطینیوں کے حق میں قراردادیں منظور ہوتی رہیں۔ 1946 میں قائدِاعظم نے لندن جاتے ہوئے قاہرہ میں قیام کیا اور وہاں مفتی اعظم فلسطین حسین الامینی سے ملے اور انہیں برِصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ وہ عمر بھر فلسطینیوں کے حقوق کی جدوجہد میں شامل رہے۔ اِس تاریخی تسلسل میں جب پاکستان وجود میں آ گیا، تو اس نے ہر کڑے موقع پر فلسطین کا ساتھ دیا۔
پاکستان کا قیام ہندو قیادت کے نزدیک گاؤ ماتا کے دو حصے کر دینے کے مترادف تھا۔ قائدِاعظم نے مسلمانوں کا مقدمہ جس اعلیٰ بصیرت،بے مثل قانونی مہارت اور جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق لڑا، اس نے انگریزوں اور ہندوؤں کو برِصغیر کی تقسیم قبول کرنے پر مجبور کر دیا، مگر ہندو قائدین مسلمانوں کو آزادی دینے کے حق میں نہیں تھے۔ مہاتما گاندھی نے فروری 1947 میں اعلان کیا کہ پاکستان میری لاش ہی پر بن سکے گا، مگر عالمی حالات ان کی خواہش کے خلاف ہوتے گئے اور  جون 1947 کی رات ریڈیو پر تقسیمِ ہند کے فارمولے کا اعلان ہوا۔ اِس موقع پر وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے علاوہ قائدِاعظم، پنڈت جواہر لعل نہرو اور بلدیو سنگھ نے تقریریں کیں اور تقسیمِ ہند سے اتفاق کیا اور 14اگست 1947 کی شب پاکستان وجود میں آیا۔ بھارتی وزیرِاعظم نہرو نے کہا کہ پاکستان صرف چھ ماہ قائم رہ سکے گا اور ہمارے اندر مدغم ہونے کے لیے منت سماجت کرے گا۔ دراصل انہوں نے واضح الفاظ میں یہ کہہ دیا تھا کہ ہم ایسے حالات پیدا کر دیں گے جن میں پاکستان اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔
تقسیمِ ہند کے فوراً بعد پاکستان مخالف اقدامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تقسیم کونسل نے ان اثاثوں کا تعین کیا جو پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔ بھارت نے پاکستان کو ملنے والی نقد رقوم کے 75 کروڑ روپے روک لیے۔ پاکستان کے حصے میں جو فوجی سازوسامان آیا، وہ بھی کم دیا گیا۔ اِسی طرح پاکستان کے حصے میں جو فوج آئی، وہ برما اور سنگاپور کے محاذوں پر تعینات تھی جسے واپس لانے کے لیے بھارتی حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی تھی۔ اِس غیریقینی صورت حال  میں پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے ریاستِ جموں و کشمیر کے حوالے سے ایک ڈراما رچایا گیا جس کے منفی اثرات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرے اور تصادم کی طرف بڑھتے گئے۔ ڈرامے میں یہ دکھایا گیا کہ پنڈت نہرو کے معتمدِ خاص مسٹر وی پی مینن 26اکتوبر کی صبح جموں گئے اور بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر مہاراجہ کشمیر سے دستخط کرا کے واپس آ گئے۔ اس دستاویز کے ساتھ یہ چال بھی تھی جس میں مہاراجہ نے بھارت سے مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ دراندازوں کوبے دخل کیا جا سکے۔ بھارتی ریڈیو نے یہ خبر نشر کی اور بھارت نے اِسی بنیاد پر 27اکتوبر کی صبح سری نگر میں برطانوی طیاروں کے ذریعے فوج اتار دِی۔ یہ بڑا ہی نازک لمحہ تھا۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ پاکستان کی طرف سے دستاویزِ الحاق کو منظرِ عام پر لانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا جبکہ برطانوی محقق ایلسٹیر لیمب (Alastair Lamb) نے اپنی کتاب نامکمل تقسیم (Incomplete Partition) میں یہ ثابت کیا ہے کہ 26اکتوبر کو وی پی مینن جموں جا ہی نہیں سکا تھا اور وہ دستاویزِ الحاق جس پر مہاراجہ کے دستخط کا افسانہ تراشا گیا ہے، وہ کہیں بھی دستیاب نہیں۔
قائدِاعظم نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو کشمیرمیں فوج بھیجنے کا حکم دیا، مگر مختلف اسباب سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔ پاکستان کے حالات جب قدرے بہتر ہوئے، تو مئی 1948میں باقاعدہ جنگِ کشمیر شروع ہوئی۔ کشمیری مجاہدین اور پاکستانی فوج اِس بے جگری سے لڑے کہ بھارت کو شکست کا خطرہ نظر آیا اور اس نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس کی طرف سے طویل بحث و تمحیص کے بعد جنوری 1949 میں جنگ بندی کا حکم صادر ہوا جس پر بعض حلقوں کے اندر شدید ردِعمل پیدا ہوا۔ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین حصہ بنا رہا۔ سلامتی کونسل نے اپنی مختلف قراردادوں میں کشمیر کو ایک متنازع علاقہ قرار دیتے ہوئے اہلِ کشمیر کو یہ حق دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والے استصوابِ رائے میں یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ پاکستان نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ کسی طرح استصوابِ رائے کا انعقاد عمل میں آ جائے لیکن بھارت طرح طرح کے روڑے اٹکاتا اور کشمیری عوام کے مذہبی اور ثقافتی نظریات اور اِعتقادات پر کاری ضرب لگاتا رہا۔ اِس پر 1965 کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ پاکستان نے اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کی۔ اِس پر بھارت نے 6 ستمبر 1965 کی اندھیری رات میں لاہور پر تین طرف سے حملہ کر دیا۔ دو روز بعد ہی محاذِ جنگ سیالکوٹ تک پھیل گیا۔ پاکستان کی بہادر اور قوتِ ایمانی سے سرشار فوج نے عوام کی حمایت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے دشمن کی پیش قدمی ہر محاذ پر روک دی اور اس کی فوجوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ دانش وروں، ادیبوں، فن کاروں اور دِینی رہنماؤں نے اپنی فوج کی شجاعت اور عظمت کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ عوام نے اپنے بہادر جوانوں پر پھولوں کی بارش کر دی۔ ہماری تاریخ درخشندہ روایات کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر آئی تھی اور عزیمت کے معجزہ نما واقعات اور داستانیں تخلیق ہو رہی تھیں۔ دنیا حیران تھی کہ پاکستان نے اپنے سے دس گنا طاقت ور دشمن کے ارادے ناکام بنا ڈالے تھے اور بعض مقامات پر فوجی برتری بھی حاصل کر لی تھی۔
 بھارت اپنی مسلح فوج پاکستان کی سرحدوں پر لے آیا جس کے باعث ہر وقت شدید تصادم کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کی کامیاب فوجی حکمتِ عملی سے بھارت اپنی فوجیں واپس لے جانے پر مجبور ہوا۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے 5اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے چند ایسے اقدامات کیے جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو چکے ہیں۔ بھارت کے آئین میں جموں و کشمیر کی ریاست کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی۔ اس کی اپنی اسمبلی تھی اور اپنا وزیرِاعظم بھی۔ بعد میں نہایت عیاری سے وزیرِاعظم کے بجائے وزیرِاعلیٰ کے منصب تک محدود کر دیا گیا۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر لیا اور اس کی خصوصی حیثیت ختم کر ڈالی۔ دو سال سے مقبوضہ کشمیر ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے اور کشمیری عوام پر آئے دن قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ جوان شہید کیے جا رہے ہیں اور خواتین بے حرمتی کے عذاب سے گزر رہی ہیں۔ اِس کے بعد بھارت کے جنگی جنون نے سیاسی قیادت کی ہدایت پر پاکستان کے اندر مانسہرہ تک آنے کی جرأت کی اور دعویٰ داغ دیا کہ ہم نے پاکستان کی سرزمین پر بم گرائے ہیں۔ دوسرے روز پاکستان کے شاہینوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ بھی گرفتار کر لیا۔ بھارت کو اندازہ ہو گیا کہ لاف زنی کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں اور پاکستان کا دفاع بہت محفوظ ہے۔
دفاعی معاملات کی نزاکتوں اور حساسیت سے باخبر طبقے اِس امر کا پورا اِدراک رکھتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار فیئر کے طورطریق یکسر بدل گئے ہیں۔ فوج کی اہمیت اور اس کا کردار آج بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور محفوظ دفاع کے لیے آج بھی انتہائی مضبوط فوج ازبس ضروری ہے۔ پاکستان جس کا پڑوسی بھارت ایک ازلی دشمن ثابت ہو رہا ہے، اپنے دفاع کے لیے بجٹ میں بھاری رقوم رکھنے پر مجبور ہے۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہماری فوج ملک کا سب سے مستحکم اور باوقار اِدارہ ہے جسے پوری قوم کی تائید حاصل ہے۔ یہ ادارہ ہر مشکل وقت میں عوام کی مدد کو پہنچتا اور تعمیری کاموں میں حصہ لیتا رہتا ہے۔ اِسی فراخ دلانہ اور صحت مند رویے کے باعث عوام اور فوج اعتماد کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ دنیا میں اب جو حالات پیدا ہو رہے ہیں، ان میں دشمن سب سے پہلے یہی کوشش کرتا ہے کہ فوج اور سول آبادی کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے۔ اس کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ سول اور فوجی اداروں کے درمیان بالادستی کے لیے کشمکش جاری رہے۔ پھر بڑی عیاری سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ فوج ملکی وسائل کے بڑے حصے پر قابض ہو گئی ہے اور ان کے ذریعے وسیع و عریض ہاؤسنگ سوسائٹیز تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی سرگوشی کی جاتی ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان دور دور تک کسی جنگ کے آثار نہیں، تو پاکستان کو اتنی بھاری بھر کم فوج رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ دشمن کی چالیں ہیں جنہیں ناکام بنانا اہلِ دانش، اہلِ صحافت اور اہلِ سیاست کی ذمہ داری ہے کہ اِن غیرذمہ دارانہ باتوں سے ملکی دفاع متاثر ہو سکتا ہے۔
اِس منفی پروپیگنڈے کے لیے نت نئے سائنسی اور نفسیاتی ہتھکنڈے ایجاد ہو چکے ہیں جن کے ذریعے آرٹیفیشل انٹیلی جنس بروئے کار بھی لائی جا سکتی ہے۔ اِس سے آپ کی ذہنی ساخت یکسر تبدیل ہو جائے گی اور آپ کے احساسات خودبخود تغیرپذیر ہوتے جائیں گے، چنانچہ ہمیں اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے علمی اور تحقیقی اداروں سے بھی مسلسل مدد حاصل کرنا ہو گی اور سول اداروں کی اہلیت، صلاحیت اور کارکردگی میں اضافے پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ سول ادارے اگر ایک عمدہ ڈلیوری سسٹم قائم کر لیتے ہیں، تو عوام کی زندگی آسان ہوتی جائے گی اور وہ اپنے قومی اور دفاعی امور کی بجاآوری میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تبدیل شدہ حالات کے باعث دفاعی نظام بہت پھیل گیا ہے اور فوج کے ہر فرد سے غیرمعمولی لگن اور ہمہ وقتی انہماک کا تقاضا کرتا ہے۔ آج کے عہد میں قومی معیشت غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر آپ کی معیشت پھل پھول رہی ہے، تو آپ کی سفارتی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور مضبوط دفاع کے لیے مطلوبہ وسائل بھی میسر آتے رہیں گے۔ اِس وقت  ایک ایسے اقتصادی نظام کے قیام پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہر شہری کو ایک باعزت زندگی فراہم کر سکے، امیروں اور غریبوں کے درمیان معاشرتی فاصلے کم کر سکے اور پاکستان کو ترقیاتی ملکوں میں باوقار مقام دلا سکے۔ اس عمل میں سویلین اور فوجی ادارے یکساں طور پر شریک ہو سکتے ہیں۔ اِس شراکت سے قومی یک جہتی فروغ پائے گی، دشمن  ذہنی اور مالی اعتبار سے آسودہ معاشرے میں کوئی فتنہ جگا نہیں سکے گا اور اس کے دفاعی نظام کو حرفِ تنقید نہیں بنا سکے گا۔ ہماری فرض شناس، نمودونمائش سے بالاتر اور وطن کی آن پر جان قربان کرنے کا عزم راسخ رکھنے والی فوج ملکی سلامتی کی ضامن رہے گی۔ ہمیں سطحی جذباتیت اور من و تو کے بھنور میں پھنسے رہنے کے بجائے دلیل اور منطق کی قوت سے چراغِ آرزو روشن رکھنے ہوں گے۔ ہمارے رویوں میں خوداعتمادی، میانہ روی اور تخلیقی حسن قوم کا سر وقار سے بلند کریں گے اور ہمارے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنائے رکھیں گے۔ ||


مضمون نگار سینئر صحافی و کالم نویس ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 161مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP