یوم آزادی

پچھتر سال کا پاکستان

جس طرح قوم افراد کا مجموعہ کہلاتی ہے بالکل اسی طرح قوم کی مجموعی زندگی کے کئی پہلو افرادی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ فردپچھتر سال کا ہو جائے تو یہ اس کے کل جیون کے سرمائے کا عرصہ کہلاتا ہے جس میں انسان پلٹ کر اپنی زندگی کے حاصل وصول، کامیابیوں، ناکامیوں کا تجزیہ کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے کو خدا کی امان میں سونپ کر ہر ممکن بہتری کی کاوش انجام دینے کی سعی کرتا ہے۔ کسی بھی قوم کی زندگی کے پچھتر سال بھی کسی حد تک ایسے ہی رویے کے پہلے حصے کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب کوئی بھی قوم سات دہائیوں سے زائد کے مجموعی سفر کابے لاگ تجزیہ کرتی ہے اور احساس سود و زیاں حاصل کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔
 پاکستان اس سال رب تعالیٰ کی برکت و رحمت سے پچھتر سال کا ہو گیا ہے۔ جیسا کہ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو پاکستان کو ختم کر سکے، سو اِن شااللہ تاقیامت ایسے کئی سیکڑوں پچھتر سال پاکستان نے کرہ ارض پر بسر کرنے ہیں، لیکن پہلی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر جہاں قدرت کے حضور آزادی کا شکرانہ ادا کرنے، بانیانِ مملکت کو خراجِ عقیدت و تحسین پیش کرنے، جشن منانے اور من حیث القوم مجموعی کامیابیوں پر بجا فخر کرنے کا وقت ہے وہیں قوم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان پچھتر سالوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؛ کہاںہم نے قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کی ایسی لاج رکھی کہ ان کی روح تک خوش و مطمئن ہو گی اور کہاں ہم سے ایسی کوئی کمی یاخامی رہ گئی کہ قوم کی روح میں تشنگی تاحال باقی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ پاکستان کے لیے ایساتابندہ اور رخشندہ دورانیہ ہے جس کی چمک دمک آنے والی کئی نسلوں کے لیے باعثِ رہنمائی و رونق ہو گی۔ ان پچھتر سالوں میں شہدائے پاکستان کے خون نے جس طرح اس دھرتی کی آبیاری کی ہے یہ پاک زمین اس کی مقروض رہنے کے ساتھ ساتھ سدا اس پاک لہو کی خوشبو میں رچے گلابوں سے مہکتی رہے گی۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس پاک سرزمین کے ہونہار نوجوانوں اور تجربہ کار و زیرک مرد و خواتین نے جس طور اپنے اپنے دائرئہ کار میں ملک کی ترقی کی خاطر دن رات ایک کیا ہے،انہی مخلص کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اپنے خطے میں تو کلیدی حیثیت رکھتا ہی ہے مگر اقوامِ عالم بھی اہم اور حساس عالمی معاملات میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر آگے بڑھنے سے قاصر رہتی ہیں۔ تجارت ہو یا معیشت، سیاست ہو یا معاشرت، داخلی سلامتی کے گھمبیر معاملات ہوں یا پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات، مذہب ہو یا سائنس، فنونِ لطیفہ ہو یا ہنرکاری، الغرض ہر شعبے میں ایسے ایسے نابغۂ روزگار اذہان اس مملکتِ خداداد میں اِن گزشتہ پچھتر سالوں میں وجود میں آئے ہیں جنہوں نے کل عالم میں اپنی دھاک بٹھائی ہے۔ بلاشبہ ان سات دہائیوں سے زائد کے عرصے کا اگر تجزیہ کیا جائے تو پاکستانی قوم کا سر فخر سے مزید بلندہی ہو گا۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کامیابیوں کے اس مسلسل درخشاں سفر کی رفتار البتہ کچھ سست رہی جن میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ رکاوٹیں آتی رہیں۔ اسی لیے بسا اوقات مثال دی جاتی ہے کہ جو اقوام بعد از قیامِ پاکستان تشکیل پائیں ان کی اکثریت ہم سے کہیں آگے نکل گئی جس میں ایک بڑی مثال چین کی دی جاتی ہے۔
 جیسا کہ پہلے عرض کیا، ایک قوم ایک فرد کی ہی مانند اپنی زندگی کے اتار چڑھائو، مثبت منفی پہلوئوں کے ساتھ ہی آگے بڑھتی ہے۔ کوشش البتہ حتی الامکان کی جاسکتی ہے کہ خامیوں پر بھرپور قابو پایا جا سکے اور انہیں بہتری کی جانب ڈھالا جا سکے۔ میرے نزدیک یہ ڈائمنڈجوبلی ایک ایسا ہی موقع ہے جب ہم میں سے ہر ایک شخص کو بحیثیت محبِ وطن پاکستانی اپنا محاسبہ خود کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں خود اپنے آپ کو آئینے کے سامنے کھڑا کر کے اپنی خوبیوں اور خامیوں کا احاطہ کرنا ہے۔ ہم پیشہ ورلوگ  ہیں، خود کفیل ہیں، کاروباری ہیں، مزدور ہیں یاجس بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں حتی کہ اگر گھریلو فرد بھی ہیں تو کیا ہمارا کردار ایک ترقی یافتہ اور مہذب قوم کے شایانِ شان ہے کیا ہم اپنے پیشہ ور یا ذاتی امور میں مخلص ہیں کیا ہم ایک قانون پسند شہری ہیں کیا ہم پاکستان کی ترقی کے لیے سو فیصد مخلص اور اس امانت میں کسی بھی قسم کی خیانت کے مرتکب تو نہیں ہیں کیا ہم اپنی معاشرت میں بقائے باہمی کے سادہ اصول کے تحت احترامِ آدمیت و انسانیت کے بنیادی تقاضے کو پورا کرتے ہیں، یہ سب وہ بنیادی سوالات ہیں جو ہم میں سے ہر پاکستانی کو اس پچھتر سالہ جشن کے اہم ترین دن پر اپنے آپ سے کرنے ہیں۔ اگر ان سوالات میں سے کسی ایک کا جواب بھی نفی میں آئے توجان لیجیے کہ ہم میں وہی کمی ابھی برقرار ہے جس کے پورا کیے جانے کی صورت میں ہی ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قیام کے مقاصد کی جانب لے جا سکتے ہیں۔


ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس پاک سرزمین کے ہونہار نوجوانوں اور تجربہ کار و زیرک مرد و خواتین نے جس طور اپنے اپنے دائرئہ کار میں ملک کی ترقی کی خاطر دن رات ایک کیا ہے،انہی مخلص کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اپنے خطے میں تو کلیدی حیثیت رکھتا ہی ہے مگر اقوامِ عالم بھی اہم اور حساس عالمی معاملات میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر آگے بڑھنے سے قاصر رہتی ہیں۔


 قوم محض جیتے جاگتے سانس لیتے افراد کا ہی مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کا انفرادی کردار اور رویہ مجموعی سانچے میں ڈھل کر قومی کردار اور تقدیر کی تشکیل کرتا ہے۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک پاکستانی اگر آج سے اپنی تشخص کاعہد کر لے تو کوئی شک نہیں کہ ہم ایشین طاقت تو کیا عالمی طاقت میں نہ ڈھل سکیں۔ یہ پچھتر سالہ ڈائمنڈ جوبلی ایک طرح سے رب تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی ہے اور ایک نئے قومی جنم کا امتحان بھی۔ گزشتہ پچھتر سال کی خامیوں اور کوتاہیوں کا آج ہی احساس کریں گے تو اگلے پچھتر سال مزید کامیابیاں سمیٹ سکیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے خوشحال، خوددار، کامیاب وکامران اور ترقی یافتہ پاکستان چھوڑ کر جائیں گے جومحض انیس سو سینتالیس کے خواب پر ہی مبنی نہ ہو بلکہ اس کی بھرپور تعبیر کی عملی صورت ہو۔
 انشااللہ۔
 پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔ ||


 مضمون نگارمعروف اینکر پرسن ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 340مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP