قومی و بین الاقوامی ایشوز

کراچی میں امن کیسے

کراچی میری رگوں میں گردش کرتا ہے ،تین سال بعدیہاں سانس لیتے مجھے نصف صدی ہو جائے گی۔انتہائی غریب پرور‘ مشفق‘ مربی‘غم خوار‘ہمدم‘ ہم نفس‘ہم نشیں‘ ایک قمیض شلوار، شرٹ پینٹ۔ یا سفاری میں پورا سال گزر جاتا ہے۔ قدم قدم چورنگیاں آپ سے پوچھتی ہیں کیسے ہو کھانا کھایا۔ نہیں تو بہت سے مخیر میزبان بڑی محبت اور عزت سے کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ہر روز ہی بڑی تعداد میں نوجوان پاکستانی مختلف علاقوں سے روزگار کی تلاش میں بسوں سے‘ ریل سے عبداللہ شاہ غازی کی بستی میں اترتے ہیں۔یہ ماں کی طرح ہر ایک کو آغوش میں لے لیتی ہے ۔نہ جانے مجھ جیسے کتنے اپنے شہر چھوڑ کر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔کراچی نے انہیں پالا بھی اور عزت و وقار بھی دیا۔ اسی دیار نے اس نئے ملک کو صدر مقام بھی بخشا۔ نئے حکمرانوں کو رموز مملکت سے آگاہ کیا ۔ آداب حکمرانی سے آشنائی عطا کی ۔

کراچی قیام پاکستان سے پہلے سے دنیا کی ایک مرکزی بندرگاہ اور ائرپورٹ کا درجہ رکھتا تھا ۔برٹش ائرویز ،کے ایل ایم ،ائر فرانس ، جیسی بین الاقوامی ایئر لائنوں نے یہاں اپنے عملے اور مسافروں کے لئے بڑے شاندار ہوٹل بھی بنا رکھے تھے۔یہاں کے بازار اور مارکیٹیں سفید اور سیاہ فام ملاحوں اور سیاحوں سے معمور رہتی تھیں ۔ میکدے‘ رقص‘ گاہیں‘ریستوراں‘ دن رات مہمان نوازی میں محو اور ساحل مقامی ملکی اور غیرملکی تماشائیوں کی مدارات میں مگن۔ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب ایسے مہربان گلی کوچوں، رنگ بھری بالکونیوں، خوبصورت ممٹیوں والے نگر کو امریکی جریدہ دنیا کا سب سے خطرناک شہر قرار دے تو ہم کراچی والوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ لیکن کیا کیا جائے کہ حقیقت اب ایسی ہی تلخ ہو چکی ہے ،دنیا کا سب سے خطرناک شہرنہ سہی خطروں سے بھری بستی تو ہے ۔روز کہیں نہ کہیں‘ کسی نہ کسی سڑک پر‘ گلی پر‘خون تو بہتا ہے‘ کوئی نہ کوئی گھر تو اجڑتا ہے‘ یہ صورت حال اچانک نہیں بتدریج بگڑی ہے۔ ہم سب نے اس زہر کی کاشت میں حصہ لیا ہے۔

سبھی تھے زہر کی نفرت کی کاشت میں شامل پکی ہے فصل تو اب کاٹنے سے ڈرتے ہیں اب کراچی میں ہر قسم کی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ہر طرح کا تعصب فساد پھیلایا جارہا ہے۔ مذہبی شدت پسندی بھی زوروں پر ہے ۔فرقہ پرستی کا جنون بھی عروج پر ہے۔ زبان بھی آگ لگا رہی ہے‘ نسلی اختلافات بھی کشیدگی کاسبب بن رہے ہیں۔ ایک صحافی ہونے کی حیثیت سے معاملات کو بہت قریب سے دیکھنے اور واقعات میں جھانکنے کا موقع ملتا رہا ہے ۔ ایک شاعر ہونے کے ناتے دل پر جو گزری ہے‘ رقم کرتا رہا ہوں‘ اس لئے کسی ایک حکومت‘ کسی ایک سیاسی پارٹی‘ کسی ایک فرقے‘ کسی ایک گروہ کو اس کا واحد ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتا۔ سب نے ہی اپنے اپنے وقت میں جلتی پر تیل چھڑکا ہے، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں بات تھنڈر اسکواڈ سے شروع کی گئی تھی‘ اب خود کش بم دھماکوں‘ ریموٹ کنٹرول دھماکوں‘ٹارگٹ کلنگ میں منتقل ہو چکی ہے۔ ایک دوسرے کو بے دریغ کافر کہا جارہا ہے۔

ہلاکتوں میں جنت کا شارٹ کٹ ڈھونڈاجارہا ہے ۔ کراچی کو کس کی نظر لگ گئی؟کراچی والے اکثر اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں۔ کچھ اس کا آغاز بشریٰ زیدی کیس سے کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی یہ طالبہ بسوں کی تیز رفتاری کے مقابلے میں حادثے کا شکار ہوئی اور اس کے نتیجے میں جو لسانی فسادات شروع ہوئے‘ بہت سوں کے نزدیک شہروں کی دلہن(کراچی) کو بدقسمتی نے اس دن سے لپیٹ میں لے لیا۔یہ بھی ایک اندوہ ناک واقعہ ضرور تھا لیکن میرے خیال میں شہر میں لسانی اور مسلکی کشیدگی کی بنیاد ایوب خان کے دور میں رکھ دی گئی تھی جب ان کی انتخابی فتح کا جلوس نکالا گیا اور لالو کھیت میں تصادم ہوا۔ پھر 1970کے انتخابات کی مہم کے دوران اس کو مزید تقویت ملی۔ پھر ایک طرف سقوط ڈھاکا کا عظیم سانحہ۔ایک دوسرے پر الزامات۔یہاں سے دوریاں بڑھتی گئیں ، نفرتیں گہری ہوتی گئیں۔

سیاسی جماعتوں نے ملکی اور قومی اتحاد کو درپیش خطرات کا ادراک کرنے کی بجائے اپنے اپنے ووٹ بنک کو مضبوط کرنے کے لئے ان خلیجوں کو اسی طرح قائم بلکہ مستقل رکھنے کی پالیسی اپنائی۔جس کے نتیجے میں اہل کراچی اپنی معاشی اور اقتصادی بقا‘ اپنی لسانی اور نسلی وابستگی میں محفوظ سمجھنے لگے۔ قومی سیاسی پارٹیاں اپنی کمزور تنظیم‘کارکنوں سے نا انصافیوں‘عہدوں کی تقسیم میں میرٹ کی نظراندازی کے باعث مقبولیت کھونے لگیں ۔علاقائی لسانی فرقہ پرست تنظیموں کو عوام میں پذیرائی نصیب ہونے لگی ۔معاشی بدحالی نے نوجوانوں میں جارحانہ فکر کو پروان چڑھایا۔ 1979میں ایک طرف تو عوامی رہنما منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے المیے نے کراچی کے ایک بڑے حلقے میں برہمی پیدا کی تھی دوسری طرف افغانستان میں سوویت یونین کی فوجوں کی مزاحمت کے لئے مذہبی جذبات کو ہوا دی گئی۔ دنیا بھر سے شدت پسندوں کو پاکستان لایا گیا۔ اسلحے اور ڈالروں کی فراوانی عام تھی ۔کراچی کی بندرگاہ استعمال ہوتی تھی۔ مجاہدین کا آنا جانا بھی اسی عظیم شہر کے راستے تھا۔پہلے سے موجود شدت پسندوں کو اب اپنے حساب چکانے کے لئے جدیدترین ہتھیار آسانی سے ملنے لگے۔ 1985کے غیرجماعتی الیکشن کی مہم میں کراچی میں اکثر جلسوں میں نمایاں طور پر ہتھیاروں کی نمائش دیکھنے میں آئی۔ہم نے ہر سیاسی جماعت میں رفتہ رفتہ جرائم پیشہ افراد کو غلبہ حاصل کرتے دیکھا۔نظریاتی اور اصولی سیاست کے قائل پس منظر میں جاتے رہے۔کراچی میں روزگار کے حصول میں کوٹہ سسٹم نے بھی کشیدگی اور نفرتیں پیدا کی ہیں ۔ بڑے شہروں کے مقابلے میں چھوٹے شہروں ،قصبوں اور دیہات میں تعلیم کی سہولتیں کم ہوتی ہیں اس لئے وہاں کے نوجوانوں کو تحفظ ملنا چاہئے لیکن اگر یہ قانون بڑے شہر کے اہل نوجوان سے ناانصافی کا سبب بنتا ہے تو اس کا تدارک بھی مملکت اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان امورنے لسانی نفرتیں بڑھائیں‘ معاشی کشمکش میں اضافہ ہوا۔شہری اور دیہی آبادیوں میں ایک دوسرے سے تناؤ اپنے عروج کو پہنچا۔کراچی میں بے سکونی اورہمیشہ بدامنی کا یہ بھی ایک بڑا سبب ہے ۔زیادہ تر اسی ایک محرک کو فوقیت دی گئی اور اسی تناظر میں اَسّی کے عشرے سے کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی ایم کیو ایم پر دہشت گردی ،اپنے سیاسی مخالفین پر تشدد کے الزامات بھی لگتے رہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیوایم نے وقت کے سا تھ اپنی پالیسیوں اور تنظیمی ہےئت میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں ۔ اب اس میں صرف اردو بولنے والے ہی نہیں سب کی نمائندگی ہے۔ اپنی پکی سیٹوں سے دوسری زبان بولنے والوں کو بھی منتخب کرواکے کھلے دل کا اظہار کیا ہے ۔ کراچی کی بد امنی کا ذمہ دار عام طور پر کراچی سے باہر صرف ایم کیو ایم کو ٹھہرا کر دیگر عوامل سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے۔کراچی ایک عام شہر نہیں ہے اس کی ساخت‘ سرشت، تشکیل، عمرانی، معاشرتی، طبقاتی حیثیت بہت مختلف اور پیچیدہ ہے۔ 1962میں اگرچہ مرکزی دارالحکومت منتقل ہو جانے سے اس کی سرکاری برتری کم ہوئی ہوگی لیکن اقتصادی دارالحکومت یہی رہا ہے۔ اس لئے معاش کی تلاش میں یہاں آنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی۔آبادی میں اضافہ ہولناک شرح سے ہوا ہے ۔ تجزیوں اور تبصروں میں اس اہم حساس اور بنیادی حقیقت کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ اس شہر کا پھیلاؤ قطعی طور پر بے ہنگم انداز سے ہوا ہے۔ شہر کے اندر بھی اور نئی بستیوں میں بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے ۔ پرانے شہر میں کم آبادی کے لئے پانی‘ بجلی‘ نکاسئ آب کے لئے جو گنجائش تھی اس پر کئی گنا زیادہ آبادی کے لئے لاکھوں فلیٹ اور کئی کئی منزلہ کمرشل پلازہ تعمیر کرنے دیئے گئے ۔متعلقہ محکموں کے سربراہوں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لئے انسانوں کو عذابوں میں ڈال دیا ۔ ایک طرف دولت کی نامنصفانہ تقسیم ، دوسری طرف محدود سہولتوں میں لامحدود افراد کو کھپانے کے جرم نے مسلسل تنازعات کو جنم دیا ہے ۔ میرٹ پر مسائل حل نہیں ہو سکتے‘ اس لئے لوگ کہیں لسانی وابستگی کا سہارا لیتے ہیں کہیں پارٹی کا دباؤ‘ کہیں فرقہ وارانہ غلبہ۔ورنہ رشوت کا بازار گرم رہتا ہے۔

کراچی میں سیکڑوں کچی بستیاں آباد ہیں جن میں متعلقہ قوانین کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے۔ الیکشن کے قریب ان ناجائز بستیوں کو ووٹ حاصل کرنے کی خاطر قانونی حیثیت دے دی جاتی ہے جبکہ وہاں بدترین ماحول پایا جاتاہے ، بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ان غیر قانونی رحجانات نے لینڈ مافیا کو طاقتوربنادیا ہے۔ دولت بھی ان کے پاس ہے اور طاقت بھی۔سیاسی جماعتیں بھی ان سے خائف رہتی ہیں۔ ان مافیاؤں کے پاس بھی جرائم پیشہ افراد کی بھاری تعداد ہے جن کے ذریعے وہ زمینوں پر قبضے کرتے ہیں ۔ اس دوران مزاحمت پر بہت سے قتل بھی ان کے ہاتھوں ہوتے ہیں۔ کراچی میں اب بڑا حصہ بغیر منصوبہ بندی کے بسا ہے۔ کچی آبادیوں کے علاوہ بھی بہت سے شعبوں میں قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ رفاہی پلاٹوں پر کمرشل عمارتیں بھی بن گئی ہیں۔ اسی طرح مسجدیں، مدارس، سکول بھی تعمیراتی قواعد و ضوابط کی پابندی کے بغیر تعمیر ہوتے رہے ہیں، شہرکادائرہ بڑھنے سے جیل اور چھاؤنیاں جو شہر سے کچھ فاصلے پر ہوتی ہیں وہ شہر کے اندر آگئی ہیں جس سے سلامتی کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں ۔ لسانی، نسلی ،فرقہ وارانہ کشیدگی،لینڈ مافیا،منشیات مافیا کے ساتھ اب بنیاد پرستی، انتہا پسندی ،خود کش دھماکوں والے عناصر بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صحافی ڈینیل پرل کا قتل بھی یہیں ہوا تھا۔ القاعدہ کے اہم رہنما بھی یہاں سے گرفتار ہوئے۔ کئی مساجد اور مدارس میں شدت پسندی کی تربیت دی جاتی ہے۔ کراچی میں بدامنی پورے پاکستان میں بدامنی کا سبب بنتی ہے۔ ملک میں معاشی ترقی کا راستہ روکتی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سی صنعتیں دوسرے شہروں بلکہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہو گئی ہیں۔ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں رینجرز اور پولیس حصہ لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ بھی از خود نوٹس لے کر کئی سماعتیں کر چکی ہے لیکن سب کا زور سکیورٹی یعنی طاقت کے استعمال پر ہوتا ہے ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ ان عوامل کو دور کرنے کے لئے بھی حکمت عملی اختیار کرنا چاہئے جو ان خطرناک رحجانات کو جنم دیتے ہیں ۔ برسوں سے یہ محرکات اپنی جگہ موجود ہیں۔ وقتی طور پر اگر آپریشن کے نتیجے میں امن قائم بھی ہوتا ہے تو یہ عوامل پھر نئے شدت پسند پیدا کر دیتے ہیں کیونکہ نفرتوں اور کشیدگیوں کے بیج تو تقریروں کتابوں کے ذریعے مسلسل بوئے جارہے ہیں اور لسانی‘ نسلی‘ فرقہ پرستی کے زہر کی کاشت تو جاری ہے ۔ کچھ عرصے بعد یہ فصل پھر پک کر کھڑی ہوگی‘ پھر اہل کراچی سروں کی گنتی پر مجبور ہوں گے ۔

بعض سرکاری تحقیقات کے مطابق انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور خودکش بمبار تیار کرنے والوں کو سب سے زیادہ فنڈز کراچی سے ہی جارہے ہیں۔ اس میں عقیدت کا استحصال بھی کیا جاتا ہے‘ زبردستی بھی رقم اینٹھی جاتی ہے۔ سیاسی جماعت یا کوئی تنظیم جبر وزور سے وصولی کرے توبھتہ اور اسی انداز سے مذہبی گروپ وصولی کریں تو اسے چندہ کہا جاتا ہے ۔بڑے صنعتکاروں سے کروڑوں‘ درمیانے کاروباریوں سے لاکھوں اور عام دکانداروں سے ہزاروں کا مطالبہ ہوتا ہے۔حکومت کی دھاک یا اختیار کم ہو گیا ہے۔ لوگ سرکاری وردی سے کم ڈرتے ہیں مافیاؤں کا حکم زیادہ مانتے ہیں۔ امن کی بحالی کیسے ممکن ہے ۔ بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں غیر ملکی فنڈنگ سے کوششیں کر رہی ہیں۔ مختلف ادوار میں آپریشن بھی کئے گئے لیکن بنیادی اسباب وہیں کے وہیں ہیں۔ یہ جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ آج سے ساٹھ سال پہلے لاہور میں جب فسادات ہوئے اور پہلا جزوی یا مقامی مارشل لا بھی نافذ ہوا تو پنجاب حکومت نے اس کی تحقیقات کے لئے ایک ٹریبونل قائم کیا تھا جس نے باقاعدہ سماعتوں کے ذریعے تمام مسالک کے علما سے بھی سوالات کئے اور ان سب سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی بھی باضابطہ کوشش کی جو آج امت مسلمہ کو بالعموم اور پاکستانی قوم کو بالخصوص درپیش ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کے چھٹے سال میں رونما ہونے والے ان فسادات پر شائع ہونے والی یہ رپورٹ آج بھی راہ نجات دکھا سکتی ہے۔ کئی ماہ کی تحقیقات اور سماعتوں کے بعد انتظامی اور نظریاتی دونوں اعتبار سے انتہائی مختصر الفاظ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا اور مشورہ دیا گیا کہ جو بھی فساد ہوا ‘ایک ایس ڈی ایم اور ایک ایس پی ان کو کنٹرول کر سکتے تھے ، صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو مداخلت کی ضرورت نہیں تھی۔ نظریاتی حوالے سے مشورہ دیا گیا کہ مختلف مسالک کے محترم اور فاضل علما سے مختلف شعائر اور شعبوں کی جو تعریف معلوم کی گئی وہ ایک دوسرے سے متصادم اور متضاد ہیں۔ کہا گیا کہ ابھی تو پاکستان کا ابتدائی دور ہے۔ ان معاملات کو ابھی سلجھالیا جائے تو بہتر ہے ورنہ آگے چل کر یہ قومی اتحاد اور امت کی یکجہتی کے لئے خطرات پیدا کرسکتے ہیں اور یہی ہوا بھی۔ کراچی کے لئے بھی امن کی پہلی شرط یہی ہے کہ یہاں کی پولیس کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی مداخلت صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی طرف سے نہ ہو۔ پولیس میں بھرتی صرف میرٹ اور قواعد کی بنیاد پر ہو ۔ سیاسی جماعتیں اپنا کوٹہ نہ مانگیں، ایم این اے ایم پی اے اپنی مرضی کے افسر نہ لگوائیں ،پولیس کو اپنی تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں کرنے دی جائے ۔گرفتار افراد کو رہا کرنے کے لئے دباؤ نہ ڈالا جائے ۔ سینیٹ کی ایک کمیٹی نے مشورہ دیا تھا کہ کالجوں‘ یونیورسٹیوں سے سیاسی جماعتوں کی ذیلی طلبہ تنظیموں کی مداخلت ختم کی جائے ۔ یہ انتہائی صائب تجویز ہے اس پر عمل کرنے سے بھی بڑے پیمانے پر کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح شہر میں پھیلاؤ ، نئی آبادیاں قواعدوضوابط کے مطابق ہونی چاہئیں۔ اس میں کسی قسم کی رعایت کسی طرف سے اور کسی سطح پر نہیں دی جانی چاہئے۔متعلقہ اداروں اور افسروں کو اپنے اختیارات استعمال کرنے دیا جائے،ان کے تبادلے اور تقرر سیاسی ناراضگی اور خوشنودی پر نہیں ہونے چاہئیں۔ لینڈ مافیاؤں کا زور بھی قانون کے یکساں نفاذ سے ٹوٹ سکتا ہے ، تجاوزات کا خاتمہ بہت ضروری ہے، سیا سی مفاد کوسلامتی پر ترجیح نہ دی جائے۔ اب شہر میں مزید کثیرالمنزلہ عمارتوں کی اجازت نہ دی جائے۔ کراچی اپنی آبادی کے اعتبار سے یورپ اور مشرق وسطی کے کئی ملکوں سے بڑا ہے، اس کے نظم و نسق کو سنبھالنے کے لئے خصوصی انتظام ناگزیر ہے۔ مقامی حکومت کا نظام سب سے بہتر تجربہ رہا ہے ۔مشرف دور میں اختیارات کی تقسیم کا منصوبہ سب سے زیادہ کراچی کے حق میں رہاکیونکہ کراچی والے فیصلہ سازی میں اپنے آپ کو شریک سمجھتے تھے ان دنوں میں تعمیر بھی ہوئی‘ ترقی بھی‘ امن بھی رہا۔

مقامی اداروں میں سبھی لسانی گروپوں کو نمائندگی میسر آئی ۔پہلے دور میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان ناظم تھے‘ دوسرے میں ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال۔ دونوں کے کارناموں کو اہل کراچی یاد رکھتے ہیں۔ پھر جب سے سیاسی جماعتوں کی حکومتیں آئی ہیں‘ مقامی حکومتوں کے لئے الیکشن ہی نہیں ہوئے‘ اس لئے کراچی کے شہری خود کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں محسوس کرتے ۔سب سے پہلا قدم امن کے لئے بلدیاتی اداروں کے انتخابات بھی ہیں ۔ شہر کے جتنے ناکے ہیں، جہاں سے داخل ہوتے ہیں یا باہر نکلتے ہیں ، وہ سب ہی غیر محفوظ ہیں‘ انتہائی تنگ، بھیڑ، ہجوم۔ان دروازوں کو کھلا اور تجاوزات سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ داخلی دروازے خوبصورت بھی ہوں اور شہر کی ثقافت کے آئینہ دار بھی۔جہاں جہاں حساس تنصیبات ہیں ان کے ساتھ بھی غیرقانونی بستیاں بس گئی ہیں ان کا بھی جائزہ لینا چاہئے ۔ کراچی کو مختلف خدمات فراہم کرنیوالے اداروں کے درمیان مستقل اور مسلسل رابطہ رہنا لازمی ہے ۔ اس کے لئے ایک کونسل قائم کی جائے جس میں کراچی کی منتخب مقامی حکومتوں کے عہدیداروں کے ساتھ کراچی الیکٹرک کارپوریشن‘کراچی پورٹ‘بن قاسم پورٹ‘ سول ایو ی ایشن‘کراچی واٹربورڈ‘گیس کارپوریشن‘ کنٹونمنٹ‘ کلفٹن‘ کراچی پولیس، رینجرز، آرمی‘ بحریہ‘ فضائیہ کراچی چیمبر‘ صنعتی علاقوں کی تنظیموں‘ مساجد کے آئمہ اور خطیبوں کے نمائندے بھی ممبر ہوں۔ اس کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو کشیدگی کے بہت سے اسباب از خود دور ہوتے رہیں گے۔ غیرقانونی بستیاں ہیں جو کسی وقت بھی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں‘ انہیں بھی متبادل جگہ دے کر تنصیبات کو خطرات سے محفوظ کیا جائے۔ ابھی سے آئندہ صدی کے لئے منصوبہ بندی کرکے آرمی‘ بحریہ‘ فضائیہ کے لئے شہر سے دور مقامات مختص کئے جائیں۔

کرا چی روتا ہے تو پورے ملک کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔کراچی میں کسی بھی وجہ سے کام بند ہوتا ہے تو پشاور تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ ایک دن کی ہڑتال کئی ارب روپے کا نقصان دے جاتی ہے۔ یہاں ملک بھر سے آئے ہوئے لوگ آباد ہیں۔ خون بہتا ہے تو اس کی مہک دور دراز شہروں کے گھروں میں صف ماتم بچھا دیتی ہے۔ یہ پاکستان کا دروازہ ہے‘ تجارت صنعت‘ کاروبار کا مرکز ہے۔ وطن کو سب سے زیادہ آمدنی اسی بستی سے ملتی ہے۔ اس لئے یہاں امن کا قیام ہر پاکستانی کے مفاد میں ہے۔ ہمیں ان قوتوں‘ غیر ممالک کو بے نقاب کرنا چاہئے جو اپنے شہروں کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے کارندوں کے ذریعے شہر قائد کے گلی کوچوں‘چورنگیوں‘کالونیوں کو مقتل، پاکستانی کو پاکستانی کے خون کا پیاسا‘ مسلمانوں کو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا قاتل بنا رہے ہیں۔ قانون کی حکمرانی ہی امن کو یقینی بنا سکتی ہے۔ قانون سب کے لئے ایک ہونا چاہئے۔ کسی پارٹی،کسی فرقے، کسی قبیلے، کسی با اثر فرد، کسی تنظیم، کسی ادارے کو، کسی قانون، کسی ضابطے کی خلاف ورزی کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ موٹروے پر ہو رہا ہے۔ کراچی میں بھی چند گز دور سپر ہائی وے پر متعلقہ قوانین کی پابندی ہو رہی ہے۔ اگرکراچی پولیس کے فرائض کی انجا م دہی میں سیاسی اور غیر سیاسی مداخلت روک دی جائے تو وہ امن قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ایک بار سیاسی جماعتیں اپنے مفادات‘ ووٹ بنک کی فکر کو مملکت کے مفاد پر قربان کر کے تو دیکھیں۔ اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے امن سے جن پاکستانیوں کی زندگی محفوظ ہوگی اس میں ان کے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں بھی شامل ہوں گے۔

نظم

یہ شہر ہے اللہ کی رحمت

یہ شہر زمیں پر ہے جنت

یہاں کروڑوں آنکھیں ہیں

ہر آنکھ میں کتنی شمعیں ہیں

تعبیرہے کتنے خوابوں کی

تسکین ہے کتنے جذبوں کی

یہ شہر ہے قائد اعظم کا

اور قائد کے ہر ہمدم کا

قسمت کی کلی یاں کھلتی ہے

جو آئے روزی ملتی ہے

یہ شہر وطن کی جان بھی ہے

یہ روحِ پاکستان بھی ہے

یہ شہر اچانک اے لوگو

اک جنگل کیوں بن جاتا ہے

انسان درندوں کی صورت

گلی گلی منڈلاتا ہے

ماؤں کی گود اجڑتی ہے

اور بہنیں بھائی کھوتی ہیں

راتیں ماتم کرتی ہیں

صبحیں شامیں روتی ہیں

یہ شہر ٹھکانا سب کا ہے

یہ پیارا گھرانا سب کا ہے

قاتل بھی ہم ،مقتول بھی ہم

پھر رونے میں مشغول بھی ہم

یہ شہر جو صدمے سہتا ہے

ہم سب سے ہی یہ کہتا ہے

تم سب ہی اچانک اے بیٹو

دشمن کیوں بن جاتے ہو؟

(محمودشام)

یہ تحریر 243مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP