قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت ذمے دار مملکت کب بنے گا

پاکستانی ماہی گیروں کی لانچ پر بھارتی حملے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کے بارے میں تحقیق اور تجزئیے پر مبنی معروف سینئر صحافی محمود شام کے قلم سے ایک رپورٹ

یہ شاید 2003ء کی بات ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) کی دعوت پر پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش اور افغانستان کے چھ ایڈیٹرز نائن الیون کے بعد رونما ہونے والی عالمی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لئے واشنگٹن‘ بوسٹن اور سنسناٹی کے شہروں میں گھوم رہے تھے۔ پنٹا گون‘ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ ہوم لینڈ سکیورٹی میں اعلیٰ افسروں سے ہماری میٹنگیں ہو رہی تھیں۔

امریکیوں کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد ہماری دنیا بدل گئی ہے۔ ہمارے ساتھ بھارت سے ایک بڑے اخبار بزنس سٹینڈرڈ کے ڈپٹی ایڈیٹر بھی تھے۔ ہر میٹنگ میں وہ انڈین پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کا معاملہ اٹھاتے اور کہتے کہ ایک جمہوری ملک کے لئے پارلیمنٹ سب سے مقدس ادارہ ہوتا ہے۔ اس پر حملہ پوری ریاست پر حملہ ہے۔ امریکا جس طرح اپنے ٹریڈ ٹاورز پر حملے کو اٹھا رہا ہے‘ اسی طرح بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے پر بھی تشویش ظاہر کرے‘ اس کا ذمے دار پاکستان ہے‘ اس لئے اس کی مذمت کی جائے۔ہمارے ساتھ اس وقت نوائے وقت کے کالم نگار عرفان صدیقی بھی تھے۔ پہلی بار جب اس بھارتی ایڈیٹر نے یہ مسئلہ اٹھایا تو میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بھارتی حکومت کا ڈرامہ ہے۔ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب ایک دوسری میٹنگ میں پھر انہوں نے یہی راگنی چھیڑی تو میں نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ والوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔ کیوں کہ اس حملے میں کوئی افسر مارا گیا نہ پارلیمنٹ کا کوئی رکن۔ بھارت کی حکومت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا۔ اب تو حقائق سامنے آچکے ہیں۔ بھارت کی جیلوں میں قید کچھ بے گناہوں کو زبردستی لایا گیا۔ جیسے وہ حملہ کرنے آئے تھے‘ پھر انڈین سکیورٹی نے ان سب کو مار بھی دیا۔ جتنے خوف ناک دہشت گرد وہ بتائے جا رہے تھے پھر وہ کیونکر اس حملے میں کوئی قابل ذکر نقصان نہ پہنچا سکے اور آناً فاناً سب کے سب مار دیئے گئے۔

ایک دو جگہ جب میں نے ان کی مزاحمت کی‘ پھر انہوں نے یہ معاملہ دہرانا چھوڑ دیا۔ بھارتی حکومت ہی نہیں بھارتی میڈیا اور وہاں کے دانش وروں کو بھی یہ خبط ہے کہ پاکستان کو جنگجو‘ دہشت گرد‘ عسکریت پسند ثابت کرنے کے لئے ایسے ڈھونگ رچاتے رہتے ہیں۔ اب 2014ء کی آخری رات سے انہوں نے بحیرہ عرب میں گجرات کے ساحل کے قریب بارود اور اسلحے سے بھری کشتی کا پروپیگنڈہ شروع کیا ہُوا ہے۔

2 جنوری 2015ء کو بھارت کی وزارت دفاع نے وڈیو بھی جاری کی اور سرکاری بیان بھی کہ ’’31 دسمبر 2014ء کی رات بھارتی کوسٹ گارڈز نے بحیرہ عرب میں ماہی گیروں کی ایک لانچ کو دیکھا‘ جو دھماکا خیز مواد‘ بارود اور اسلحے سے بھری تھی۔ انہیں شبہ ہُوا کہ یہ کوئی غیر قانونی کارروائی کرنے والی ہے۔ کوسٹ گارڈ نے مزید تفتیش اور تحقیق کے لئے عملے کو خبردار کیا اور رکنے کے لئے کہا۔ لانچ نے اپنی رفتار بڑھا دی اور فرار کی کوشش کی۔ ایک گھنٹے تک تعاقب جاری رہا۔ لیکن لانچ کے عملے نے بالآخر کشتی کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں دھماکا ہُوا۔ آگ بھڑک اُٹھی اور سب کچھ جھلس کر تباہ ہوگیا۔‘‘

بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ آج کل امریکا بھی بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اس لئے اس کی طرف سے بھی یہ بیانات آتے رہتے ہیں کہ دونوں جمہوریتیں مل کر دنیا میں امن قائم کریں گی۔

امریکی صدر باراک اوباما، اپنے دور صدارت میں بھارت کا دو بار دورہ کرنے والے پہلے امریکی سربراہ بھی بنے۔ دوسری خصوصیت یہ حاصل کی کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کی پریڈ دیکھنے والے پہلے امریکی صدر کا اعزاز بھی انہوں نے حاصل کیا۔

امریکا اپنی سرد جنگ کے زمانے میں روس اور دوسرے کمیونسٹ ممالک پر بھی اسی طرح بے سروپا الزام عائد کیا کرتا تھا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ایسی کارروائیاں کرتی اور روس‘ ہنگری یا پولینڈ پر الزام عائد کر دیتی۔ بھارت کو جب سے امریکا‘ جنوبی ایشیا اور بحر ہند کا تھانیدار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے بھارت نے اپنے تئیں یہ ذمے داری اختیار کر لی ہے۔

بھارتی میڈیا بھی اپنی حکومت کی طرح جمہوری اور آزادئ صحافت کے دعوے کرتا ہے۔ لیکن وہ اپنی کسی بھی حکومت کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کرنا چاہتا۔ بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ پاکستان دشمنی میں حکومتی ترجمانوں سے بھی دو ہاتھ آگے چلا جاتا ہے۔

میں جب بھی بھارت گیا ہوں تو اخبار نویسوں اور ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور ایڈیٹروں سے ہمیشہ یہ سوال کیا ہے کہ یہ کہاں کی آزادی ہے کہ آپ کی وزارت خارجہ امور جو دعویٰ کر دے آپ اس کو ہی من و عن اپنا لیتے ہیں اور اس پراپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہم وہی خبریں اور تجزیے شائع کرتے ہیں جو ایم ای اے یعنی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز کہتی ہے۔ ہم خارجہ پالیسی کو متنازع نہیں بنانا چاہتے۔

امریکا میں بھی میڈیا اپنی وزارت خارجہ کی پالیسی سے بال برابر اختلاف نہیں کرتا ’’بوسٹن گلوب‘‘ ایک بہت قدیم اور مؤقر اخبار ہے۔ اس کے ایڈیٹر برائے بین الاقوامی امور نے خود یہ تسلیم کیا تھا کہ خارجہ امور پر ہم اپنے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طے کردہ حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے۔

اس سے پہلے ’’سمجھوتہ ایکسپریس‘‘ کو بم دھماکوں سے اڑانے کے سنگین واقعے میں بھی پاکستان پر الزامات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ لیکن بھارت کی لیڈر شپ پاکستان کے خوف سے باہر نہیں نکلتی۔ اپنے عوام کو پاکستان سے ڈرانے کے لئے وہ پارلیمنٹ پر حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور دھماکا خیز مواد سے بھری کشتی کے ڈرامے رچاتی رہتی ہے۔

بھارت میں 2 جنوری 2015ء کو وزارتِ دفاع نے جب یہ خبر جاری کی تو بھارتی اخبارات اور چینلوں نے اپنے طور پر اس میں زیب داستاں کے لئے خود کافی بڑھایا اور کہا کہ اس خطرناک دہشت گردی نے چھ سال پہلے ممبئی میں بم دھماکوں کی الم ناک یادیں تازہ کر دی ہیں جس میں 160 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ پاکستانی دہشت گرد بھی اسی طرح سمندر سے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔ اس لانچ میں سوار دہشت گردوں کے بھی ایسے ہی ارادے تھے۔ وہ کشتی بھی کراچی سے آئی تھی۔ یہ کشتی بھی کراچی سے آئی تھی۔ ساتھ یہ بھی کہ تیز سمندری ہواؤں اور گھپ اندھیرے کے باعث یہ کوسٹ گارڈ کے ہاتھ نہیں لگ سکے۔ اگلے ہی مہینے انڈین ایکسپریس نے ایک وڈیو جاری کی جس میں انڈین کوسٹ گارڈز کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل بی کے لوشالی یہ دعویٰ کرتے دکھائی اور سنائی دئیے۔

’’ہم نے اس پاکستانی کشتی کو اڑا دیا۔ ہم نے انہیں اڑایا۔ میں گاندھی نگر میں تھا۔ مجھے اس کی اطلاع دی گئی۔ میں نے حکم دیا کہ اس کشتی کو اڑا دو اور کیا ہم ان کی بریانی سے تواضع کرتے۔‘‘

اس انکشاف کے بعد بھارتی حکومت نے کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ وزارتِ دفاع نے پھر اپنے 2 جنوری والے بیان کا اعادہ کیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوسٹ گارڈ کی طرف سے بھی تردید جاری کی گئی۔

اس سے پہلے ’’سمجھوتہ ایکسپریس‘‘ کو بم دھماکوں سے اڑانے کے سنگین واقعے میں بھی پاکستان پر الزامات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ لیکن بھارت کی لیڈر شپ پاکستان کے خوف سے باہر نہیں نکلتی۔ اپنے عوام کو پاکستان سے ڈرانے کے لئے وہ پارلیمنٹ پر حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور دھماکا خیز مواد سے بھری کشتی کے ڈرامے رچاتی رہتی ہے۔

ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے فوری طور پر تو یہ بیان جاری کیا تھا کہ بھارت نے پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پروا نہیں کرتا۔ نہ اسے انسانی قدروں کا احساس ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ اور کہا کہ اس کارروائی سے ثابت ہوگیا ہے کہ انڈیا پُرامن ہونے کے محض دعوے کرتا ہے۔ وہ پاکستان پر ہمیشہ ایسے الزامات عائد کرتا ہے جو بعد میں ہمیشہ جھوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان بھارت سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ ہم خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسے پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی فورموں پر اس سنگین مسئلے کو نہیں اُٹھایا۔ سوال ذہن میں یہی ابھرتا ہے کہ بھارت ایسی ذہنیت اور ایسے رویوں کا مظاہرہ کیوں کرتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی سو میل لمبی سرحدیں ایک تاریخی حقیقت ہیں ایک جغرافیائی حیثیت ہیں۔ اب ان سرحدوں کو پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کے خون نے مستحکم کر دیا ہے۔

وہ یقیناً ایک بڑی آبادی والا ملک ہے۔ وہاں ایک جمہوری نظام برسوں سے چل رہا ہے۔ اقتصادی طور پر بھی اس نے کافی ترقی کی ہے۔ میں 1972ء سے ایک صحافی اور شاعر کی حیثیت سے بھارت کے دورے کرتا آرہا ہوں۔ دو بار مجھے مصدقہ ویزے کے باوجود دہلی ایئرپورٹ پر روکا بھی گیا۔ ایک بار تو میں نے آٹھ گھنٹے ان کے ٹرانزٹ سیل میں بھی گزارے۔

پاکستان کے حوالے سے وہ ایک احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال خاص طور پر پنجاب‘ ہریانہ‘ دہلی اور مہا راشٹر میں شدت سے موجود ہے۔ دوسری ریاستوں میں خوف اس حد تک نہیں ہے۔ پنجاب‘ ہریانہ‘ دہلی‘ مہا راشٹر میں پولیس‘ میڈیا‘ اشرافیہ‘ دانش وروں اور بیورو کریسی کو ہر لمحہ یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی نہ کوئی کارروائی ہونے والی ہے۔ پاکستان حملہ کرنے والا ہے۔ ہر فساد‘ بلوے میں انہیں آئی ایس آئی کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ ان کے ادیب‘ شاعر‘ سماجی کارکن‘ تنظیمیں بھارت میں یا پاکستان میں کسی تقریب میں شریک ہوں تو وہ یہ جملہ ضرور دہراتے ہیں کہ دونوں طرف ایک سی ثقافت ہے‘ ایک سا تمدن ہے‘ شکلیں ایک سی ہیں‘ زبان بھی ہم ایک ہی بولتے ہیں‘ پھر یہ دیواریں کیوں کھڑی کر دی گئیں‘ یہ لکیر کیوں کھینچ دی گئی۔ یہ جملے بھی ان کے احساس کم تری اور عدم تحفظ کی غمازی کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑا حلقہ ایسا بھی ہے جس نے پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس لئے وہ ایسے مباحث میں مصروف رہتے ہیں کہ یہ غیر فطری تقسیم ہے۔

ہم نے ہمیشہ بھارت کے صحافیوں‘ دانش وروں پر واضح کیا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے۔ آپ کو اب یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے۔ حقیقت پسندانہ گفتگو کی بنیاد یہیں سے شروع ہو سکتی ہے کہ بھارت پاکستان کو ایک حقیقت مانے۔ ایک خود مختار‘ آزاد مملکت‘ دونوں برابری کی سطح پر بات کریں۔ دونوں کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی سو میل لمبی سرحدیں ایک تاریخی حقیقت ہیں ایک جغرافیائی حیثیت ہیں۔ اب ان سرحدوں کو پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کے خون نے مستحکم کر دیا ہے۔

بھارت کی اشرافیہ اور سیاسی لیڈر شپ کو اپنے ایک ارب شہریوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ وہ پاکستان کے خوف سے باہر نکلیں‘ اپنی جنتا کی غربت کی فکر کریں۔ اب بھی کئی کروڑ بھارتی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ بھارت کے اپنے ٹی وی چینلوں کے پروگراموں سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ وہاں اب تک چھوٹی ذات والوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ ان کو پورے حقوق نہیں ملتے‘ اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے‘ چھوٹی ذات والوں سے رشتے قائم نہیں کئے جاتے۔اداکار عامر خان کے پروگرام سے بھی انکشاف ہوتا ہے کہ وہاں اب بھی بیٹیوں کی پیدائش ناپسندیدہ ہے۔ الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے وہاں پہلے سے یہ بتانے پر پابندی ہے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔اکیسویں صدی میں یہ عالم ہے۔

بھارت کو ابھی مہذب ملکوں کے برابر آنے میں کئی سنگ ہائے میل عبور کرنا ہیں۔ کئی ریاستوں میں غربت اپنی بد ترین شکل میں موجود ہے۔ جاگیر داریاں ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ لیکن یوپی‘ بہار‘ گجرات کے دیہات میں اب بھی غلامی کی بد ترین شکلیں موجود ہیں۔ بندھوا یعنی بانڈڈ لیبر بہت سے علاقوں میں ہے۔ انسان انسان کو بیچ رہا ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔

ادھر پاکستان میں بھی ہمیں اس احساس کم تری سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہمارے ہاں مسلسل جمہوریت نہیں رہی ہے۔ ہمیشہ حکومتیں عوام کے ووٹ سے تبدیل نہیں ہوئی ہیں ۔۔۔ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔ بھارت میں جمہوریت کا تسلسل رہا ہے۔ بھارت میں میڈیا آزاد ہے۔ بھارت میں عدلیہ بہت آزادی سے فیصلے کرتی ہے۔ بھارتی جمہوریت کا سب سے بڑا امتحان تو ہمیشہ کشمیر میں ہوتا ہے۔ وہاں 7 لاکھ فوج کی موجودگی ہی جمہوریت کے تسلسل کا پول کھول دیتی ہے۔ کشمیریوں کو عام بھارتیوں کے مقابلے میں بہت سی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

جنوبی ایشیا آبادی کے تناظر میں سب سے بڑا علاقہ ہے۔ لیکن انسانی سہولتوں کے حوالے سے سب سے پس ماندہ۔ اس خطے میں بہتر انسانی صورتِ حال کی ذمے داری یہاں کے سب سے بڑے ملک بھارت کی ہے۔ عالمی برادری کو یہ جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اس ذمے داری کو کہاں تک پورا کر رہا ہے۔ زندگی کی عمدگی کے حوالے سے کتنے بین الاقوامی اصولوں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ پاکستان کے دانش وروں، کالم نویسوں کو بھی یہ حقائق عالمی برادری کے سامنے لانے چاہئیں۔

[email protected]

یہ تحریر 243مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP