قومی و بین الاقوامی ایشوز

پٹھان کوٹ واقعہ بھی من گھڑت نکلا

بھارت خطے میں اسلحے کی دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ نت نئے ہتھیار اور حربی آلات خریدنا بھارتی فوج کی پہچان ہے۔ بھارت میں اسلحے کے اس قدر ڈپو ہیں کہ ان کا سنبھالنا اسے مشکل ہو رہا ہے۔ ماہ رواں میں یکم جون کے اخبارات اس بات کے شاہد ہیں کہ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگپور میں ایشیا کے سب سے بڑے اسلحہ ڈپو میں ہولناک آتشزدگی نے بھارت کی امن پسندی کی قلعی کھول دی ہے۔ چار دیہات خالی کر الئے گئے، ایک ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ دھماکوں نے میلوں تک اور شعلوں نے گردوپیش میں کہرام بپا کر دیا تھا۔ 2افسروں سمیت 20 فوجی جل مرے۔ بیسیوں زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک ہے اوریہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بھارت کے اسلحہ گوداموں میں آتش زدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق مذکورہ اسلحہ ڈپو میں براہموس میزائل‘ اینٹی ٹینک اور بارودی سرنگوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا جو نذر آتش ہو گیا ہے۔ بلگاؤں کا یہ ڈپو پہلے بھی خاکستر ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیردفاع منوہرپاریکر اور بھارتی فوج کے چیف ‘ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ بھی فوری طور پر ناگ پور پہنچے تھے۔ تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں لیکن اب کی بار پاکستان پر بلاتحقیق اور بغیر وجہ کے الزام دھرنے کے بجائے انہوں نے زبان بند رکھنے میں ہی اپنی عافیت جانی ہے۔ دراصل بھارت محض الزام تراشیوں کی وجہ سے عالم میں بے نقاب ہو چکا ہے۔ وہ ممبئی حملوں کے ثبوت بھی فراہم نہ کر سکا۔ سمجھوتہ ٹرین بھی اس کے اپنوں کی کارستانی نکلی اور سب سے بڑا دھچکا بھارت کو پٹھان کوٹ واقعے سے لگا ہے۔

 

2جون کو بھارت کے تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے بھارتی ویب سائٹ نیوز 18سے انٹرویو میں جب کہا کہ ’’ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو سکے کہ پاکستانی حکومت یا ایجنسی نے جیش محمد کے مسعود اظہر یا ان کے ساتھیوں کی پٹھان کوٹ داخلے میں مدد کی ہو ۔ این آئی اے نے بھارت میں تحقیقات مکمل کر لی ہے۔‘‘

 

تو اس وقت مجھے 3جنوری سال رواں کا وہ لمحہ یاد آ گیا جب این آئی اے کے اسی سربراہ شردکمار نے بلاجھجک اور بغیر تحقیق کے کہہ دیا تھا کہ ’’دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔‘‘ پاکستان نے یقین دہانیاں کروائیں، اسی عرصے میں 3سے 15جنوری کے دوران وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں ایپکس کے دو اجلاس طلب کئے گے۔ جن میں جنرل راحیل شریف‘ وزیر داخلہ‘ وزیرخزانہ‘ مشیر خارجہ امور اور دیگر پاکستانی ایجنسیوں کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔ معاملے کا پوری توجہ‘ سنجیدگی سے جائزہ لیا اور اچھی ہمسائیگی کے اظہار کے طور پر بھارت کی خواہش پر کالعدم جیش محمد کے مولانا اظہر اور ان کے بھائی کو حراست میں بھی لیا گیا۔ پھر 19فروری کو گوجرانوالہ کے تھانے سی ٹی ڈی میں بھارت کی جانب سے دی گئی معلومات پر ایف آئی آر درج کی گئی جس کے لئے وفاقی وزرات داخلہ کے ڈپٹی سیکرٹری اعتزاز الدین نے درخواست دی۔ الغرض پاکستان مسلسل دست تعاون بڑھاتا رہا مگر اس عرصے میں بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر مسلسل پاکستان کو دھمکیاں دیتا رہا اور اپنا رویہ جارحانہ رکھا۔ پاکستانی تفتیشی ٹیم کے ساتھ بھی سردمہری کا رویہ اختیار کیا گیا۔ صرف 45منٹ کے لئے پٹھان کوٹ کی جائے وقوعہ پر لے جایا گیا۔ مزید سنسنی خیزی پیدا کرنے اور تفتیش کا رخ موڑنے کے لئے 3اپریل کو پٹھان کوٹ حملے کے مسلمان تفتیشی افسر تنزیل احمد کو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بجنور میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ حملے میں تنزیل احمد کی اہلیہ فرزانہ زخمی ہوئیں۔ قاتل واردات کے بعد تنزیل احمد کا موبائل اور لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے گئے تھے۔ تنزیل احمد ماضی میں نصف درجن سے زائد میگا کیسز حل کرنے کی شہرت رکھتے تھے اور اب وہ پٹھان کوٹ حملہ آوروں کو بھی بے نقاب کرنے جا رہے تھے۔ جس کے ٹھوس شواہد تنزیل احمد کو مل چکے تھے کہ انہیں قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں دھماکوں کے تفتیشی افسر کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ پھر 3اپریل کو ہی بھارت نے اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو داعش اور القاعدہ کی پابندیوں والی فہرست میں شامل کیا جائے۔ جسے چین نے ویٹو کر دیا کہ بھارتی درخواست مطلوبہ تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اسی عرصے میں بھارت کے شردکمار نے مسعود اظہر، ان کے بھائی عبدالرؤف اور دیگر دو پاکستانیوں، کاشف جان اور شاہد لطیف، کے وارنٹ گوفتاری جاری کر دیئے۔ دہلی کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو بھی بھارت شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ الغرض بھارت اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنستا چلا گیا۔ اسی عرصے میں اس نے ایران سے ہمارے تعلقات خراب کرنے کے حیلے کئے۔ ا یف - 16 کے سلسلے میں واویلا کیا۔ حتیٰ کہ ہیل فائر میزائلوں والے ہیلی کاپٹر بھی برداشت نہ کر سکا جو اگلے دو برسوں میں امریکہ پاکستان کو فروخت کرے گا۔ حالانکہ مذکورہ بالا ہیلی کاپٹربیل اے ایچ ون زیڈ (جو اے ایچ ون ڈبلیو سپر کوبرا ہیلی کاپٹر کی ترقی یافتہ شکل ہے) وہ ہیلی کاپٹر دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوں گے جو ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔ مگر بھارت اپنی روائتی کم نگاہی ‘ کینہ پروری اور تنگ نظری کی بنا پر اخلاقی ‘ سیاسی اورتہذیبی طور پر شکست خوردگی کا شکار ہو چکا ہے۔ دنیا کو کیا منہ دکھائے گا۔ بھارت کو چاہئے کہ اقوام عالم کو اپنے اس پٹھان کوٹ ناکام ڈرامے سے آگاہ کرنے کی جرأت پیدا کرے اور پاکستان پر بلاتحقیق الزام لگانے پر معافی مانگے جس طرح اُس نے پٹھان کوٹ واقعے کی من گھڑت کہانی بنا کر دنیا بھر کو خط لکھے تھے۔ اب اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی طرح دنیا کو مطلع کرے کہ پاکستان پر لگائے گئے الزامات غلط تھے اور پٹھان کوٹ واقعہ من گھڑت تھا۔


جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 188مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP