ہمارے غازی وشہداء

معرکہ بڈھ بیر۔۔ بہادری کابے مثال کارنامہ

18 ستمبر2015کو ہونے والے معرکہ بڈھ بیر پشاورکے حوالے سے آصف شیرازی کی تحریر

 18ستمبر2015 بروز جمعہ کو 14 دہشت گردوں نے صبح سویرے تقریباً5 بجے بڈھ بیر ایئر بیس پشاور پر حملہ کردیا۔ سرزمین پاکستان پر 15 سالہ دہشت گردی کی جنگ کا یہ بھی ایک خطرناک ترین اٹیک تھا۔ اس سے قبل16 دسمبر2014کو سات دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کرکے 134 معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا تھا ۔ مگر اس بار ان کے عزائم اے پی ایس پشاور والے حملے سے بھی کہیں زیادہ خوفناک تھے۔ ایئر بیس کالونی، ٹریننگ پر آئے ہوئے فضائیہ کے آفیسرزاور بڈھ بیر ایئر فورس کیمپ ان کی اہداف میں شامل تھے۔دہشت گردوں نے اپنے ریڈیو سے صبح9:30 بجے جو پیغام نشر کیاوہ یہ تھا''ہمارے14فدائین اس وقت 200سے زائد لوگوں کو مارنے کے بعد بڈھ بیر ایئر بیس کالونی میں کامیابی سے کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یہاں یہ چار دن قیام کریں گے اور اب پاکستان کو وہ زخم لگے گا جو اُسے APS پشاور کا سانحہ بھی بھلا دے گا۔


6:30 پر کیپٹن اسفندیار نے12 پنجاب اور15 بلوچ کے جوانوں کی کمانڈ سنبھالی۔ خود جا کر ریکی کی اور پھر اپنی بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر دہشت گردوں پر چڑھ دوڑے۔ دہشت گردوں نے اُن کی گاڑی پر شدید فائرنگ کردیمگروہ محفوظ رہے۔ البتہ کپتان اسفند نے اُن کی پوزیشنوں کو ذہن نشین کرلیا۔ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے کپتان اسفند یار کی نظر میں آگئے۔ ذہین کپتان کی یہ جنگی چال دہشت گردوں کی سمجھ میں نہ آئی کہ اس دوران میں کپتان اسفند کے حکم پر اُس کے جوانوں نے کمال چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالونی اور ایئر بیس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیئے۔ راستے بند ہونے سے دہشت گرد بیرکوں کے علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے۔ کیپٹن اسفند یار نے اس موقع پر انتہائی ہوشیاری اور ذہانت دکھاتے ہوئے Initiative اپنے ہاتھ میں رکھا اور بذاتِ خود گولیوں کی بارش میں اپنے سپاہیوں کی قیادت کرتے ہوئے اُن پر گھیرا مزید تنگ کردیا اور اس طرح دہشت گردوں کو ایک انتہائی چھوٹے علاقے میں محصور کرکے کیپٹن نے مزید نہتے لوگوں کے قتل ِ عام کے تمام امکاناتختم کردیئے۔


ان چودہ بھارتی دہشت گردوں نے آتے ہی سکیورٹی پر مامور عملے کو اپنے نشانے پر لیا اور گیٹ کے اندر داخل ہوئے۔ اسی اثناء میں میجر حسیب(15بلوچ) بھی اپنی QRF کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ ایک خونریز جنگ کا آغاز ہوگیا۔ 15 بلوچ اور12 پنجاب کے جوان نہایت بہادری سے ان کا مقابلہ کررہے تھے ۔ اسی دوران کچھ دہشت گرد مسجد میں گھس گئے اور نماز فجر کی ادائیگی کے لئے آئے ہوئے نمازیوں پر فائر کھول دیا جس سے 16 نمازی شہید اور کافی سارے زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد چونکہ نہایت تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس تھے، اس لئے انہیں نمازیوں اور نہتے ایئر مینوں کو شہید کرنے میں چنداں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ 6 بجکر20 منٹ تک وہ28لوگوں کو شہید اور29 کو زخمی کرچکے تھے۔ اب انہوں نے بڈھ بیر ایئر فورس کالونی میں گھسنا تھا۔ یاد رہے کہ بڈھ بیر ایئر فورس کیمپ میں ایئر فورس کے آفیسرز کی اچھی خاصی تعداد ٹریننگ کی غرض سے آئی ہوئی تھی۔ دہشت گردوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لئے  اعلیٰ منصوبہ بندی کررکھی تھی، اگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے تو ایک بڑی تباہی آتی۔
دشمن سمجھتا تھا کہ اس کی پلاننگ شاندار اور بے عیب ہے مگر پاک فوج بھی دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ صبح6 بج کر20 منٹ پر102 بریگیڈ کے بریگیڈیئر عنایت حسین اور ان کے سٹاف آفیسر کیپٹن اسفند یار بخاری موقع پر پہنچ گئے۔ اس وقت آپریشن کمانڈر میجر حسیب زخمی ہوکرCMH پشاور جاچکے تھے۔ صورت حال نہایت گھمبیر تھی۔ تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد سٹاف آفیسر کیپٹن اسفند یار بخاری نے بریگیڈیئر عنایت حسین سے گزارش کی کہ اس آپریشن کی کمانڈ انہیں دے دی جائے کیونکہ دیگر آفیسرز جونیئر اور ناتجربہ کار ہیں۔ کیپٹن اسفند یارPMAکاکول کے ملٹری Tacticsمیڈل یافتہ تھے اور انہوںنے اعزازی شمشیر بھی حاصل کررکھی تھی۔ نیز سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ وزیرستان میں اپنے ڈیڑھ سالہ قیام کے دوران ان دہشت گردوں کو متعدد بار شکست سے بھی دوچار کرچکے تھے۔ وہ پاک آرمی میں نہایت بہادر  اور لائق آفیسر کے طور پرجانے جاتے تھے۔ آج اس آپریشن میں اُن کی ڈیوٹی نہ تھی مگر انہوںنے وطن کی پکار پر اپنے فرائض سے بڑھ کر کام کیا۔ آخر کار انہیں کمانڈ دے دی گئی۔
6:30 پر کیپٹن اسفندیار نے12 پنجاب اور15 بلوچ کے جوانوں کی کمانڈ سنبھالی۔ خود جا کر ریکی کی اور پھر اپنی بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر دہشت گردوں پر چڑھ دوڑے۔ دہشت گردوں نے اُن کی گاڑی پر شدید فائرنگ کردیمگروہ محفوظ رہے۔ البتہ کپتان اسفند نے اُن کی پوزیشنوں کو ذہن نشین کرلیا۔ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے کپتان اسفند یار کی نظر میں آگئے۔ ذہین کپتان کی یہ جنگی چال دہشت گردوں کی سمجھ میں نہ آئی کہ اس دوران میں کپتان اسفند کے حکم پر اُس کے جوانوں نے کمال چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالونی اور ایئر بیس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیئے۔ راستے بند ہونے سے دہشت گرد بیرکوں کے علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے۔ کیپٹن اسفند یار نے اس موقع پر انتہائی ہوشیاری اور ذہانت دکھاتے ہوئے Initiative اپنے ہاتھ میں رکھا اور بذاتِ خود گولیوں کی بارش میں اپنے سپاہیوں کی قیادت کرتے ہوئے اُن پر گھیرا مزید تنگ کردیا اور اس طرح دہشت گردوں کو ایک انتہائی چھوٹے علاقے میں محصور کرکے کیپٹن نے مزید نہتے لوگوں کے قتل ِ عام کے تمام امکاناتختم کردیئے۔
اب کپتان اسفندیار باہر آگئے اور اس نے تمام صورت حال سے بریگیڈیئر عنایت کو آگاہ کیا اور کہا سر! میں نے اُن کو اپنے جال میں پھنسالیا ہے۔ اب میں ان کو بطخیں بنا کر ماروں گا۔ اب وہ اپنے نئے پلان کے ساتھ میدانِ جنگ میں کود گیا۔ اس کے سپاہیوں نے بار بار اپنے کپتان کو عقب میں رہنے کو کہا مگر وہ آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرتے رہے۔ اس طرح جوانوں کا مورال بھی بہت بلندہوگیا، دہشت گرد پاک فوج کے جال میں بُری طرح پھنس چکے تھے۔ افراتفری کے عالم میں وہ اپنی جانیں بچانے کے لئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ کبھی ایک بیرک میں تو کبھی دوسری بیرک میں۔ کپتان اسفندیار بلند آواز میں اپنے جوانوں کے حوصلے بڑھا رہے تھے کہ کوئی گیدڑ بچنے نہ پائے۔ بدحواس دہشت گرد جدھر جاتے پاک فوج کے جوانوں کو مقابل پاتے۔ پاک آرمی کے اس بہادر کپتان کی شاندار قیادت نے توجنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا تھا۔ اب دہشت گردوں کے بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا'' پائے رفتن نہ جائے ماندن'' (نہ بھاگتے بن پڑے نہ ٹھہرتے) والا معاملہ درپیش تھا۔ 
نائیک شفیق اپنے دوست نائیک طارق نیازی کے ہمراہ نمازِ فجر ادا کرنے آیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ مسجدمیںفائرنگ ہوئی تو اس میں بہت سارے لوگ شہید ہو گئے جن میں میرا دوست طارق نیازی بھی شامل تھا۔ میں بھی معمولی زخمی ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دہشت گرد بیرک سے نکلا اور فائرنگ کرتا ہوا مسجد کی سیڑھیوں کی طرف آیا جہاں کافی زخمی درد سے کراہ رہے تھے۔ اُسی لمحے آرمی کی گاڑی سے ایک جوان نے جست لگائی اور دہشگرد کی جانب ایسے دوڑا جیسے وہ اُسے کچا ہی چبا جائے گا۔ اس کی جرأت و بہادری سے دہشت گرد گھبرا گیا۔ فوجی جوان نے بھاگتے بھاگتے کمال مہارت سے اُسے اپنا نشانہ بنایا جب یہ جوان آگے آیا تو میںنے قریب سے دیکھا کہ یہ تو پاک آرمی کا ایک کپتان ہے۔ پھر میں نے دو گھنٹے بعد ہسپتال میں اس جری کپتان اسفند  کی شہادت کی خبر سنی۔
11ایف ایف کے حوالدار محب اﷲ کا کزن سپاہی نوشاد علی بھی اس جنگ میں شدید زخمی ہوا۔ گولی اس کی ٹانگ پر لگی تھی۔ اسی حالت میں وہ ایک ستون کی آڑ میں بیٹھ گیا۔ نوشاد علی کہتا ہے کہ اسی اثناء میں ایک دہشت گرد میرے پاس سے گزرا۔ مجھے دیکھا وہ واپس مڑا۔ اس سے قبل کہ دہشت گرد مجھے اپنا نشانہ بناتا، ایک سنسناتی گولی اس کے سر پر لگی اور وہ میرے قدموں میں ڈھیر ہوگیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو کیپٹن اسفندیار فوراً ستون کے پیچھے سے نکل کر سامنے آئے اور کہا کہ تمخیریت سے ہو؟ یہ بات کرتے ہوئے نوشاد علی کی آنکھیں بھیگ گئیں اوراُس نے آہستہ سے کہا کہ میں اپنے اس محسن کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
یہ جنگ کیپٹن اسفندیارکی کمانڈ میں صرف دوگھنٹے میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کیپٹن اسفندیار نے8 بج کر7 منٹ پر اپنے کمانڈر کو فون کیا تاکہ اُنہیں بتا سکے کہ گیم ختم ہوگئی ہے۔ تمام دہشت گردمار دیئے گئے ہیں۔ جب کہ آرمی کے صرف دو جوان زخمی ہوئے ہیں، عین اسی وقت اس کی نگاہ لطیف بیرک کے کمرہ نمبر4 پرپڑی۔ جہاں ایک دہشت گرد پناہ لینے کے لئے گھس رہا تھا۔ یہ آخری دہشت گرد تھا۔ اسفند یار شیر کی طرح حملہ آور ہوا اور اسے برسٹ مارا۔ وہ تو جہنم واصل ہوا مگر اس کی چلائی گولی عظیم بہادر کیپٹن کے سینے کے بائیں جانب عین مقام ِ دل پر لگی، جو اس کی شہادت کا سبب بن گئی۔ سلام ہے پاک فوج کے اس عظیم ہیرو پر جس نے اپنے فرض سے بڑھ کر اپنا فرض نبھایا اور فرنٹ سے لیڈ کیا۔ کیپٹن اسفند یارکو ''تمغۂ جرأت'' سے نوازا گیا۔ ||

یہ تحریر 22مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP