یوم آزادی

آزادی اور شہریوں کی ذمہ داریاں

اگست۔ انتہائی مقدس اور محترم مہینہ، اور اس میں ایک دن ایسا آتا ہے جب ہر متحرک شے پر ہر گھر پر ستارہ و ہلال والا سبز پرچم لہراتا ہے۔ ہر چہرے پر ایک عزم، پیشانیاں تمتماتی ہوئی، بائیسکل، گدھا گاڑی ، اونٹ گاڑی، تانگہ، بگھی، رکشا، ٹیکسی، موٹر سائیکل نئے ماڈل کی کاریں، پرانی گاڑیاں، ہاتھ رکشا، چنگچی، پک اپ، وین، بسیں، ٹرک آئل ٹینکر، واٹر ٹینکر، ریل گاڑی سب پر ہلالی جھنڈا ایک شان سے ایک وقار سے  بلند ہوتا ہے۔


/uploads/gallery/234833147b97bb6aed53a8f4f1c7a7d8.jpg


واہگہ سے گوادر تک ایک سا عالم ہوتا ہے، اسلام آباد،پنڈی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، کراچی، فیصل آباد، حیدر آباد، میرپور خاص، نواب شاہ، لاڑکانہ، مردان، مانسہرہ، دیر، سوات، نوشہرہ، کمالیہ، چیچہ وطنی، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، مظفر آباد، میرپور آزاد کشمیر، قلّات، دالبندین، اٹک، تھرپارکر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، سب جگہ ایک ہی پرچم نظر آتا ہے۔ یہ ہر پاکستانی کا دن ہے۔ آزادی کا دن ہے۔ استقلال کا دن ہے۔
اسی دن یہ اعلان پہلی بار سننے میں آیا تھا۔ ' یہ ریڈیو پاکستان ہے۔'
اسی روز عالمی نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان کے نام سے ابھرا تھا۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی بے لوث قیادت میں اپنے لئے ایک الگ ملک حاصل کیا تھا۔ چٹا گانگ سے ڈھاکہ تک۔ لاہور سے طورخم تک رہنے والوں کو آزادی جیسی عظیم نعمت ملی تھی۔ ایک طرف ہم نے غیر ملکی استعمار برطانوی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ دوسری طرف ہم نے ہندو غلبے سے بھی نجات پائی تھی۔
حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے 30اکتوبر 1947کو یونیورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
'' ہم نے اپنی منزل مقصود 'آزادی' پالی ہے۔ اور ایک آزاد خود مختار دنیا کی پانچویں بڑی مملکت پاکستان قائم ہوچکی ہے۔ اس بر صغیر میں رُونما ہونے والے حالیہ اندوہناک واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی قوم ابتلا اور ایثار کے بغیر آزادی حاصل نہیں کرسکتی۔ ہم بے مثال دشواریوں اور ناگفتہ بہ مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم خوف اور اذیت کے تاریک ایّام سے ہوکر گزرے ہیں۔لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ حوصلے خودمختاری اور اللہ کی تائید سے کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔''
اس تقریر میں وہ شہریوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہتے ہیں:
'' میں یہ بات اپنے ملک کے ہر شہری بالخصوص اپنے نوجوانوں کوذہن نشین کروادینا چاہتا ہوں کہ وہ دوسروں کی رہنمائی کرنے کے لئے لگن۔ حوصلے اور استقلال کے صحیح جذبے کا اظہار کریں اور آنے والی نسلوں کے لئے اعلیٰ و ارفع مثال قائم کردیں۔ یاد رکھئے قانون کا نفاذ اور امن کی بحالی ترقی کے لوازمات میں سے ہیں۔
اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہر مسلمان کا فرض عین ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کی حفاظت کرے اور بلا لحاظ ذات پات اور عقیدہ اقلیتوں کو تحفظ دے۔''
12اپریل 1948 کو اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان نے بہت ہی واضح انداز میں آزادی کے بعد شہریوں کی ذمہ داریاں بیان کیں۔ انہوں نے کہا:
'' آپ کے کرنے کا پہلا کام اس شعور کا حصول ہے کہ آج جو مسائل درپیش ہیں۔ انہیں حل کرنے اور اپنی آزادی کی جدو جہد کے دوران جن مسائل کا ہمیں سامنا تھا اس سے نمٹنے کے انداز میں کیا فرق ہونا چاہئے۔ حصول پاکستان کی جدو جہد کے دوران ہم جس حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے وہ غیر ملکی حکومت تھی۔ جس کی جگہ ہم اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ سب کچھ کرنے کے لئے ہمیں بہت سی چیزوں کی قربانی دینا پڑی۔ جن میںہماری نوجوان نسل کی تعلیم بھی ہے۔ اب مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آپ نے اپنا کردار شاندار طریقے سے ادا کردیا ہے۔ آپ نے اپنی منزل حاصل کرلی ہے ۔ اب آپ کی اپنی حکومت ہے اور آپ کا اپنا ملک ہے۔ جس میں آپ آزاد انسانوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔ اب آپ کی ذمہ داریوں اور سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کا اسلوب بھی بدل جانا چاہئے۔ اب آپ کے فرائض کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو نظم و ضبط کا پختہ شعور۔ کردار۔ آگے بڑھنے کا جذبہ اور ٹھوس تعلیمی بنیاد مہیا ہوجائے۔ آپ اطاعت شعاری سیکھئے۔ کیونکہ اسی صورت میں آپ حکم دینا سیکھ سکتے ہیں، حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آپ کو تعمیری انداز اختیار کرنا چاہئے… یاد رکھئے کہ آپ کی حکومت آپ کے گلشن کی مانند ہے۔ جس طریقے سے آپ اس کی نگہداشت کریں گے اور جتنی کوششیں آپ اس کی نشوونما پر صرف کریں گے۔ اتنا ہی آپ کا گلشن پھلے پھولے گا۔''
بابائے قوم نے اپنی ہر تقریر میں وہ اصول صراحت سے بتانے کی کوشش کی ہے جو ایک آزاد مملکت کے حکمرانوں، اپوزیشن، شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں کو جینے کی بنیاد بنالینے چاہئیں۔
میں تو جدو جہد آزادی کو عشق اور آزاد ملک کے حصول کو شادی کے بندھن سے مثال دیتارہا ہوں۔ عشق میں جس طرح ہر وحشت ہر جارحیت جائز ہوتی ہے اسی طرح جنگ آزادی کے دوران بھی جنون کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن جب عاشق معشوق شادی کرلیتے ہیں تو انہیں گھر چلانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے نظم و ضبط۔ ایک لائحہ عمل کی تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ ورنہ گھر نہیں چلتا۔ اسی طرح جب آپ نے آزادی کی منزل پالی۔ تو ملک چلانا آپ کی ذمہ داری بن جاتا ہے پھر آپ کو ایک مہذب، متمدن، ریاست کے فرد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوتی ہے۔
سب سے پہلی بنیاد تو ہر شہری اپنے آپ کو اہم اور ناگزیر خیال کرے۔ اپنی قدر جانے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ
یہ تو مفکر پاکستان علامہ اقبال کا کہنا تھا۔ ایک اور شاعر کا مصرع مجھے یاد آرہا ہے۔
جو ذرّہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
جس طرح فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں۔ اسی طرح ملّت افراد کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ایک آزاد اور خود مختار مملکت اور فرد کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے۔ جسے اب آئین کا عنوان دیا گیا ہے۔ پاکستان میں 1973کا آئین متفقہ طور پر منظور شدہ آئین ہے۔ یہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے۔ آزادی کے بعد اوّلین فرض تو یہ ہے کہ ہر شہری آئین کو طاقت دے اور اس کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔ ایک آئین یادستور ہی اس قوم کی وحدتوں کو ایک رشتے میں جوڑتا ہے۔ اور ہر ادارے کی حدود اور اختیارات کا تعین کرتا ہے۔ اس کے بعد ہر شہری کو اپنے حقوق اور اختیارات سے بھی آگاہ ہونا چاہئے۔ ایک معاشرہ مہذب اور متمدن اس وقت کہلاتا ہے جب اس کے ہاں امن و امان ہو، قانون کی حکمرانی ہو، دوسروںکے حقوق،عقائد اور رائے کا احترام کیا جائے، تحمل ہو، برداشت ہو، کسی شہری کے کسی عمل سے دوسرے شہری کو ایذاء  نہ پہنچے۔
ملک کی آزادی ایک شہری کو جسمانی آزادی تو بخشتی ہے لیکن اپنے برتائو اور تعلیم سے اس شہری کو ذہنی آزادی، معاشی آزادی، سماجی آزادی علمی آزادی اور زرعی اور صنعتی آزادی حاصل کرنی ہوتی ہے ۔ پھر ان سب کی حفاظت بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ آزادی کا تصوّر ذمہ داریوں کے تعین کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔ ہمیںاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہماری سونا اگلتی زمینوں اور زراعت کے شعبے نے ہی ہمیں بڑے بڑے بحرانوں جنگوں اور المیوں میں تباہی و بربادی سے بچایا ہے۔
وہی قومیں زندگی کو آسان بناتی ہیں جہاں رائج الوقت قوانین کی پابندی کی جاتی ہے۔ قانون چھوٹا ہو یا بڑا، معمولی ہے یا غیر معمولی، اس پر عملدرآمد ہی معاشرے میں امن و امان کی ضمانت ہوتا ہے۔ سرخ بتی پر ٹریفک رکنا انتہائی عام سی بات ہے۔ اسے توڑنے کو جرم بھی نہیں سمجھا جاتا۔ بہت سے موٹر سائیکل اور گاڑیاں اشارہ بند ہونے کے باوجود نکلنے میں شان سمجھتے ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کے رجحان کا آغاز اسی لاپروائی سے ہوتا ہے۔ یہیں سے پھر بتدریج قانون شکنی کی عادت پڑتی ہے۔ ایک ذمہ دار شہری وہ ہوتا ہے جو دوسروں کی دیکھا دیکھی قانون توڑنے میں شامل نہ ہو۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ہم نے دیکھا ہے آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ سڑک پر کوئی پولیس والا ہو یا نہ ہو۔ رات کے دو بھی بجے ہوں۔ زرد لکیر پر ہر گاڑی ایک منٹ ضرور رکتی ہے۔ اسی طرح دفاتر، بینکوں، ریستورانوں اور دوسرے عوامی مقامات پر قطار میں کھڑے ہونا ایک عادت بن چکا ہے۔ جو ہمارے ہاں ابھی تک ناپید ہے۔ قطار میں باری آنے میں کتنی دیر ہوجائے کوئی بڑبڑاتا یا آگے گھسنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔
عالمگیر وبا کورونا نے شہریوں کو مجبوراً ذمہ دار قوم بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں سماجی فاصلے اور دوسری پابندیوں پر عمل کیا گیا ہے۔ قانون کے نفاذ کا یہ رجحان جاری رہنا چاہئے۔ یہ بھی ہم برسوں سے دیکھتے آئے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں احتجاج کررہی ہیں یا مزدور، طلبہ یاکوئی اور شعبہ۔ ہم اپنی ہی املاک اپنے ہم وطنوں کی گاڑیوں کو یا پبلک بسوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ آگ لگادیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ ہمارا اپنا نقصان ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے ان پیسوں سے خریدا جاتا ہے جو ہم ٹیکسوں محصولات کی مد میں اپنی مملکت کو دیتے ہیں۔ جب بجلی کے بلب، کھمبے یا دوسری قیمتی چیزیں متبادل صورت میں لائی جائیں گی وہ پیسہ بھی ہم ادا کریں گے۔
مہذب ملکوں میں احتجاجی ریلیوں، دھرنوں کے لئے الگ مقامات مختص کئے گئے ہیں۔ ان میں بھی مظاہرہ کرنے کے لئے اجازت لی جاتی ہے۔ شہری انتظامیہ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم اتنی تعداد میں اتنے بجے سے اتنے بجے تک مظاہرہ کریں گے۔ انتظامیہ اور احتجاجیوں دونوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کے معمولات میں خلل نہ پڑے۔ پبلک ٹرانسپورٹ متاثر نہ ہو۔کام پر جاتے یا کام سے گھر آتے ہم وطنوں کو دیر نہ ہو۔ ہمارے ہاں احتجاجی مظاہرین ٹریفک جام کرنے، لوگوں کو گھر پہنچنے میں کئی کئی گھنٹے لگنے کو ہم اپنا فخر سمجھتے ہیں۔
ایک چینی کہاوت ہے:
'' دنیا کو ٹھیک کرنے کے لئے اپنے ملک کو ٹھیک کرنا ہوگا۔
اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں اپنے محلّے کو ٹھیک کرنا ہوگا
اپنے محلّے کو ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں اپنے گھرانے کو ٹھیک کرنا ہوگا
اپنے گھرانے کو ٹھیک کرنے کے لئے ہمیں اپنی ذاتی زندگی کو ٹھیک کرنا ہوگا
پہلے اپنے آپ کو اصولوں اور قواعد و ضوابط کا عادی بنانا ہوگا۔''
یہ درجہ بندی ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ مقامی حکومتیں اپنے مالی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ موجود ہوں۔ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے امور میں مداخلت نہ کریں۔ اسی طرح وفاقی یا مرکزی حکومت صوبائی امور میں دخل اندازی نہ کرے۔
جب یہ تین سطحی حکومتی نظام قائم ہوگا تو ہم ہر شہری سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ وہ وفاقی صوبائی اور مقامی حکومتوں کے قوانین پر عملدرآمد کرے۔ ان کے ٹیکس ادا کرے۔ ان کے نظام کو اپنے کسی اقدام سے متاثر نہ کرے۔
بعض ماہرین تو یہ تک کہتے ہیں کہ ہر شہری کو اپنا ایک منشور ترتیب دینا چاہئے۔ ہر شخص اس زمین پر اللہ کے نائب کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسے اپنا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔ اس لائحہ عمل پر وہ جتنا تنہا عمل کرسکتا ہے وہ کرے۔ اجتماعی عملدرآمد کے لئے اسے ملک کے جمہوری عمل میں بھرپور حصّہ لینا چاہئے۔
ہمارے پیغمبر آخر الزماںۖ کا فرمان ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ صفائی کے اس اصول اور ذمہ داری کو نہ بڑے شہروں میں صحیح طور پر اپنایا جارہا ہے نہ ہی قصبوں اور دیہات میں۔ اس کوڑے کرکٹ اور کچرے سے بے شُمار بیماریاں بھی لاحق ہورہی ہیں۔ کئی پارکوںمیں بازاروں میں بڑے کچرا دان بھی رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ہم میں سے اکثر کچرے کو کچرا دان میں پھینکنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ صبح صبح جب آپ بھی اگر گلی میں سڑک پر یا پارک میں سیر کے لئے جاتے ہیں تو مکانوں۔ ہوٹلوں اور ریڑھیوں کی پھینکی ہوئی تھیلیاں، فضلہ، کچرا سڑک پر بکھرا ہوا دیکھتے ہیں۔ کوڑے دان خالی ہوتے ہیں۔ فٹ پاتھ کوڑے سے بھرے ہوئے۔
ہم میں سے اکثر اپنا گھر تو بہت صاف ستھرا۔ چمکتا دمکتا رکھتے ہیں۔ لیکن گھر کے عین سامنے کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانا حکومت کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
گلی محلّے میں پہلے آپس میں بہت مفاہمت اور سمجھداری ہوتی تھی۔ مل جل کر گلی اور محلّے میں صفائی اور امن رکھا جاتا تھا۔ ریٹائرڈ بزرگ خاص طور پر محلّے داری کا خیال رکھتے تھے۔ محلّے کے جوان ان کی بات مانتے تھے۔ ان کا احترام کرتے تھے۔ مگر اب نفسا نفسی میں یہ سب کچھ فراموش کردیا گیا ہے۔
اللہ کی عنایت بے پایاں ہے کہ ہم ایک ایسی آزاد عظیم مملکت کے آزاد شہری ہیں جسے قدرت نے بہت ہی حساس محل وقوع بخشا ہے۔ پھر پورے ملک میں ہر قسم کے موسم سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس سمندر بھی ہے، دریا بھی، خشک پہاڑ بھی، سر سبز کوہسار بھی، میدان، ریگ زار کس کس نعمت کو ہم فراموش کریں گے۔ پھر ہماری 60فیصد آبادی جوان ہے۔ معدنی ذخائر بھی بہت ہیں۔ ہماری تہذیبیں آٹھ ہزار برس پرانی بھی ہیں۔ پانچ ہزار سال قدیم بھی۔ اس سارے تہذیبی، ثقافتی ادبی ورثے کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اپنے اپنے مذہبی شعائر، پیغمبران کرام، صحابہ کرام، اماموں کا احترام بھی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اپنی تحریر، تقریر یا عام گفتگو میں ایسا لہجہ، ایسا بیان اور ایسا رویہ نہیں ہونا چاہئے جس سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہو۔  تحمل برداشت بھی شہری ذمہ داری ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر آزاد شہری اپنے آپ سے یہ سوال کرے:
کہ اچھا شہری ہونے کا کیا مطلب ہے؟
ایک اچھا شہری کیسے بنا جاسکتا ہے؟
کیا میں اچھا شہری ہوں؟
ہم میں سے بہت لوگ ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے رہتے ہیں۔ وہاں کس طرح زندگی کی آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ کس طرح ایک دوسرے کی سہولت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہیں۔ انہوں نے اپنے معاشرے کتنے پُر امن اور پُر سکون بنائے ہیں۔
کینیڈا میں اکثر جانا ہوتا ہے۔ زندگی کے بہترین معیار اور عمدگی میں کینیڈا اور جاپان کا آپس میں مقابلہ رہتا ہے۔ کینیڈا میں انسانوں کے لئے آسانیاں دیکھ کر میں نے اپنے محسوسات اشعار میں ڈھالے اور اپنے ہم وطنوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے کہا۔
جو ضروری ہے۔ وہ ہم خود ہی مکمل کرلیں
بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں ہم لوگ
آگے بڑھتی ہوئی قوموں میں ہُنر جو دیکھیں
لوٹ کر اہل وطن کو بھی سکھائیں ہم لوگ
یہاں چہروں میں نہیں حسن ہے کردار میں بھی
عارض و لب کے ہی قصے نہ سنائیں ہم لوگ
یہ ترقی یہ سکوں لائے ہیں انساں ہی یہاں
شہر اپنے بھی نہ کیوں ایسے بنائیں ہم لوگ
یہ زمیں خود تو وسائل نہیں اگلے گی کبھی
ہے جو شیریں کی طلب تیشہ اٹھائیں ہم لوگ
آخر میں یہی عرض کروں گا کہ آزادی ذمہ داری سے ہی دوام پاتی ہے۔آزادی کے حصول کے لئے جدو جہد اور قربانیاں ناگزیر ہیں۔ آزادی کے تحفظ کے لئے اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پابندی کریں۔ بہترین آزاد شہری وہی ہے جو اپنے حقوق سے بھی آگاہ ہو اور اپنے فرائض سے بھی۔ جہاں حقوق حاصل کرنے کے لئے سرگرم ہو وہاں اپنے فرائض بھی پوری یکسوئی سے انجام دیتا ہو۔ مختلف آزاد ممالک میں شہری ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ شہری ان کو نبھاکر اپنے معاشرے کو بہت مامون محفوظ اور پُر سکون بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں عام طور پر یہ ذمہ داریاں ترجیحات میں شامل ہیں۔
1۔ آئین کا تحفظ اور عملداری۔
2۔ معاشرے پر اثر انداز ہونے والے امور سے باخبری۔
3۔ ملک کے جمہوری عمل میں شرکت۔ ووٹ باقاعدگی سے ڈالنا۔
4۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی قوانین کا احترام۔
5۔ اپنی تہذیبی، ثقافتی ادبی میراث کا تحفظ
6۔اپنے احتساب کے لئے ہر لمحہ تیار۔
7۔اپنی تاریخ سے اپنی صدیوں سے آگاہی۔
8۔اپنے قومی ترانے کو ازبر یاد رکھنا۔
9۔اپنے قومی پرچم کو سر بلند رکھنا۔
10۔محلّے گلی اور شہر میں صفائی کا اہتمام۔
11۔اپنے ملک کی سیر کرنا، مختلف علاقوں کے عوام کی معاشرت کا مشاہدہ۔
12۔اپنے کھلاڑیوں فنکاروں کی حوصلہ افزائی۔
13۔ملک کے اداروں، عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا 
     احترام۔
14۔دوسروں کے حقوق، عقائد، مسالک اور رائے کا احترام۔
15۔اپنے محلّے اور علاقے کی سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت۔
16۔انکم ٹیکس، دوسرے محصولات ، بجلی پانی گیس کے بلوں کی بروقت 
       ادائیگی
17۔تھانہ کچہری سے بچنے کے لئے تحمل، برداشت، جھگڑوں سے گریز۔
18۔اپنے ملک کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا-
19۔اپنے حقوق کے حصول کے لئے دوسرے شہریوں سے مشاورت اور عملی اقدامات-
20۔ریاست سے شہریوں کے لئے انصاف اور روزگار کے حصول کے لئے پُر امن جدو جہد۔
ہمارا دین اسلام بھی بار بار ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی خاتم النبیین حضرت محمد ۖ کا اسوۂ حسنہ بھی یہی ہے کہ ہم دوسروں سے مہربانی سے پیش آئیں۔ لین دین میں ایمانداری، دیانت برتیں اور بلند اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
آزادی اللہ کی طرف سے عنایت کردہ بڑی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرکے ہی کرسکتے ہیں۔


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ کار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 306مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP