قومی و بین الاقوامی ایشوز

پولیو فری پاکستان

(پاکستان کو پولیو فری بنانے کی مہم میں پاک آرمی کی خدمات کاایک جائزہ)

پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان، ملکی سالمیت کے حوالے سے ''یک جان دو قالب'' کی مثال ہیں۔ جب بھی ملک خطرات سے دوچار ہوا، افواجِ پاکستان نے آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کیں۔ ملکی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہمیشہ پاک فوج کا اولین فریضہ رہا ہے اور اس سلسلے میں افسران اور جوانوں کی قربانیاں اس کا عملی ثبوت ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دشموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے علاوہ جب کبھی قوم نے سیلابی صورت حال اور زلزلوں جیسی ناگہانی و قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لئے آوازدی تو فوج کے سپاہی سے لے کر جرنیل تک ہر کسی نے لبیک کہا ہے۔ لہٰذا جب مارچ2013میں پاکستان کی سرزمین سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے یونائیٹڈعرب امارات کے کرائون پرنس عزت مآب شیخ محمد نے اپنی خدمات پیش کیں تو وزیرِاعظم پاکستان نے منسٹری آف ہیلتھ سروسز کے ذریعے پولیومہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خاطر یہ ذمہ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کے سپرد کردی کیونکہ مہم کے ڈونرز اچھی طرح سمجھتے تھے کہ پولیو مہم کی منصوبہ بندی، پولیو ورکز کی حفاظت اور فنڈز کے حساب کتاب کے لئے آرمی کا ادارہ زیادہ قابلِ اعتمادہے اور نیک نامی رکھتا ہے  ملٹری آف آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، جی ایچ کیو، نے منسٹری آف ہیلتھ کی گزارش اور آرمی چیف کی ہدایت کے مطابق پولیو مہم کو کامیاب بنانے کا آزمائشوں سے بھرپور صبر آزما کام، انجینئر اِن چیف برانچ کے سپرد کردیاگیا۔اس طرح 28 مئی 2014 کو پہلی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر یونائیٹڈ عرب امارات سربراہ پولیومہم اور انجینئر اِن چیف (E-in-C) برانچ نے دستخط کئے اور ہر سال اس معاہدے کی تجدید کرلی جاتی ہے۔



پاک آرمی کس طرح قومی پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کررہی ہے ، اس حقیقت کو کچھ اس طرح سمجھاجاسکتا ہے کہ پاکستان میں پولیو مہم چلانے کے لئے وزارتِ صحت کے تحت ایک ادارہ کام کررہا ہے جسے نیشنل ایمر جنسی آپریشن سنٹر (NEOC) کہتے ہیں جس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے، جہاں حکومتِ پاکستان کے نمائندے، تمام عوامی ماہرینِ صحت، ڈبلیو ایچ او (WHO) ، یونیسیف (UNICEF) ڈونر پارٹنرز کے نمائندے اور پولیو مہم سے وابستہ دیگر ادارے ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر کام کرتے ہیں، بالکل اسی طرح صوبائی ہیڈکوارٹرز بھی کام کررہے ہیں۔جنہیں صوبائی ایمر جنسی آپریشن کوارٹرز (PEOQ) کہا جاتا ہے ایسا ہی متوازی انتظام آزاد کشمیر  اور گلگت بلتستان میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں8-6 ہفتوں میں ایک مرتبہ ضرور، پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں جن کی تعداد اوسطاً40 ملین ہوتی ہے اور یہ کام ماہر، تعلیم یافتہ ، تربیت یافتہ پولیو ورکرز جن کی تعداد 2,70,000 کے قریب ہے انجام دیتے ہیں۔ کئی مقامات پر یہ کام موبائل ٹیموں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ان پولیو ورکز کی حفاظت کے لئے 2,00,000سکیورٹی کا عملہ تعینات کیا جاتا ہے۔ پاک آرمی صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان جہاں پولیو  ٹیموں پر فائرنگ اور خود کش حملوں کے امکانات ہوتے ہیں انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے اور عملی طور پر علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی افراد لگا کر، حفاظت کی ذمہ داری سرانجام دیتی ہے جو سکیورٹی عملہ ٹیموں کے ساتھ ہوتا ہے جس میں حسبِ ضرورت پولیس، رینجرز اور ایف سی کے لوگ ہوتے ہیں وہ علیحدہ ہیں اس طرح پاک آرمی ہر 8-6 ہفتوں میں کم از کم ایک مرتبہ4,70,000 افراد کی مالی مراعات اور جان کی حفاظت کا انتظام کرتی ہے اور اگر انتظامات سال میں 6مرتبہ کئے جائیں تو ان کا حجم چھ گنا ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے پاک آرمی نے اپنے ذیلی دفاتر کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں قائم کئے ہوئے ہیں۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک آرمی کی آپریشنل ضروریات و تربیت کے ساتھ ساتھ قومی اہمیت کے تمام پراجیکٹس میں جب جب قوم کو ضرورت پڑی، پاکستان آرمی نے خدمات پیش کرنے میں کبھی تامل نہیں کیا۔ قومی پولیو مہم میں پاکستان آرمی کی خدمات اسی جذبے کا تسلسل ہیں۔قومی پولیو مہم کی پیش رفت سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی اور کامیابی کے لئے فوری اقدامات کرنا ہمیشہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہتاہے۔23 ستمبر2020 کو آپ نے سرسبز و شاداب پاکستان کی تقریب کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ۔ اس شاندار تقریب کا اہتمام انجینئر اِن چیف برانچ نے اسلام آباد، لاہور موٹر وے کے ٹھلیاں انٹر چینج پر کیاگیاتھاتاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پولیو مہم کی آگاہی ہوسکے اور ساتھ ہی آپ نے تمام والدین سے اپیل کی کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ہر سال پولیو مہم میں ضرور پلائیں تاکہ اُن کا بچہ پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رہے۔
سب والدین کے ہے لبوں پر یہی دُعا
محتاج ہو نہ کوئی اپاہج ہو، اے خدا
پورے پاکستان میں ہر سال تقریباً280- 240 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا، ان کی پولیو ویکسین کی خریدای کا حساب چکانا اور ہر ماہ تقریباً 4,70,000پولیو ورکرز اور سکیورٹی عملے کی مالی مراعات اور الائونسز وغیرہ کے حساب کتاب کا ریکارڈاس طرح مکمل کرنا کہ کوئی بھی اُس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرسکے، پاک آرمی کے فرائض میں شامل ہے۔ حکومتِ پاکستان مالی طور پر خود بھی پولیو مہم کی مالی معاونت کرتی ہے مگر یہ اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ ڈونر، پارٹنرز کی مدد ناگزیر ہے۔ پولیو مہم کے بڑے ڈونرز میں ڈبلیو ایچ او (WHO) یونیسیف (UNICEF) روٹری انٹر نیشنل، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن، اسلامی ڈویلپمنٹ بینک، جاپان انٹر نیشنل ایڈ ایجنسی ، یو ایس ایڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یو اے ای، امریکہ جرمنی کینیڈا آسٹریلیا اور جاپان کی حکومتیں بھی مالی مدد فراہم کرتی ہیں۔ کووڈ19- کی وجہ سے پولیو مہم میں عارضی تعطل آیا تھا۔ مگر اب دوبارہ پولیو مہم پورے زور شور اور جوش و جذبے سے جاری ہے۔ جس میں پاک آرمی کا کلیدی کردار پوری قوم کے سامنے ہے۔انٹر نیشنل ڈونرز اور پاک آرمی کے اعلیٰ پائے کے انتظامات کی وجہ سے پولیو کیسزتیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔2019 میں پولیو کیسز کم ہو کر147،2020 میں84 اور 2021 میں صرف ایک کیس رہ گیا ہے جو صوبہ بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداﷲ سے سامنے آیا ہے۔ اُمید ہے کہ 2022 کے آخر تک پاکستان کی وزارتِ صحت اورپاک آرمی پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں کامیاب ہو جائیںگے اور اگر اُس کے بعد مزید دوسال تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آتا تو سمجھا جائے گا کہ پاکستان پولیو سے پاک ہوگیا ہے۔
 امسال انسدادپولیو مہم میںمارچ2021تک چار کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں، تمام پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی کے افراد ہمارے ہیرو ہیں۔ جس کا اعتراف ہیلتھ کوارڈی نیٹر قومی ایمر جنسی آپریشنز سینئر ڈاکٹر شہزاد آصف بیگ نے بھی کیاہے اور ساتھ ہی انہوں نے پولیو مہم میں پاک فوج کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔2012 سے لے کر 2021 تک پولیو ورکرز اور اُن کی سکیورٹی پر تعینات سکیورٹی عملے کے 70لوگ قربانیاں دے چکے ہیں۔ یہ سب کے سب پولیو ورکرز، رینجرز، ایف سی یا پھر پولیس سے تعلق رکھنے والے وہ ہیرو ہیں جن کی خدمات کا اعتراف اس طرح نہیں ہو سکا جیسے ہونا چاہئے تھا۔ نہ اُن کو اس طرح سے سراہا گیا جیسے سراہنا چاہئے تھا لیکن وہ وقت جلد آنے والا ہے جب قوم کا ہر فرد اُن کے کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کو سلام کررہا ہوگا۔ اس کا اعتراف آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور مسٹر بل گیٹس نے اپنی حالیہ گفتگو میںکیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق27 مئی2021 کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اوربل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں پاکستان کے کرونا سے نمٹنے کے لئے اقدامات اور انسدادِ پولیو مہم کی بحالی پر بات چیت ہوئی۔ بل گیٹس نے انسدادِ پولیو مہم میں مقامی قائدین اور بااثر شخصیات کے ذریعے پولیو مہم کو موثر بنانے کے لئے پاک فوج کے تعاون کی تعریف کی۔ دوران گفتگو آرمی چیف نے برملا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ '' انسدادِ پولیو مہم ایک قومی فریضہ اور کوشش ہے اور اس پولیو مہم کو حتمی طور پر اُس وقت کامیاب سمجھا جائے گا جب پاکستان کا کوئی بچہ بھی پولیو سے متاثر نہیں ہوگا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پولیومہم کی کامیابی کا سہرا نچلی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں، پولیو موبائل ٹیموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اورطبی عملی کے سر جاتاہے۔ بل گیٹس نے کرونا کی روک تھام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور وباکے باوجود پولیو مہم کے لئے کئے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ آرمی چیف اور بل گیٹس نے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لئے اور تمام بچوں کی صحت کے لئے مل کرکام جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ہمیں بھی چاہئے کہ ان پولیو خدمت گزاروںاور ان کی حفاظت کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ 
جو خزاں سے چمن کو بچاتے رہے 
اوس قطرے گلوں کو پلاتے رہے
مقتلوں کو لہو سے سجاتے رہے
جگنوئوں کی طرح جگماتے رہے
لب پہ بچوں کے قوس ِ قزح سج گئی
عارضِ گل پہ مہکی خوشی کی ہنسی ||
 

یہ تحریر 128مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP