متفرقات

الشفا آئی ٹرسٹ۔۔۔ قوم کے لئے ایک تحفہ

راولپنڈی کے الشفا آئی ٹرسٹ کی بنیاد ایک بہت ہی دلچسپ مکالمے پر رکھی گئی تھی۔ یہ 17اپریل 1984کے تھوڑا بعد کی بات ہے جب جنرل جہانداد خان سندھ کے گورنر تھے۔ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیأالحق کراچی گئے تو رات کے کھانے پر جب کوئی تیسرا نہیں تھا جنرل جہانداد خان نے ضیأالحق سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس اچانک سوال پر جنرل ضیأالحق حیران ہوئے اور کوئی جواب نہ دے پائے لیکن تھوڑے سے توقف کے بعد جنرل ضیأالحق نے جہانداد خان سے پوچھا۔ آپ نے کیا سوچ رکھا ہے؟ وہ بولے۔ میرا ارادہ ایک فلاحی ٹرسٹ قائم کرنے کا ہے۔ جو امراض چشم کے علاج معالجہ کی تدابیر کرے گا۔ اس سلسلے میں راولپنڈی میں عالمی معیار کا ایک ہسپتال سب سے پہلے قائم کیا جائے گا۔ کیا خیال ہے؟ آپ اپنی نجی حیثیت میں اس کارخیر کے لئے بورڈ آف ٹرسٹی میں شامل ہوں گے؟ جنرل ضیأالحق نے فوراً حامی بھر لی اور کہا کہ میں اور میری بیگم ہم دونوں ٹرسٹ میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ راولپنڈی میں کسی مناسب جگہ پر سرکاری زمین کا اہتمام بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ ضیأالحق نے حکومت کی طرف سے پندرہ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا۔
جنرل جہانداد خان نے فوج سے ریٹائرمنٹ پر پنشن کی۔
Commutation 
پر جو رقم ملی تھی وہ دس لاکھ روپے بھی اپنی طرف سے الشفاء ٹرسٹ میں دے دیئے۔ اسی اثنا میں، یہ 23مارچ 1985 کی بات ہے کہ، کراچی گورنر ہاؤس میں سیٹھ داؤد سے جب جنرل جہانداد نے بات کی تو انہوں نے بخوشی 15لاکھ روپے ٹرسٹ کو دے دیئے۔ یہ ان کی طرف سے پہلی قسط تھی۔ اس طرح ٹرسٹ کے اراکین کا پہلا اجلاس 20جون 1985کو ایوان صدر میں ہوا اس اجلاس میں متفقہ طور پر جنرل جہانداد خان کو ٹرسٹ کا صدر اور صدر پاکستان جنرل محمد ضیأالحق کو ٹرسٹ کا سرپرست اعلیٰ اور آئندہ کے لئے ٹرسٹ کے آئین میں شامل کر لیا گیا کہ جو کوئی بھی پاکستان کا صدر ہو گا وہ الشفاء آئی ٹرسٹ کا سرپرست اعلیٰ بھی ہو گا۔ ٹرسٹ کے پہلے اجلاس میں 6نکات پر اتفاق ہوا تھا جو اس کے اغراض و مقاصد ٹھہرے۔ جن میں نابینا پن کے خاتمے اور امراض چشم کے علاج کے لئے غرباء اور مستحقین کو علاج کی مفت سہولیات مہیا کرنا، ٹرسٹ نہ منافع کمائے گا اور نہ ہی سرکاری اور سیاسی نوعیت کا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں راولپنڈی میں 250بستروں کا ہسپتال قائم کرنا اور بعد میں سکھر، ڈی آئی خان اور خضدار میں اسی معیار کے تین ہسپتالوں کا قیام اور پھر اسی طرح ہر صوبے میں الشفاء کا ایک ہسپتال قائم کرنا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف آفتھلمالوجی (ادارہ بصریات) کا قیام تاکہ ضروری افرادی قوت کو فروغ حاصل ہو اور جامع تحقیق کی جا سکے۔ مزید برآں دیہی علاقوں میں مریضوں کو ان کے دروازے پر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کمیونٹی پروگرام مہیا کرنا۔ اس پہلی میٹنگ کی آخری شق جس پر اتفاق ہوا تھا وہ یہ تھی کہ ٹرسٹ کے انتظامی ڈھانچے کو ایسی ادارتی بنیاد پر بنایا جائے گا جہاں ہر ٹرسٹی صرف اہلیت کی بنیاد پر منتخب ہو گا اور صدر پاکستان عہدے کے لحاظ سے ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے۔

جنرل محمد ضیأالحق کے بعد الشفاء آئی ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان بنے تھے۔ الشفاء کی جب بلڈنگ تیار ہوئی اور ہسپتال نے باقاعدہ آغاز کیا تو 28اپریل 1991کو اس کا افتتاح بھی غلام اسحاق خان نے ہی کیا تھا۔
موجودہ صدر پاکستان جناب ممنون حسین ٹرسٹ کے آٹھویں سرپرست اعلیٰ ہیں۔ جبکہ ٹرسٹ کے بانی صدر جنرل محمد جہانداد خان کے بعد لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید(ر) الشفاء آئی ٹرسٹ کے صدر ہیں۔
18اگست 2016کو ورلڈ کالمسٹس کلب نادرن زون کے کالم نگاروں کا الشفاء آئی ٹرسٹ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر جنرل حامد جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی مصروفیات کے بارے سوچ و بچار کر رہا تھا اور کئی اداروں کی طرف سے پیشکش بھی تھیں۔ مگر دل چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں زندگی رشک کرے۔ انہی دنوں جنرل جہانداد خان کا فون آیا ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ میرے لئے اعزاز تھا میں خود ملنے جانا چاہتا تھا مگر انہوں نے روک دیا اور خود اگلے روز گھر آ گئے۔ مجھ سے کہا میں چاہتا ہوں آپ ہمیں جوائن کریں۔ میں دوسرے روز الشفاء پہنچا سوچ رہا تھا مجھے کہاں رکھیں گے کہ اتنے میں جنرل جہانداد نے مجھے اپنی کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا کہ آج سے آپ الشفاء آئی ٹرسٹ کے صدر ہوں گے۔ میں اب آرام کرنا چاہتا ہوں اور پھر اس جملے کے ساتھ ہی جنرل حامد جاوید کی آواز بھرا گئی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس لمحے اگر مجھ جیسا گارے کا بنا کوئی نحیف سا شخص ہوتا تو وہیں ڈھیر ہو جاتا۔ مگر جنرل حامد نے خود کو سنبھالا دیتے ہوئے جنرل جہانداد خان کے وجدان اور ادراک کے حوالے سے کہا کہ شاید جنرل جہانداد خان کو اپنے عدم سدھارنے کی خبر ہو گئی تھی۔ کیونکہ مجھے اپنا جانشین مقرر کرنے کے ایک ہفتے بعد وہ وفات پا گئے تھے۔

الشفاء آئی ٹرسٹ ہر سال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ جنوبی امریکہ کے آئی بینک سے معاہدے کے بعد ہر ماہ کم و بیش 120آئی ٹرانسپلانٹس ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جدید طرز کا ایسا ادارہ بڑی غنیمت ہے۔ ٹیم ورک اور ویلیوز کی پاسداری الشفاء کی پہچان ہے۔ روزانہ کم از کم 100آپریشن ہوتے ہیں۔ 80فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ مریضوں کو تین کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو روپیہ پیسہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، دوسرے وہ جو سفید پوش ہیں تھوڑا بہت دینے کی سکت رکھتے ہیں اور تیسری کیٹگری ان مریضوں کی ہے جو علاج معالجے کی ساری رقم دے سکتے ہیں البتہ کسی کیٹگری سے امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ بطور مریض سب سے ایک سا سلوک ہوتا ہے۔ جنوبی امریکہ سے عطیہ کی گئی آنکھ کا خرچ یعنی منگوانے کا کرایہ 600 ڈالر ہے جو الشفاء کو ہر حال میں دینا پڑتا ہے۔ اب تک الشفاء آئی ٹرسٹ لاکھوں لوگوں کو بینائی جیسی نعمت دے چکا ہے۔ پوری رقم ادا کر کے علاج کرانے والے مریضوں کی تعداد 5فیصد سے بھی کم ہے۔ایک دن میں جتنے مریض رجسٹر ہوتے ہیں ان سب کو اسی روز دیکھنا ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی صاحب حیثیت شخص لاکھ سوا لاکھ روپے خرچ کر کے آنکھیں جیسی نعمت حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لئے فائدہ ہی فائدہ ہے۔


الشفاء آئی ٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق 80فیصد نابینا لوگوں کا بروقت علاج کر کے ان کی بینائی بحال کی جا سکتی ہے۔ لیکن نامساعد حالات اور لاپروائی لوگوں کو بینائی سے محروم کر دیتی ہے۔ بسااوقات عدم آگاہی بھی مسائل کا باعث بن جاتی ہے۔ کئی مریض محض اس لئے آپریشن سے گھبراتے ہیں کہ مبادا جو تھوڑا بہت دکھائی پڑتا ہے کہیں اس سے بھی محروم نہ ہو ناپڑ جائے۔ اس سلسلے میں الشفاء کا شعبہ کلینیکل سائیکالوجی کے ماہرین تمام مراحل میں مریضوں کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے کسی مریض کی بینائی ہمیشہ کے لئے چلی جائے تو ایسے میں مریض کے لواحقین کو اعتماد میں لینا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ امر بھی کسی المیے سے کم نہیں ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کے علاج کی بجائے پیروں فقیروں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اس میں شک نہیں کہ الشفاء آئی ٹرسٹ میں آنکھوں کے علاج کے لئے ہر طرح کی سہولت موجود ہے مگر مستقل طور پر نابیناؤں کی تعلیم کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اور یہ صرف الشفاء کا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور ہمیشہ سے یہ شعبہ نظر انداز ہوتا آ رہا ہے۔ باقاعدہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے نابینا افراد معاشرے کا فعال حصہ نہیں بن پاتے۔ حالانکہ صلاحیتوں کے اعتبار سے بصارت سے محروم لوگ کسی طور بھی بینا افراد سے کم تر نہیں ہیں۔الشفاء آئی ٹرسٹ کے موجودہ صدر جنرل حامد جاوید جنہوں نے 42سال فوج میں خدمات انجام دیں اور اب نابیناؤں کی زندگیوں میں اپنی ٹیم کے ہمراہ روشنیاں بانٹنے میں دن رات مصروف ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ ملک بھر میں قائم الشفاء کے چاروں ہسپتالوں میں بچوں کے علاج کا بھی ایک شعبہ قائم کریں۔ اس سلسلے میں بچوں کی آنکھوں کے علاج کا پہلا شعبہ راولپنڈی الشفاء آئی ٹرسٹ میں قائم کر دیا گیا ہے جس کی عمارت کا سنگ بنیاد ٹرسٹ کے موجودہ سرپرست اعلیٰ اور صدر پاکستان ممنون حسین نے 6اپریل 2016کو رکھا ہے۔ جہاں بچوں کی آنکھوں کے تمام امراض کا علاج اعلیٰ ماہرین چشم کریں گے۔ مذکورہ ہسپتال دو سال کی مدت اور ایک ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ اس ہسپتال میں 25چلڈرن آئی سپیشلسٹ ڈاکٹرز روزانہ 500مریض بچوں کا معائنہ کیا کریں گے اور ہر روز 50 کے قریب آپریشن ہوا کریں گے۔ اس کے علاوہ الشفاء ٹرسٹ انتظامیہ کی یہ کوشش بھی ہے کہ چھوٹے بچوں کے لئے الگ سے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہو۔ وہاں ایسے بچوں کی بروقت تشخیص کر لی جائے اور فوراً انہیں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ پاکستان میں اندھے پن کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ بچوں کی آنکھوں کا علاج کرنے والے ماہرین چشم بہت ہی مشکل سے ملتے ہیں۔

 

الشفاء آئی ٹرسٹ نے نابینا پن کی روک تھام کے لئے ایک ایسا شعبہ بھی قائم کر رکھا ہے جو دیہاتوں اور دور افتادہ علاقوں میں جا کر مفت آئی کیمپ لگاتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے تعاون سے سکولوں اور کالجوں کے دورے کر کے بھی طلباء کی آنکھوں کے معائنے کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ الشفاء آئی ٹرسٹ نے تحقیقی سرگرمیوں کا ادارہ بھی قائم کر رکھاہے۔ جس میں نابینا پن کی روک تھام، امراض چشم سے بچاؤ، بچوں میں نابینا پن کی تشخیص اور علاج، بچپن میں پیدا ہونے والی آنکھوں کی تکالیف، بھینگا پن، حالا پھولا، پردہ چشم پر جراثیم کے حملے اور شوگر سے پیدا ہونے والے امراض شامل ہیں۔ ریسرچ کے اس شعبے نے 1998 میں کام کا آغاز کیا تھا اس شعبے کو 
Dr AQ Khan Rcsearch Centre 
کا نام دیا گیا ہے۔ اس ادارے کا برطانیہ کی 
Warwick University
سے الحاق کیا گیا تھا۔ اب تک اس ادارے سے کافی طلباء و طالبات ایم فل اور پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق الشفاء آئی ٹرسٹ کا شمار عالمی ادارہ صحت سے تعاون کرنے والے ان بہترین مراکز میں ہوتا ہے جن کی کارکردگی دوسروں کے لئے لائق تقلید ہے۔


الشفاء آئی ٹرسٹ کے اس وقت کے چار ہسپتال ملک میں کام کر رہے ہیں اور یہ چاروں ہسپتال ٹرسٹ کے بانی جنرل جہانداد خان نے اپنی زندگی میں مکمل کرا لئے تھے۔ راولپنڈی کا پہلا ہسپتال جس نے 28اپریل 1991سے کام شروع کیا تھا وہ پنجاب بھر اور راولپنڈی سے ملحقہ اضلاع کے لئے خدمات انجام دے رہا ہے۔ جبکہ سن 2000میں سکھر میں قائم ہونے والے الشفاء آئی ٹرسٹ سے اپرسندھ‘ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ الشفاء سیریل کا تیسرا ٹرسٹ جس نے 2005میں کوہاٹ میں کام کا آغاز کیا تھا وہ صوبہ خیبرپختونخوا، قبائلی علاقہ جات اور افغانستان تک کے عوام کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں ایک جائزے کے مطابق دو فیصد افراد نابینا پن کا شکار ہوتے ہیں۔ الشفاء آئی ٹرسٹ کے چوتھے ہسپتال نے مظفرآباد آزادکشمیر میں 2011سے کام کا آغاز کیا تھا جس کی خدمات کے دائرہ کار میں آزادجموں کشمیر کے علاوہ ہزارہ ڈویژن اور شمالی علاقہ جات کے لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ ٹرسٹ کے ہر ہسپتال کی زمین قریب قریب 40ایکٹر پر مشتمل ہے۔ راولپنڈی ٹرسٹ کے لئے جنرل ضیأالحق نے کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے 300کنال زمین عطیہ کی تھی۔ جس کے لئے اس دور کے ڈائریکٹر ملٹری لینڈ اور سیکرٹری دفاع جناب اجلال حیدر زیدی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ماہر تعمیرات کے حوالے سے محترمہ یاسمین لاری کا انتخاب ہوا تھا اور اس وقت کے افواج پاکستان کے کوارٹر ماسٹر جنرل، جنرل محمد اسلم شاہ کو تعمیراتی کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔الشفاء آئی ٹرسٹ کا انتظامی ڈھانچہ کسی ایک شخص کی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ باقاعدہ ایک مربوط نظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کے علاوہ پانچ ارکان پر مشتمل ایک مجلسِ انتظامیہ ہے جو روزمرہ کی کارکردگی کی نگرانی کرتی ہے۔ جن میں مالی امور، معیار ، طبی معاونت اور عملے کے انتخاب کے لئے علیحدہ علیحدہ نو کمیٹیاں ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں مہارت اور طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ مثلاً مالی کمیٹی کا پہلا صدر سعید احمد قریشی کو بنایا گیا تھا جو حکومت پاکستان کے سیکرٹری جنرل خزانہ بھی رہ چکے تھے۔


جنرل جہانداد خان سے اکثر ان کے دوست پوچھا کرتے تھے کہ آپ کے بعد الشفاء کا کیا بنے گا؟ تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ تمام انتظامی معاملات کو منظم کر دیا گیا ہے جس سے انحراف تقریباً ناممکن ہو گا۔ الشفاء کا محور نہ کوئی ایک شخص ہے نہ ایک خاندان اس کے تیرہ ٹرسٹی خلوص اور لگن سے سرشار ہیں۔ جنرل جہانداد خان نے الشفاء ٹرسٹ کے حوالے سے اپنے رفقاء کار، پاکستان کے عوام اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مالی تعاون کا کھلے بندوں اظہار کیا ہے۔ جنرل محمد ضیأالحق، غلام اسحاق خان، جنرل پرویز مشرف، میجر جنرل ایم رحیم خان، سعید احمد قریشی اور کئی دیگر رفقاء کا وہ اکثر ذکر کیا کرتے تھے۔ راولپنڈی الشفاء آئی ٹرسٹ کی تکمیل کے لئے 25کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ عطیہ اکٹھا کرنے کے لئے صدرالدین ہاشوانی کی سرکردگی میں ایک کمیٹی بنائی گئی اور یوں 1990تک 25کروڑ روپے کا ہدف پورا کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور عرب امارات تک جنرل جہانداد خان کو سفر کرنا پڑا۔ زکوٰۃ فنڈ بینکنگ کونسل کی رقوم سیٹھ داؤد، صدر الدین ہاشوانی اور حمید ڈی حبیب کے علاوہ فوجی فاؤنڈیشن اتفاق فاؤنڈری اور قومی زکوٰۃ کونسل کے بھرپور تعاون سے ضرورت کی رقم کا 25فیصد جمع ہوا۔ بقیہ 75فیصد رقم متوسط اور اس سے کم درجے کے لوگوں نے جمع کرائی۔ گھروں میں کام کرنے والی چکوال کی ایک ضعیف خاتون نے 31ہزار روپے کی وہ رقم بھی جنرل جہانداد خان کے حوالے کر دی جو اس نے 25برسوں میں حج کے لئے پائی پائی کر کے جمع کی تھی۔اس سلسلے میں اسی خاتون کا کہنا تھا کہ انسانیت کی خدمت حج سے بڑا عمل ہے۔ اسی طرح جنگِ عظیم دوم کے ایک سپاہی محمد دین نے اپنی تیس سالہ فوجی ملازمت کے دوران بچائے گئے 51ہزار روپے یہ کہہ کر جنرل جہانداد کو دے دیئے کہ مذکورہ ہسپتال میں اس کے نام کا ایک کمرہ بنا دیا جائے۔ اس طرح کئی اور لوگوں نے قومی بچت کے سرٹیفکیٹ، مکانات، زمینیں الشفاء آئی ٹرسٹ کے حولے کر دیئے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل جہانداد خان کی پنشن کے دس لاکھ روپے سے شروع ہونے والے الشفاء آئی ٹرسٹ کے اثاثے آج بیسیوں ارب سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔


راولپنڈی کے آئی ٹرسٹ میں سرسبزوشاداب ماحول، روشن در روشن اور قطار در قطار پھول دیکھ کر اسے پھولوں والا ہسپتال بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سارا کچھ جنرل جہانداد خان کے خوبصورت ذہن کی عکاسی ہے۔ جنرل صاحب جوں جوں فوج میں ترقی کرتے گئے ان کی فکر میں تبدیلی آتی گئی۔ وہ لیفٹیننٹ جنرل ہوئے راولپنڈی میں ٹن کور کمانڈر بنے پھر گورنر ہوئے تو انہیں خیال آیا کہ کوئی فلاحی ادارہ بنایا جائے۔سرگنگا رام ٹرسٹ، رحمت اﷲبینویلنٹ ٹرسٹ، عبدالستار ایدھی یا جب کبھی سڑک کے راستے لاہور جاتے تو گوجرانوالہ میں حاجی مراد ٹرسٹ کمپلیکس دیکھ کر اسی قسم کا کوئی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ پھر جب خیال میں پختگی اور ارادے میں مضبوطی آئی تو جنوری 1987 میں سندھ کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے بہت روکا مگر جہانداد خان نہ مانے حتیٰ کہ اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو بھی جہانداد خان کو گورنر شپ سے مستعفی ہونے سے روکتے رہے۔ مگر جہانداد خان فیصلہ کر چکے تھے۔ دوبارہ 1993میں معین الدین قریشی کے نگران دور میں بھی انہیں گورنر شپ کی آفر ہوئی وہ نہ مانے۔ جنرل نصیر اﷲ بابر پیغام لائے تھے۔ تیسری مرتبہ 1996 میں بھی سندھ کی گورنر شپ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل جہانداد خان نسلاً پٹھان تھے۔ کوہاٹ کے بنگش قبیلے سے ان کا تعلق تھا۔ ان کے اجداد نے کوہاٹ سے ضلع اٹک کے علاقے حضرو کے گاؤں ملہو میں ہجرت کی تھی جہاں جہانداد خان 24اکتوبر 1927 کو محمد آزاد خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد پشتو زبان و ادب کے عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم حضرو پھر گورنمنٹ کالج اٹک اور پشاور کے اسلامیہ کالج سے حاصل کرنے کے بعد 25جنوری 1950کو فوج کے محکمہ توپ خانے سے سیکنڈ لفٹین کے طور پر کمیشن حاصل کیا۔ آپ کے کورس میٹس میں جنرل فضل حق‘ جنرل نصیر اﷲ بابر اور میجر عزیز بھٹی نشان حیدر شامل تھے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا پہلا بیچ تھا۔


جنرل جہانداد خان جنہیں فوج کے دوست ’’جے کے‘‘ کہا کرتے تھے، نے 33سال فوج میں نوکری کے بعد بقیہ ساری عمر خلق خدا کی خدمت میں گزار دی۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حصول علم کا زمانہ راہ خدا میں گزارا اور فوج کا عرصہ وطن کے دفاع کی خدمت اور بقیہ عمر خلق خدا میں آنکھیں بانٹنے میں گزار دی۔ الغرض وہ سرتا پا خدمت ہی خدمت تھے۔ انہوں اپنے گاؤں ملہو میں مردوں اور عورتوں کے ہنر سیکھنے کے ادارے قائم کئے لڑکیوں کا کالج قائم کیا۔ مارگلہ سٹڈی گروپ کے نام سے ایک تھنک ٹینک بھی بنایا۔ 2003سے 2006تین سال تک پاکستان ہلال احمر کے چیئرمین بھی رہے۔ زلزلہ 2005میں انہوں نے مثالی خدمات انجام دیں۔ وہ شائستہ، ملنسار اور مسکراتی ہوئی شخصیت کے مالک تھے۔وہ گورنر امیر محمد خان کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے۔ جنرل جہانداد خان مفکر اور مصنف بھی تھے۔ انہوں نے بزبان انگریزی تین کتابیں تحریر کی تھیں جن میں 
Depart With Smile (1)
Pakistan Leadership Crisis (2)
Al Shifa: A Beacon Of Light (3)

وادئ چھچھ میں پیدا ہونے والے جہانداد خان خوبصورت زندگی کی نہایت کامیاب اننگز کھیل کر 84سال کی عمر میں 13فروری 2011کو اپنے اس عارضی سفر کی تکمیل کر گئے۔ وہ 11فروری 2011کو راولپنڈی الشفاء ٹرسٹ کی مسجد سائرہ میں جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلے پاؤں سلپ ہوا اور کسی سے کوئی خدمت کرائے یا کسی آزمائش میں ڈالے بغیر اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں عدم سدھار گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق راولپنڈی کے الشفاء ٹرسٹ میں مسجد سائرہ سے ملحقہ علاقے میں ہی ان کی تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی۔ ان کا ماٹو تھا۔ 
ہر آنکھ روشن رہے،زندگی مسکراتی رہے۔


جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 339مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP