یوم یکجہتی کشمیر

بھارت میں بالعموم اور مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص انسانی حقوق کی پامالیاں

بھارت والے کبھی خود پر کتنا فخر کرتے تھے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور وہ بھی سیکولر۔ ہمارے ہاں سب مذاہب کے ماننے والے محفوظ ہیں، اپنی اپنی عبادات کرسکتے ہیں، کسی کی عبادت گاہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ہمارے ہاں بھی مجھ سمیت کتنے لکھنے والے، شاعر، ادیب، صحافی بھارت میں آزادیٔ اظہار کے گن گاتے تھے اور بھارتی اہل قلم کے طنزیہ جملے برداشت کرلیتے تھے لیکن اب بھارت میں ہمارے دوست  شاعر، صحافی، دانشور،  مصنّف شرمسار  ہیں۔ آزادیٔ اظہار ، جمہوریت، تحمل اور رواداری کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے خفیف ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت میں فرد کی حیثیت کچلی جارہی ہے۔ خاص طور پر مذہبی اقلیتیں اور چھوٹی ذات کے ہندو سفاک اکثریت کی گروہ بندیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خود بھارت سے ایسی ایسی شرمناک وڈیوز  وصول ہوتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، دل کانپنے لگتا ہے۔ ایک طرف تو قائد اعظم کی بصیرت کو بے ساختہ خراج تحسین دل کی گہرائی سے ادا کرتے ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو ہم پاکستان آجانے والے اور پاکستان میں پہلے سے رہنے والوں کے لیے یہ قاتل اکثریت کیا کیا ظلم توڑ رہی ہوتی ۔ ہم بے شک آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں لیکن چھتیس گڑھ، بہار، کرناٹکا میں مسلمانوں  پرجس طرح ہجوم ہلاکت خیز تشدد کررہے ہیں، انسانیت رُسوا ہورہی ہے، اللہ نے ہمیں اس سے تو سلامت رکھا ہوا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر والے تو 1930سے اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا واحد خطّہ ہے جہاں ایک بڑی آبادی پر بھارت نے فوج کے ذریعے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور آزاد دنیا چشم پوشی کررہی ہے۔ اسلامی ممالک بھی خاموش ہیں۔ 5اگست 2019 سے تو مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے آئین میں ترمیم کرلی گئی ہے۔ اسے مرکز کے تحت زیر انتظام دو وحدتوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسلسل عالمی سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے مگر حقوق انسانی کے علمبردار، آزادیٔ اظہار کے پرچارک، جمہوریت کے چمپئن مغربی ممالک کی زبانیں گُنگ ہوگئی ہیں۔ مسلم ملکوں میں ذرا سی اونچ نیچ پر ان کی تنظیمیں شور مچانے لگتی ہیں۔ ان کے صحافی ان دارُالحکومتوں میں اترنے لگتے ہیں۔ مگر بھارت کے کونے کونے سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں کہ انڈیا ایک ارب سے زیادہ صارفین کی مارکیٹ ہے۔ یہاں مغربی مصنوعات ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں اور اس ملک کے حکمراں اسلام دشمنی میں مغرب سے بھی آگے ہیں۔
2014 سے دہلی میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) نے مسلسل صحافیوں، حقوق انسانی کے لیے متحرک رضا کاروں، طلبہ، اساتذہ اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے، مقدمات میں الجھانے، جیلوں میں  ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ (حقوق انسانی کی نگراں تنظیم) کی عالمی رپورٹ 2021 میں بڑی تفصیل سے ایسے اندوہناک واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ابتدائیہ میں بھی لکھا گیا ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف یلغار جاری رہی۔ متعلقہ حکام نے اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جنہوں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے۔ ان کے خلاف مسلسل الزام تراشی کی اور جو بی جے پی کے متعصب پُر جوش کارکن مسلمانوں کی ہلاکتوں میں پیش پیش تھے ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 
عالمگیر وبا کووڈ 19 کے لاک ڈائون اور دیگر پابندیوں کے دوران بھی اقلیتوں سے امتیازی سلوک برتا گیا۔ ان میں راشن کی مناسب تقسیم ہوئی نہ مالی امداد دی گئی اور نہ ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا گیا۔ انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ملک کے اکثر حصوں میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔ جموں کشمیر میں یہ مظالم بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈھائے گئے۔ جس کے تحت ایک فرد کو بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔ مسلح افواج کو Armed Forces Special Act ( آفسپا) کے تحت بہت سے علاقوں میں من مانی کی آزادی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بین الاقوامی این جی اوز پر بھی طرح طرح کی قدغنیں لگادی گئی ہیں۔ ایک بھیانک قانون:
 The Unlawful Activities Prevention Act (UAPA)  غیر قانونی سرگرمیوں سے امتناعی قانون۔ صرف یہ تصور کرلیا گیا کہ فلاں شخص یا تنظیم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والی ہے اس لیے اسے بغیر مقدمہ قائم کیے،  بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں بھی قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کے لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے نظر بند کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں پر دبائو بڑھانے کے لیے The National Intelligence Grid (NATGRID) کی رپورٹوں پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ بمبئی میں دہشت گردوں کے مبینہ حملوں کے بعد 11خفیہ ایجنسیوں میں اشتراک اور بھارت کے 14 ہزار حساس تھانوں کو آپس میں منسلک کرکے اسے دی نیشنل انٹیلی جنس گرڈ کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت بہت سے تصوراتی منصوبے، سازشیں کی جارہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں نیٹ گرڈ کے ذریعے دہشت کی ایک فضا قائم رکھی جاتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر:
مقبوضہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سیکڑوں افراد کسی الزام کے بغیر جیلوں اور حوالات میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ جون 2021 میں مقبوضہ کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ جھوٹی خبر کونسی ہے، سرقہ کیا ہے، غیر اخلاقی اور قوم دشمن سرگرمیاں کیا ہیں۔ اس کے تحت صحافیوں، ایڈیٹروں اور میڈیا گروپوں کے خلاف ایکشن کا لائسنس مل گیا۔ حکومت نے اپنے مخالفین پر کھل کر وار کیے۔ کووڈ 19 کا سہارا لے کر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس تک رسائی محدود کردی گئی۔ آفسپا کے تحت جولائی میں شوپیاں ضلع میں 3افراد کو دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا۔ لیکن اگست میں ان کے خاندانوں نے سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں دیکھ کر شور مچایا کہ یہ تو بے چارے مزدور تھے۔ اس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا کہ ستمبر میں بھارتی فوج کو انکوائری کرواکر یہ بیان جاری کروانا پڑا کہ فوجیوں نے آفسپا کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جارہی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں توعوام سے ان کی ان سے آئینی خود مختاری چھین لینے کے بعد بھارتی فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ۔ مسلم نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بناکر خوف و ہراس کی فضا قائم کردی گئی ہے۔ عالمی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑا جیل خانہ کہنے پر مجبور ہیں۔
سکیورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ
ہیومن رائٹس واچ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے انسانوں کی رُسوائی کے اقدامات کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔ ایک طرف کرونا 19 کے وار جاری تھے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہوکر دور دراز مقامات پر موجود اپنے گھر واپس جانے کے لیے پیدل چلنے پر مجبور تھے کیونکہ حکومت نے ٹرانسپورٹ بند کردی تھی۔ لوگ نوکریوں سے نکال دیے گئے، انہیں اپنے کرائے کے کمرے اور گھر چھوڑنے پڑے۔ سینکڑوں میل دور گھر جاتے ہوئے یہ بے روزگار، کہیں پولیس کی سفاکی کا نشانہ بنے، کہیں فوج کی۔ مغربی بنگال میں ایک 32 سالہ نوجوان بچوں کے لیے دودھ خریدنے نکلا، اسے پولیس نے اتنا پیٹا زد و کوب کیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ یوپی سے ایک وڈیو گردش میں آئی کہ دوسرے علاقوں کے کارکنوں کو پولیس سڑک پر ناک رگڑ وا رہی ہے اور رُسوا کررہی ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اس دوران حوالات میں 77 جیلوں میں 1338اور 62ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاری کی۔
یو پی کی بی جے پی حکومت کے دوران کم از کم 119 افراد جولائی 2021 تک ماورائے عدالت قتل کیے جاچکے تھے۔ یوپی میں مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے کے لیے گائے کے ذبیحہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگست 2021 تک اس الزام میں 4000 مسلمان گرفتار کیے گئے۔


مقبوضہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سیکڑوں افراد کسی الزام کے بغیر جیلوں اور حوالات میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ جون 2021 میں مقبوضہ کشمیر میں نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ جھوٹی خبر کونسی ہے، سرقہ کیا ہے، غیر اخلاقی اور قوم دشمن سرگرمیاں کیا ہیں۔ اس کے تحت صحافیوں، ایڈیٹروں اور میڈیا گروپوں کے خلاف ایکشن کا لائسنس مل گیا۔ حکومت نے اپنے مخالفین پر کھل کر وار کیے۔ کووڈ 19 کا سہارا لے کر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی گئی۔


کووڈ 19 کے پھیلائو کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عائد کی گئی ۔ دہلی میں تبلیغی اجتماع کے حوالے سے کہا گیا کہ وہاں سب سے زیادہ مریض پائے گئے۔ بی جے پی لیڈروں نے اسے 'طالبانی جرم' اور 'کرونا دہشت گردی' سے موسوم کیا۔ حکومت حامی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے 'کرونا جہاد' کی دہائی دی۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بد تمیزی امڈ آیا۔ مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔ اس کے نتیجے میں ان مسلمان رضا کاروں پر حملے بھی ہوئے جو متاثرہ مسلم علاقوں میں امدادی سامان بانٹ رہے تھے۔
مسلمانوں کے علاوہ چھوٹی ذات کے ہندوئوں پر بھی بی جے پی کے متعصب حامیوں نے ایسے ہلاکت خیز بلوے جاری رکھے۔ 2019 اور 2020 میں دلت آبادیوں کے خلاف مجرمانہ حملے کئی فی صد بڑھ گئے۔ کتنا ظلم ہے کہ اکیسویں صدی میں جیتے جاگتے انسانوں، ایک ملک کے شہریوں کو زندہ رہنے، روزگار تلاش کرنے، تعلیم حاصل کرنے سے جبراً روکا جارہا ہے۔ اگست میں اوڑیسہ میں ایک 15سالہ دلت بچی نے ایک اونچی ذات کے بنگلے کے عقبی باغ سے پھول توڑ لیے۔ ہنگامے شروع ہوگئے۔ 40دلت خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کردیا گیا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں انسانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے اور مغربی دنیا اس پر خاموش رہتی ہے۔ بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ کیسا انسان دشمن معاشرہ ہے بلکہ ایک جنگل ہے جہاں اونچی ذات کے حیوان چھوٹی ذات کے انسانوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں۔ کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر انسانیت کو سر بازار رُسوا کیا جاتا ہے۔ اہل قلم خاموش رہتے ہیں، شاعروں کے لب سل جاتے ہیں۔
یہ دیکھئے کرناٹکا میں ایک انسان کو اس کے اہل خانہ کے سامنے ننگا کیا جارہا ہے، مارا جارہا ہے، صرف اس لیے کہ اس غریب نے ایک اونچی ذات کے ہندو موٹر سائیکل کو چھو لیا تھا۔
فروری میں تامل ناڈو میں ایک دلت انسان کو مار مار کر ہلاک کردیا گیا کہ وہ اونچی ذات کے ہندو کسان کے کھیت میں داخل ہوگیا تھا۔ ستمبر میں ایک دلت وکیل نے گستاخی کی سوشل میڈیا پر برہمن ازم پر تنقید کی جرأت کرلی اس لیے وہ موت کا حقدار بن گیا۔


2014 سے دہلی میں بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) نے مسلسل صحافیوں، حقوق انسانی کے لیے متحرک رضا کاروں، طلبہ، اساتذہ اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خوف زدہ کرنے، مقدمات میں الجھانے، جیلوں میں  ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔


بھارتی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں جو بھارتی معاشرہ دکھایا جاتا ہے وہ سب مصنوعی اور جعلی ہے۔ اصل بھارتی معاشرہ جو ترقی یافتہ شہروں میں بھی ہے۔ وہاں بھی نیچی ذات کے ہندوئوں، اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان کی نئی نسل کو اپنے امکانات حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے اور وہ بھارت جو دیہات قصبوں میں آباد ہے، دہلی سے دور دراز علاقوں میں سانس لیتا ہے، وہاں تو برہمنوں اور دوسری اونچی ذات والوں نے معاشرے کو دوزخ بنا رکھا ہے۔ مسلمان تو اپنی اراضی، کھیت اور مکانات چھوڑ کر بڑے شہروں میں آنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے بھارتی میڈیا بہت کم آواز اٹھاتا ہے۔ دلّت آبادیوں پر مظالم کے خلاف تو کہیں کہیں احتجاج بھی ہوتا ہے۔
دلت نوجوان عورتیں اجتماعی آبرو ریزی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ اونچی ذات کے با اثر ہندوئوں کا سیاسی، معاشی، سماجی خوف اتنا غالب ہے کہ حکام اورمیڈیا دلت انسانوں کو ہی قصور وار قرا دے دیتے ہیں۔ دلت کمیونٹی کی تعداد 20کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ یوپی میں 3کروڑ اور بنگال میں پھر بہار میں ایک ایک کروڑ سے زیادہ، باقی پورے بھارت میں ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اونچی ذات والے برہمن صرف 6کروڑ ہیں مگر اقتدار، وسائل ، تجارت پر، صنعت پر ان کا قبضہ ہے۔ حکام ان سے خائف رہتے ہیں۔ بھارت سماج میں بھی انہیں برتری حاصل ہے۔
مسلمانوں کی تعداد اب پاکستان کی آبادی کے برابر 22کروڑ ہونے والی ہے لیکن متعصب ہندو حکمرانوں نے ان کی سیاسی حیثیت کمزور کرنے کے لیے ایسے ایسے قوانین وضع کیے ہیں کہ اب اقتدار کا توازن پہلے کی طرح ان کے ہاتھوں میں نہیں رہا ہے۔ پھر دوسرے ملکوں میں مسلمانوں کی انتہا پسندی نے بھی بھارتی متعصب معاشرے کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو انتہا پسند قرار دے کر اپنے زیر اثر رکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں جرأت مندانہ لیڈر پیدا نہیں ہونے دیتے۔ انہیں آپس میںلڑواتے رہتے ہیں۔ اقتصادی طورپر بھی انہیں پہلے کی نسبت بہت کمزور اور بے اثر کردیا گیا ہے۔
انسانی حقوق پر امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے اختیارات کا بے جا استعمال بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اس رپورٹ میں پولیس کی ماورائے عدالت ہلاکتوں، حوالاتیوں سے غیر انسانی سلوک ، بغیر کسی الزام کے گرفتاریاں، نظر بندیاں، میڈیا پر حکومت مخالف رپورٹروں اورتحقیقی صحافیوں کی گرفتاریاں اجاگر کی گئی ہیں۔
امریکی رپورٹ میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کچلنے کے واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ اگست 2019 میں ہریانہ کی جیلوں میں 47فی صد سے زیادہ قیدی تشدد اور بد سلوکی کا شکار ہوئے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے خلاف آن لائن رپورٹ چھاپنے پر ویب سائٹ ایڈیٹر کو نظر بند کردیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کے پاسپورٹ کی تجدید میں کئی کئی سال لگادیے جاتے ہیں۔ جموں و کشمیر  ہیومن رائٹس کمیشن کو ممنوع قرار دیا گیا۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے نگرانی کا ذمہ خود لے لیا۔ یو پی میں خصوصی پولیس فورس قائم کردی گئی جسے بغیر وارنٹ گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ مسلمانوں اور چھوٹی ذات کے ہندوئوں کے خلاف سب سے زیادہ مظالم یوپی میں ہورہے ہیں۔
بھارت بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔ ان کو بہت ہی برے حالات میں رکھا جاتا ہے۔ مسلمان اور دلت قیدیوں پر جیل حکام مظالم ڈھاتے ہیں۔ قیدیوں میں ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
کل تین یونیورسٹیاں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کا خاص ہدف ہیں جن میں دو مسلم یونیورسٹیاں ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تیسری یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی ہے۔ یہاں بھی مسلمان طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں پولیس اکثر زبردستی داخل ہوجاتی ہے، لاٹھی چارج کرتی ، آنسو گیس پھینکتی اور ربڑ کی گولیاں داغتی ہے۔
عالمی تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینک اگر غیر جانبداری اور خلوص نیت سے تحقیق کریں تو اپنی آبادی کے حوالے سے بھارت انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا گڑھ ثابت ہوگا۔ اسلامی ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ  انسانی حقوق کچلنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کو حرکت میں لائیں آرگنائزیشن آف اسلامک اسٹڈیز او آئی سی کو بھی انسانی حقوق واچ کی تنظیم وجود میں لاکر بھارت میں انسانیت پر سفاکی اور جبر کی رپورٹ ہر سال تیار کرنی چاہئے اور عالمی فورموں پر شواہد، وڈیوز، دستاویزات کے ساتھ اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 237مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP