قومی و بین الاقوامی ایشوز

بدلتا ہوا افغانستان اور خطے کا امن

'' پاکستان کی حکومت اور اس کے عوام کے دلوں میں افغانستان کی مسلم سلطنت جو ہماری نزدیک ترین ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ صدیوں سے پاکستان کی بہت سی نسلوں کے ان گنت مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی روابط موجود ہیں، ان کے لیے گرمجوشی اور دوستانہ جذبات کے سوا کچھ نہیں۔ بلا شُبہ آپ کو اس امر کا علم ہے کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ افغان افواج کے جذبۂ حریت اور کردار کی عظیم قوت کو سراہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ان دونوں برادر اورقوم کے درمیان عظیم ترین قربت اور پائیدار دوستی کا رشتہ استوار ہو۔ مجھے اُمید ہے کہ دونوں حکومتیں ان تمام امور کو جو ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ خیر سگالی اور طرفین کے لیے مفید انداز میں طے کرلیں گی۔ مجھے اعتماد ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین خیر سگالی اور دوستی جو پہلے ہی سے موجود ہے، آئندہ متوقع مذاکرات سے مضبوط اور مستحکم ہوجائے گی۔''
یہ ہیں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے محبت بھرے الفاظ، جو 3دسمبر 1947کو کراچی میں سردار نجیب اللہ خان نمائندۂ خصوصی شاہ افغانستان کی اسناد سفارت پیش کرنے کے موقع پر تقریر کے جواب میں خطاب میں کہے۔


74سال پہلے بابائے قوم نے افغانستان کے لیے جس خلوص اور یگانگت کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان نے ایک ریاست کے طور پر ہمیشہ ان ہی جذبات کو اپنی پالیسی بناکر رکھا ہے۔ بہت نشیب و فراز آئے ہیں۔ افغانستان میں بھارت کی لابی سرگرم رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف بہت سازشیں افغانستان کی سر زمین سے ہوتی رہی ہیں۔  افغانستان نے 1947 سے 1978تک پشتونستان کی سازش کی سرپرستی بھی کی ہے۔ پاکستان کے منحرفین کو افغانستان میں پناہ ملتی رہی ہے۔


پاکستان اپنے قیام کے دنوں سے ہی افغانستان کے لیے ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ سردار نجیب اللہ تو نمائندۂ خصوصی تھے۔ مگر جب 8مئی 1948کو افغانستان کے باقاعدہ سفیر نے اسناد پیش کیں تو قائد اعظم نے پھر یہی توقع پورے خلوص سے ظاہر کی تھی کہ سفیر جیسے ممتاز اور کہنہ مشق نمائندے کی وجہ سے ہماری دونوں قومیں جن رشتوں میں منسلک ہیں انہیں مزید تقویت پہنچے گی اور اس طرح دونوں ملکوں کے درخشاں اور پُر مسرت مستقبل کے لیے راہ ہموار ہوجائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ'' آپ نے بجا طور پر دوستی اور لگائو کے اس فطری بندھن کا ذکر کیا ہے جن میں دونوں ملکوں کے عوام بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارا باہمی تعلق اس سے مختلف ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ بندھن ایمان ثقافت کے رشتوں اور مشترکہ تصورات پر مبنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پس منظر میں اس قدر قومی رشتوں کی پہلے ہی سے موجودگی کے باعث ہم اپنے دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے میں ناکام نہیں ہوسکتے بلکہ ہم اس سے بھی قریب تر جائیں گے جو قیام پاکستان سے قبل تھے۔''
74سال پہلے بابائے قوم نے افغانستان کے لیے جس خلوص اور یگانگت کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان نے ایک ریاست کے طور پر ہمیشہ ان ہی جذبات کو اپنی پالیسی بناکر رکھا ہے۔ بہت نشیب و فراز آئے ہیں۔ افغانستان میں بھارت کی لابی سرگرم رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف بہت سازشیں افغانستان کی سر زمین سے ہوتی رہی ہیں۔  افغانستان نے 1947 سے 1978تک پشتونستان کی سازش کی سرپرستی بھی کی ہے۔ پاکستان کے منحرفین کو افغانستان میں پناہ ملتی رہی ہے۔
1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کیں  اور یہ کہا کہ وہ افغانستان کی دعوت پر ان کی مدد کے لیے پہنچے ہیں ۔ اس وقت بھی سوویت یونین کے خلاف جہاد میں پاکستان کی حکومت اور عوام نے دامے درمے قدمے سخنے حصّہ لیا تھا۔ حالانکہ اس پالیسی سے پاکستان کو بہت نقصانات بھی پہنچے۔ ملک میں منشیات اور اسلحے کی سوداگری شروع ہوئی۔ بالآخر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پاکستان کے فعال تعاون سے ہی سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی خبر مل سکی۔ اس پسپائی کے نتیجے میں سوویت یونین زوال پذیر بھی ہوئی۔روس میں کمیونزم کا خاتمہ ہوا لیکن پاکستان کو دور رس مصائب اور مسائل ورثے میں ملے۔ 30لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی پاکستان کو کرنا پڑی۔ جن میں سے بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں موجود ہے۔ ملک کے تمام حصّوں میں ہی دہشت گردی کی خوفناک وارداتیں ہوئیں، انتہا پسندی اپنی شدت کو پہنچی۔
پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش اور خواہش رہی کہ افغانستان ترقی کرے۔ وہاں کے عوام کو وہ سہولتیں حاصل ہوں جو اس وقت پوری دنیا کے لوگوں کو میسر آرہی ہیں اور وہاں ایسی حکومت قائم ہو جس میں افغانستان کے ہر گروپ ہر قبیلے کی نمائندگی ہو۔ پاکستان نے افغانستان کی مختلف حکومتوں کو اپنی استطاعت کے مطابق مالی امداد بھی دی۔ افغانستان کے طالب علموں کے لیے پاکستان کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان کے لیے خصوصی کوٹہ رکھا گیا۔ پشاور اور کوئٹہ میں افغان نوجوانوں کی بڑی تعداد طلب علم کے سلسلے میں اور روزگار کے لیے موجود رہی ہے۔
1994 میں طالبان کا ظہور ہوتا ہے اور ملک میں مثالی امن و امان قائم ہوتا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان نے ہی سب سے پہلے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ پاکستان کے علاوہ صرف دو ملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس حکومت کو تسلیم کرکے اپنے نمائندے متعین کیے تھے۔ جب نیویارک میںورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز سے طیارے ٹکرائے اور امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس حادثے میں 3000 امریکی ہلاک ہوئے اور یہ سب القاعدہ کی سازش ہے جس کا سربراہ افغانستان میں موجود ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اسے نہ نکالا تو ہم افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ پاکستان نے اس وقت بھی تحمل اور خیر سگالی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کی سرکردگی میں اعلیٰ وفد ملا محمد عمر سے مذاکرات کے لیے بھیجے اور ان سے بار بار درخواست کی کہ وہ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے رخصت کردیں۔ امریکہ اس وقت بہت مشتعل اور برہم ہے۔ پورے علاقے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا لیکن طالبان حکومت نے کہا تھا کہ وہ ہمارے مہمان ہیں اور افغان روایت کے مطابق ہم اپنے مہمان کو جانے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا اور پاکستان کو جن بد ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ تاریخ کا حصّہ ہے۔
مجھے یاد ہے کہ 11ستمبر 2001 کے صرف 5دن بعد صدر پرویز مشرف نے اخبارات و جرائد کے مدیران کو چیف ایگزیکٹو ہائوس میں بلایا تھا اور آف دی ریکارڈ تفصیل سے نازک صورت حال بتائی تھی۔ جواَب تو کتابوں کے اوراق میں منکشف ہوچکی ہے۔ میں نے بھی اس اہم تاریخی مکالمے کو اپنی کتاب 'امریکہ کیا سوچ رہا ہے' کا حصّہ بنایا تھا۔ پاکستان، بھارت ،بنگلہ دیش اور افغانستان کے ایڈیٹروں کو امریکہ کے انٹرنیشنل وزیٹرز پروگرام میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پینٹاگون اور دوسرے شعبوں میں بریفنگ کے لیے مدعو کیا گیا تھا اس وقت ہی اندازہ ہورہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرپارہا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے ہم مدیران کو وضاحت سے بتایا تھا کہ امریکہ یہ محسوس کررہا ہے کہ اس کی توہین ہوئی ہے۔ اب وہ عالمی ہمدردی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ صحیح یا غلط۔ امریکہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور طالبان کو سزا ملنی چاہئے۔ میں نے امریکی سفیر سے کہا کہ طالبان کسی ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ لاکھوں لوگ ہیں۔ اسامہ بن لادن تو ایک فرد ہے ۔ طالبان حکومت کچھ لوگ ہیں لیکن افغانستان تو ایک بڑی آبادی ہے۔ اس طرح مناسب نہیں ہوگا کہ ہم حملہ کردیں۔ ادھر طالبان جن کا پاکستان نے ہمیشہ ساتھ دیا، انہوں نے بیان دے دیا ہے کہ ان کے خلاف جس نے امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ اس کے خلاف حملہ کردیں گے۔ ہم نے اس کے باوجود امریکہ سے کہا کہ افغانستان پر حملہ مناسب نہیں ہوگا۔ لیکن دنیا کے کالے پیلے سب امریکہ سے ہمدردی کررہے ہیں۔ صدر کلنٹن یہاں آئے تھے اس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ آپ نے کروز میزائل پھینک کر طالبان کو خلاف کرلیا ہے۔ ہم نے زور دیا تھا کہ آپ ان کے مسائل سمجھیں۔اب بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کوئی ایسا موقف اختیار کرے جس سے امریکہ ناراض ہو اور وہ امریکہ کے ساتھ مل کر وہ کچھ حاصل کرے جو وہ برسوں سے چاہتا ہے۔
صدر مشرف نے مدیران کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی سفیر کے ذریعے اور بالواسطہ ذرائع سے ہمیں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہم یہ بتائیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں۔
یہ تو ستمبر 2001 کی باتیں ہیں۔ جب امریکہ کی ساری حکمت و دانش، تدبراور بصیرت دم توڑ گئی تھی اور صرف جنگی جنون غالب تھا۔ یورپ کی نشاة ثانیہ بے نتیجہ ہوگئی۔ روسو، برگساں، کرکے گارڈ، سارتر، برٹرینڈ رسل سب کے فلسفے ناکارہ ہوگئے۔ امن کے دعویدار یورپی یونین نے بھی جنگ کو فوقیت دی ۔ نیٹو کی افواج کو متحرک کردیا گیا۔ پاکستان مختلف میٹنگوں میں زور دیتا رہا کہ فوجی حل کے بجائے افغان عوام کے مختلف گروپوں کو اکٹھا کرکے ان کی اپنی حکومت قائم کی جائے۔
2003 میں ہم جب امریکی وزارت خارجہ ، وزارت دفاع، ہوم لینڈ سکیورٹی اور دوسرے شعبوں میں امریکی حکام سے مل رہے ہیں تو شکریہ بارک زئی کاجو کابل کے      ہفت روزہ 'آئینہ زن' کی ایڈیٹر ہیںاور بعد میں وہ ناروے میں افغانستان کی سفیر بھی رہی ہیں۔ وہ بار بار امریکی حکام سے کہتی تھیں کہ امن کی بحالی میں امریکہ کی سست روی باعث تشویش ہے۔ امریکہ افغانستان کے عوام کے جائز نمائندوں کے بجائے وارلارڈز( جنگی قبائلی سربراہ) کو فنڈز فراہم کررہا ہے جس سے خانہ جنگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی شہریوں پر اثرات اور صدمے کا جائزہ تو لیا جاتا ہے۔ لیکن افغانستان میں  جو بچے یتیم ہورہے ہیں جن مائوں کے نوجوان لخت جگر لقمہ اجل بن گئے ہیں، جو بوڑھے باپ اپنے جواں سال بیٹوں کے سہارے سے محروم ہوگئے ہیں، ان کے خاندان کیا محسوس کرتے ہیں۔ ان معاشروں میں امریکی قوم کے خلاف جو نفرتیں پیدا ہورہی  ہیں انہیں دور کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے۔ کسی امریکی محکمے میں اس حوالے سے کوئی حکمتِ عملی مرتب نہیں ہورہی ہے۔
ہم نے ان دنوں محسوس کیا کہ امریکی عوام یہ محسوس کررہے ہیں کہ افغانستان میں جدید جمہوری معاشرہ قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں ۔ امریکہ کو اپنی اتھارٹی قائم کرنے کے لیے جنگجو قبائلی سرداروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس طرح عام افغان امریکی کوششوں کو قبول نہیں کررہا ہے۔
2003میں امریکی اخبار نویس یہ تجزیہ کررہے تھے۔ جو 18سال بعد جولائی اور اگست 2021 میں حرف بحرف صحیح ثابت ہورہا ہے کہ جس قومی فوج کی تشکیل اور تربیت کی بات کی جارہی ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ افغانستان کے صدر اور کابل کی مرکزی حکومت کی وفادار ہو۔ میں نے امریکی حلقوں سے گفتگو کے بعد اس وقت یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ میں ایسی سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ اب تک ہم نے افغانیوں پر جو اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں وہ بے نتیجہ رہے ہیں۔ اس لیے مزید اربوں ڈالر خرچ کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
دیکھ لیجئے۔ امریکی عوام 2003 میں جو تاثرات ظاہر کررہے تھے۔ 18سال بعد امریکی صدور ٹرمپ اور بائیڈن انہی خیالات کا اظہار کررہے ہیں اور امریکی افواج کا مکمل انخلا کررہے ہیں۔ کاش ان سے پہلے امریکی صدور بھی خلق خدا کی بات مان لیتے۔
میری طرح پاکستان کے بہت سے تجزیہ کار یہی تاثرات قوم اور حکمرانوں کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔ ہماری سول اور فوجی قیادتیں بھی امریکہ سے بار بار یہ کہتی رہیں کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی انداز سے حل نہیں ہوسکتا۔
موجودہ وزیر اعظم عمران خان جب حکومت میں نہیں تھے اس وقت بھی یہی موقف رکھتے تھے ۔ وزیر اعظم بننے کے بعد تو وہ کھل کر یہ کہتے آرہے ہیں۔
ابھی برطانیہ کے مشہور عالم معروضی تجزیے شائع کرنے والے ہفت روزہ 'اکنامسٹ' نے کہا ہے :
''امریکہ کرپٹ ریاستیں کیوں تعمیر کرتا رہتا ہے۔''
اور یہ کہ کرپشن کو اصولی طور پر سمجھنا مرکزی اصول ہے۔ صرف یہ نہیں کہ امریکہ کی Proxies ( کٹھ پتلیاں) ناکام کیوں ہوجاتی ہیں۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ریاستیں عمومی طور پر کیسے کام کرتی ہیں۔
میرے سامنے 9مارچ 2013 کی ایک رپورٹ ہے ۔ ولی نصر کی کتاب 'امریکی خارجہ پالیسی کی پسپائی' میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے سے اعتراف کیا گیا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن میں 2010 میں امریکیوں سے کہا تھا کہ ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ افغانستان سے انخلا کے لیے طالبان سے مذاکرات کریں۔ ولی نصر کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
'' جب ہم نے بڑے پُر جوش انداز میں بتایا کہ ہم 2014 تک چار لاکھ افغان فوجی طاقت تشکیل دے دیں گے۔ میں کیانی کا ردّ عمل بھول نہیں سکتا۔ ان کا جواب فوری اور قطعی تھا۔ 'ایسا نہ کریں۔ آپ ناکام ہوں گے۔ آپ تو افغانستان چھوڑ دیں گے اور یہ ٹیم تربیت یافتہ فوج ملیشیا گروپوں  میں بٹ جائے گی اور پاکستان کے لیے مسائل کھڑے ہوں گے۔' کیانی نے کہا۔مجھے یقین نہیں ہے کہ ان چار لاکھ فوجیوں کے لیے کانگریس ہر سال 9ارب ڈالر دیتی رہے گی۔ کیانی کو پختہ یقین تھا کہ یہ فوج بالآخر زمین بوس ہوجائے گی اور اس فوج کے شکستہ حصّے اپنی گزر اوقات کے لیے جرائم اور دہشت گردی اختیار کرلیں گے۔''
دیکھئے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا 2010 میںانتباہ اب گیارہ سال بعد درست ثابت ہورہا ہے ۔
ولی نصر نے ہی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر 2010 کے اس دورے میں جنرل کیانی نے امریکی صدر اوباما کو 13صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر بھی پیش کیا تھا جس میں پاکستان اور امریکہ کے حساس معاملات کی تفصیل درج تھی۔ جنرل کیانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے فوجیوں کی شہادتوں پر دل گرفتہ رہتے تھے۔  جنرل کیانی نے سوات کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔امریکہ کی تربیت کردہ فوج بھی کاغذی نکلی اور ان کی کوزہ گری سے صورت پذیر ہونے والے افغان قائدین حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی لکڑی کی تلوار نکلے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے دَور میں غیر ملکی اخبارات نے اپنے تجزیوں میں لکھا کہ اب وہ دن نہیں رہے جب پاکستان امریکی دھمکیوں سے خوف زدہ ہوجاتا تھا۔ برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ( آر یو ایس آئی) کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ ' باجوہ ڈاکٹرائن یہ سمجھاتا ہے کہ اب پاکستانی فوج کو مزید کچھ نہیں کرنا ہے بلکہ دنیا کو اب مزید کچھ کرنا ہوگا۔ 2018 میں جنرل قمر باجوہ نے واضح کردیا کہ اب ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور امریکہ کو افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر اسلام آباد پر الزامات عائد کرنا ترک کردینا چاہئے۔  امریکی قیادت کو چاہئے کہ وہ جنگ زدہ ملک افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے اسباب تلاش کرے۔''
ان ہی دنوں جنوری میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان ٹویٹ کیا تھا کہ امریکہ نے احمقانہ طور پر پاکستان کو گزشتہ 15سال میں 33ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی۔ بدلے میں کیا ملا۔ جھوٹ اور دھوکہ اور امریکہ نے دو ارب ڈالر کی امداد روک دی۔ پاکستان نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ ہم معطل کردہ فوجی امداد کے لیے بھیک نہیں مانگیں گے۔'
2006 میں ڈیورنڈ لائن پر خاردار باڑ کی تجاویز کا تبادلہ شروع ہوگیا تھا۔ 2017 میںجنرل قمر جاویدباجوہ کے دَور میں اس باڑ کو باقاعدہ لگانے کاکام شروع ہوا اور تقریباً پایۂ تکمیل پر ہے جو افغانستان کے صدور کو پسند نہیں آئی۔ وہ اس کی مخالفت کرتے رہے لیکن پاکستان کے عوام کو اسکی تعمیر سے یک گونہ اطمینان نصیب ہوا۔ اسی خاردار باڑ کی بدولت افغانستان میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد افغان مہاجرین، جتنی تعداد میں متوقع تھے وہ نہیں آسکے۔
دوحہ قطر میں ہونے والے نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھی پاکستان نے ہی بنیاد رکھی جب 7جولائی 2015کو مری میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پہلا باقاعدہ رابطہ ہوا جس میں امریکی اور چینی نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ انتہائی اہم پیشرفت تھی۔ 31جولائی کو ہونے والے دوسرے مذاکرات منعقد نہ ہوسکے کیونکہ افغان صدارتی محل نے انکشاف کیا کہ ملا عمر دو سال پہلے انتقال کرچکے ہیں۔
پاکستان کی کوششوں سے ہی طالبان مذاکرات کے لیے رضا مند ہوئے۔ اس کا اعتراف عالمی میڈیا کررہا ہے اور پاکستان کی ریاست اور حکومت کو اپنے اس تدبر پر بجا طور پر فخر بھی ہے۔ اکتوبر 2018 میں امریکی نمائندہ برائے پاکستان اور افغانستان زلمے خلیل نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہی دنوں ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کی درخواست پر رہا کیا گیا۔ اس رہائی کے نتیجے میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں فیصلہ کن موڑ آگیا۔ 3 اکتوبر 2019سے طالبان کے ایک وفد نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات کی۔
حالیہ چند برسوں میں پاکستان کی سول اور فوجی قیادتوں کا موقف بالکل واضح رہا ہے۔ اپنے طور پر انہوں نے پاکستان میں استحکام کو فوقیت دی ہے۔ بار بار کہا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور اعتبار بحال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ افغانستان کا استحکام افغانستان کی حکومت اور امریکی فوج کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں عمران خان حکومت کے قیام کے بعد افغانستان سے مفاہمت کی کوششیں تیز ہوئیں کیونکہ وزیرا عظم عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی ہے، فوجی نہیں۔ نومبر 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے کابل کا دورہ کیا اور افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ ہم علاقے میں قتل و غارت ختم کرنے اور امن کے قیام میں ہر ممکن مدد کریں گے۔ اشرف غنی نے بھی پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر تجارت عبدالرزاق دائود ان کے ہمراہ تھے۔
13اپریل 2021 کو امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ 11ستمبر 2021 تک افغانستان سے تمام امریکی فوجی واپس بلالیے جائیں گے۔ بائیڈن کا یہ اعلان ظاہر ہے کہ امریکی اتنظامیہ کی پوری سوچ بچار کے بعد کیا گیا تھا۔ تخمینے لگائے گئے کہ امریکہ نے کتنے ارب ڈالر لگائے۔ کتنے امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ افغان فوجی اور عام شہری کتنے ہلاک ہوئے۔10مئی 2021 کو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید نے بھی صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور قیام امن کے لیے مذاکرات پر بات ہوئی۔
پاکستان نے اپنے ذرائع سے طالبان پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔ پاکستان کے موجودہ مشیر برائے وزیر اعظم برائے سلامتی معید یوسف نے مئی 2013 میں سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو ایک طویل رپورٹ پیش کی تھی جس میں پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے تجاویز دی گئی تھیں۔ اس بہت ہی معروضی اور غیر جانبدارانہ تجزیے میں کہا تھا کہ پاکستان کا کردار ایسے سہولت کار کا ہونا چاہئے جو سخت گیر طالبان کو اقتدار میں شراکت کے لیے آمادہ کرتا رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس وقت مشورہ دیا تھا کہ دنیا کو بھی پاکستان سے اس سے زیادہ توقع نہیں کرنی چاہئے۔
معید یوسف صاحب نے آج سے آٹھ سال پہلے جو مشورے دیئے وہ اپنے طور پر دیئے تھے۔ اب تو وہ پاکستان کے ایک انتہائی حساس منصب پر مامور ہیں۔ جہاں فیصلہ سازی میں وہ خود کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے اس وقت بھی زور دیا تھا کہ اعتدال پسند طالبان نہ صرف افغان سیاست کے لیے فائدہ مندہوں گے بلکہ وہ پاکستانی طالبان کو بھی اعتدال پسند بناسکیں گے۔اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو افغانستان میں اعتدال پسند پشتون اور غیر پشتون کا کردار قبول کرناچاہئے۔ یہ لائق تحسین ہے کہ پاکستان افغانستان میں ان سب کی شمولیت کی حکومت پر زور دے رہا ہے تو اس کے اپنے رابطے بھی طالبان کے ساتھ ساتھ سب سے ہونے چاہئیں۔ پاکستان کو افغانستان میں اپنی اقتصادی شراکت کو وسیع تر کرنا چاہئے۔ بہت سے شعبے اور علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں پاکستان اپنے ماہرین کے ذریعے افغانستان کی مدد کرسکتا ہے ۔ جیسے معدنی وسائل کی دریافت، زراعت میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، انفرا سٹرکچر کی تعمیر۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کو بھی مشورہ دیا کہ وہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو مطعون نہ کریں۔ 2013 میں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ اگلے دو سال میں وہ ایسا کوئی رویہ اختیار نہ کرے جس سے پاکستان کے پالیسی ساز افغانستان میں امن اور مصالحت کی طرف اپنے جوش اور جذبے کو ترک کرنے پر مجبور  ہوجائیں۔
گزشتہ دو سال پاکستان اور افغانستان کی تاریخ میں جہاں بہت اہم شمار ہوں گے، وہاں مورخین یہ بھی ضرور ذکر کریں گے کہ افغان حکومت کے صدر اشرف غنی نے ان فیصلہ کن برسوں میں فریب دہی، اپنے اور خاندان کے مفادات دوستوں کے فائدوں کے علاوہ کچھ پیش نظر نہ رکھا۔ مصالحت کے لیے سازگار ماحول فراہم نہ کیا۔ ایک طرف طالبان صوبے پر صوبہ فتح کررہے تھے۔ دوسری طرف طالبان امریکہ مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے۔ 2001 سے امریکہ۔ نیٹو اور دوسری طاقتوں کا ساتھ دینے والے افغان ماہرین، اساتذہ، طالبات، طلبہ، انجینئرز اور ٹیکنیشن جان کو خطرات محسوس کررہے تھے۔ ان سب کے تحفظ یا بیرون ملک منتقلی کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینا افغان صدر کی ہی ذمہ داری تھی۔ 2015 میں اشرف غنی بر سر اقتدار آئے۔ 2016 میں پاکستان نے دو طرفہ تعلقات بہتر کرنے کے لیے 500 ملین ڈالر کا اعلان کیا تاکہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں مدد ہوسکے لیکن صدر اشرف غنی نے اسے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ پاکستان طالبان کو تربیت دے رہا ہے۔پاکستان پر الزامات عائد کرنے والے صدر اشرف غنی اپنے عوام کو ایک خلفشار میں چھوڑ کر افغانستان سے فرار ہوچکے ہیں۔ کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افغان بیرون ملک روانگی کے لیے طیاروں کا انتظار کررہے ہیں۔
پاکستان کے عوام افغانستان میں صورت حال کی تبدیلی سے ابھی پریشان ہیں کیونکہ صورت حال واضح نہیں ہے۔ افغان شمول حکومت کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن پاکستان کے عوام کو یہ تسکین حاصل ہے کہ نائن الیون اور اس سے پہلے 1979 میں بھی پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادتوں نے جو موقف اختیار کیا تھا ۔ بالآخر اس کو فتح نصیب ہوئی اور دنیا نے بھی تسلیم کیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کا راستہ یہی ہے کہ وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جس میں افغانستان کے تمام حلقوں کی نمائندگی ہو۔ اس کے لیے اس وقت کوششیں جاری ہیں۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 84مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP