قدرتی آفات اور افواج پاکستان

محافظ بھی، مسیحا اور معمار بھی

8اکتوبر2005کے تباہ کن زلزلے میںپاک فوج کا زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی وتعمیری کردار

پاکستان دنیا میں زلزلوں کے حوالے سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فالٹ لائنز کا جال بچھا ہوا ہے۔8اکتوبر 2005کو پاکستان اور آزادکشمیر میں 7.6شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں مظفرآباد ،راولاکوٹ،باغ، خیبر پختونخوا کے علاقوں بالاکوٹ ،بٹگرام ،الائی اور کوہستان تک کے علاقے ملیامیٹ ہو گئے ۔84ہزار سے زائد اموات ہوئیں ،2لاکھ سے زائد افراد زخمی اور 25لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ اس ہولناک زلزلے کے بعد 27اکتوبر تک 978آفٹر شاکس بھی آئے ،مظفرآباد،راولاکوٹ،باغ اور بالاکوٹ میں زندگی روٹھ کر چلی گئی تھی اسی وجہ سے آزادکشمیر کے اُس وقت کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے 8اکتوبر ہی کوکہا کہ میں آج قبرستان کا وزیر اعظم ہوں ۔ادھر دوسری جانب اسلام آباد کے دو بڑے رہائشی مارگلہ ٹاورز بھی زلزلے کے خطرناک جھٹکے نہ سہہ سکے اورزمین بوس ہوگئے ،جس میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔قیامت صغریٰ کی اس ہولناکی میں سب سے پہلے عوام کی مدد کے لئے پاک فوج حرکت میں آئی۔ زلزلے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز آزادکشمیر اور بالاکوٹ کی فضائوں میں نظر آئے جنہیں دیکھ کر عوام مدد کے لئے پکارنے لگے کیونکہ ان کے لئے یہ پہلی امدادی سرگرمی تھی ۔ہسپتال، سکول، کالجز،مساجد ،مدارس ،بازار ،یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر مظفرآباد سمیت دیگر سرکاری اور نجی عمارات زمین بوس ہو چکی تھیں اور ان میں پھنسے ہزاروں افراد کو نکالنے کے لئے آزادکشمیر اور کے پی حکومت کے پاس کوئی وسائل نہیں تھے۔اس سانحے کو بیتے اگرچہ 15سال گزر ہوچکے ہیں مگرعوام آج بھی اسے نہیں بھولے اور افواج پاکستان کی اس بروقت اور فوری مد د کو ہرسال یاد کرتے ہیں۔



خواجہ محلہ جو کہ مظفرآباد کا قدیمی رہائشی سیکٹر ہے، زلزلے سے زیادہ متاثر ہوا جس کے ایک بزرگ شہری خواجہ غلام نبی نے بتایا کہ وہ اپنی دکان پر موجود تھے کہ 8بج کر 52منٹ پر خوفناک زلزلہ آیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ تباہ ہو گیا۔ وہ اپنی دکان سے باہر نہیں نکلے وہ بتاتے ہیں، جو لوگ باہر تھے ان کے سروں پر بھی سیمنٹ کے بلاک اور دیگر وزنی سامان گرا اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ انہوں نے کہاخوش قسمتی سے میں تو بچ گیا اورکافی دیر بعد جب دھول کم ہوئی تو میں اپنی دکان کھلی چھوڑ کر گھر کی طرف بھاگا مگر ہر طرف مکانوںکے ملبے کے پہاڑ پڑے تھے  ۔میں اس ملبے پر بمشکل رینگ کر چلتا رہا اور مسلسل کلمہ طیبہ کو ورد کرتا رہا اور جب گھر کے قریب پہنچا تو گھر کی چھت زمین کے برابر تھی ۔میرے بھائی خواجہ عبدالرشید، میری بھابھی اور ان کی اکلوتی بیٹی اس کے نیچے دب چکے تھے۔ اردگرد کے مکانات کا ملبہ بھی میرے گھر پر پڑا تھا۔ مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا میں اپنے پیاروں کو ملبے سے نکالنے کے لئے بہت کوششیں کرتا رہا مگر ایسا نہ ہو سکا بالآخر پاک فوج کی مدد لی، جنہوں نے مکانوں کا ملبہ بڑی مشکل سے کاٹ کر ہٹایا اور ملبے تلے سے میرے پیاروں کی تین لاشیں برآمد ہوئیں۔ پاک فوج نے میری مدد کی اور ہم نے جنازہ پڑھا کر فوج کی مدد سے انہیں دفن کیا ۔
محلہ شاہناڑہ کے رہائشی سرفراز احمد جو محکمہ تعلیم میں آفیسر ہیں، نے 8اکتوبر کے زلزلے کو اپنی زندگی کا سب سے ہولناک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سکول میں تھے جب زلزلہ آیا، میری اہلیہ مکان کی بالائی چھت پر کام کرنے کی وجہ سے بچ گئیں جبکہ میرے دیگر بچے سکولز اور کالجز میں خوش قسمتی سے بچ گئے مگر میری چھ ماہ کی بچی ملبے تلے دب گئی ۔تین منزلہ مکان تھا اور بچی پہلی منزل میں سوئی تھی، اہلِ محلہ نے بہت کوشش کی مگر ہم بچی کی لاش نہ نکال سکے بالآخر پاک فوج کے انجینئر نے لاش نکالی اور جنازہ پڑھنے کے بعد سلطانی مسجد کے قریب تدفین کر دی گئی ۔
ضلع باغ کے افراز عباسی نے کہا کہ ان کے دو بیٹے عفان عباسی اور ایان عباسی بالترتیب  تیسری اور چوتھی کلاس کے طالب علم تھے۔ زلزلہ اس قدر خوفناک تھا کہ سکول کی عمار ت بچوں پر گر پڑی تھی۔ نفسا نفسی کے عالم میں والدین اپنے زندہ بچوں کو گھر لے کر جا رہے تھے۔ میں اور میرے ساتھ کئی والدین ایسے بھی تھے جن کے بچے تاحال ملبے تلے تھے مگر ہم بغیرمشینری کے انتہائی وزنی عمارت کو کیسے ہٹاتے ،اللہ کی مدد شام کے قریب آن پہنچی، پاکستان آرمی کی ریلیف ٹیم جونہی آئی ہم نے انہیں آگاہ کیا جنہوں نے کرین کی مدد سے نہایت احتیاط کے ساتھ سکول کی چھت کے ایک کونے سے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ تیز روشنی کی مدد سے ہمیں اپنے بچے نظر آئے اور بعض جوان اور والدین  اندرگھس گئے اور بچوں کو نکالا ۔میرے دونوں بچے زندہ سلامت مجھے مل گئے اور دیگر والدین کے بچے بھی زندہ ملے تاہم بلڈنگ کے کونے میں پھنسے دو بچے خون زیادہ بہنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے ۔
پٹہکہ تحصیل نصیر آباد کی خاتون نرگس بی بی نے بتایا کہ زلزلے میں ان کے خاوند بشیر احمد شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا خون بند نہیں ہو رہا تھا ۔ شام چار بجے پاک آرمی کا ہیلی کاپٹر زخمیوں کو لینے کے لئے آیا۔ میرے خاوند کو بھی فوجی جوان لے گئے مگر مجھے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ہیلی کاپٹر میں سب زخمی تھے۔ میں بہت پریشان ہوئی کہ فوجیوں نے مدد تو کی مگر اللہ جانے میرے شوہر کا کیا ہوگا۔ دو روز بعد مقامی پولیس کے اہلکار ہمارے گھر آئے اور اس وقت ہم گھر کے باہر خیمہ لگا کر پریشان بیٹھے تھے انہوں نے بتایا کہ میرے خاوند راولپنڈی سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں اور انہوں نے وارڈ اور بیڈ کا مکمل ایڈریس دیا۔ ہم اسی روز راولپنڈی روانہ ہوئے، میرے بچوں نے اپنے والد کو زندہ پا کر نہایت خوشی کا اظہار کیا ۔اگر ہم ایک گھنٹہ مزید لیٹ ہو جاتے تو اللہ جانے میرے میاں زندہ بچتے یا نہیں ۔کیونکہ ان کا خون بہت زیادہ ضائع ہو چکا تھا ۔
قارئین کرام ! اس طرح کے سیکڑوں واقعات 8اکتوبر 2005کے زلزلے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اگر ان سطور میں ان کا تذکرہ کیا جائے شاید ہم یہاں ان کا احاطہ نہ کر سکیں تاہم پاکستان کی حکومت نے اس وقت نہایت مستعدی اور کمال ذہانت کا مظاہرہ کیااور اس قیامت خیز زلزلے کے بعد کھلے دل سے بین الاقوامی امداد ی اداروں ،ایجنسیوں اور بیرونی افواج کے لئے دروازہ کھول دیاگیا۔پاکستان نے عالمی برادری کی جانب سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف آپریشن کی پیشکش کو قبول کیا اور افغانستان میں طالبان سے برسرپیکار نیٹو نے بھی پہلی بار رفاہی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے چنیوک ہیلی کاپٹروں کے قافلے سمیت ان متاثرہ علاقوں کا رُخ کیا مگر تب تک پاکستان کے صدر اور آرمی چیف ،جنرل پرویز مشرف نے 50ہزار فوجی جوان اور افسر آزادکشمیر ،شمالی علاقہ جات اور کے پی کے میں تعینات کرو ادئیے تھے جنہوں نے ہزاروں افراد کو نہ صرف زندہ ریسکیو کیا بلکہ انہیں موقع پر مرہم پٹی کرتے ہوئے سی ایم ایچ راولپنڈی ،ایم ایچ سمیت پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں پہنچاتے رہے کیونکہ آزادکشمیر میں کوئی ہسپتال سلامت نہیں بچاتھا۔بالاکوٹ ،بٹگرام کی بھی یہی صورتحال تھی ۔فوج مسلسل مظفرآباد، راولپنڈی شاہرات ،مظفرآباد نیلم شاہرات ،کوہستان ،بٹگرام ،بالاکوٹ،الائی سمیت سیکڑوں شاہرات اور رابطہ سڑکوں کو بحال کرنے میں مصروف تھی، بجلی اور ٹیلی فون کا نظام فوج نے بحال کیا۔ سب سے پہلے متاثرہ افراد تک، صاف پانی اور خوراک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا ۔تباہی اس قدر وسیع پیمانے پر تھی کہ مانسہرہ میں تیس فیصد مکانات،مظفرآباد میں 60فیصد ،راولاکوٹ اور بالاکوٹ میں 80فیصد مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے ۔38ہزار افراد کو فوج نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے صرف ایک ہفتے کے دوران ملک بھر کے ہسپتالوں میں پہنچایا۔جزوی اورمکمل تباہ مکانوں کا وسیع سروے شروع کروایا گیا۔ 35لاکھ مکانات کو اے۔بی ۔سی کیٹیگری میں معاوضہ جات دئیے گئے۔ اس کا سارا کریڈٹ پاک فوج خصوصاً جنرل مشرف کو جاتا ہے ۔اس سانحے میں ہزاروں پالتو جانوربھی ہلاک ہوئے جبکہ لوگوں کی کھڑی فصلوں والے کھیت بھی تباہ ہوئے ۔5لاکھ جانور زندہ بچ گئے جن کے لئے فوری طور پر چارے اور سردی سے بچانے کا بھی انتظام کیا گیا۔ 17ہزار سکول کی عمارتیں اور چوبیس چھوٹے بڑے ہسپتال بھی صفحہ ہستی سے مٹ چکے تھے ۔اتنا بڑا سانحہ پاکستان اور آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلے نہیں آیا تھا۔ بہرکیف ان مشکل حالات میں پاک فوج پورے وسائل اور ملک میں دستیاب ایم آئی 8اور ایم آئی 17ہیلی کاپٹرز سب کے سب زلزلہ متاثرہ علاقوں میں  جھونک دئیے گئے جبکہ کنٹرول لائن پر شدید زلزلے سے کئی پاکستانی فوجی بھی جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ اس سب کے باوجود فوج نے اپنی پرواکئے بغیر عوام کی خدمت کے لئے خود کو وقف کیا ۔پاک فوج کے جنرلز اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل شوکت سلطان خصوصی طور پرزلزلے سے متاثرہ علاقوں کے حوالے سے میڈیا پر روزانہ تازہ ترین صورتحال سے عوام کو آگاہ کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لئے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، چائنہ، آسٹریلیا،ہالینڈ، آسٹریا، پرتگال، ہسپانیہ ،ترکی سمیت دیگر ممالک کی افواج نے اپنے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت آزادکشمیر اور کے پی کے متاثرہ اضلاع میںبحالی و آبادکاری کا کام شروع کیا۔ تاریخ کے اس بڑے فضائی آپریشن میں 140 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا جس میں 45فیصد پاکستان کے طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے جبکہ سب سے زیادہ تعاون کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، عرب امارات،چین ،امریکہ ،جاپان ،ترکی و دیگر شامل ہیں  بیشتر ممالک نے 1ہزار انجینئرز اور2سو معاون عملے کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجا جو پاک فوج کے ساتھ مل کر تعمیر و ترقی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہے ۔حکومت پاکستان نے اس سارے عمل کی نگرانی کے لئے 'ایرا' کا ادارہ قائم کیا اور اس کے سربراہ بھی پاک فوج کے جنرل تھے جن کی نگرانی میں آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا میں اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ بنائے گئے جس میں سٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ مظفرآباد،راولاکوٹ ،باغ اور بالاکوٹ شامل ہیں۔ آزادکشمیر حکومت نے ایرا سے جاری فنڈز کو درست انداز میں لگانے کے لئے 'سیرا' اور خیبرپختونخوا کی حکومت نے'پیرا' قائم کیا۔ سڑکوں کی بحالی کے لئے پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور،سمیت دیگر فوجی شعبہ جات نے کردار ادا کیا۔ پاک نیوی،پاک فضائیہ، رینجرز سمیت پاکستان کے ڈاکٹرز، واپڈا ،ایف ڈبلیو او، پی ٹی سی ایل سمیت تقریبا ہر ادارے نے پاک فوج کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنی خدمات بھرپور انداز میں سرانجام دیںجبکہ پاکستان آرمی میڈیکل کور نے ان علاقوں میں فیلڈ ہسپتال قائم کئے جہاں یومیہ ہزاروں افرادکا مفت علاج اور زخمیوں کے آپریشن کئے جاتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بین الاقوامی تنظیموں آئی او ایم ،آکس فام ،مرلن ،ایم ایس ایف ،آئی سی آر سی، مسلم ہینڈز یو کے ،یونی سیف ،مرسی کور ،سعودی کویت ڈویلپمنٹ فنڈ، المکتوم فائونڈیشن ،ترکی کی آئی ایچ ایچ اور پاک ترک فائونڈیشن ،ایکشن ایڈ، ایکٹ انٹرنیشنل،FIAD،سیو دی چلڈرن یوکے،رابطہ عالم اسلامی،ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ سعودی عرب ،یو ایس ایڈ،یو کے ایڈ،کریتاس ،ریڈ کراس، کیئر انٹرنیشنل کے علاوہ پاکستانی این جی اوز ہلال احمر پاکستان،الرشید ٹرسٹ، فلاح انسانیت فائونڈیشن، خدمت خلق، المصطفیٰ ویلفیئر، الخدمت فائونڈیشن،پیما، سالک فائونڈیشن، مطیب الرحمن فائونڈیشن، پریس فار پیس، الرحمت ٹرسٹ، الفرقان، جامعہ بنوری ٹائون، الاختر، امہ ٹرسٹ سمیت دیگر متعدد تنظیموں کا بھی مکمل تعاون رہا جنہوں نے صحت و صفائی ،علاج معالجہ، خورونوش دیگر سامان کی فراہمی سمیت خیموں کی تقسیم، بڑی خیمہ بستیوں کے قیام، صاف پانی کی فراہمی اور تعلیمی میدان میں بہت تعاون کیا ۔پاک فوج کے ساتھ دنیا کے دیگر ممالک نے اس لئے بھی بخوشی کام کیا کیوں کہ پاک فوج نے بین الاقوامی امن فوج کے طور پر کانگو، چیچنیا، سیرالیون، صومالیہ، روانڈا، کمبوڈیا، بوسنیا اور ہیٹی میں سب سے زیادہ خدمات سر انجام دیں اور پاکستان کو اسی وجہ سے ہمیشہ اقوام متحدہ میں بلند مقام حاصل رہا ہے۔ آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت خیبرپختونخوا کے علاقوں میں پاک فوج نے جس جذبے سے کام کیا عوام کا تعاون ان کے ساتھ شامل رہا اور کشمیریوں نے اس کا برملا اعتراف کیا کہ پاک فوج ایک طرف مشرقی سرحد پر ہندوستان کی جارحیت کا مقابلہ کر رہی ہے، تو دوسری جانب مغربی سرحد پر عالمی دہشتگردوں کے صفائے میں بھی مصروف ہے ۔یہی فوج کراچی میں دہشتگردی کے خلاف منظم ہے ۔
1992کا سیلاب ہو یا کوئی اور ناگہانی صورتحال ۔پاک فوج ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ ملک میں بھل صفائی ہو یا مردم شماری ۔الیکشن ہوں یا کوئی اور قومی کام پاک فوج کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے اور ہماری فوج بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا کام ایمانداری سے کر کے واپس اپنی پوزیشنوں پر چلی جاتی ہے ۔حال ہی میں میرپور زلزلہ اور اس کے بعد بارشوں سے ہونے والی تباہی میں محکموں کی کارکردگی کھل کر سامنے آچکی ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج سے مزید تعاون لے کر ڈیزاسٹر کے حوالہ سے قائم محکموں کی تربیت کا خاص انتظام کیا جائے اور ان محکموں میں فعال کردار کے مالک فرض شناس دیانتدار، ایماندار اور پڑھے لکھے قابل لوگوں کو تعینات کیا جائے تو یہ محکمے خود بھی کوئی کام کرنے کے قابل بن سکیں گے۔ ||


مضمون نگار  کشمیری صحافی،  تجزیہ کار اور مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک  روزنامہ  کے ایڈیٹر  ہیں۔
[email protected]
 
 

یہ تحریر 203مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP