قومی و بین الاقوامی ایشوز

عبوری حکومت :افغانستان کا ممکنہ چیلنج اور پاکستان کا سفارتی کردار 

افغان طالبان کی جانب سے افغانستان او رکابل پر سیاسی برتری کے بعد بنیادی نوعیت کا سوال پاکستان سمیت عالمی دنیا کے لیے مستقبل کا افغانستان ہے۔طالبان کی  فتح کے بعد سب کی نظریں افغانستان اور طالبان سے جڑی نظر آتی ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ طالبان کا سیاسی انداز فکر کیا ہوگا او رکیسے افغان طالبان افغان عوام کو بھی متحد رکھ سکیں گے اور علاقائی سیاست کو مستحکم کرسکیں گے ۔ افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری اپنی جگہ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم افغان عوام میں اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرنا اور بکھرے افغانستان کو یکجایامستحکم کرنا ہے ۔اس لیے طالبان کا اصل اور حقیقی امتحان اب شروع ہوا ہے او ردیکھنا ہوگا کہ افغان طالبان ایسی کونسی سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جو ان کی داخلی اور خارجی محاذ پر سیاسی قبولیت کو یقینی بناسکے ۔
طالبان کو یہ واقعی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے طالبان سے مختلف ہیں اور ان کی سوچ و فکر کو ماضی کے طالبان کے ساتھ جوڑ کر نہ دیکھاجائے بلکہ نئے حالات میں ہماری سوچ اور فکر بھی نئی ہوگی ۔اسی نقطہ کو بنیا دبنا کر افغان طالبان نے جو اپنی سیاسی پالیسی جاری کی ہے وہ واقعی قابل غور بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی ۔ اول افغانستان میں مکمل طور پر ایمنسٹی کا اعلان کیا گیا ہے یعنی تمام مخالفین کے لیے عام معافی ہوگی اور کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔ دوئم عورتو ں ، اقلیتوں سمیت ہر فریق کے لیے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا ، ہرفرد کو مذہبی آزادی ہوگی ، عورتوں کو بغیر کسی ڈر و خوف کے کام کرنے ، سیاست کرنے ، باہر نکلنے او ر مرد کے ساتھ کام کرنے کی مکمل اجازت ہوگی ۔ سوئم جلد عبور ی متفقہ حکومت کا فیصلہ ہوگا ،قابل قبول قیادت دی جائے گی جس میں مخالفین کو بھی حکومتی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا یعنی یہ تمام فریقین پر مشتمل حکومت ہوگی ۔ چہارم تمام دنیا کو تعلقات استوار کرنے کی دعوت دیتے ہیں او رکسی بھی اہم بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ۔پنجم افغان سرزمین کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی ۔ششم میڈیا کو آزادی دی جائے گی اور حکومت پر تنقید کا بھی حق ہوگا۔ ہفتم ہمارا تحریک طالبان پاکستان یا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کی کسی بھی سطح پر سیاسی سرپرستی کی جائے گی۔
اگرچہ طالبان کی یہ سوچ اور فکر مثبت ہے او راسی کو اگر طالبان کی قیادت بنیاد بنا کر آگے بڑھتی ہے تو یقینی طو رپر ان کی عالمی قبولیت کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔ طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی اسی پالیسی کی بنیاد پر دنیاان کی کڑی نگرانی کرے گی اور انہی نکات کی بنیاد پر ان کے لیے سوالات بھی سامنے آئیں گے او ران کو ہر محاذ پر جوابدہ بھی ہونا ہوگا۔اس لیے طالبان کے پاس غلطی کی گنجائش زیادہ نہیں اور ان کی بنیاد ہی دنیا سے تعلقات استوار کرنے او ردنیا کے تحفظا ت کو دور کرکے پرامن افغانستان کی طرف بڑھنا ہے ۔طالبان کے پاس جہاں خارجی چیلنجز ہیں وہیں ان کے داخلی مسائل جن میں طالبان کا اپنے اندر کے اتحاد کو بھی برقرار رکھنا ہے او راس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ اقتدار کے بعد یہ ہی طالبان اقتدار کی رسہ کشی میں تقسیم ہوسکتے ہیں۔ طالبان کا سب سے بڑا چیلنج عبوری سیٹ اپ یا حکومت کا قیام ہے ۔ اگر اس میں واقعی طالبان نے تمام فریقین کی شمولیت کو یقینی بنالیا او رمخالفین بھی اسی عبوری حکومت کا حصہ بن گئے تو یہ واقعی طالبان کی بڑی کامیابی ہوگی اور دنیا کو بھی یہ پیغام جائے گا کہ یہ ماضی کے طالبان سے مختلف ہیں۔  اسی طرح طالبان کو ابتدائی یا عبوری حکومت میں موجود آئین اور سیاسی فریم ورک میں رہ کر ہی مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی ۔ آئین میں فوری تبدیلی یا نیا آئین بنانا یا انتخابات سے گریز کی پالیسی کسی بھی صورت میں طالبان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
افغانستان کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج طالبان کے لیے بھارت ہے کیونکہ بھارت نے پاکستان مخالف ایجنڈے او رطالبان کی مخالفت کو بنیاد بنا کر جو بڑی سرمایہ کاری افغانستان او رافغان حکومت پر کی تھی وہ کافی حد تک ان کی سیاسی پسپائی کا باعث بنی ہے ۔بھارتی میڈیا میں اس وقت طالبان کی سیاسی فتح کے بعد صف ماتم ہے اور بھارتی میڈیا او ران کی سیاسی اشرافیہ بھارت کی ریاست او ربالخصوص مودی حکومت پر شدید تنقید کررہی ہے کہ بھارت کی افغانستان میں بڑی سرمایہ کاری ڈوبنے کا ذمہ دار کون ہے ۔بھارت کی سرمایہ کاری کا بنیادی نقطہ دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ افغان حکومت ہی افغان عوام کا مینڈیٹ رکھتی ہے او رطالبان ایک سیاسی بوجھ ہیں او راس کی براہ راست سرپرستی پاکستان کرتا ہے ۔ افغان بحران کی بڑی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد ہوتی ہے اور وہ براہ راست فریق ہے او را س کے کردار کو باہر نکالے بغیر مسئلہ کا حل ممکن نہیں ۔اس لیے اب بھی بھارت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ افغان طالبان کے لیے آسانی پید ا کرنے کے بجائے مشکلات کو پید ا کرے او رپاکستان کو بھی ان معاملات میں الجھا کر پورے علاقائی استحکام کو کامیاب نہ ہونے دے ۔ اس کے پیچھے چند دوسرے ممالک کا گٹھ جوڑ بھی ہے جو مستحکم افغانستان کے مقابلے میں کمزور افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہوگا اور وہ چین کی مدد سے اس علاقائی سیاست میں اہمیت اختیار کرجائے گا جو بھارت کے مفاد میں نہیں ۔ اس لیے بھارت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ طالبان مخالف قوتوں کی مدد سے افغانستان میں بدامنی کو جاری رکھے او راگر یقینی طور پر افغانستان میں ایک قابل قبول سطح کی عبوری حکومت بنتی ہے جس میں طالبان مخالف قوتیں بھی ہونگی تو یہ بھی بھارت کے مفاد میں نہیں ۔ دہلی اس وقت افغانستان او رطالبان کی صورتحال کی وجہ سے علاقائی سیاست میں سیاسی تنہائی کا شکار ہے او راس کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی نئی مہم جوئی سے اپنے لیے افغانستان کے تناظر میں کوئی قابل قبول جگہ حاصل کرسکے ۔بالخصوص امریکی مفاد کے پیش نظر سی پیک کو ناکام بنانا ، رکاوٹیں کھڑی کرنا، تاخیری حربے اختیار کرنا او رخطے میں چین کے ابھرتے ہوئے نئے کردار کو محدود کرنا ہوگا ۔ اس کے لیے وہ سوشل میڈیا پر ایک ہائبرڈ جنگ کو بطور ہتھیار ہی استعمال کرے گا او رکھل کر پاکستان او رافغان مخالف ایجنڈے کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا مہم جو جھوٹ پر مبنی ہوگی کو پھیلایا جائے گا تاکہ وہ عالمی تاثر قائم کرسکے کہ پاکستان او رطالبان کا باہمی گٹھ جوڑ ناکام ہوگیا ہے ۔


 پاکستان کی حساسیت کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر افغانستان میں بدامنی رہتی ہے تو اس کا براہ راست نقصان پاکستان او رمجموعی طور پر خطہ کی سیاست پر منفی انداز میں سامنے آئے گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت  کہہ چکی ہے کہ پاکستان کی توجہ کا مرکز مستقبل کی علاقائی سیاست میں جیو اسٹرٹیجک نہیں بلکہ جیواکنامکس ہے او رہم ماضی کی تلخیوں سے باہر نکل کر اپنے لیے بھی اور دیگر ممالک کے لیے معاشی امکانات کو پیدا کرنے او راسے مستحکم کرنے کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔


جہاں تک بھارت کی جانب سے پاکستان او رطالبان کے باہمی گٹھ جوڑ کو عالمی دنیا میں پیش کرنا ہے تو اس میں اگر ہم پاکستان کے مجموعی طور پر کردار کو دیکھیں تو افغان بحران کے خاتمہ کا تھا ۔ اس کا اعتراف عالمی میڈیا او ربڑے ممالک بھی کرتے ہیں کیونکہ پاکستان نے کئی مواقع پر یہ بات کھل کر کہی کہ ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں ہم سب کے ساتھ ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب فریقین مل کر کوئی ایسا فارمولہ یا حل نکال لیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ جو طالبا ن عبوری حکومت پر راضی ہوئے ہیں جن میں مخالفین بھی شامل ہیں او رجو وہ ماضی کے طالبان سے مختلف نظر آرہے ہیں اس میں یقینی طور پر پاکستان کا کردار بھی شامل ہے ۔ پاکستان برملا کہتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں محض طالبان کی حکومت نہیں چاہتا اور اگر ایسا ہوگا تو مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔ پاکستان کا مطالبہ متفقہ عبوری حکومت کا تھا اور آج بھی ہے ۔ اسی طرح پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کہہ چکی ہے کہ افغانستان میں طالبان کو ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے خود کو نئے طالبان کے طور پر پیش کرنا ہوگا جو سب کے لیے قابل قبول ہوں او ران کی سیاسی ساکھ کو قائم کرسکے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت جو ہمیں طالبان کے ساتھ جوڑتا ہے اسلام آباد میں جو غیر طالبان افغان رہنما پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے مل رہے ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان او رغیر طالبان افغان رہنماوں میں ہم کہاں کھڑے ہیں کیوں ہماری سب فریقین میں قبولیت ہے ۔اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان تمام افغان دھڑوں کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پاکستان کے بقول افغانستان کے مستقبل کا فیصلہپاکستان  ، امریکہ یا بھارت نے نہیں بلکہ خود افغان عوام نے کرنا ہے ۔یہ جو افغان امن کے حوالے سے سیاسی دربارمزاکرات کا سجا اور جو مزاکرات افغان حکومت، طالبان اور عالمی قوتوں کے درمیان ہوئے اس میںبھی پاکستان کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور افغا ن امور کے عالمی ماہرین بھی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کے کردار کے بغیر افغان بحران کا حل ممکن نہیں تھا۔پاکستان کو بھی سب سے زیادہ تشویش اس وقت بھار ت کے مجموعی کردار سے ہے جو افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنا چاہتا ہے ۔اب بھی بھارت سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر پوری کوشش کرے گاکہ وہ دنیا کو اپنے بیانیہ کی طرف لے کر آئے تاکہ بھارتی مفاد کو تقویت دی جاسکے ۔
 پاکستان کی حساسیت کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر افغانستان میں بدامنی رہتی ہے تو اس کا براہ راست نقصان پاکستان او رمجموعی طور پر خطہ کی سیاست پر منفی انداز میں سامنے آئے گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت  کہہ چکی ہے کہ پاکستان کی توجہ کا مرکز مستقبل کی علاقائی سیاست میں جیو اسٹرٹیجک نہیں بلکہ جیواکنامکس ہے او رہم ماضی کی تلخیوں سے باہر نکل کر اپنے لیے بھی اور دیگر ممالک کے لیے معاشی امکانات کو پیدا کرنے او راسے مستحکم کرنے کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔جہاں تک طالبان کی سیاسی حکومت کو تسلیم کرنے کی بات ہے تو اس میں بھی پاکستان کسی جلدی میں نہیں ا ور اس کے بقول ہم علاقائی اور عالمی طاقتوں کی باہمی مشوروں سے مل کر طالبان کی حکومت کو قبول کرنے کا فیصلہ کریں گے۔کیونکہ پاکستان کے سامنے اہم سوال طالبان کی حکومت اور اس کا طرزعمل ہے ۔کیونکہ پاکستان کو اندازہ ہے کہ اگر طالبان ان کی توقعات کے مطابق نہیں چلتے اور عالمی دنیا کو ساتھ نہیں ملاتے تو اس کا بوجھ بھی پاکستان پر ہی پڑے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی مکمل توجہ افغانستان کی داخلی صورتحال پر ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم نے آگے بڑھنا ہے ۔کیونکہ بلاشبہ افغانستان میں آنے والی منفی سطح کی تبدیلی سے براہ راست پاکستان متاثر ہوسکتا ہے ۔ اس لیے پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کہ وہ ایسی منظم ، مربوط سیاسی ودفاعی حکمت عملی ترتیب دے جس کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان یا القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع نہ مل سکے او راس کے لیے افغان طالبا ن کو بھی ساتھ ملانا ہوگا کہ وہ اس عمل میں ہماری مدد کریں۔
اس پورے افغانستان کے کھیل میں امریکہ کا کردار بھی بڑا اہم ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی فوجی انخلا کے بعد امریکہ کا اس خطہ میں کردار ختم ہوگیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ خطہ کی سیاست کو مستحکم کرنے کے ایجنڈے کا حصہ بنے نہ کہ صورتحال میں بگاڑ کو پیدا کرنا امریکہ کے ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے ۔کیونکہ افغانستان کی تعمیر نو اسی صورت میں ممکن ہوگی جب عالمی طاقتیں بھی افغانستان کو ہی مستحکم کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہوں۔ افغانستان سمیت خطے کا امن کسی بھی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا او راس میں سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اسی طرح ان عالمی قوتوں کو ان عوامل پر بھی نظر رکھنی ہوگی جو افغانستان کو بڑے انتشار میں دھکیلنا چاہتے ہیں او ران کے خلاف بھی ایک مؤثر حکمت عملی درکار ہے۔ امریکہ کو بھی دنیا میں اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ وہ غیر مستحکم افغانستان کے ایجنڈے میں بھارت کا اتحادی ہے او راگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ خود امریکہ کی مجموعی سیاست کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ||


مضمون نگار معروف دانشور، صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں او رکئی اہم ملکی تھنک ٹینک کا حصہ ہیں ۔ جمہوریت، حکمرانی سے جڑے مسائل ، دہشت گردی اور علاقائی سیاست پر ان کی گہری نظر ہے ۔
[email protected]
 

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP