قومی و بین الاقوامی ایشوز

سانحہ قندوز کا پس منظر اور ممکنہ نتائج

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر

شمالی افغانستان میں واقع جغرافیائی اہمیت کے حامل اہم علاقے صوبہ قندوز میں ایک مدرسے پر کرائی گئی فضائی بمباری نے جہاں افغان عوام کے علاوہ ہزاروں حساس لوگوں کو دنیا بھر میں غمزدہ اور مشتعل کر دیا وہاں یہ سوال بھی شدت کے ساتھ سراٹھانے لگا کہ لاتعداد اقدامات، اربوں ڈالرز کے دفاعی اخراجات اور مسلسل کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن قائم کیوں نہیں ہو رہا اور خطے کو درپیش خطرات میں کمی کیوں واقع نہیں ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ خدشہ پھر سے سر اٹھاتا نظر آیا کہ افغانستان کے علاوہ امریکی اور نیٹو فورسز امن کے قیام میں واقعتا سنجیدہ ہیں بھی یا نہیں؟ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ افغان عوام کو اس قسم کے دو طرفہ حملوں کے نتیجے میں کسی دوسرے راستے پر چلنے پر مجبور تو نہیں کیا جا رہا۔ ایک ایسا راستہ جو کہ عوام نے 90کی دہائی میں مجاہدین کی آپس کی لڑائیوں سے تنگ آ کر طالبان کی حمایت کی شکل میں اختیار کیا تھا اور جس کے بعد افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے نے بہت خطرناک نتائج بھگتے۔ ایک ایسے راستے پر تو عوام کو نہیں ڈالا جا رہا جس کے نتیجے میں عوام کا عالمی اتحاد اور اپنے حکمرانوں پر اعتماد ختم ہو جائے اور وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہی چھوڑ دیں۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہاں نظریاتی اور حکومتی سطح پر جب بھی کوئی تبدیلی آئی حکومتوں اور سیاستدانوں نے تشدد اور بداحتیاطی کا راستہ اپنا کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ان تمام تبدیلیوں کے رد عمل میں نت نئے انقلابات یا خانہ جنگی کے حالات نے جنم لیا۔ 80کی دہائی میں سرخ انقلاب کے نام پر تبدیلی لائی گئی تو تشدد کا راستہ اپنا کر عوام کو بددل کر دیا گیا اور لاکھوں افراد ایران اور پاکستان کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس ا نقلاب کے دوران غلطی یہ کی گئی کہ معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچے اور اقدار کا مطالعہ کئے بغیر ایک ایسا نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی جس کی بنیاد افغان معاشرت کے بجائے سوشلسٹ بلاک کے نظریات پر قائم تھی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سرخ یا ثور انقلاب کے اگلے 70گھنٹوں کے دوران انقلابیوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں نظریاتی مخالفین کے نام پر 25000 افغانیوں کو قتل اور 50ہزار کو لاپتہ کر دیا۔ اس خوف سے نکلنے کے لئے تقریباً 50لاکھ افغانی سال 1979اور 1983کے درمیان ایران اور پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور بعد کے حالات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان دو ممالک میں اب بھی 30لاکھ سے زیادہ مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ رد انقلاب کے نتیجے میں افغانستان عالمی قوتوں کی جنگوں کا مرکز بن گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جس کے باعث اب تک تقریباً 25 لاکھ افغانی زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ سوشلسٹ حکمرانوں کے خاتمے کے بعد اسلام پسند مہاجرین برسراقتدار آئے تو انہوں نے کابل کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی اور وہ برسوں تک اقتدار پر قبضے کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ یہ سلسلہ جب ناقابل برداشت ہو گیا تو طالبان اور اس کے بعد القاعدہ کی شکل میں نئی قوتیں سامنے آ گئیں۔ اور طالبان کی حمایت ان لوگوں نے بھی کی جو کہ ماضی میں کمیونسٹ یا قوم پرست تھے۔ کیونکہ یہ لوگ کسی بھی قیمت پر امن چاہتے تھے اور جنگ سے تنگ آ چکے تھے۔ طالبان اور ان کے حامی امن کا نعرہ لگا کر آئے تھے مگر بعد میں انہوں نے افغانستان کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا اور وہ بھی تشدد پر اتر آئے ان کی حکومت نائن الیون کے واقعے کے رد عمل میں گرائی گئی اور عالمی فورسز اور ان کے حامی افغان حکمرانوں نے بھی حقیقی امن پر توجہ نہیں دی۔ آج سترہ سال گزرنے کے باوجود افغانستان نہ صرف یہ کہ امن کے لئے ترس رہا ہے بلکہ جنگ کی شدت میں سال 2017 کے دوران تین گنا اضافہ بھی ہوا۔ آج پھر سے اسی تناظر میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں اور افغان حکمرانوں نے اپنی روش نہ بدلی اور عوام طالبان اور داعش کے علاوہ عالمی فورسز اور اپنی فورسزکے دوطرفہ حملوں کا اسی طرح شکار ہوتے رہے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔

 قندوز پر طالبان نے ڈیڑھ سال قبل حملہ کیا تھا اور انہوں نے اس کے صوبائی دارالحکومت پر تقریباً 10روز تک قبضہ بھی کئے رکھا تھا۔ بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس قبضے کو بعض افغان افسران اور مقامی حکام کی آشیرباد حاصل تھی۔افغان صدر نے بعض حکام کو ہٹایا مگر علاقے میں حکومتی رٹ کی بحالی اور فورسز کی ضرورت پوری کرنے پر اس کے باوجود توجہ نہیں دی کہ یہ صوبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے دروازے پر واقع ہے اور یہاں کی صورت حال سے متعدد ممالک کو تشویش لاحق ہے۔ درمیان میں قندوز، ہرات، میدان وردگ اور غزنی میں لاتعداد دوطرفہ حملوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اور داعش نے بھی متعدد کارروائیاں کیں۔ مگر حکومت اور عالمی فورسز نے معاملات درست کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آتی رہیں کہ ان حساس اور اہم جغرافیائی علاقوں میں امر یکہ داعش کی، جبکہ روس اور ایران طالبان کی سرپرستی کر رہے ہیں تاہم صورتحال کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالات قابو سے باہر ہوتے گئے اور عوام خود کو غیرمحفوظ اور بے بس محسوس کرنے لگے۔

اس تمام عرصے کے دوران جہاں عوام کو داعش اور طالبان کے حملوں اور قبضوں کا سامنا رہا وہاں نیٹو اور افغان فورسز نے بھی متعدد بار عوامی اجتماعات، نجی شادی کی تقریبات، جنازوں اور عوامی مقامات کو حملوں، خصوصاً فضائی کارروائیوں، کا نشانہ بنائے رکھا۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں معصوم لوگوں کو طالبان یا دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا اور اس کے رد عمل میں عوام احتجاج اور بغاوت پر اتر آئے۔ قندوز کے حالیہ افسوسناک واقعے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں ان درجنوں بچوں کو طالبان سمجھ کر بمباری کا نشانہ بنایا گیا جو کہ اپنی معمول کی سالانہ تدریس مکمل کر کے سرٹیفکیٹس کے حصول یا دستاربندی کے لئے مذکورہ مدرسے میں آئے ہوئے تھے۔ تقریب جاری تھی کہ ان پر آگ برسائی گئی اور ان ننھے بچوں کو لمحوں میں اڑا کر رکھ دیا گیا۔ مقامی میڈیا اور عوام کے مطابق اس حملے میں 150سے زائد بچوں کوشہید کیا گیا۔ جبکہ سرکاری ادارے یہ تعداد 75اور 95 کے درمیان بتا رہے ہیں۔ متوفین کی حالت اتنی ابترتھی کہ متعدد بچوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کرناپڑا اور یہ علاقے کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک سوگ کے عالم میں ہیں۔ عوام نے متعدد بار احتجاجی جلوس نکالے اور اس سانحے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

واقعے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے تحقیقات کا حکم دیا اور وہ سانحے پر کافی ناراض اور مشتعل بھی نظر آئے۔ مگر بچوں کے والدین کے غم کا مداوا نہ ہو سکا اور ان کا خیال ہے کہ یہ حملہ افغان فورسز نے نہیں بلکہ امریکی فورسز نے کیا ہے جبکہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ بچوں کو طالبان یا دہشت گرد سمجھنے اور اس کی اطلاع دینے والے امریکی تھے۔ وجہ جو بھی ہو اس واقعے پر پورے ملک اور پوری دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا اور دوسروں کے علاوہ درجنوں افغان ممبران پارلیمنٹ سول سوسائٹی کے لوگوں اور رہنمائوں نے بھی اس پر شدید ترین رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو بے بس اور نااہل قرار دے دیا۔ بعض حلقوں نے ایسے واقعات کو نسل کشی کا نام دے دیا تو بعض نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے واقعات کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ افغان عوام کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ان کی گود میں جا کر بیٹھنے پر مجبور کیا جائے۔

اس سے قبل ہلمند میں جب طالبان اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ چل نکلا اور اس سے بڑی تعداد میں عام لوگ متاثر ہونا شروع ہو گئے تو ہلمند افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار سیکڑوں باپردہ خواتین نے باقاعدہ احتجاجی جلوس نکال کر فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور بعض نے طالبان کو مخاطب کر کے یہاں تک کہا کہ وہ ان کی حمایت کرنے کو بھی تیار ہیں مگر وہ لوگوں کا قتل عام بند کریں۔ اس قسم کا طرز عمل اس جانب واضح اشارہ ہے کہ عوام 80اور 90کی دہائی کی طرح مسلسل جنگوں اور حملوں سے تنگ آ گئے ہیں اور وہ امن کے لئے کسی سے بھی تعاون کرنے کو باامرِ مجبوری تیار ہیں۔اسی دوران غزنی میں گورنر سمیت 15افراد کو حملے میں مار دیا گیا جس سے خوف میں مزید اضافہ ہوا۔ ہلمند میں خواتین کے جلوس اور قندوز میں بچوں کی شہادت جیسے سانحات اور واقعات نے افغان معاشرت اور سیاست پر بہت منفی اثرات ڈال دیئے ہیں اور کئی ہفتے گزرنے کے باوجود سیاسی اور عوامی حلقوں میں مخالفانہ بحث، مطالبات اور رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تمام معاملے کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ شمالی افغانستان میں جہاں ایک طرف عالمی اور افغان فورسز کی رٹ کمزور دکھائی دینے لگی ہے وہاں یہ تاثر بھی بہت عام ہے کہ یہ علاقہ مستقبل قریب میں داعش کے ایشو پر روس اور امریکہ کے ایک نئے تصادم کا میدان بھی بننے والا ہے۔ یہ بات اب چھپی نہیں رہی کہ ایران، بھارت اور روس طالبان اور بعض دیگر گروپوں کو عالمی وسائل اور اسلحہ دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر داعش کی سرپرستی کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے دروازے پر داعش کو خطرہ بنا کر روس کو دبائو کا شکار بنایا جائے۔ ایسی ہی صورت حال کا مشرقی اور جنوبی افغانستان کو بھی سامنا ہے اور اسی تناظر میں بعض تجزیہ کار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر ایک طرف وسطی ایشیائی ریاستیں خطرے سے دوچار ہیں تو دوسری طرف پاکستان کو بھی افغان سرحد پر متعدد خطرات اور مستقبل کے نئے چیلنجز اور پراکیسز کا سامنا ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 457مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP