قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہا پسندی کے لئے صرف پاکستان ہی کیوں موردالزام؟

حسب توقع پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے ایک بار پھر بے چینی‘ حملوں اور ریاستی کارروائیوں کی زد میں آ گئے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کے حکمران اس سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر خطے میں جاری انتہاپسندی‘ کراس بارڈر ٹیررازم کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ پڑوسی جنگ زدہ ملک افغانستان اور عالمی برادری مسلسل یہ مطالبہ اور اصرار کر رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ یہاں سے طالبان سرحد پار کر کے افغان اور نیٹو فورسز پر حملے کرتے آئے ہیں تاہم جب پاکستان نے آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘کا آغاز کیا تو افغانستان کے بقول وہ انتظامات نہیں کئے جو اسے سرحد پر کرنے چاہئیں تھے۔ جبکہ پاکستان کی قیادت افغان لیڈر شپ کو مسلسل باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ سوات آپریشن کے برعکس اس دفعہ افغانستان بارڈر پر اپنا کنٹرول موثر کرے۔ تقریباً 8ماہ قبل ترکی میں سہ ملکی سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا تھا کہ پاکستان اور افغانستان 2014کے تناظر میں الزامات در الزامات کی سیاست کی بجائے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے باہمی مشاورت اور عالمی معاونت سے ایک مربوط حکمت عملی اپنائیں گے تاکہ امریکی انخلاء کے بعد خطے کو گزشتہ تلخ تجربے کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ اسی نشست کے دوران یہ بھی طے پایا تھا کہ افغانستان ان پاکستانی طالبان کے خلاف بھی کارروائی کرے گا جنہوں نے نورستان‘ کنٹر اور بعض دیگر افغانی صوبوں میں پناہ لے رکھی ہے اور افغان حکومت ان کے خلاف محض اس وجہ سے کارروائی سے گریز کر رہی ہے کہ وہ پراکسی وار کے فامولے کے تحت پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہ رہی ہے۔ تاہم ترکی سے واپسی پر جہاں ایک طرف وزیراعظم نوازشریف نے چھ مہینے تک ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کروایا وہیں دوسری طرف حامد کرزئی نے اپنا تمام زور اس بات پر لگایا کہ کس طرح نئے افغان سیٹ اپ میں اپنے شیئرز کو یقینی بنایا جا سکے۔ یوں دونوں اطراف کے طالبان اور بھی زور پکڑتے گئے اور 2014کے انتہائی اہم چھ مہینے ’’پلٹنے چھپٹنے‘‘ کے ایک کھیل کی نذر ہو گئے۔ ماضی کی دو طرفہ غلطیوں پر بحث کئے بغیر ایک تلخ حقیقت یہی ہے کہ اگر ایک طرف پاکستان بوجوہ طالبان کا مکمل خاتمہ نہ کر سکا تو دوسری طرف افغانستان اور امریکہ کا طرز عمل بھی کچھ زیادہ بہتر اور واضح نہیں رہا۔ جو روشن خیال دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان گڈ اور بیڈ طالبان کے باعث اپنے رویے میں امتیاز برت رہا ہے‘ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ طالبان کے بارے میں امریکہ‘ افغانستان‘ ایران اور سعودی عرب جیسے دوسرے ممالک کا رویہ بھی عملاً ایسا ہی رہا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ صرف پاکستان ہی موجودہ حالات کا ذمہ دار ہے‘ درست نہیں۔ یہ حلقے دلیل دیتے ہیں کہ فضل اﷲ جب سوات سے بھاگ رہا تھا تو پاکستانی فورسز نے اس کو روکا کیوں نہیں۔ تاہم ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب اسامہ بن لادن اور دیگر ہزاروں افراد 48ممالک کی فورسز کی موجودگی میں افغانستان سے بھاگ رہے تھے تو ان کو کسی نے کیوں نہیں روکا؟ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کیا امریکہ ماضی میں طالبان یا جہادیوں کا سپانسر اور حامی نہیں تھا؟ چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ پاکستان گڈ طالبان کے ساتھ رعایت برت رہا ہے تاہم اس سوال کا کیا جواب ہے کہ جب یہ گڈ طالبان سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں تو افغان‘ امریکی اور نیٹو فورسز کہاں سوئی ہوتی ہیں اور ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔ محض یہ کہنا کہ افغانستان میں کارروائیاں اس لئے ہوتی آئی ہیں کہ پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ درست طرز عمل یا دلیل قطعاً نہیں ہے۔ مولوی فضل اﷲ اور اس کا سسر صوفی محمد نائن الیون کے بعد امریکہ سے لڑنے 4000لوگ افغانستان لے کر گیا تھا۔ پاکستان نے واپسی پر صوفی محمد کو گرفتار کیا اور وہ تاحال حکومت کی تحویل میں ہے تاہم آج اگر افغانستان اسی فضل اﷲ یا دیگر کو پناہ دیتا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا اس واقعے کے تناظر میں سبب کیا ہے۔ سچی بات تو یہی ہے کہ اکثر ممالک طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں اور اگر آج خطہ ایک بار پھر حملوں اور بے چینی کی زد میں ہے تو اس کا ذمہ دار صرف پاکستان نہیں ہے بلکہ دیگر ممالک ’’بشمول امریکہ‘‘ بھی ہیں۔ پاکستان نے سال 2007کے بعد طالبان کے 390خودکش حملوں سمیت جتنے بڑے حملے برداشت کئے اور ان کے نتیجے میں جتنی اموات ہوئیں وہ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ایک معتبر ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2011کے دوران عراق اور افغانستان کی مجموعی اموات کے مقابلے میں پاکستانی اموات کی تعداد زیادہ تھی۔ دونوں ممالک میں 9400افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں یہ تعداد 11700تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے جاری جنگ کی کتنی بڑی قیمت چکائی ہے۔ پاکستان میں ایسے حلقوں کی کوئی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کی پالیسی واضح نہیں ہے۔ شاید ہم بھی ایسا سمجھتے آئے ہیں تاہم ایسا کہتے وقت یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ گڈ اور بیڈ طالبان کے معاملے پر امریکہ‘ افغانستان‘ سعودی عرب اور بعض دیگر کی پالیسیاں بھی مختلف نہیں ہیں۔ حامد کرزئی گزشتہ چھ سال کے دوران 13بار گڈ طالبان کے کمانڈروں جبکہ امریکہ چار سال کے دوران سات بار ’’گڈ گائیز‘‘ کو رہا کروا چکا ہے۔ ایران جیسے ملک میں سال 2013کے دوران القاعدہ لیڈر سیف العدل سمیت دیگر موجود رہے جبکہ اس سے قبل ایران کے کٹر مخالف کمانڈر گلبدین حکمت یار نے بھی دو سال تک قیام کیا۔ سعودی عرب امریکہ کا اتحادی اور القاعدہ کاسخت ترین مخالف ہے تاہم اس ملک نے بھی اپنے روابط قائم رکھے۔ ایک اور سوال بھی توجہ طلب اور قابل مباحثہ ہے وہ یہ کہ اکثر افغانی اور حامدکرزئی ہر برائی کا محور پاکستان کو ٹھہراتے آئے ہیں حالانکہ یہ بات کئی معتبر امریکی متعدد بار کہہ اور لکھ چکے ہیں کہ امریکہ نے کرزئی کو اس لئے صدر بنایا تھا کہ وہ پاکستان کا نامزد کردہ تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا کرزئی صرف پاکستان سے ناراض رہے ہیں یا دوسروں سے بھی وہ بار بار ناراض ہوتے رہے ہیں حقیقت تو یہی ہے کہ 12سالہ دور اقتدار میں وہ جتنی بار امریکہ پر چیخ اٹھے جو کہ ان کو عہدہ صدارت پر بٹھا چکا تھا اتنی بار وہ طالبان یا پاکستان پر بھی نہیں چیخے۔ ایران کے ساتھ بھی ان کا تعلق کار مثبت یا نارمل نہیں رہا۔ ایسے میں محض تمام الزامات پاکستان پر لگانا اور پاکستان کے اندر ان کا دفاع کرنا شاید مناسب رویہ نہیں ہے۔ پراکسی وارز میں ہر ملک اپنے مفادات اور مستقبل کے تناظر میں اپنا کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔ یہی سب کچھ اس جنگ کے دوران بھی ہوا تاہم بداعتمادی کے رویوں نے نہ صرف ان ممالک کو نقصان پہنچایا بلکہ اس کے نتیجے میں انتہا پسند نہ صرف اس خطے میں بلکہ پوری دنیا میں اور بھی مضبوط ہو گئے اور آج حالت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے علاوہ وسط ایشیا بھی ان کی قوت اور حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ سیاست اور ریاستی امور میں دوست اور دشمن بدلتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس خطے کے ممالک نے دور کے دوست تو بہت بنائے مگر پڑوسی کی دوستی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ تاثر کتنا غیرذمہ دارانہ ہے کہ امریکہ‘ بھارت‘ افغانستان اور ایران جیسے ممالک میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔ کیا اس کا دوسرا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستان اور اس کے ادارے امریکہ جیسی سپر پاور سے بھی زیادہ طاقتور ہیں؟ کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں ہے کہ افغانستان کے متعدد سرحدی صوبوں میں حکومت کمز ور اور طالبان زیادہ طاقتور ہیں۔ کیا ان صوبوں کو طالبان سے چھٹکارا دلانا اور انہیں ریاستی رٹ میں واپس لانا نیٹو اور افغان حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے یا یہ کام بھی پاکستان یا کسی اور کو کرنا ہو گا۔ بعض دلائل بہت بچگانہ ہوا کرتے ہیں اور شاید اس خطے کے لوگ اب اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے آپریشن کے بعد وہ لبرل عوامی حلقے بھی مخالفت کر رہے ہیں جو کہ برسوں سے اس کا خود مطالبہ کرتے آ رہے تھے۔ اب کی بار ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ کارروائی بیڈ طالبان کے خلاف ہو رہی ہے۔ جبکہ بعض حلقے ایئرکنڈیشنڈ رومز میں بیٹھ کر موسم اور رمضان کے بہانے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر یہ لوگ پاکستانی ہیں اور ان کو افغانستان سے زیادہ اس ملک کی کوئی فکر ہے تو بیڈ طالبان کے خاتمے پر ان کو کیا اعتراض ہے۔ کیا اے این پی کے 975کارکنوں اور بشیر بلور جیسے لیڈروں کو گڈ طالبان نے افغانستان میں جا کر مارا تھا یا بیڈ طالبان نے ان کو یہاں پاکستان میں نشانہ بنایا۔ رہی بات رمضان اور موسم کی تو جو جوان وہاں لڑ رہے ہیں کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے بچے اور خاندان نہیں ہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آپریشن شاید بیڈ طالبان ہی کے خلاف ہو رہا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ تاہم یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی سوچ اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر کے تاریک قوتوں کے حلقے میں اپنے اپنے حصے کا چھوٹا موٹا کردار ڈال دیا جائے اور سازشی تھیوریز کے مقبول عام قومی رویے سے گریز کیاجائے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا انتہا پسندی کا خاتمہ صرف وزیرستان آپریشن سے مشروط ہے؟ رہی بات افغانستان کی تو پاکستان کو وہاں کسی قسم کی مداخلت واقعتا نہیں کرنی چاہئے۔ اس پر دو رائے ہیں ہی نہیں اور وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ حکام اس عزم کا آن دی ریکارڈ کئی بار اظہار کر چکے ہیں۔ افغان حکام اور میڈیا بھی حالیہ انتخابی پراسس کے دوران مان چکے ہیں کہ انتخابی عمل کے دوران پاکستان کا کردار مثبت اور غیرجانبدارانہ رہا۔ اگر خود افغانی یہ مان رہے ہیں تو ان پاکستانیوں کو بھی یہ بات مان لینی چاہئے کہ پاکستان کا کردار مثبت رہا۔ ہمارے اسی طرز عمل کو سراہا بھی جانا چاہئے تاہم قوم پرستی اور افغان پرستی کے نام پر افغانستان کے لئے پاکستان کو لعن طعن کرنے کا رویہ بھی اب ہمیں ترک کرنا ہو گا۔ بدقسمتی سے یہ رویہ ان لوگوں نے اپنائے رکھا ہے جو خود کو نیشنلسٹ‘ لبرل اور ڈیموکریٹ کہتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ان کی ہے جو مشہور زمانہ دو تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں۔ (ایسے لوگ افغانستان کے اندر بھی موجود ہیں) یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان جانا بھی جان کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں تاہم میڈیا کے ذریعے وہ افغانیت اور پشتون نیشنلزم کی آڑ میں افغانستان کو بہت آئیڈیل ملک سمجھتے ہیں۔ ان کوزمینی حقائق‘ افغانستان کے اداروں اور لوگوں کے رویے اور اجتماعی طرز عمل کا نہ علم ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ادراک یا مشاہدہ۔ پاکستان کو گالیاں دینا ان کا شیوہ بن گیا ہے اور ان کے اسی طرز عمل نے بھی فاصلے بڑھا دیئے ہیں۔ حالیہ آپریشن کی نام نہاد مخالفت کرنے والوں میں یہ مٹھی بھر عناصر سرفہرست ہیں۔ راقم کو حال ہی میں ایک صحافتی ٹور پر افغانستان میں پانچ روز تک قیام کا موقع ملا تو ہم نے اس ملک کو پھر سے بہت بے چین اور پرخطر پایا۔ عبداﷲ عبداﷲ کی جانب سے انتخاب تسلیم نہ کرنے کے بعد پشتونوں اور غیر پشتونوں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دی۔ قدم قدم پر محسوس ہوتا رہا کہ اگر تلخی یونہی برقرار رہی تو یہ بدقسمت ملک اپنے لیڈروں کے ہاتھوں ایک بار پھر بدترین خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا اور عالمی برادری کی تیرہ سالہ محنت اور سرمایہ کاری رائیگاں چلی جائے گی۔ طالبان کو پھر جگہ مل جائے گی۔ بعض سفارتی حلقوں نے راقم کو بتایا کہ ان کو خانہ جنگی کے علاوہ افغانستان کی تقسیم کا بھی خدشہ لاحق ہے اور انہوں نے اس خدشے سے اپنے اپنے ممالک کو تحریری طور پر آگاہ بھی کر دیا ہے۔ بعض باخبر حلقے ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ افغان نیشنل آرمی میں بغاوت کا خطرہ ہے کیونکہ قیادت اور ٹروپس کے لیول پر اے این اے (ANA)میں نان پشتونوں کی اکثریت ہے اور ان کے اندر اس کے بوجوہ عبداﷲعبداﷲ کی حمایت زیادہ ہے کہ اشرف غنی کے پینل میں احمد ضیاء مسعود اور جنرل فہیم جیسے نان پشتون لیڈر بھی شامل ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوج میں بغاوت ہو گئی تو سکیورٹی کا پورا نظام دھڑام سے گر جائے گا اور اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ان حلقوں کے مطابق بغاوت کے اس خدشے کا امریکہ‘ اشرف غنی اور کرزئی کو بھی علم ہے۔ اس لئے امریکہ نے اپنی فورسز خصوصاً ایئرفورس کی سرگرمیاں پھر سے بڑھا دی ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے ذریعے مسئلے کے حل اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے لئے زبردست دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔ دوران قیام کابل میں عبداﷲ عبداﷲ کے حامی تشدد پر اتر آئے تھے۔ انہوں نے دوران احتجاج اس چوک کو بھی ملیا میٹ کر دیا جس پر پشتونستان چوک کا بورڈ لگا ہوا تھا جس کے بعد تلخی میں مزید اضافہ ہوا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان پرتشدد کارروائیوں کے دوران پولیس اور دیگر فورسز خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس جانب جا رہے ہیں۔ کرزئی حکومت کے اکثر وزیر اور مشیر دوسرے ممالک میں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ کرزئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ افغانستان کے نان پشتون اب کی بار پشتونوں سے جبکہ افغان پشتون پہلی بار پاکستانی پشتونوں سے نفرت کرنے لگے ہیں جو پشاور کوئٹہ اور فاٹا میں بھی محسوس ہونے لگی ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن سے مستقبل قریب کے منفی اور خطرناک نتائج کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ سیاسی اور عسکری ماہرین کے مطابق اگر امریکہ‘ پاکستان‘ افغانستان اور ایران نے بدلتے حالات کا فوری ادراک نہیں کیا اور دسمبر سے قبل اعتماد سازی اور مشترکہ کوششوں کی کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی تو خطے میں 90کی دہائی جیسے صورت حال پھر سے پیدا ہو جائے گی۔

یہ تحریر 332مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP