قومی و بین الاقوامی ایشوز

لاہور پراسس کی اہمیت اور اثرات

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر  

جنگ زدہ افغانستان میں قیامِ امن اورجاری مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے مختلف حلقوں اور افغان گروپس کے علاوہ بعض اہم ممالک کی کوششیں جاری ہیں تاکہ امریکی صدر کے مطابق نیٹوفورسز کے انخلاء کے بعد ملک کوماضی کی طرح خانہ جنگی اور عدمِ استحکام سے بچایا اور خطے کو پُرامن بنایا جاسکے۔ جو اہم ممالک طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان ایک مجوزہ پیس پلان یا روڈ میپ کے لئے گزشتہ ایک سال سے سفارتی سطح پر بنیادی کردار ادا کررہے ہیں ان میں پاکستان، ترکی، یو اے ای، چین اور روس سرفہرست ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی صدر کے نمائندہ  خصوصی زلمے خلیل زاد اپنی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً 9بار افغانستان جبکہ سات بار پاکستان آئے ہیں۔ ان کی کوشش رہی کہ افغان طالبان کو نہ صرف یہ کہ ایک امن معاہدے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ ان کو ان کی اس شرط سے بھی دستبردار کرایا جائے کہ وہ افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ بات کریں گے۔ چونکہ ایک عام تأثر اب بھی یہی ہے کہ پاکستان افغان طالبان پر اثر ورسوخ رکھتا ہے اس لئے زلمے خلیل زاد مسلسل پاکستان آتے رہے ہیں جبکہ اعلیٰ ترین امریکی حکام اور فورسز کے سربراہان بھی دورے کرتے آرہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ افغان امن کے لئے اس دلیل کی بنیادپر اپنا مثبت کردار ادا کررہا ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان کی ضرورت اور اس کے اپنے مفاد میں ہے تاہم اس بار پاکستان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ وہ امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے ماضی کی طرح اپنا کندھا پیش نہیں کرے گا اور یہ کہ اس بار وہ بعض دوسرے ممالک کی طرح صرف سہولت کاری کے کردارتک محدود رہے گا اور فریق یا ضامن بننے کی غلطی نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسے معاملات میں امریکہ کا اتحادیوں کے ساتھ ٹریک ریکارڈ کافی خراب رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ واضح کرنا لازمی ہے کہ وہ کون سے عوامل یا رکاوٹیں ہیں جن کے باعث مذاکراتی عمل، مصالحتی عمل یا فارمولے میں تبدیل نہیں ہوپارہا۔ دوبڑی رکاوٹیں ہیں ایک تو یہ کہ طالبان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے افغان حکومت اور لیڈر شپ ایک صفحے پرنہیں ہیں دوسرا یہ کہ طالبان اس شرط سے دستبردار نہیں ہورہے کہ امریکہ اپنی فورسز کے انخلاء کے لئے حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔ اگرچہ امریکی صدر نے23 جون کو اپنے مزید تین ہزار فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کیا ہے تاہم طالبان چاہتے ہیں کہ امریکہ مکمل انخلاء کے لئے ڈیڈ لائن کا اعلان کرے۔ تیسرا بڑا مسئلہ نئے مجوزہ سیٹ اَپ میں طالبان کی ایڈجسٹمنٹ کا ہے کیونکہ طالبان کو افغانستان کے آئین پر بعض اعتراضات ہیں اور وہ اس میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔ وہ موجودہ افغان حکومت کو بھی تسلیم نہیں کرتے تاہم بعض امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دوحہ پراسس اور ماسکو کانفرنس کے نتیجے میں طالبان لچک دکھانے پرآمادہ ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف افغان حکومت کو بھی شکوہ ہے کہ امریکی حکام مذاکراتی عمل کے دوران اس کو اعتماد میں نہیں لے رہے۔ بعض سینیٹرز اور عوامی نمائندے آن دی ریکارڈ الزام لگا چکے ہیں کہ امریکی سی آئی اے داعش کو سپورٹ کررہی ہے اور یہ الزام  روس اور چین جیسے ممالک بھی لگا رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں ایک طرف مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ نیٹو اور افغان فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں وہاں طالبان بھی سیزفائر کے کسی مطالبے یا اقدام سے انکاری ہیں اور وہ بھی مسلسل حملے کررہے ہیں۔ حالات اتنے غیر یقینی ہیں کہ عام اور صدارتی انتخابات اپنے وقت پر منعقد نہ ہوسکے اور اب کہا جارہا ہے کہ یہ ستمبر2019 میں ہوں گے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا28 جون کا دورئہ پاکستان اس حوالے سے بہت اہم رہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور گرمجوشی پیدا ہوئی ہے تاہم جنگ کے خاتمے کی چابی طالبان اور امریکہ کے پاس ہے۔ اپنی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے سیاحتی مرکز مری میں22سے 24 جون تک دو پاکستانی تھنک ٹینکس کے زیرِاہتمام لاہور پراسس کے نام سے انٹرا افغانستان ، انٹرا پاکستانی مکالمے کا ایک اہتمام کیا گیا جس میں افغانستان کے تقریباً 20 مختلف الخیال گروپس اور پارٹیوںکے 55 نمائندے اور لیڈرز شریک ہوئے۔ وفد کی قیادت حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کررہے تھے جبکہ دیگر قابلِ ذکر لیڈروں میں استاد عطاء ، استادمحقق، حنیف اتمر، احمدولی مسعود اور سپیس کونسل کے سربراہ کریم خلیلی سمیت متعدد دوسرے شامل تھے۔ دوبڑے موضوعات اور ایشوز پر فریقین کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ ایک تو یہ کہ افغان لیڈر شپ طالبان، پاکستان اور امریکہ کے  ماضی کے تلخ واقعات یاد کرنے کے بجائے مستقبل پر فوکس کرکے ایک نئے تعلق اور دَور کا آغاز کرے۔دوسرا یہ کہ ایک پُرامن افغانستان کے امکانات ڈھونڈ کر نئے سفر کا آغاز کرکے دوست اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا راستہ اپنایا جائے۔ 80 فیصد شرکاء نے ان تجاویز سے اتفاق کیا اوراپنی تجاویز اور خدشات کے علاوہ امکانات پر بھی بات کی۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر ذمہ داران  نے مؤقف اپنایاکہ پاکستان افغان مسئلے کے حل کے لئے مثبت کردار ادا کرے گا اور یہ کہ افغانستان پر حکمرانی کا حق کسی اور کے بجائے صرف افغان عوام اور ان کے قائدین کے پاس ہے۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں افغانستان کی طرح پاکستان بھی بری طرح متاثر ہوا۔ اس لئے اس کے خاتمے اور استحکام سے پاکستان کو بہت فائدہ ہے۔ ان کے مطابق الزام تراشی کے بجائے آگے کی سوچ لے کر مسائل کا حل ڈھونڈنا بہترین لائحہ عمل ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان امن پراسیس میں افغان عوام اور لیڈرشپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اس ضمن میں عالمی برادری کی بھرپور مدد کررہاہے۔
تجزیہ کاروں نے اس کانفرنس کو مفید قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اس سے مسئلے اور افغان قیادت کی آراء اور تجاویز سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ جبکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان قیادت کے ساتھ اس ایونٹ کے بعد رابطے پھر سے بحال ہوگئے ہیں جو کہ امن کے قیام اور دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔
دریں اثناء افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی دعوت پر اپنی اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ27 جون کو پاکستان کے دورے پر آئے جہاں انہوں نے  پاک افغان تعلقات کے فروغ کے علاوہ دو طرفہ تجارت، افغان مفاہمتی عمل اور خطے کی سکیورٹی کی صورت حال پر پاکستان کی حکومتی، عسکری اور سیاسی  قیادت کے ساتھ جامع، سودمند اورتفصیلی تبادلہ خیال کیا اور فریقین نے پرامن اور مستحکم  افغانستان کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا۔ جناب اشرف غنی نے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ہمراہ مختلف ایشوز پر مذاکرات کئے اور پاکستان کے علاقائی کردار کے تناظر میں اپنی توقعات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں آرمی چیف ، آئی ایس آئی کے سربراہ، وزیرِ خارجہ  اور متعدد دوسرے حکام اور وزراء بھی موجود تھے۔ فریقین نے دونوں برادر اور پڑوسی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش اور چند ضروری نکات پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے باہمی روابط تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اشرف غنی کے اعزاز میں ایوانِ صدر اور پی ایم ہائوس سمیت متعدد دوسرے مقامات پر ظہرانے اور عشایئے دیئے گئے جبکہ ان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیاگیا۔ جناب اشرف غنی دورئہ پاکستان کے دوران بہت پرجوش اور خوش نظر آرہے تھے۔ ان کی گرمجوشی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوںنے حکومتی عہدیداران کے علاوہ نصف درجن سے زائد اپوزیشن لیڈروں اور پارٹیوں کے سربراہان سے بے تکلفانہ انداز میں ملاقاتیں بھی کیں جبکہ وہ شیڈول اور سرکاری مصروفیات سے ہٹ کر زندگی کے مختلف شعبوں کے دوسرے افراد سے بھی ملے۔ وہ لاہور بھی گئے۔ تجزیہ کار اس پیشرفت کو امن کی جانب بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔


  [email protected]

یہ تحریر 184مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP