قومی و بین الاقوامی ایشوز

نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی

پالیسی مرتب کرنے والے حضرات و خواتین کو اگرچہ وقت کم ملا پھر بھی کوشش نظر آتی ہے کہ معاملے کی گہرائی اور گیرائی کا جس حد تک جائزہ لیا جاسکتا ہے‘ اس کا احاطہ کیا جائے ۔دہشت گردی‘ لا قانونیت‘ تباہی بربادی اورملک دشمنی کا دائرہ جتنا وسیع اور لرزہ خیز ہو چکا ہے‘ اس کا تقاضا تو یہ تھاکہ اس کی تیاری کی ذمہ داری صرف وزارت داخلہ تک محدود نہ رکھی جاتی‘ متعلقہ محکموں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں‘ تحقیقی انسٹیٹیوٹس‘ دینی اداروں کو بھی شامل کیا جاتا‘ تاہم یہ امر بھی لائق تحسین ہے کہ پالیسی مسودے پر سب کو غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے ۔

 

ایک زمانہ تھا جب اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران ہم ائرپورٹس پر صرف اپنے دفتری شناختی کارڈ دکھاتے ہوئے ہوائی جہاز کی سیڑھیوں تک پہنچ کر سیاسی لیڈروں‘ وزیروں سے گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ ان کی گاڑیاں بھی یہاں تک آجاتی تھیں۔ ہم سے بات کرکے وہ وہیں سے روانہ ہو جاتے تھے۔ یہ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کا ذکر ہے۔ اب تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ستر کے آخر سے داخلی اور سویلین سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوئے۔ تنظیم آزادئی فلسطین کی بہادر خواتین نے اپنے عظیم مقصد کی طرف توجہ دلانے کے لئے بڑی کامیا ب اور دلیرانہ مگر مسلح جدوجہد کی‘ کئی جہاز اغوا ہوئے اور جواب میں اسرائیل نے متعدد فلسطینی شہید کئے۔ اب خطرات فوجی حدود سے نکل کر سویلین اور سول آبادیوں تک پھیل چکے تھے۔ ان دنوں سے سکیورٹی کے نام پر اقدامات بڑھتے گئے اور آزادیاں محدود ہوتی چلی گئیں۔

پاکستان میں ہماری سرحدوں پر بھارت کی طرف سے خطرات ہمیشہ منڈلاتے رہے ہیں۔ 1948۔1965، اور1971 کی جنگیں انہی توسیع پسندانہ عزائم کا شاخسانہ تھیں‘ لیکن ہماری داخلی سلامتی کے لئے زیادہ مشکلات اور سنگین مسائل 1979 میں افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے خلاف امریکہ کی خفیہ مدد سے شروع ہوئے۔ بم دھماکے،مخالفین کے قتل کی کامیاب سازشیں‘ اسلحے کی بلاروک ٹوک غیر قانونی نقل وحرکت انہی دنوں میں شدت اختیار کر گئی۔مملکت اسی لئے وجود میں آتی ہے کہ وہاں بسنے والے انسانوں کی جان‘ مال اور املاک کی حفاظت کی جاسکے۔معاشرے کے تقاضے بھی یہی ہیں۔ تہذیب وتمدن اور ثقافت بھی اسی تحفظ سے عبارت ہیں اور جن معاشروں میں جان اور مال کو خطرات کا سامنا رہے‘ وہ مہذب اور متمدن نہیں کہلا سکتے۔ وہ قبائلی معاشرت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ قانون طاقتوروں کی لونڈی بن جاتا ہے۔

موجودہ حکومت نے بجا طور پر ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی میں شدت کا احساس کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے۔وزیر داخلہ‘ اور میاں نواز شریف کے قریبی سا تھی‘ چوہدری نثار علی نے ایک جامع پالیسی National Internal Secutity Policy 2014 - 2018 کے نام سے پارلیمنٹ میں پیش کی ہے جس پر اب ملک بھر میں بحث ہو رہی ہے ۔ پاکستان اس وقت بدترین دور سے گزر رہا ہے ۔کوئی دن ہی گزرتا ہوگا جب ملک میں کہیں نہ کہیں دھماکا نہ ہوتا ہو‘ بے گناہ مارے نہ جاتے ہوں۔ اکثر دفاتر خاص طور پر پولیس سٹیشن‘ حساس ادروں کے ہیڈکوارٹرز‘ فوجی تنصیبات‘ بنک سب پر گارڈز کی بھاری تعداد متعین ہے۔ ہوٹل تو سب بڑے چھوٹے شہروں میں قلعے بن چکے ہیں یہ سوچنا ضروری ہے کہ یہ نوبت کیوں آئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں اورامن کو سبوتاژ کرنے والوں کا صفایا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس میں جتنی دیر ہو گی وطن عزیز اتنا ہی غیر مستحکم ہوتا جائے گا ۔اس مسودے کے مطابق گزشتہ دس سال میں پچاس ہزار پاکستانیوں کی جانیں اس مخدوش صورت حال کی نذر ہو چکی ہیں جن میں عام شہری‘ خواتین‘ بچے‘ فوجی افسراور جوان‘ پولیس اہلکار‘ ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘اساتذہ‘ علماء سب شامل ہیں۔ پالیسی مسودے میں یہ بھی مصدقہ انداز میں بتا یاگیا ہے کہ معاشی طور پر ملک کو 78ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے جو ہم جیسے غریب ملک کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ملک کا سلامتی کا داخلی نظام مکمل طرح سے درست نہیں ہے‘ دنیا میں دہشت گردی جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور جرائم پیشہ افراد اور تنظیمیں جس طرح جدید اسلحے‘ نئی ٹیگنالوجی کا استعمال کررہے ہیں‘ ہماری سلامتی پر مامور ادارے نہ تو تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی ان کے پاس یہ جدید ترین ہتھیار ہیں ۔اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ مملکت کا کوئی ایک ادارہ ان بڑھتے ہوئے خطرات سے اکیلے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ہمارے خیال میں یہ مشاہدات اور تاثرات ہی کسی درست‘ مضبوط اور پختہ سیکیورٹی پالیسی کی بنیاد بن سکتے ہیں ۔پالیسی مرتب کرنے والے حضرات و خواتین کو اگرچہ وقت کم ملا پھر بھی کوشش نظر آتی ہے کہ معاملے کی گہرائی اور گیرائی کا جس حد تک جائزہ لیا جاسکتا ہے‘ اس کا احاطہ کیا جائے ۔دہشت گردی‘ لا قانونیت‘ تباہی بربادی اورملک دشمنی کا دائرہ جتنا وسیع اور لرزہ خیز ہو چکا ہے‘ اس کا تقاضا تو یہ تھاکہ اس کی تیاری کی ذمہ داری صرف وزارت داخلہ تک محدود نہ رکھی جاتی‘ متعلقہ محکموں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں‘ تحقیقی انسٹیٹیوٹس‘ دینی اداروں کو بھی شامل کیا جاتا‘ تاہم یہ امر بھی لائق تحسین ہے کہ پالیسی مسودے پر سب کو غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے ۔یہ مسئلہ اس وقت عالمی اور قومی تناظر میں دوسرے تمام معاملات پر فوقیت کا حامل ہے‘ کیونکہ اس سے انسانی زندگی جڑی ہوئی ہے‘ امن اس سے وابستہ ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے۔ غیر ملکی تاجر‘ صنعتکار پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں۔ معیشت زوال کی طرف گامزن ہے۔ تعلیمی شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے۔ حالات ہر لمحہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم من حیث القوم اس سنگین بحران سے نبردآزما ہوں۔ سارے ادارے ایک نہج پر سوچیں کیونکہ دشمن سب کے خلاف ہے اور اس کا چہرہ کوئی نہیں‘ کوئی ایک گروہ میدان میں نہیں ہے‘ کئی تنظیمیں اپنی اپنی جگہ الگ الگ ناموں سے ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم عمل ہیں‘ دھماکے کررہی ہیں‘ ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے‘ اداروں اور افراد کو دھمکیاں دے کر بھتہ لیا جاتا ہے۔ اہم شخصیتوں کو اغوا کرکے جبر اور دباؤ سے بڑی رقمیں اینٹھی جاتی ہیں۔ عام لوگوں میں مایوسی ہے۔ بے بسی ہے اور یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ مملکت کو شہریوں کے مال اور جان کی یا تو فکر نہیں ہے یا سٹیٹ اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ وہ ان سرکش عناصر کے مقابلے کی ہمت نہیں کرتی ۔پالیسی مسودے میں یہ نشاندہی بھی ملتی ہے کہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کے لئے غیر ملکی سفارت کار بھی سازشوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسی تمام قوتوں اور پاکستان د شمن نیٹ ورکوں نے جگہ جگہ مملکت اور حکومت کے اختیار کو چیلنج کر رکھا ہے ۔ان سنگینیوں کا احساس اور اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سلامتی سے متعلقہ سب اداروں کو آپس میں فعال رابطہ قائم اور برقرار رکھنا ہوگا۔آپس میں خفیہ معلومات اور اطلاعات کا تبادلہ بھی قوم کے مفاد میں ہے۔

پالیسی کی روح اور بنیادی مقصد کا تعین ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ہمیں مل جل کر ایسا محفوظ ماحول اور سازگار فضا تشکیل دینی ہے جہاں ہر صورت اور ہر لمحے ہر پاکستانی کی جان اور مال کا تحفظ بھی کسی مذہب ،فرقے ،زبان ،رنگ اور نسل کے امتیاز کے بغیر یقینی ہو‘ شہری آزادیاں بھی ہر صوبے علاقے میں ہر فرد کو حاصل ہوں ۔ان کے ساتھ ساتھ سماجی اور اقتصادی حقوق بھی کسی رو رعایت کے بغیر میسر ہوں۔ مملکت اور حکومت اس کی ضمانت دیں ،ملک کی حدود میں گوشے گوشے میں آئین پاکستان میں مندرج تمام اصولوں اور معیارات کے مطابق ایسی ہم آہنگی ،عزت نفس،احترام کی فضا قائم کی جائے جس میں پاکستان کے عوام ترقی یافتہ اقوام کی سطح پر زندگی گزار سکیں اور خوشحالی‘ خود کفالت کی منزل سے ہم کنار ہو سکیں ۔ بلا شبہ یہ عزائم ارفع اور مقدس ہیں ۔ان کی تکمیل ہی جمہوریت کی معراج ہو سکتی ہے ۔کسی بھی منتخب حکومت کا سب سے پہلا فرض منصبی یہ ہونا چاہیے کہ وہ شہریوں کو پر امن ماحول کی گارنٹی دے۔گزشتہ حکومتوں نے اگر ایسا نہیں کیا تو عوام نے انہیں اسی لئے دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیا ،اس ملک کے اصل مالک عوام ہی ہیں۔ ملک لوگوں سے ہوتے ہیں، پالیسی میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ تمام متعلقہ حلقوں سے مذاکرات اور مشاورت کی جائے گی۔ دہشت گردوں کے رابطے ان کی معاونت کرنے والوں سے کاٹ دئے جائیں۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کی شدت کم کرنے کے لئے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی استعداد‘ اہلیت میں بہتری پیدا کی جائے۔

دہشت گردی کے خاتمے میں ہمیں مصر‘ امریکہ اور ترکی کے عملی تجربات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس مقدس مشن میں ہمیں غیر ضروری بیانات‘ تقریروں اور ٹاک شوز سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ یہ حساس معاملات ہیں‘ انہیں ریٹنگ کی نذر نہیں کرنا چاہئے۔ پالیسی کے مطابق مذاکرات بھی ساتھ ساتھ ہوں اور جو گروہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار نہ ہوں‘ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔علما سے مشاورت بھی ضروری ہے۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث افراد کے ذہن بدلنے کے لئے فوری اور طویل المیعاد پروگرام شروع کئے جائیں۔ پہلے ہر شعبے میں یہی کوشش ہوگی کہ مسائل اور تنازعات پر امن انداز سے طے کئے جائیں ۔ پالیسی پر مکمل عمل درآمد کیلئے 32ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے اس کی تکمیل اس سال کے آخریعنی 31 دسمبر تک ہونا ہے ۔صوبے اس میں سے 22ارب خرچ کریں گے۔ وفاق کے ذمے 10 ارب ہوں گے۔ البتہ جب اور جہاں ضرورت ہوگی وفاق صوبوں سے تعاون کرے گا ۔ مسودہ ترتیب دینے والوں نے ان سب تنظیموں اور گروہوں کی نشاندہی کی ہے فہرستیں بھی دی گئی ہیں جن میں اقوم متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ممنوعہ تنظیمیں بھی ہیں اور وہ بھی جنہیں پاکستان حکومت نے بھی غیر قانونی قرار دیا۔ 22ویں نمبر پر تحریک طالبان پاکستان بھی نظر آرہی ہے جس سے ان دنوں مذاکرات جاری ہیں۔ پالیسی پر عمل درآمد کے لئے ایک ادارے کے قیام کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ جس کا نام National Counter Terrorism Authority تجویز کیا گیا ہے۔ اس کی ذمے داریاں بہت وسیع اور کئی جہات میں ہیں چیئرمین وزیر اعظم‘ ارکان میں وزیر داخلہ پنجاب‘ سندھ‘ خیبر پختون خوا‘ بلوچستان‘ گلگت بلتستان کے چیف منسٹرز بھی شامل ہیں‘ وزیر خزانہ وزیر دفاع وزیر قانون‘ وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر‘ سینیٹ‘ قومی اسمبلی کے نامزد ارکان خفیہ اداروں کے سربراہ بھی ارکان میں نمایاں ہیں۔

اپنی جگہ یہ بڑی خوش آئندکوشش ہے لیکن اتھار ٹی میں اتنے زیادہ عہدیداروں کی شمولیت سے اس کا اجلاس ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ وزیر داخلہ اس کے سربراہ ہوں‘ صوبوں کے وزرائے داخلہ اور انٹیلی جنس سربراہ کافی ہوں گے ۔ دہشت گردی کے خاتمے میں ہمیں مصر‘ امریکہ اور ترکی کے عملی تجربات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس مقدس مشن میں ہمیں غیر ضروری بیانات‘ تقریروں اور ٹاک شوز سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ یہ حساس معاملات ہیں‘ انہیں ریٹنگ کی نذر نہیں کرنا چاہئے۔ پالیسی کے مطابق مذاکرات بھی ساتھ ساتھ ہوں اور جو گروہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار نہ ہوں‘ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔علما سے مشاورت بھی ضروری ہے۔ مذہبی شعائر کے بارے میں ان کی بات ہی مستند ہو سکتی ہے،جہادی لٹریچر بڑے پیمانے پر شائع ہورہا ہے اور تقسیم بھی ہورہا ہے ۔اس کی مانیٹرنگ ہونی چاہئے اور یہ بھی علمائے حق کے ذریعے ہو تو نتیجہ خیز ہوگی۔ انتہا پسندی پھیلانے میں اس لٹریچر اور ذہن سازی کا بڑا دخل ہے۔ اس سلسلے میں قومی داخلہ سلامتی بہت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ اس طرف توجہ مرکوز کئے بغیر وطن عزیز میں پائیدار سلامتی محال رہے گی۔ میر ے خیال میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ یونیورسٹیوں‘ دارالعلوموں ‘کارپوریٹ سیکٹر کو بھی مشاورت میں شامل کر کے زیادہ دور رس نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

یہ تحریر 219مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP