قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر پریمیئر لیگ کا انعقاد اور بھارتی منفی رویہ

مظفرآباد میں 6اگست سے جاری کشمیر پریمئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل راولاکوٹ ہاکس نے جیت لیا۔ مظفرآباد کی ٹیم نے بہت عمدہ انداز میں کھیل پیش کیا اور مقابلہ کیا مگر راولاکوٹ کی ٹیم دنیائے کرکٹ کے ہیرو شاہد آفریدی کی قیادت میں چیمپئین ٹھہری، کے پی ایل نے مظفرآباد میں پہلی بار اتنے بڑے اور شاندار ایونٹ کا انعقاد کیا جو بہت کامیاب رہا۔ تاریخ میں آزادکشمیر کے اندر اتنا بڑا سپورٹس ایونٹ دیکھنے کو نہیں ملا جس میں کشمیر بھر اور پاکستان ودنیا بھر سے لوگ میچ دیکھنے آئے تھے صرف مظفرآباد اور اس کے مضافات کے تمام گیسٹ ہاؤ سز اور ہوٹلز کے 800 کمرے پندرہ دن کے لیے بک تھے اوریومیہ 10ہزار گاڑیاں مظفرآباد میچ دیکھنے کے لیے داخل ہوتی تھیں، آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں تاریخ میں پہلی بار انٹرنیشنل کرکٹ کھلاڑی پہنچے جن کو روکنے کے لئے بھارت نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ کشمیر پرئمیر لیگ کے زیر اہتمام اور محکمہ سپورٹس آزادکشمیر کے تعاون سے 6 اگست کو اس ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا ۔رنگا رنگ اور شاندار افتتاح میں سابق صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان، قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی، سینٹر فیصل جاوید خان نے اس ایونٹ میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی اس ایونٹ کی خاطر مظفرآباد میں موجود رہے۔ شاہد آفریدی سمیت کئی سابقہ و موجودہ قومی سٹارز،پرفام کررہے تھے۔کے پی ایل کے میچز 17اگست تک جاری رہے اس میں آزاد کشمیر کی کل 6ٹیموں نے حصہ لیا۔ دنیا کے خوبصورت ترین نڑول سٹیڈیم مظفرآباد میں برسات کے اس سہانے موسم میں جب چھکے چوکے لگے تو نریندر مودی کے سینے پر جیسے مونگ دل دی گئی ہو کیونکہ بھارت خالصتاً کھیل کے اس ایونٹ پر سیخ پا رہا۔ بھارت مظفرآباد میں کے پی ایل کے کرکٹ ٹورنامنٹ پر اتنا گھبرایا جیسے یہاں میچ نہیں بلکہ ایٹم بم کی لانچنگ ہورہی تھی۔ 
شدت پسند ہندو جماعت آر ایس ایس نے کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف دہلی اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ بھارتی میڈیا بھی آرایس ایس کا آلہ کار بن کر خوب زہر اگل رہا تھا۔ ٹویٹر پر بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اپنے پالتوئوں کے ذریعے پوری پروپیگنڈا مہم جاری رکھی اور کے پی ایل کے حق میں ٹویٹس کرنے والوں کو فوراً بے ہودہ زبان میں بغیر کسی دلیل کے جوابات کے بجائے گالیاں ہی دیتے دکھائی دئیے جوبھارت کی پریشانی ظاہر کرتا ہے۔ بھارت کے نیتاؤں، اس کے قومی سلامتی کے اداروں اور اس کے نام نہاد آزاد میڈیا کے لیے باعث شرم ہے کہ میچیز مظفرآباد میں ہورہے ہیں اور تکلیف دہلی میں ہورہی ہے۔ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی دہلی ہل چکا تھا اور جلوس نکل رہے تھے جس پر کے پی ایل کے سی ای او چودھری شہزاد اخترکا کہنا تھا کہ کشمیر پریمیئر لیگ صرف اور صرف کھیل کا ایونٹ ہے مگر حیرت ہے کہ بھارت میں کے پی ایل کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کوکیا نام دیا جائے۔ بھارت کی یہ تکلیف کشمیریوں اور پاکستان کے مؤقف کی بڑی کامیابی ہے کہ ایک طرف ہم یہاں آزادی سے کھیل رہے ہیں اور دوسری طرف ایل او سی کے پار کشمیری دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بند ہیں جونہ کھیل سکتے ہیں نہ مرضی سے جی سکتے ہیں۔ اب یہ میچز آئندہ سال ان شااللہ آزادکشمیر بھر میں ہوںگے۔ بھارتی حکومت اور اس کے کرکٹ بورڈ کا کھیل کو سیاست زدہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ ہم کشمیر پریمیئر لیگ کے تمام میچز اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے نام کرتے ہیں جن کی جدوجہد حق خودارادیت کے لیے ہے۔
دریں اثناء اس وقت کے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان اور وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کے پی ایل کے افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں کہا ہے کہ ہم مظفرآباد میں کرکٹ کھیلیں گے بھارت میں ہمت ہے تو سرینگر میں ٹورنامنٹ منعقد کرکے دکھائے۔کشمیری شہداء کے لہو کی قسم بھارت سے آزادی حاصل کرکے رہیں گے اور سری نگر تا جموں، لداخ تا کرگل کھیل کے میدان آباد ہوںگے۔ صدر و وزیر اعظم آزادکشمیر اور کے پی ایل کے سربراہ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے یہ ہر کشمیری کے دل کی آواز ہے ،کشمیری ایک دن آزادی سے سانس لے سکیں گے جس طرح آج آزادکشمیر میں ہم آزادی سے کھیل رہے ہیں اسی طرح جلد ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائی بھی آزادی کا حق رکھتے ہیں اور اللہ وہ دن ضرور لائے گا۔  مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں صورتحال نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ 5اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کے مودی کے یکطرفہ جابرانہ اقدامات کو دو سال مکمل ہوچکے ہیں، وہاں سکیورٹی، کاروباری، معاشی،تعلیمی حوالے سے صورتحال نہایت خراب ہے، لوگ دو سال سے گھروں میں قید ہیں، ان کا روزگار چھین لیا گیا، سب سے بڑی انڈسٹری سیاحت اور ہوٹلنگ کی تھی ختم ہوکر رہ گئی،فروٹ قالین بافی، پیپر ماشی، ووڈ انڈسٹری، زعفران کی عالمی تجارت تباہ کرکے رکھ دی گئی ہے، ٹرانسپورٹ، بازار، سکول کالجز،حتٰی کہ مساجد تک بند ہیں، وہاں اس بدترین محاصرے میں میچ جیسی صحت افزا سرگرمی تو درکنار بھارتی حکومت یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کی تقریبات فوجی چھاؤنیوں کے اندر بندوقوں کی سنگینوں کے سائے میں منعقد کرواتی ہے اور نریندرمودی جھیل ڈل میں خالی کشتیوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر دنیا کو دھوکا دیتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام میں مقبول ہیں مگر دنیا بھارت کا مکروفریب جانتی ہے مگر معاشی و اقتصادی معاملات کی وجہ سے بھارت کو ناجائز طور پر رعایت مل رہی ہے۔ آزادکشمیر میں جنرل الیکشن 2021 کی بات کی جائے تو الیکشن کا ٹرن آؤٹ62فیصد رہا اور فوج کی نگرانی کے بغیر ہوئے اور مقبوضہ کشمیر میں جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ بھارتی فوجی زبردستی لوگوں کو گھروں سے لا کر ڈبے بھروانے اور میڈیا کو دکھانے کی سعی لاحاصل کرتی ہے، پھر بھی ٹرن آؤٹ کا تناسب سنگل فگر کراس نہیں کرسکا اور بھارت کو اصل تکلیف یہی ہے۔ اب کے پی ایل کے کھلاڑیوں نے مودی کے سینے پر چھکے اور چوکے مار کر اسے مزید باولے پن پر مجبور کردیا ہے، آپ کو بتاتا چلوں کہ مظفرآباد کے اس کھیل کے ایک ایونٹ کی وجہ سے صرف 15 دنوں میں کاروبار اتنا تیزہوا کہ کورونا کے دوران جو نقصانات ہوئے تھے اس کا بھی کسی حد تک ازالہ ہوچکا ہے۔ اسی طرح آزادکشمیر بھر میں ٹورازم کو فروغ ملا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کے چالیس ممالک میں براہ ِراست مظفرآباد کے خوبصورت قدرتی مناظر دیکھے جاتے رہے۔ کئی لوگ خیال کرتے تھے کہ شاید مظفرآباد کوئی دیہی علاقہ ہے یا غیر ترقی یافتہ ہے اوراسی طرح بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ مظفرآباد کنڑول لائن سے متصل ہے اور بھارتی فوج کی فائر رینج میں ہے مظفرآباد آکر اُن کی کافی غلط فہمیاں دور ہوگئیں اور اب اس ایونٹ کی وجہ سے مظفرآباد معاشی،سیاحتی اور دیگر کئی حوالوں سے ترقی کرے گا۔ایونٹ میں 6ٹیموں نے حصہ لیا۔کے پی ایل کے ذمہ داران کا تعلق آزادکشمیر سے نہیں ہے، مختلف صوبوں سے ہے۔ اسی طرح ان چھ ٹیموں کی ملکیت بھی خیبر پختون خوا، پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کے پاس ہے اور یہ ان کی کشمیر سے محبت ہے کہ وہ انہیں مظفرآباد کھیچ لائی اور اس ایونٹ کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا اور کشمیری عوام کی بھرپور شرکت نے دنیا کو حیران کردیا کہ واقعی اس خطہ میں ٹیلنٹ کے ساتھ سپورٹس مائنڈ کے لوگ موجود ہیں اور وہ گراؤنڈ میں کھیلنے والوں کو بہترین کمپنی دے سکتے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے دوران خواتین، بچے اور نوجوان سب بہت شوق سے میچ دیکھتے رہے۔ 



خاص بات یہ کہ ایسا شاندار ایونٹ ہوا کہ دینی مدارس اور سکولوں کے بچوں کے لیے بھی فری انٹری دی گئی اور تمام مکاتب فکرکے مدارس کے علماء اور طلباء اس ایونٹ میں شریک ہوئے۔ چیف جسٹس آزادکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم، ججز جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خواجہ نسیم بھی اس ایونٹ میں شریک رہے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ صداقت حسین راجہ بھی ٹورنامنٹ کے میچز دیکھتے رہے۔ ہم نے اس دوران سٹیڈیم میں بیٹھے ایک حافظ قران اور بی ایس کے سٹوڈنٹ حسان خان، سکولز کے طلبا انس خان، سعد خان اور محمد ذکی سے بات کی کہ آپ کیسامحسوس کررہے ہیں تو انھوں نے اپنے جوابات میں کہاکہ ہم آج بہت خوش ہیں کہ ایک طرف آزادی سے ہم کھیل رہے ہیں ہم پر کوئی قدغن نہیں مگر اس کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے حالات دیکھ کر پریشان بھی ہیں کہ کس طرح ہمارے بھائی بہنیں گھروں میں محصور ہیں اور بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔ اللہ کرے ان کو بھی آزادی ملے اور ہم اکٹھے ٹورنامنٹ کھیلیں۔
سٹیڈیم میں منقسم کشمیری خاندان کے ایک صحافی محمد اقبال میر جو ریاستی اخبار کے مدیر ہیں، میڈیا پویلین میں موجود تھے، نے ہمارے استفسار پر کہا کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم برداشت کیے اور محفوظ مستقبل کی خاطر اللہ کی رضا کے لئے ہجرت کی، ہمارے لئے کے پی ایل کا مظفرآباد ایونٹ عید سے کم نہیں کیونکہ ہم نے مقبوضہ وادی میں کبھی ایسی صحت مند سرگرمی نہیں دیکھی، ہاں البتہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ ضرور سنی۔ پیلٹ کی بوچھاڑ دیکھی۔
 ٹورنامنٹ میں ایک اور منقسم کشمیری خاندان کی معروف بیوٹیشن صالحہ نے بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ کھیل کی اہمیت ہے یہ میچز ہم راولپنڈی،لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن مظفرآباد میں کشمیر پریمیئر لیگ کے عنوان سے اس ٹورنامنٹ کی جو اہمیت ہے کوئی ایونٹ اس کا ثانی نہیں۔ ہم آج بہنوں اور دوستوں کے ہمراہ یہاں ٹکٹ لے کے آئی ہیں اور ہمیں بہت اچھا لگ رہا ہے ہمارے آباؤ اجداد کی ریاست دشمن کے قبضے میں ہے مگر ہم پریشان اس لئے نہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے اور وہ مظلوم کا حمایتی ہے۔ انشااللہ ہم ایک دن ضرور آزاد ہوکر پاکستانی بھائیوں کے ہمراہ آزادی سے کھیلیں گے اور آزادی کا جشن منائیں گے۔ ٹورنامنٹشائقین کے اعتبار سے بہت کامیاب رہا، صرف فائنل دیکھنے والوں کی تعداد تیس ہزار سے زائد تھی۔سٹیڈیم میں تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی اورسٹیڈیم سے باہر پہاڑی پر بھی شائقین نے رات گئے تک میچز دیکھے۔ حکومت آزادکشمیر،محکمہ سپورٹس، بالخصوص پاک فوج،پاک رینجرز، آزادکشمیر پولیس،ضلعی انتظامیہ،شہری دفاع،ریڈ کریسنٹ اور مختلف محکموں اور اداروںکے ذمہ داران کی انتھک محنت اور مکمل انتظامات کی وجہ سے اللہ کے فضل سے کوئی سانحہ رونما نہیں ہوا کیونکہ اطلاعات تھیں کہ بھارت اس ایونٹ کو ناکام کرنے کے لیے کوئی مذموم حرکت کرسکتا ہے مگر عوام اور اداروں نے مل کر اس سازش کو ناکام بنایا۔ بھارت نے عالمی کھلاڑیوں کو روکنے کے لیے سر دھڑ کا زور لگایا مگر ایونٹ پھر بھی کامیاب ہوگیا ۔کے پی ایل سراسر ایک کھیل کا ایونٹ تھا اس کو بھی سیاسی بنانے کے لیے بھارت نے انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے ذریعے دلی اور دیگر شہروں میں مظاہرے کروائے مگر اس پر دنیا نے کوئی توجہ نہیں دی۔ آئی سی سی نے اس ایونٹ کی اجازت دی،پی سی بی کے ذمہ داران اور خصوصاً چیئرمین قومی کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی مسلسل بارہ روز مظفرآبادمیں موجود رہے اور ان کی شبانہ روز کاوشوں سے ٹورنامنٹ کا فائنل بھی ہوگیا۔ اب ہرسال مظفرآباد میں کے پی ایل کا انعقاد ہوگا جبکہ میرپور،راولاکوٹ،کوٹلی میں بھی سٹیڈیم اس قابل بنائے جائیں گے کہ ان میں میچز ہوں۔ کے پی ایل کے فائنل کے بعد کشمیر پریمئر لیگ کے سربراہ نے اعلان کیا کہ ایک نئی ٹیم جموں جانباز کے نام سے شامل کی جائے گی اور اب کشمیر کے تمام خطوں کی نمائندہ ٹیمیں اگلے سال حصہ لیں گی۔ شاہد آفریدی نے مظفرآباد میں کرکٹ اکیڈمی کا اعلان کردیا ہے۔بھارت کے لیے بس اتنا ہی پیغام ہے کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ کشمیری آزاد ہیں اور ان پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں تو وہ سرینگر میں اس طرح کا ٹورنامنٹ کروا کر دکھا دے تو دنیا دیکھ لے گی کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ کشمیریوں کو 25 ماہ سے جس اذیت سے گزارا جارہا ہے کرفیو،لاک ڈاؤن،گرفتاریوں،تشدد کے ذریعے ان کی تحریک حریت دبائی جارہی ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ بھارت کبھی بھی کے پی ایل کے طرز پر ٹورنامنٹ نہیں کرواسکے گا۔ ||


مضمون نگار مظفرآباد آزاد کشمیر سے شائع ہونے والے ایک اخبار سے وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 114مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP