متفرقات

ہمارے خواب‘اور کل کا پاکستان

یک بار پھر ملک میں بے سمتی دکھائی دے رہی ہے۔
کچھ معلوم نہیں ہورہا۔ ہمارا بحری جہاز کس ساحل کی طرف جارہا ہے۔
ایک امر تو واضح ہے کہ فوج دہشت گردی کے خلاف ایک قطعی فیصلہ کن پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور عملی طور پر اس میں مصروف بھی ہے۔ لاہور کے انتہائی اندوہناک المیے کے بعد فوج اور رینجرز نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ بڑی تعداد میں مشکوک اور مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ لیکن اس ایک سمت اور جہت کے علاوہ کسی شعبے میں اوپر نیچے کسی کو نہیں بتایا گیا ہے کہ ہم دائیں جارہے ہیں یا بائیں۔ ہماری معیشت کا رخ اور رجحان کیا ہے۔ ہم کھلی اور آزاد معیشت کے قائل ہیں یا ایک پابند کے۔ ہم مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں یا مشرق کی جانب۔ ہم جنوبی ایشیا کا حصہ ہیں یا وسطی کا یا مشرق وسطیٰ کا۔پاکستان اور خطے کی تاریخ اور جغرافیے پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ پہلے ہمارے ہاں 60 اور 70 کی دہائی میں دائیں اور بائیں بازو‘ رجعت پسند اور ترقی پسند کی کشمکش زوروں پر رہی۔ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے بھی صادر کئے گئے۔ 1970 کے انتخابات کے دوران سوشلزم کی حمایت کرنے والوں کے خلاف متعدد علماء کا فتویٰ اخبارات کی زینت بنا۔ یہ الگ بات کہ پھر ان فتویٰ صادر کرنے والوں میں سے کئی سوشلزم کا پرچار کرنے والی پارٹی کی جھولی میں جا گرے کیونکہ عوام نے اسے حکمرانی کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ پھر ایک طویل عرصہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان جنگ لڑی جاتی رہی۔ ایک مختصر عرصہ اچھی حکمرانی چاہنے والوں اور خراب حکمرانی کرنے والوں کے درمیان لڑائی کا بھی ہے۔ حقیقت یہی تھی اور ہے کہ اس وقت دنیا میں مقابلہ صرف خراب اور بہتر حکمرانی کے درمیان ہے ‘چاہے وہ کمیونسٹ ملک ہو‘ سرمایہ دار معاشرہ ہو یا مسلم ممالک۔

 

آئیے اب اپنے ہاں نظر ڈالیں۔ آج کل یہ کشمکش کن فریقوں کے درمیان ہے۔
اب کوئی تجزیہ کار بھی اس تفریق کو واضح الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ ایک تذبذب ہے۔ انتشار ہے۔ میں نے بہت پہلے ایک غزل کہی تھی۔ جو اس کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ دو اشعار آپ کی نذر ہیں۔
سمجھ رہے ہیں کہ تیزی سے ہم سفر میں ہیں
کسے خبر ہے سفینے تو اک بھنور میں ہیں
یہ جانتے ہیں کہ منزل نہیں مقدر میں
بڑے خلوص سے ہم تم مگر سفر میں ہیں


سمت کا تعین قومی سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں‘ جن کے اپنے مفکر ہوتے ہیں‘ پالیسی ساز ہوتے ہیں‘ پالیسی پلاننگ سیل ہوتے ہیں۔ جہاں قومی اور بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اپنے علاقے میں اس کے کیا اثرات پڑ رہے ہیں۔ عام آدمی کیا سوچ رہا ہے۔ اب تورابطے کا دور ہے۔ تاریخ کی تیز ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی تک ہر ایک کی رسائی ہے۔ سوشل میڈیا ہے جو معاشرے کے ایک بڑے حصّے کے ذہنوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ ان سیلوں میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کیا کیا سیاسی‘ مذہبی‘ سماجی رجحانات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ان کے نتائج کس کس صورت میں برآمد ہوں گے۔ پالیسی سازوں کی سفارشات پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ طویل اور گہرے غور و خوض کے بعد پالیسی بیان جاری کرتی ہے جس سے پارٹی کارکنوں کو بھی اور عام شہریوں کو بھی ایک منزل کا تصور ملتا ہے اور راہ نمائی بھی ہوتی ہے۔


مجھے تاریخ پاکستان کے کئی اہم موڑ یاد آرہے ہیں۔ جب مختلف پارٹیوں کی مجالس عاملہ کے اجلاس ہوتے تو ان کے لیڈر‘ کارکن اس مقام پر جمع ہوجاتے تھے۔ اور انتہائی بے تابی سے پارٹی قیادت کے لائحہ عمل کا انتظار کرتے تھے۔ کراچی‘ لاہور‘ کوئٹہ‘پشاور‘ ڈھاکا‘ میں میں نے یہ مناظر دیکھے ہیں اور یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ ان بحرانی مواقع کی سنگینی اور نزاکت کا ان لیڈروں کو ادراک ہوتا تھا۔ وہ بہت ہی خلوص اور دلجمعی سے بحران کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے تھے‘ تجزیہ کرتے تھے۔ ان دنوں قومی سیاسی پارٹیوں کی ذیلی شاخیں بھی بہت منظم ہوتی تھیں۔ مجلس عاملہ کے رکن اپنی پارٹی شاخوں سے تازہ ترین معلومات حاصل کرتے تھے۔ میٹنگ کے شرکاء ان پر سیر حاصل بحث کرتے۔ پھر فیصلے ہوتے تھے۔ ان کی روشنی میں آگے کا سفر طے ہوتا تھا۔


اب تو میں دو تین دہائیوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بڑے بڑے بحران ہمارے سر پر منڈلاتے ہیں مگر قومی سیاسی پارٹیاں اپنی سارے ملک کی نمائندہ مجلس عاملہ کا اجلاس طلب نہیں کرتی ہیں۔ ہر سیاسی سربراہ نے اپنی کچن کابینہ (قریبی دوستوں اور رشتے داروں کے گروہ) تشکیل دے رکھی ہے۔ سارے بڑے اہم فیصلے اسی میں کرلئے جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیے، بلوچستان سے را کے سینئر ایجنٹ کی حراست اپنی جگہ اہم خبر تھی۔ بعد میں اس نے جو انکشافات کئے ہیں‘ سازشوں کے پردے چاک کئے ہیں اس سے یہ اور بھی معنی خیز ہوگئی ہے۔ کیا یہ واقعہ قومی سیاسی جماعتوں کی مرکزی مجالس عاملہ کے اجلاسوں کا تقاضا نہیں کرتا ہے۔ اس تفتیش سے بھارت کے جو عزائم پاکستان کے بارے میں سامنے آتے ہیں‘ کیا وہ تشویشناک نہیں ہیں۔ کیا ہماری سلامتی کو مشرق کی طرف سے خطرات لاحق نہیں ہورہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تب بھی‘ نہیں ہے تب بھی۔ میرے خیال میں بڑی سیاسی پارٹیوں کو اپنے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو اکٹھا کرکے ان معاملات پر غور و خوض کرنا چاہئے تھا۔ یہ اس لئے اور زیادہ ضروری ہے کہ ٹی وی چینل ایسے مواقع پر جن تجزیاتی پروگراموں کا اہتمام کرتے ہیں‘ وہ انتہائی روا روی میں کئے جاتے ہیں۔ بحث کا معیار سطحی اور گفتگو عامیانہ ہوتی ہے۔ اس سے ان پارٹیوں کے کارکن متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان شوز میں پارٹیوں کے جو رہنما شریک ہوتے ہیں‘ کیا پارٹی کی طرف سے کوئی تنظیم ان کی باقاعدہ رہنمائی کرتی ہے۔ ان کو پارٹی پالیسی سے آگاہ کرتی ہے۔ ایسا یقیناًنہیں ہوتا۔ اس لئے کنفیوژن اور بڑھ جاتی ہے۔ بہت تعجب ہوتا ہے کہ جن کندھوں پر پاکستان کے ساڑھے 18کروڑ عوام کا بوجھ ہے‘ رہنمائی جن کا فرض منصبی ہے‘ وہ ان سنگین چیلنجوں کے بارے میں اتنا غیر سنجیدہ رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں‘ اور فوری کوئی پالیسی تشکیل کیوں نہیں دیتے۔ جس سے کارکنوں اور رہنماؤں کو ایک واضح موقف مل سکے۔


قومی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیاکا رویہ بھی مطلوبہ سنجیدگی اور شفافیت سے بہت دور ہوتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ابھی تک ہماری غیرذمہ دار‘ غیر منظم اور قومی سیاسی جماعتوں کی ایک توسیع بنا ہوا ہے۔
اس کے مقابلے میں فوج کے ادارے کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں وہاں کور کمانڈرز۔ فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگیں اپنے معمول اور طے شدہ عرصوں کے مطابق تو ہوتی ہی ہیں۔ لیکن جہاں کوئی بڑا واقعہ، حادثہ یا سانحہ رونما ہوجائے تو کور کمانڈرز کے اجلاس فوراً ہی طلب کرلئے جاتے ہیں۔ کور کمانڈر اپنے اپنے یونٹوں سے معلومات اور آگہی لے کر پالیسیاں طے کرتے ہیں۔ان کا اعلان بھی ہوتا ہے اور عمل بھی۔
دُنیا بھر میں قیادت ایک ہی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی قیادت ہے‘ فوجی قیادت ہے‘ مذہبی قیادت ہے‘ تاجر قیادت ہے‘ وکلاء قیادت ہے‘ میڈیا قیادت‘ ہر قیادت کی خواہش ہے کہ ملک ان کی مرضی کے مطابق چلے‘ لیکن جب ان سے ملتے ہیں‘ تو یہ سب ایک دوسرے کے خلاف تو تفصیل سے الزامات عائد کرنے میں لطف اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ طے نہیں کرپایا کہ پاکستان کو کیسا ہونا چاہئے‘ اس کی منزل کون سی ہے۔


زندہ اور ذمہ دار قومیں اور ان کے مختلف شعبے اپنے نصاب میں، اپنے معمولات میں، ارد گرد کے حالات‘ خطے میں نشیب و فراز‘ اور دنیا میں رونما ہوتی تبدیلیوں کی روشنی میں یہ طے کرتی ہیں کہ آئندہ دس پندرہ برس کے لئے ہمارا روڈ میپ کیا ہونا چاہئے۔ اسی سے قوم کو ایک لائحہ عمل ملتا ہے۔ اسی سے ملک میں ایک ایسا سازگار ماحول تشکیل پاتا ہے جس میں سارے فریق اور اہم کردار طے شدہ روڈمیپ پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔


کسی سیاسی لیڈر سے پوچھ لیجئے۔ کسی مذہبی رہنما سے‘ کسی تاجر قائد سے‘کسی خواتین کی تنظیم کے سربراہ یا نمائندے سے دریافت کیجئے کہ کیا اس نے اپنے طور پر یہ طے کیا ہے کہ آئندہ روڈ میپ کیا ہونا چاہئے‘ آئندہ ہم پاکستان کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ سیکولر‘ انتہا پسند‘ لبرل‘ اعتدال پسند‘روشن خیال‘ متعصب‘ شدت پسند‘ ہم کیسی معیشت چاہتے ہیں۔ کیسا کلچر‘ کیسا معاشرہ یہ روڈ میپ بننا بہت ضروری ہے۔ہر روز کئی کئی گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ ضائع ہورہے ہیں۔ منزل معلوم نہیں ہے۔ اس لئے سفر با مقصد نہیں ہورہا ہے۔


ہم آزاد ملک ہیں خود مختار قوم ہیں۔ یہ ہمیں ہی طے کرنا ہے کہ پاکستان کیسا ہونا چاہئے پھر اس پاکستان کی تشکیل کے لئے دن رات ایک کردیں۔
میرے ذہن میں تو یہ بات آرہی ہے کہ آئندہ دس پندرہ سال بعد واقعتا اگر ہم نے کسی پاکستان کے خدو خال اور حدود دائرہ کار طے کرلیا ہے‘ تو اس کے حصول کے لئے ہمیں اس کی بنیاد اسکولوں میں رکھنی چاہئے۔ آج جو بچہ سکول میں داخل ہورہا ہے۔ اس کو 16سال بعد ایم اے ایم ایس سی یا سیاسی ایم بی اے کرکے عملی زندگی میں داخل ہونا ہے۔ 15سال بعد کا پاکستان آج پہلا قدم اٹھارہا ہے۔ ہم اپنا تجربہ اس سے شروع کریں۔ ان بچوں کو مرحلہ بہ مرحلہ ایسی کتابیں پڑھائی جائیں ایسے سبق سکھائے جائیں‘ جن سے وہ اس خاص سمت میں آگے بڑھیں۔ جو قوم نے ان کے لئے طے کی ہیں۔


پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے‘ بلوچستان‘ آزاد جموں کشمیر‘ گلگت بلتستان‘ سب جگہ ایک سا نصاب ہو اور ایک سی تربیت ہو۔ ایسے قومی ہیروز کے بارے میں بتایا جائے جن کے کارناموں سے ملک واقعی آگے کی سمت میں بڑھا ہے‘ انہیں اپنے شہروں سے محبت سکھائی جائے‘ ان شہروں کی عظمت ان کے ذہنوں میں نقش کی جائے‘ اپنے شہروں کی میراث سے آگاہ کیا جائے اور نصب العین یہ ہو کہ ہمارے شہریوں کے ذہن عالمی ترقی یافتہ ملکوں کے شہریوں کے مطابق تیار ہوں۔


اس وقت جو بے سمتی ہے‘ افراتفری ہے‘ نفسا نفسی ہے‘ انحطاط ہے‘ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ہم نے دوسروں کی جنگیں لڑنا شروع کیں۔ 1978 سے یہ پستی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ نائن الیون 2001 سے اس میں زیادہ تیزی آتی رہی ہے۔ کمزور حکومتیں مسائل طے کرنے میں بھی ناکام رہیں اور ترجیحات کے تعین میں بھی تذبذب کا مظاہرہ کرتی رہیں۔آس پاس تیزی سے تبدیلیاں آرہی تھیں مگر ہم ان کے ساتھ قدم ملاکر نہیں چل سکے۔ جس انتشار اور انحطاط میں ہم گھرے ہوئے ہیں‘ یہ جلدی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ اور اپنی تاریخ کا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ یہ کم از کم آٹھ سے دس سال تک اور حاوی رہ سکتا ہے۔ اس لئے ہمارے ذہن میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ آج ہم اصلاح حال کی جو کوشش کریں گے اس کے نتائج دس سال بعد ہی پختہ شکل میں برآمد ہوسکتے ہیں۔ ہمیں اس نسل کو تیار کرنا ہے جو دس سے پندرہ سال کے اندر ملک کی عنان اپنے ہاتھوں میں لے گی۔ اب جو انحطاط اور انتشار ہے‘ یہ اس نسل کی وجہ سے ہے۔ جسے ہم نے نقل سے امتحان پاس کروائے۔ سفارش اور رشوت سے نوکریاں دیں۔ میرٹ کا مل جل کر راستہ روکا۔ اب خبردار‘ ہوشیار اور ہزار احتیاط ۔ اب جو نسل ہم حکمرانی اور عوام کی خدمت کے لئے تیار کریں‘ اس کا ذہنی معیار‘ تخلیقی صلاحیتیں‘ تہذیبی رجحانات‘ تعلیمی عمدگی‘ صنعتی مہارت اور پیداواریت کی ہنرمندی عالمی سطح کے برابر استوار کریں۔ پاکستان کو یقیناً ہم ایک سمت اسی صورت دے پائیں گے۔ دس پندرہ سال بعد اگر ہم ایک طاقتور فلاحی پاکستان کی آرزو کررہے ہیں تو ان برسوں میں ہم ان تمام اسباب کو دور کریں۔ وہ رکاوٹیں ہٹائیں جو آگے بڑھنے کے لئے سازگار ماحول کی تشکیل میں حائل رہیں۔ ان میں جاگیردارانہ رجحانات ہیں، قبائلی معاشروں سے عسکریت پسندی ہے، طبقاتی تضاد ہے۔ حکمرانوں کے لاڈلے شامل ہیں۔ وہ مسلح لاڈلے جنہیں ہم نے مختلف وجوہ کے لئے پالا۔


پرانے بحث مباحثوں میں الجھنے کے بجائے آگے دیکھیں۔ آس پاس ترقی کرتی قوموں کا مشاہدہ کریں۔ اپنے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں کو بروئے کار لانے دیں۔


دوسری قوموں نے ایسا کیا ہے۔
ہم بھی یہ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ جو ان دست و بازو، تروتازہ ذہن اور بے حساب قدرتی وسائل میسر ہیں۔
بس یہ خود طے کرلیں کہ ہم اپنے بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں کے لئے کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔


مضمون نگارنامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 313مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP