قومی و بین الاقوامی ایشوز

امریکہ ۔ بھارت سٹریٹجک پارٹنر شپ

میں انٹرنیٹ پر مختلف Websitesپر جا کر نظر ڈال رہا ہوں۔ صفحات کے پرنٹ نکال رہا ہوں۔ باربار سیڑھیاں چڑھ کراپنی لائبریری سے کچھ رپورٹیں‘ کتابیں لے کر آرہا ہوں۔ میری بیگم میری بے چینی دیکھ کر پوچھ رہی ہے کہ آپ کس مخمصے میں ہیں۔

میں ’’امریکہ‘ بھارت‘‘ میں پیار کی چڑھتی ہوئی پینگوں پر کچھ جاننا چاہ رہا ہوں۔ ’اوہ! یہ لکھ دیں کہ مرغی ہماری‘ کڑ کڑ اِدھر‘ انڈے اُدھر‘ اس کا یہ جامع اور مختصر محاوراتی تبصرہ‘ پاکستانیوں کی اکثریت کے دل کی بات ہے۔ کہیں بھی‘ کسی سطح پر‘ کسی شہر میں‘ شمال یا جنوب‘ بالائی یازیریں پاکستان میں ہر ایک کا گلہ یہی ہے کہ ساٹھ سال سے دوستی ہمارے ساتھ دہشت گردی سے جنگ میں اتحادی ہم‘ لیکن ساری مہربانیاں انڈیا پر‘ اپنی غزل کا

ایک شعر یاد آتا ہے۔ پہلے اس کا مطلع دیکھ لیں۔

یوں جو کم دام ہوئے چشم خریدار میں ہم

اس سے بہتر تھا کہ آتے ہی نہ بازار میں ہم

حسبِ حال شعر یہ ہے۔
عمر تو کاٹ دی اس شوخ کی دلداری میں

وقت آیا تو شمارے گئے اغیار میں ہم

یہ 1979 کی بات ہے۔ جب ہم سوویت یونین کی مسلّح افواج کو افغانستان سے نکالنے کی امریکی مہم میں پورے مذہبی جوش و خروش اور نظریاتی عقیدت کے ساتھ شامل تھے۔ کمیونزم کے تمام دشمنوں کے لئے ہم نے آنکھیں بچھا دی تھیں۔ دل کے دروازے کھول دےئے تھے۔ عین انہی دنوں‘ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر ویلنگٹن میں واقع انڈین ڈیفنس سروسز سٹاف کالج میں بھارت کا ارون پرکاش‘ امریکہ کا والٹر ڈوران‘ تربیت کے دوران ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ ان کے درمیان کورسز کی تکمیل کے بعد بھی روابط رہے۔ 25 سال بعد دسمبر 2004 میں جب سونامی کی مہیب لہروں نے بحیرہ ہند (Indian Ocean) میں خوفناک تلاطم پیدا کیا۔ آس پاس کے 14 ممالک تباہی اور بربادی کے مناظر پیش کررہے تھے۔ دو لاکھ تیس ہزار انسانی زندگیاں اس کی نذر ہوگئیں۔ انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سری لنکا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ 25 سال بعد پرکاش اور ڈوران پھر یکجا تھے۔ بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کے سربراہ ایڈ مرل والٹر ڈوران تھے اور ارون پرکاش بھارتی بحریہ کے چیف‘ اس تباہی بربادی میں انسانی امداد تو اس وقت کی ضرورت تھی‘ لیکن دونوں دوستوں نے اسی لمحے بحرِہند پر حکمرانی کا خواب بھی دیکھا۔ دونوں مملکتوں کی بحری فوجوں میں قریبی تعاون کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سمندری ملن نے 1999 سے امریکی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان جاری سیاسی‘ اقتصادی‘ قربتوں کو مزید مستحکم کردیا۔

یہ ماسکو ہے۔ امریکی صدر جارج بش۔ لارا بش کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ امریکی خاتون اوّل کو بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے قریب لے جا کر یوں متعارف کروا رہے ہیں۔ ۔

’’یہ ہیں ایک ایسے ملک کے منتخب وزیراعظم‘ جہاں ہمیشہ سے حکومت ووٹ کے ذریعے تبدیل ہوتی آرہی ہے‘ جہاں القاعدہ ہے نہ کوئی اور دہشت گرد تنظیم‘ نہ خودکش بم دھماکے‘‘۔

اس سے پہلے 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن کا دورۂ بھارت ان دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ قریبی تعلقات کے قیام کے لئے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوتا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا جاتا ہے کہ انڈو امریکن۔ (بھارت۔ امریکہ) شراکت کو مؤثر طریقوں سے زیادہ گہری جڑیں فراہم کی جائیں گی۔ کلنٹن کا خود یہ کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ 20 سال میں بھارت کو نظر انداز کیا۔ اب امریکہ مستقبل میں ایٹمی معاملات کے سبب پیدا ہونے والے منفی اثرات کو ختم کردے گا۔

جولائی 2005 میں وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر بش کہتے ہیں۔ ’امریکہ بھارت کو 21 ویں صدی میں بڑی عالمی طاقت بننے میں بھرپور مدد کرے گا۔‘

چند برس بعد امریکی صدر بارک حسین اوباما یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں: ’’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں اصلاحات کے بعد اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں انڈیا ایک مستقل رکن کی حیثیت سے شریک ہو۔‘‘

برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کا کہنا تھا۔ امریکہ بالآخر درست قدم اٹھاتا ہے۔ لیکن جب دوسری سب کوششیں کرچکا ہو۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے ہرچہ وانا کند۔ کند ناواں۔ لیک بعداز خرابی بسیار

واشنگٹن‘ دہلی اور دوسرے عالمی دارالحکومتوں سے اس صدی کے آغاز سے اُبھرنے والی ایسی آوازیں۔ دہشت گردی کی بھیانک وارداتوں سے اپنے داخلی تنازعات سے برسرپیکارپاکستان کے لئے یقیناًخطرے کی گھنٹیاں بجاتی ہیں۔ بار بار کانوں سے یہ الفاظ ٹکراتے ہیں۔ آنکھوں کے سامنے لہراتے ہیں۔ بھارت اور امریکہ Strategic Partners ہیں۔ گزشتہ صدی کے نصف سے آخر تک یہ ایک دوسرے سے متضاد اہداف کے داعی تھے۔ بھارت‘ سودیت یونین اور دوسرے ان تمام ممالک سے ان گنت معاہدوں میں بندھا ہوا تھا۔ جنہیں امریکہ اپنا دشمن قرار دیتا تھا اور جن کے خلاف سرد جنگ میں اربوں ڈالر صرف کرتا رہا ہے۔

1999 سے شروع ہونے والی امریکہ بھارت شراکت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور انتہائی تحمل سے سوچنے اور کچھ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔

امریکی صدور‘ تھنک ٹینکس‘ میڈیا کی طرف سے بار بار دو بڑی جمہوریتوں کے القاب استعمال کئے جاتے ہیں۔ امریکہ میں جمہوریت کو دو صدیوں سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔ بھارت میں بھی جمہوریت 1947 سے چلی آرہی ہے۔ یہ خیال 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کیوں آنا شروع ہوا ہے۔ اس پر زیادہ مصدّقہ‘معتبر اور مستند تحقیق تو بھارتی اور امریکی امور پر مستقل اور مسلسل نظر رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ میں تو اپنے اس درد کو کاغذ پر منتقل کرنا چاہتا ہوں‘ جو میرے دل و دماغ میں 21 ویں صدی میں پروان چڑھتے ہوئے اس توسیع پسندانہ عشق سے پیدا ہو رہا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اس حوالے سے کوئی مباحث سامنے آتے ہیں‘ نہ تشویش۔ ہمارے پڑوس میں بھی جہاں آج کل امریکہ بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ خیمہ زن ہے۔ وہاں سے اپنے ہزاروں فوجی نکالنے سے پہلے وہ بھارت کو ایک اہم مؤثر اور کسی حد تک کلیدی کردار سونپ رہا ہے۔ ان تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک معنی خیز امر یہ دکھائی دیتا ہے کہ تعلقات کی پیش رفت میں امریکہ کی طرف سے زیادہ بے تابی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے تامل ہے کہیں احتیاط۔ بحرِہند پر غلبہ وہ بھی اپنا حق سمجھتا ہے۔ لیکن کیا یہ امریکہ کی شراکت میں مناسب ہے یا اکیلے۔ کیا امریکی بحری بیڑے پر بھارتی فوجی قدم رکھیں۔ یا بھارتی بحری بیڑے پر امریکی میرین نظر آئیں۔

پہلے تو میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ ایک عام اتحادی اور Strategic Partner (حساس شراکت دار) میں کیا فرق ہے۔ کون زیادہ ترجیح رکھتا ہے۔ کیا فوجی تعاون حساس تعاون نہیں ہوتا۔ عام طور پر تو سٹریٹجک کا مفہوم ایٹمی اسلحہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ سٹریٹجک اثاثے ایٹمی اثاثے ہوتے ہیں۔ امریکی دستاویزات کے مطابق حساس شراکت دار سے صرف سفارتی اور فوجی تعاون ہی نہیں بلکہ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ تجارت‘ سول ایٹمی توانائی‘ تمام شعبوں میں مسلسل اور مستقل معاونت کی جاتی ہے۔ مقصد بھارت کو عالمی معیار کے مطابق ایک کامیاب مستحکم مملکت بنانا ہے۔ تاکہ وہ Indo- Pacific (ہند۔ بحرالکاہل) خطے میں امریکہ سے ہم آہنگ ہوکر معاملات کو سنبھال سکے‘ نام تو لیا جاتا ہے قدرتی آفات کا‘ لیکن اس کے دو رخ ہیں۔ طویل المیعاد مقاصد میں اس خطے میں جہانبانی ہے اور چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور فوجی غلبے کو محدود کرنا ہے۔

تاریخ اور جغرافیئے پر نظر رکھنے والے تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ امریکہ کو پوری دنیا کی فکر کیوں ہے۔ اس خطے میں جو مملکتیں موجود ہیں۔ وہ صدیوں سے یہاں طوفانوں‘ تلاطموں کا مقابلہ کرتی آرہی ہیں۔ یہ سوچ اور اہتمام اگر کسی ادارے کو کرنا ہے تو وہ اقوام متحدہ ہے۔ لیکن امریکہ نے ازخود یہ اختیار اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔ اس خطے میں جاپان‘ انڈونیشیا‘ آسٹریلیا‘ ویت نام‘ جنوبی کوریا موجود ہیں۔ لیکن قیادت انڈیا کے حوالے کی جارہی ہے اور اسے بالکل اسی طرح تیار کیا جارہا ہے۔ جیسے ہماری پہلوانی کی روایت میں بڑا پہلوان کسی دوسرے پہلوان کو چمکادمکا کر تیار کر کے اکھاڑے میں اتارتا ہے اور کہا جاتا ہے۔ فلاں پہلوان پٹھہ رستم زماں۔ اب رستم زماں امریکہ انڈیا کو بھی اکھاڑے میں اتار رہا ہے۔ پہلے تجزیہ کیا جاتا تھا کہ امریکہ خطے میں بھارت کا غلبہ نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ پاکستان سے تعاون کرتا ہے۔ اب بش انتظامیہ سے امریکہ کا یہ فلسفہ شروع ہوا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھتا ہے اور وہ اسے وہ تمام گر سکھانا چاہتا ہے جو ایک ایسی قوت کو آنا چاہئیں۔ وہ اسے ہر شعبے میں مکمل طور پر طاقت ور بنانا چاہتا ہے۔ 2012 میں انڈیا میں امریکہ کی سرمایہ کاری 28 بلین ڈالر رہی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد بھارتی طلبہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ امریکی رپورٹوں کے مطابق بھارت بھی امریکہ میں سرمایہ لگا رہا ہے۔ 2002 میں یہ صرف 227 ملین ڈالر تھا۔ 2012 میں 5.2 بلین ڈالر رہا۔ اسی طرح دونوں کے درمیان تجارت 2009 میں 60 بلین ڈالر سے 2012 میں 92 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ دونوں ملکوں کے پولیس سربراہوں کی میٹنگ بھی اسی ماہ دہلی میں ہوئی ہے۔ امریکہ بھارت کو عالمی صحت کے حوالے سے بھی آگے بڑھا رہا ہے۔ امریکی‘ بھارتی افواج کے اداروں میں بھی براہِ راست تعلقات اور رابطے بڑھ رہے ہیں۔ جس پر بھارتی حکومت اور بیوروکریسی کو بہت تحفظات ہیں۔ لیکن امریکہ بھارتی قیادت کو قائل کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے کہ اگر فوج کی صلاحیت، استعداد اور اہلیت بڑھانی ہے تو وزارتِ دفاع اور بیوروکریسی کی بالادستی کم کرنا ہوگی۔ مشترکہ مفادات میں اس وقت افغانستان میں بھارت۔ امریکہ قریبی تعاون سرِ فہرست ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد بھارت کو وہاں کلیدی حیثیت حاصل ہوسکے۔ اس کے لئے جواز یہ بنایا جارہا ہے کہ خطّے میں عالمی امن کے لئے بھارت اور امریکہ افغانستان کو پر امن اور مستحکم ملک کی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ بھارت لشکر طیبہ کا ڈراوا دیتا ہے اور امریکہ القاعدہ اور طالبان کا۔

بھارت امریکہ کے سامنے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا واویلا مچاتا ہے۔ اور امریکہ کو باور کراتا ہے کہ چین کا روز افزوں اثرو رسوخ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس لئے امریکی عہدیدار یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت کا ایک نتیجہ خیز طاقت ور اداکار کے طور پر ابھرنا امریکی مفادات کے حق میں بھی ہے اور بین الاقوامی نظام اور عالمی معیشت کے لئے بھی۔

آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل

افغانستان میں امریکہ بھارت کو کھل کر موقع دے رہا ہے کہ وہاں اپنے قدم جما سکے۔ بھارتی فوجی افغان فوجیوں کو بھارت میں تربیت دے رہے ہیں فیصلہ سازی میں بھارتی حکومت کرزئی حکومت کی مدد کرتی ہے۔ اکتوبر 2011 میں افغانستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ کروایا گیا۔ جس میں معیشت اور تجارت میں وسیع تر تعاون اور خاص طور پر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر زور دیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں بھارت اور افغانستان میں اشتراک عمل میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی بھر پور آشیرباد دونوں کو حاصل ہے۔ بھارت کو افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر کے بہت سے ٹھیکے بھی ملے ہیں۔ امریکی ادارے سنٹر فار سٹرٹیجک انٹرنیشنل سٹیڈیز (مرکز برائے حساس اور بین الاقوامی مطالعات) کی دسمبر 2012 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان‘ ایران اور وسطی ایشیا کو ملانے میں زارنج۔ دلآرام (Zaranj-Dalaram) لنک روڈ بھارت نے تعمیر کی ہے۔ اسی طرح بھارت نے ہی ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تک سڑک بنوائی ہے۔ جو افغانستان میںآئرن (خام لوہے) کے ذخیروں حاجی گاگ (Hajigag) سے شروع ہوتی ہے۔ اسی طرح بھارت کو اس خطے میں اثر و نفوذ قائم کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ بھارت کے ایران سے بھی خصوصی تعلقات قائم ہیں۔ اگرچہ ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن میں عالمی سطح پر یہ تاثر ملا کہ بھارت نے امریکہ سے سول ایٹمی ٹیکنالوجی لے کر اس پائپ لائن سے عدم تعلق ظاہر کیا۔ ایران اس پر ناراض ہے۔ لیکن اگر مابعد حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔ بعد میں تو امریکہ اور ایران ایٹمی پروگرام پر معاہدہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔

بھارت امریکہ کے سامنے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا واویلا مچاتا ہے۔ اور امریکہ کو باور کراتا ہے کہ چین کا روز افزوں اثرو رسوخ امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس لئے امریکی عہدیدار یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت کا ایک نتیجہ خیز طاقت ور اداکار کے طور پر ابھرنا امریکی مفادات کے حق میں بھی ہے اور بین الاقوامی نظام اور عالمی معیشت کے لئے بھی۔

کشمیر کے مسئلے پر امریکہ نے اگرچہ پاکستان کے موقف کی حمایت میں کوئی نتیجہ خیز کردار ادا نہیں کیا۔ تاہم کبھی کھل کر بھارت کے مؤقف کی تائید بھی نہیں کی تھی۔ امریکہ سے انڈیا کی ناراضگی کا ایک سبب امریکہ کا یہ رویہ بھی تھا۔ لیکن جب 1999 میں بل کلنٹن نے کارگل کے تنازع میں انڈیا کی مدد کی۔ تو امریکی سی آئی اے سے وابستہ بروس رائیڈل (Bruce Riedel) کے مطابق 4 جولائی 1999 کے واقعات نے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان مفاہمت کی مضبوط بنیاد رکھی۔ پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے۔ بل کلنٹن جب دورۂ جنوبی ایشیا پر آئے تو بھارت میں چار دن قیام کے بعد پاکستان میں مشکل سے صرف چند گھنٹے رکے تھے۔

1999 سے شروع ہونے والی امریکہ بھارت شراکت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور انتہائی تحمل سے سوچنے اور کچھ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ جنوری 2004 میں واجپائی- بش نے گزشتہ شراکت کا جائزہ لیتے ہوئے‘ Next Step Strategic Partnership (این ایس ایس پی) طے کیا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ بی جے پی ہو کہ کانگریس دونوں امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں اور اپنے اپنے دور میں پیشرفت بھی کی ہے۔ من موہن سنگھ 2005 میں آئندہ دس سال کے لئے دفاعی تعلقات کے قیام کے لئے متمنی نظر آتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہ عزم ظاہر کیا جارہا ہے کہ جدید ترین ایٹمی ٹیکنالوجی رکھنے والی ذمہ دار حکومت کی طرح بھارت کو وہ فوائد اور مراعات حاصل کرنے چاہئیں‘ جو اس صلاحیت کی مالک دوسری قوموں کو میسر آرہی ہے ۔

قرین ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اس وقت قدر مشترک جمہوریت نہیں بلکہ توسیع پسندی کا جنون ہے یہ عین ممکن ہے کہ اس وقت تعلق کا جو سبب ہے کل وہی تصادم کا سبب بن جائے۔مگر اس کے لئے راہ کون ہموار کرے گا۔کمیونزم کے خاتمے میں پاکستان کا کردار مرکزی اور کلیدی تھا۔ لیکن جب اس سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو انڈیا پیش پیش ہے۔ جو کمیو نسٹوں کا سب سے بڑا حلیف تھا۔ اس وقت بھی دنیا کی بڑی اور مؤثر کمیونسٹ پارٹی انڈیا میں ہی ہے۔ ہمیں اب پیچھے مڑ کر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا 1979میں امریکہ۔ روس کی اس جنگ میں کودناپاکستان کے لئے موزوں تھا۔ اگر اس سے کوئی فائدے ہوسکتے تھے تو وہ کیوں نہیں اٹھائے جاسکے اگر یہ موزوں نہیں تھا تو اب اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔بھارت اگر امریکہ سے تعلق بڑھا رہا ہے تو کیا پاکستان کا روس کے قریب آنا اور اس سے زیادہ تعلقات ہمارے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ بھارت امریکہ کے قریب آکر خطے پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے کیا ہم روس سے تعلقات بڑھا کر بھارت کے غلبے سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا ہمیں چین سے ہی اپنی دوستی اور گہری کرنی چاہئے۔ امریکہ بھارتStrategic Partnership (حساس شراکت)سے پاکستان کے لئے یقینابہت مشکلات پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں‘ خطرات ابھر رہے ہیں۔ معاشرے میں اس وقت جو ابتری‘ انتشار‘ افراتفری دکھائی دیتی ہے وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ امریکہ و بھارت کا ثقافتی غلبہ بھی اُبھر رہا ہے امریکہ بھارت حساس شراکت پاکستان کے استحکام کی صورت میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لئے اس پس منظر میں بھارت کی طرف امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپیاں ہمارے لئے پریشان کن اور فکر انگیز ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسی پالیسی مرتب کریں جس سے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ لایا جا سکے۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنا‘ تقسیمِ ہندوستان کے خلاف مسلسل بیا ن بازی‘ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو آئینی حیثیت دینا۔ مگر یہ سب کچھ دنیا تب مانے گی جب ہم اقتصادی‘ تعلیمی‘ تہذیبی‘ طبّی اور دفاعی طور پر مضبوط ہوں گے۔ یعنی امریکہ بھارت کو Strategic Partners (حساس شراکت دار) کے طور پر جن شعبوں یعنی معیشت‘ صنعت‘ تجارت‘ تعلیم‘ صحت‘ سائبر‘ سیکورٹی‘ فوجی استعداد‘ ایٹمی صلاحیت‘ میں مضبوط کر رہا ہے۔ ہم بھی ان شعبوں میں آگے بڑھیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ایک تو معیشت‘ تعلیم‘ صحت‘ میں ہم کمزور ہو رہے ہیں بلکہ زوال کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسرے جمہوریت اور آمریت کی بحث میں پاکستان کی مسلح افواج کو جلی اور خفی انداز میں طعن و تشنیع کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کئے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کی راہ میں حائل جاگیرداری اور انتہا پسندی کو قطعی طور پر نظرانداز کر کے صرف فوج کوجمہوری تسلسل میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ غور کریں کہ ایسی تحریکوں اور رجحانات کا نتیجہ کیا نکلے گا جب امریکہ بھارت کو اقتصادی‘ علمی اور فوجی اعتبار سے بہت طاقتور کر دے گا اور جب خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا۔ پاکستانی فوج اور عوام‘ سیاسی پاکستان اور فوجی پاکستان‘ میں فاصلے بڑھ جائیں گے۔ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ ٹیکنالوجی‘ انتظام کے حوالے سے بھی ملک کمزور ہو گا‘ تو اس خطے کا کیا نقشہ ہوگا؟

پہلے تجزیہ کیا جاتا تھا کہ امریکہ خطے میں بھارت کا غلبہ نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ پاکستان سے تعاون کرتا ہے۔ اب بش انتظامیہ سے امریکہ کا یہ فلسفہ شروع ہوا ہے کہ وہ انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھتا ہے اور وہ اسے وہ تمام گُر سکھانا چاہتا ہے جو ایک ایسی قوت کو آنا چاہئیں۔ وہ اسے ہر شعبے میں مکمل طور پر طاقت ور بنانا چاہتا ہے۔ 2012 میں انڈیا میں امریکہ کی سرمایہ کاری 28 بلین ڈالر رہی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد بھارتی طلبہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

امریکہ اور بھارت کے درمیانStrategic Partnership (حساس شراکت) کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ یہاں سب اچھا ہے۔ یا امریکہ بھارت سنگم ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے۔ ہنوز دہلی دور است‘ والا معاملہ ہے۔ امریکی فوج اور تھنک ٹینکس کے بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارتی اور امریکی فوجیں براہِ راست ایک دوسرے سے تعاون کریں لیکن ان کا تاثر یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہر بات کی منظوری وزارتِ دفاع سے لینا پڑتی ہے۔صرف وہ امور تسلیم کئے جاتے ہیں جو سیاسی طور پر بھارت کے حق میں ہوں۔ اس تاخیر سے مؤثرStrategic Partnership نہیں ہو پاتی۔ ایک امریکی دفاعی افسر کا تبصرہ دلچسپ ہے کہ Theoretically (زبانی طور پر) تو ہم جانتے ہیں کہ کیا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ کرنا کیا ہے۔ امریکہ کے نزدیک Strategic Partnership کا مطلب ہے کہ وہ تجارت‘ معیشت اورسیکورٹی کے شعبوں میں وسیع تر تعاون کرے۔ تمام شعبے اپنے اپنے طور پر ہاتھ بڑھائیں۔ ہر معاملے میں سیاسی قیادت کی منظوری لازمی نہ ہو۔ جبکہ انڈیا کے نزدیکStrategic Partnership سے زیادہ بہتر سٹریٹجک خودمختاری ہے۔ انڈیا صرف ایک ملک سے نہیں سب سے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔امریکہ کے نزدیک اس سوچ کے باعث دونوں کو اپنے تعلقات اگلے منطقی مرحلے تک لے جانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔امریکی رپورٹوں کے مطابق بھارتی بیوروکریسی کا ڈھانچہ‘ ہیئت‘ تربیت اور استعداد۔ ایک عالمی طاقت کے معیار کی نہیں ہیں۔ ان کے ذہن اور صلاحیتیں محدود ہیں۔ وزارتِ دفاع کے بیوروکریٹ عام دفاعی معاملات کی مہارت نہیں رکھتے۔ سٹریٹجک سیکیورٹی تو بہت آگے کی بات ہے۔ فضائیہ ہو بحریہ ہو کہ آرمی۔ ہر معاملے کی توثیق وزارتِ دفاع کے پاس جاتی ہے۔ وزارتِ دفاع کو پہلے وزارتِ خارجہ سے منظوری لینی پڑتی ہے۔اس کے بعد وزارتِ خزانہ ہے۔جس نے اپنا ایک دفاعی محکمہ قائم کر رکھا ہے۔اس کے پاس وزارتِ دفاع کی طرف سے کئے گئے اخراجاتی فیصلوں کی منظوری یا انکار کا اختیار موجود ہے۔ افسروں نے اپنی انتظامیہ کو یہ تاثر بھی دیا ہے کہ مذاکرات اور معاملات کے دوران بھارتی سول افسروں میں زیادہ استعداد اور ذہنی رسائی نظر نہیں آئی۔ جدید ٹیکنالوجی کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں مگر اس سے آشنائی ابتدائی سطح کی بھی نہیں ہے۔ امریکی رپورٹوں میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ بھارت کی علاقائی سیاسی پارٹیاں اب مرکزی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی حیثیت میں ہیں۔ صوبائی عہدیدارقومی پالیسی کی تشکیل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ سے حساس تعلقات کے قیام پر بعض صوبائی حکومتیں اعتراض کر رہی ہیں ۔ یہ بھی فکر طلب امر ہے کہ انڈین ملٹری میں امریکی ملٹری کے ساتھ عملی شراکت کی کتنی اہلیت ہے۔ جدید اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت ہے یا نہیں۔ عالمی جدید سیکورٹی نظریات سے کتنی آشنائی ہے اور کیا اسباب ہیں کہ بھارتی برّی فوج امریکی برّی فوج سے مشترکہ مشقوں میں شمولیت سے ہچکچاتی ہے۔دوسری طرف یہ حقیقت بھی بتائی جاتی ہے کہ انڈیا کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے سبب بھارتی نوجوان فوج میں مطلوبہ تعداد میں بھرتی ہونے نہیں آ رہے ۔برّی‘ فضائی اور بحری افواج تینوں میں تربیت یافتہ افسروں کی کمی ہے‘ امریکی رپورٹیں‘ آرمی اور فضائیہ کی نسبت بحریہ کو زیادہ تربیت یافتہ‘ جدیداسلحے اور ٹیکنالوجی کی اہلیت رکھنے والی بتا رہی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک یہ تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ جموں کشمیر میں شورش‘ مشرقی اور وسطی صوبوں میں نکسلائٹ کی سرگرمیاں‘ انڈین بیورو کریسی کی نااہلی‘ سیاسی قیادت کی ہچکچاہٹ‘ بھارت کی بین الاقوامی سطح کی حساس شراکت کی اہلیت کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس لئے امریکہ کو اچھی طرح جائزہ لینا چاہئے کہ اس حساس شراکت کی منزل کیا ہونی چاہئے۔ کیا بھارت وہاں تک جانا بھی چاہتا ہے؟ بھارت صرف مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینا چاہتا ہے لیکن ایک دوسرے کی فضائیہ‘ بحریہ اور آرمی میں باقاعدہ شرکت کا قائل نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں فوجوں کو ایک دوسرے کے بیوروکریٹک سسٹم‘ تربیتی نظام‘ حربے‘ ٹیکنیک‘ طریق کار اور فیصلہ سازی کے مراحل سے آشنا ہوناچاہئے۔ دونوں طرف کے فوجیوں کو چینی فوجی طاقت اور افغانستان میں صورتحال پر اکثر تبادلۂ خیال کرنا چاہئے۔ دوسرے ایشیائی ملکوں اور بحری طاقتوں‘ جاپان‘ آسٹریلیا‘ سنگاپور‘ انڈونیشیااور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر کثیر القومی سیکیورٹی سرگرمیوں میں شامل رہنا چاہئے۔ دونوں یہ دیکھیں کہ ایک دوسرے کی بندرگاہوں اور انٹیلی جنس سہولتیں کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ انڈیا کے انڈیمان‘ نکوبار‘ جزائر اور امریکی جزیرے ڈیگو گارشیا کے باہمی استعمال کا تجربہ بھی ناگزیر ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کے مطابق امریکی اور بھارتی فوجیوں‘ افسروں کو ایک دوسرے کے وار (War) اور اسٹاف کالجوں میں بھی ایک معقول عرصہ ساتھ گزارنا چاہئے۔

امریکی دستاویزات کے مطالعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ یورپ میں صورتحال سے مطمئن ہے۔ اسے وہ اپنا ہمنوا بنا چکا ہے۔ نیٹو افواج امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرنے میں کسی تامل کا اظہار نہیں کرتی ہیں۔ یورپ سے کسی قسم کی اختلافی، مزاحمتی آواز بلند ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ عالمِ اسلام کے تما م تر سرکش رہنماؤں کی سرکوبی کر دی گئی ہے۔ صدام حسین اور معمر قذافی جیسے امریکہ دشمن۔ حسنی مبارک جیسے طاقت ور حکمراں نہ صرف رخصت کر دیئے گئے ہیں بلکہ عبرت ناک مثال بنا دیئے گئے ہیں۔ اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور کے تمام کردار یکے بعد دیگر غیر طبعی موت کے شکار ہوتے گئے ہیں۔ معمر قذافی اس عمل کا آخری ہدف تھے۔ یورپ اور عالم اسلام کے بعد اب امریکہ بحر ہند اور بحرالکاہل کے علاقے کی تسخیر کی فکر میں ہے۔ کیونکہ چین وہاں پر اپنا اثرورسوخ قائم کر رہا ہے۔ برما اور دوسرے علاقوں میں بندرگاہیں‘ سڑکیں بنا رہا ہے۔ اس لئے چین کو گھیرے میں لے کر محدود کرنا ہے۔ یورپ میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی برطانیہ تھا۔ اس خطے میں ہندوستان یہ کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ ایک طرف وہ خود بھی توسیع پسندہے۔ پھر پاکستان سے اس کا تضاد مذہب کی بنیاد پر ہے۔ اسرائیل کو امریکہ تحفظ دیتا ہے جو عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس طرح دشمن کے دشمن دوست کے وفادارہونے پرعمل درآمد ہو رہا ہے۔

سرد جنگ کے دور کا احیاء ہورہا ہے۔ اب یہ سرد جنگ چین کے خلاف ہے۔ پہیلی سر د جنگ میں نظریات تھے، کمیونزم اور سرمایہ داری۔ اب یہ جنگ کمرشل بنیادیں بھی رکھتی ہے اور مذہب سے وابستگی بھی شامل ہے۔ چین کے مقابلے کے لئے فوجی طاقت سے زیادہ اقتصادی قوت کی ضرورت ہے۔ 1995 سے اب تک بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کے مندرجات سے مضمرات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور یہ بھی تعین کیا جاسکتا ہے کہ 2014تک امریکہ بھارت کو تعلیم‘ صحت‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی میں کہاں تک لے جاسکتاہے اور دہشت گردی کے مقابلے کے لئے جن مشترکہ اقدامات کے لئے دستخط کئے گئے ہیں۔ ان میں لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی بھی سرفہرست ہے۔ بھارت کی طرف سے امریکہ پر بار بار واضح کیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ملنے والا فوجی سازوسامان‘تربیت‘ مستقبل میں بھارت کے خلاف استعمال ہوگی اور یہ کہ افغانستان سے امریکہ نیٹو افواج کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں استحکام خطرے میں پڑے گا۔ 1990کے عشرے کی پراکسی جنگوں کا زمانہ واپس آجائے گا جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں پاکستان کی طرف سے سرحدی جھڑپیں اور اندرونی مداخلت بھی شروع ہوسکتی ہے ۔

امریکہ بھارت حساس شراکت کے مقاصداور اہداف بہت واضح ہیں۔ پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان چین کے درمیان حساس شراکت میں تیزی سے اضافہ ناگزیر ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ نتیجہ خیز یہ ہو گا کہ پاکستان تعلیم، تجارت، صنعت، آئی ٹی، صحت، سکیورٹی میں چین اور دوسرے دوست ممالک کی مدد سے اپنی استعداد بڑھائے۔ اس کے لئے اسلامی ملکوں کی تنظیم کو حرکت میں لانا بھی ایک راستہ ہے۔ اسلامی ممالک سے قریبی تعلقات کے ذریعے افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکا جاسکتا ہے۔ انتہائی اہم جغرافیائی محل وقوع اور نوجوان آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ان کا شعور‘ادراک اور دانشمندانہ استعمال ہمیں خطے میں ہی نہیں دنیا میں باوقار مقام دے سکتاہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے حکومتی اور مملکتی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہن سازی کا دائرہ وسیع کر کے پاکستان کے قومی مفادات کا تعین کیا جائے۔ اپنے داخلی تنازعات کے تصفیے‘ قومی مفادات کے تعین اپنے وسائل کے مؤثر استعمال سے ہی ہم ان توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں۔ سیاسی پاکستان اور فوجی پاکستان کا ایک ہونا لازمی ہے۔ ورنہ حساس شراکت کے یہ عالمی تجربے ہمیں محدود کرتے جائیں گے۔

دوڑوگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

یہ تحریر 231مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP