قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر۔ کل اور آج

کشمیریوں کو اپنی آزادی کی جنگ لڑتے سڑسٹھ برس گزر گئے ہیں۔ تین نسلیں اس جنگ کا ایندھن بن چکی ہیں۔ کشمیر جنت نظیر کے درودیوار کو بارود کی بُو نے گھیر رکھا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے‘ کیسی تہذیب ہے کہ کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوموں کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ سلامتی کونسل کے بڑوں اور دنیا کے منصفوں نے بہت پہلے کشمیر کے بسنے والوں کا حق خود ارادیت تسلیم کر لیا تھا۔ بھارت کے صاحب اختیار وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس فیصلے کے حق میں اپنی رائے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پنڈت نہرو کی آنکھیں بند ہونے سے آج تک اس کے قول و فعل کے پاسداروں سے لے کر موجودہ بھارتی حکمرانوں تک سب نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ بیٹیوں کے سروں سے ردائیں کھینچی گئیں۔ شیرخوار گولہ بارود کی گھن گرج میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ زندگی کی اس قدر تذلیل‘ انسان اتنا بے توقیر‘ حسین و جمیل وادیوں کی اس طرح پامالی کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی‘ پہاڑوں کے حسن کو دیمک لگ گئی ہے۔ جھیل ڈل اور وولر کے کنارے لہو لہو ہیں۔ باغوں اور سبزہ زاروں میں پھولوں کی جگہ ببول سراٹھا رہے ہیں۔ اس وادی کے نہتے اور بے یارومددگار عوام عالمی ضمیر کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید اقوام متحدہ میں پڑی وہ بوسیدہ قراردادیں معجزاتی طور سے پذیرائی پا جائیں۔ 85806 مربع میل پر پھیلی ہوئی ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں مختلف نسلی قبائل اور متعدد چھوٹی چھوٹی قومیتوں پر مشتمل افراد کشمیری قوم کہلاتے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر دنیا کے 110 آزادممالک سے بڑی مملکت ہے جس پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 67 برس بیت گئے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ میں استصواب رائے کی قراردادوں میں پویشیدہ ہے۔ بھارت کو کشمیریوں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا قطعاً حق نہیں اور نہ ہی سات لاکھ فوج ان کے سر پر بٹھانے کی اسے اجازت ہے۔

چوہدری محمد علی کی کتاب ’’ظہور پاکستان‘‘ کے صفحہ279 کے مطا بق 11 جولائی 1947 کو کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ایک انٹرویو کے بعد قائداعظم نے ایک پریس بیان جاری کیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ آیا کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں؟ میں اس بات کی پہلے ہی ایک سے زائد بار وضاحت کر چکا ہوں کہ ریاستیں اس معاملے میں آزاد ہیں کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں یا بھارت کے ساتھ ہیں۔ سیسرگپتا نے کشمیر گپتا میں 21 اپریل 1947 کو لیاقت علی خان کے ایک بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ کابینہ مشن پلان کے مطابق جب برطانوی ہند کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا چکا ہے تو ہندوستانی ریاستوں کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کریں۔ لیکن کشمیر کی تاریخ کو دھیرے دھیرے مسخ کیا جا رہا ہے۔ کشمیر ی بحیثیت قوم ایک درخشاں تاریخ کے مالک ہیں مگر فطرت کے قانون عروج و زوال کے تحت ایک عرصے سے محکومی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہو تو اس سے اس کی تاریخ چھین لو۔ کشمیریوں کی تباہی اور غلامی کے لئے بھی سامراج نے یہی سوچا ہے کہ تاریخ کشمیر مسخ کر کے کشمیریوں کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا لیا جائے۔ 1947 سے ہی تاریخ کشمیر کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے اس حصے میں جہاں بھارت کا قبضہ ہے وہاں کشمیری بچوں کو نصابی کتب میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست کا الحاق بھارت سے کر دیا تھا اس لئے یہ اب بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ جب تک کشمیرکی نئی نسل کے سامنے ایک واضح صاف اور صریح نصب العین نہ ہو‘ وہ نہ تو منظم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی بے دریغ قربانی کے لئے تیار‘ قومیں اس وقت جدوجہد پر آمادہ ہوتی ہیں جب ان کے سامنے اپنی ایک درخشان تاریخ ہو‘ ورنہ وہ غلامی کو ہی آزادی سمجھ کر قناعت اختیار کر لیتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ غلامی اور آزادی کا دور قوموں پر آتا رہتا ہے۔ ہمیشہ کے لئے کسی بھی قوم کو غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کشمیریوں کا سفر عروج کی طرف جاری ہے۔ ان کے قدم آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہوس اقتدار اور توسیع پسندانہ نظریہ پاش پاش ہو رہا ہے جس طرح لینن کے ماننے والوں نے ہی اس کا منہ کالا کر دیا تھا اس کا حلیف بھارت بھی اب زیادہ دیر محکوم اور نہتے کشمیریوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکے گا۔ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والا بھارت تاریخی طور سے کشمیریوں سے جنگ ہار چکا ہے۔ 27اکتوبر 1947 کو بھارت نے ہوائی جہاز کے ذریعے پہلے اپنی افواج کشمیر میں اتاریں پھر یکم جنوری 1948 کو بھارت نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح اس مسئلے کو ایک بین الاقوامی تنازعے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اقوام متحدہ نے یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی کمشن تشکیل دیا۔ وہ کمشن جو عرف عام میں کشمیر کمشن کہلاتا ہے۔ ایڈمرل نمٹز (Admiral Chester W. Nimitz)

کی سربراہی میں برصغیر آیا تھا۔ جہاں انہوں نے فریقین سے طویل مذاکرات کے بعد انہیں ایک بین الاقوامی معاہدہ کرنے پر رضا مند کر لیا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے طے پایا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ استصواب رائے سے حل کیا جائے گا۔ یہ استصواب رائے ایک غیر جانبدار مبصر کی نگرانی میں انجام پائے گا۔

15جنوری 1948 کو سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہوا تو پاکستانی وفد میں نمائندے کے طور پر سرظفراﷲ خان اور متبادل نمائندہ ابوالحسن اصفہانی تھے جبکہ مسٹر وسیم ایڈووکیٹ جنرل پاکستان بطور مشیر وفد میں شامل تھے۔ جناب افتخار حسین بطور ڈپٹی سیکرٹری وزارت خارجہ اور کرنل (ر) مجید ملک رکن کی حیثیت سے وفد کے ہمراہ تھے یہ وہی کرنل مجید ملک ہیں جو وزارت اطلاعات میں پی آئی او تھے۔سرظفراﷲ خان نے اپنی سوانح عمری ’’تحدیث نعمت‘‘ میں سلامتی کونسل میں ہونے والی کارروائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارتی وفد کے سربراہ سرگوپالا سوامی آیانگر

(Gopalaswami Ayyangar)

تھے۔ جو نہرو یونیورسٹی دہلی کے سابق وائس چانسلر اور کشمیر کے سابق وزیراعظم تھے۔ ان دنوں وہ بھارت کی مرکزی کابینہ میں وزیر تھے۔ ان کے معاون کار سرگرجا شنکر واجپائی اور مسٹر ایم ایل سیتلواڈ تھے۔ سلامتی کونسل کے ارکان میں ارجنٹائن‘ بیلجیئم‘ کینیڈا‘ کولمبیا‘ فرانس‘ شام‘ روس‘ برطانیہ‘ امریکہ اور یوگوسلاویہ تھے۔

بھارت کی طرف سے سرگوپالاسوامی آیانگر نے 15 جنوری کی سہ پہر کے اجلاس میں تقریر کی‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ برضا و رغبت اور خوش اسلوبی سے کیا ہے جبکہ اس کے خلاف پاکستان کے اشتعال اور مدد کے ساتھ قبائلیوں نے ریاست پر حملہ کر کے بہت فساد ‘ خون خرابہ اور لوٹ مار کی ہے۔ ان قبائلیوں کی روک تھام کے لئے بھارت کو اپنی فوج بھیجنا پڑی۔ ایسی صورت حال جنگ کا رنگ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی فوجی افسر بھی قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کا یہ رویہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستان کو اس سے روکنا لازم ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی مدد بند کرے اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے۔ بھارتی نمائندے کی تقریر کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس دو دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

سرظفراﷲ خان نے لکھا کہ ’’دوسرے اجلاس میں ‘ میں نے تقریر کی کہ بھارت کے نمائندے نے اپنی تقریر میں جان بوجھ کر مسئلے کی پیچیدگیوں کو پس پشت رہنے دیا ہے اور سارا زور پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر دیا ہے۔ ہماری طرف سے اس اہم اور پیچیدہ قضیے کے پس پردہ حقائق کو ظاہر کرنا اور بھارت کو جارح کے طور پر مجرم کی حیثیت میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے لازماً بہت سے امور کی وضاحت ناگزیر ہے۔ جن کا بیان بھارت کی طرف سے اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ ان کے خلاف جاتے ہیں۔ ان سب واقعات کا مختصر بیان بھی وقت چاہتا تھا جبکہ سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں تقریر کے لئے صرف سوا دو گھنٹے دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے اپنی جوابی تقریر تین اجلاسوں میں مکمل کی۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ’’چند سال بعد کولمبیا کے نمائندے نے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی نمائندے کی پہلی تقریر سننے کے بعد سلامتی کونسل کے اراکین کی اکثریت کا یہ تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فساد کا راستہ اختیار کر لیا ہے اور دنیا کے امن کے لئے ایک خطرے کی صورت پیدا کر دی ہے۔ لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا تو ہم سب سمجھ گئے کہ بھارت مکاری اور عیاری سے کام لے رہا ہے اور کشمیر کی رعایا پر ظلم ہو رہا ہے اور ہمارا یہ تاثر بعد میں بھی کبھی زائل نہیں ہوا۔ ‘‘

سرظفراﷲ خان نے (جیسے کہ پہلے بتایا جا چکا ہے) تین سیشن میں اپنے دلائل مکمل کئے تھے۔ مگر فوری طور پر انہوں نے کہا: ’’ہم بھارت کے دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ بھارت نے عیارانہ منصوبے کے تحت ریاست پر طاقت کا استعمال کیا ہے اور غاصبانہ قبضہ بھی کر رکھا ہے۔ مزید یہ کہ ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ آزاد علاقے کے پٹھانوں کی حدود ریاست کشمیر کی حدود سے ملی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں کے باہمی خونی رشتے ہیں۔ پاکستان ان سیکڑوں میل پر پھیلی ہوئی لمبی سرحدوں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے؟ علاوہ ازیں ابھی ہم اپنی افواج کو پھر سے منظم کر رہے ہیں۔ ہمارے حصے کا گولہ بارود‘ ملٹری سٹور‘ روپیہ اور دیگر لاجسٹک کا اثاثہ ابھی تک بھارت کے پاس پڑا ہے۔ جسے بھارت نے ناجائز قبضے اور ایک منصوبے کے تحت روک رکھا ہے۔ ہمیں نقل مکانی کے مسائل درپیش ہیں۔ ویسے بھی پاکستانی کسی بھی آزاد قوم کے علاقے میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا۔ خصوصاً جبکہ علاقے کی سرحدیں ناقابل گزر پہاڑوں پر قائم ہوں۔ پاکستان کے پاس اتنی فوج نہیں ہے اور اگر وہ چاہے بھی تو اس ذمہ داری کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔ ہم بھارت سے پوچھتے ہیں کہ کس بین الاقوامی قانون کی بنا پر کسی آزاد قوم کو دوسری حکومت احکامات جاری کر سکتی ہے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ بھارت طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور کشمیریوں کے مسئلے کا حل سیاسی طور سے تلاش کرے ایسا عوام کی آزادانہ رائے شماری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ البتہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے لئے چند بنیادی اصولوں پر دونوں حکومتوں کو عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

نمبر1: بھارت کی فوج فوراً کشمیر کی ریاست سے نکل جائے۔(۲) یو این او کے ادارے کے تحت ایسا انتظامی ادارہ قائم کیا جائے جو غیرجانبدار ہو بالفاظ دیگر جو ان تاثرات سے خالی ہو کہ کشمیر کی حکومت نے پاکستان سے یا بھارت سے الحاق کیا ہے۔ (۳)اگر مذکورہ بالا شرائط پر عمل پیرا ہونے کا یقینی طور پر ماحول پیدا کرنا بھارت تسلیم کر لے تو پاکستان قبائلیوں کو کشمیر سے چلے جانے کی ترغیب دے گا اور آزادکشمیر کے لوگوں کو بھی جنگ و جدل سے گریز کا مشورہ دے گا اور انہیں جنگ کے بجائے آزادانہ عوام کی رائے شماری کے لئے بھی کہے گا۔ وہ اپنی ذاتی فلاح و بہبود کے لئے پاکستان یا بھارت یعنی جسے وہ پسند کرے الحاق کا فیصلہ عوام کی رائے سے کرے۔‘‘

جنرل محمد اکبر خان نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’میری آخری منزل‘‘ میں اس حوالے سے بہت طویل گفتگو کی ہے۔ بہرطور سلامتی کونسل کے 229 ویں اجلاس میں 20جنوری 1948کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کشمیر کمشن کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی وہ قرارداد بیلجیئم نے پیش کی تھی اس کمشن کا نام

United Nations Commission on India and Pakistan (UNCIP)

لیکن عرف عام میں وہ کشمیر کمشن کے نام سے ہی مشہور ہوا۔ کمشن کے ارکان کی تعداد پانچ تھی۔ پاکستان کرونیکل کے مصنف جناب عقیل عباس جعفری کے مطابق‘طے پایا تھا کہ کمشن میں دو ارکان سلامتی کونسل نامزد کرے اور وہ دونوں ایک تیسرا رکن نامزد کریں جبکہ پاکستان اور بھارت ایک ایک رکن نامزد کریں۔ سلامتی کونسل نے بیلجیئم اور کولمبیا کو نامزد کیا تھا پھر ان دونوں نے امریکہ کی نامزدگی کی تھی جبکہ پاکستان نے ارجنٹائن کو اور بھارت نے چیکوسلواکیہ کو نامزد کیا تھا۔

چیکوسلواکیہ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف کوربیل نے کمشن سے علیحدگی کے بعد کمشن کی سرگرمیوں کی روداد پر مشتمل کتاب

Danger in Kashmir

لکھی تھی۔ جس میں اس دور کی تاریخ محفوظ ہے۔ ڈاکٹر جوزف کوربیل کی وجہ سے شروع شروع میں کمشن نے بہت سرگرمی دکھائی لیکن جب 1949 کے آغاز پر ہی کوربیل کمشن سے علیحدہ ہو گئے تو پھر کمشن میں وہ دم خم نہ رہا اور بہت جلد تھک ہار سا گیا۔

بہرطور 23 نومبر 1948 کو اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے اپنی رپورٹ کا پہلا حصہ شائع کر دیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ پھر 3جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے مذکورہ کشمیر کمشن نے کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کروانے کی شرائط کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے 18 نومبر 1947 کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کا مرحلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پائے۔ گویا پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیگر ممبر ممالک اس بات پر متفق تھے یا یوں کہنا چاہئے کہ لیاقت علی خان کی سیاسی بصیرت کے عین مطابق اقوام متحدہ کے کشمیر کمشن نے استصواب رائے کو ہی مسئلے کا حل قرار دیا۔ یوں پھر 5جنوری 1949 کو

(UNCIP)

کی قرارداد منظور ہوئی جو کشمیر کمشن کی 13اگست 1948 والی قرارداد‘ جس میں پاکستان اور بھارت کو فائر بندی کا کہا گیا تھا‘ کا تکملہ

(Supplement)

تھی۔ اس قرارداد کی تفصیل‘ جی ایم میر نے اپنی کتاب ’’کشمیر شناسی‘‘ کی جلد اول میں دی ہے۔ اُن میں سے چند ایک شقیں درج ذیل ہیں۔ 1ریاست جموں و کشمیر کے‘ پاکستان یا بھارت کے ساتھ‘ الحاق کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے طے کر لیا جائے۔ 2رائے شماری اس وقت عمل میں آئے گی جب کمشن کو یہ اطمینان ہو جائے گا کہ کمشن کی 13 اگست والی قرارداد کی روشنی میں جنگ بندی اور عارضی صلح پر عمل درآمد ہو گیا ہے اور رائے شماری کے انتظامات مکمل ہو گئے ہیں۔

اس شق کو وسیع النظری سے دیکھا جائے تو بھارت نہ صرف یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے حیلے بہانوں اور مکاری سے کام لے رہا ہے بلکہ وادی جموں و کشمیر میں عوامی ریفرنڈم کا سازگار ماحول تک نہیں بننے دے رہا۔ وہ کبھی اگرتلہ سازش کرتا نظر آتا ہے تو کبھی رن آف کچھ کا بخیہ ادھیڑ دیتا ہے۔ کبھی ستمبر 1965 کی جارحیت کر گزرتا ہے اور کبھی 1971 میں برصغیر کا امن تہہ و بالا کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی سیاچن گلیشیئر پر دنیا کا بلند ترین اور مشکل محاذ کھول لیتا ہے ۔ اسے نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پاس ہے اور نہ شملہ معاہدے کا اور نہ ہی معاہدہ تاشقند اسے یاد ہے۔ 23جون 1990کو معرکہ کارگل میں تو امریکہ نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کرے گا لیکن بات پھر وہی ہے کہ رات گئی بات گئی۔

24مارچ 1949 کو اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر ٹرگوے لی نے امیر البحر ایڈمرل نمٹز کو پاکستان اور بھارت کی رضامندی سے کشمیر میں استصواب رائے کرنے کی ذمہ داری سونپتے ہوئے ناظم رائے شماری مقرر کیا تھا۔ ایڈمرل نمٹز کا تعلق امریکہ سے تھا۔ وہ دوسری عالمی جنگ میں بحرالکاحل میں اتحادی بیڑے کے کمانڈر انچیف رہے تھے۔ مسٹر نمٹز آج دنیا میں نہیں رہے۔ مگر مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔ اس عرصے میں کبھی کشمیری مجاہدین نے بھارتی جہاز اغوا کر کے دنیا کو مسئلے کے حل کی طرف متوجہ کیا توکبھی تقریروں‘ تحریروں‘ مباحثوں اور مزمتی قراردادوں سے بھی بھارت اور عالمی ضمیر کو جھنجوڑا گیا۔ احتجاجی جلسے اور جلوس بھی بھارتی قیادت کو دکھائی نہیں دیتے۔ بھارت میں عام انسان کی زندگی الگ عذاب میں ہے۔ خالصتان تحریک تمام تر حربوں کے باوجود سلگ رہی ہے۔

بھارت نے کشمیریوں پر آج تک جو ستم توڑے وہ کہانی الگ اپنی المناکی لئے ہوئے ہے۔ مگر دنیا کے سامنے اس نے جو وعدے کئے ان کا بھی اسے ذرا برابر احساس نہیں۔ 29 مئی 1952 کو اقوام متحدہ کے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے نمائندے اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مصالحتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ان دنوں انخلاء کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے پاکستان کی طرف سے احمد شاہ بخاری المعروف پطرس بخاری اور بھارت سے راجیشوا دیال نے اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کی تھی۔ پطرس بخاری کی معاونت محمد ایوب اور کرنل اقبال خان نے کی تھی۔ جبکہ بھارتی نمائندے کے مشیر ڈاکٹر بی ارجن اور پی کے مکرجی تھے۔

18جنوری1957 کو اس وقت کے پاکستانی وزیرخارجہ فیروز خان نون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جس کی صدارت فلپائن کے کارلوس ریمولو

(Carlos Rimolo)

کر رہے تھے۔ اپنی تاریخی تقریر (جو تین گھنٹے جاری رہی تھی) میں پُرزور مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو اس کے آئین کے نفاذ کی کوششوں سے باز رکھا جائے اس اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کرشنامینن نے کی تھی۔

25جنوری 1957 کے اسی اجلاس میں سلامتی کونسل نے چار کے مقابلے میں دس ووٹوں سے فیصلہ دیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں ہو سکتا۔ روس کے نمائندے نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سلامتی کونسل میں وہ قرارداد امریکہ‘ برطانیہ ‘ آسٹریلیا‘ کولمبیا اور کیوبا نے پیش کی تھی۔ بھارت نے حسب توقع سلامتی کونسل کا وہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ کشمیریوں کے ساتھ روس کے رویے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شیخ عبداﷲ نے اپنی سوانح عمری ’’آتش چنار‘‘ میں بڑے فخریہ انداز میں لکھا ہے کہ دسمبر 1955 میں جواہر لعل نہرو کی دعوت پر روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نکیتا خروشیف

(Nikita Khrushchev)

اور روس کے وزیراعظم نکولائی بلگانین

(Nikolai Bulganin)

بھارت اور کشمیر کے دورے پر آئے تو سرینگر میں ہم نے ان کی اتنی خدمت کی اس قدر تحفے دیئے کہ ہم تابعداروں کی خدمت گزاری اس وقت رنگ لے آئی جب نکیتا خروشیف نے روسی زبان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلکہ دو ٹوک اعلان کیا کہ روس کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور روس ان کا اتنا نزدیکی پڑوسی ہے کہ اگر کبھی انہیں روس کی ضرورت محسوس ہو تو وہ پہاڑ پر چڑھ کر سیٹی بجائیں ہم فوراً حاضر ہو جائیں گے۔ شیخ عبداﷲ کشمیر میں شخصی اور مذہبی آزادی کی قلعی اپنی سوانح عمری کے صفحہ 550پر یہ کہہ کر کھولتے ہیں کہ اسلام میں گائے کا ذبیحہ جائز ہے۔ لیکن میں اپنے چند انتہا پسند دوستوں کی مخالفت کے باوجود 1931میں سکھا شاہی کے دور میں گائے کے ذبح کرنے پر کشمیر میں جو پابندی لگی تھی ہندو بھائیوں سے خیرسگالی کے جذبے کے تحت برقرار رکھے ہوئے ہوں اور بھارت سے کبھی اس پابندی کے خاتمے کا اصرار بھی نہیں کیا۔

میرغلام احمد کشفی نے اپنی کتاب ’’کشمیر ایک ثقافتی تعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ کشمیر میں گائے ذبح کرنا قتل کے برابر قانونی جرم ہے۔ گؤکُشی پر دس سال قید بامشقت کی سزا ہے بلکہ سارے کنبے پر ظلم کیا جاتا ہے اور یہ قانون ڈوگرہ دور سے نافذ ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ جو ظلم و ستم سکھوں کے عہد یعنی ڈوگرہ سامراج کے زمانہ میں ہوتا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ ولیم مورکرافٹ

(Willam Moorcraft)

انیسویوں صدی کے حوالے سے 1824 میں کشمیر کی سیاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ جانوروں جیسا‘ بلکہ اس سے بھی بدتر‘ سلوک ہوتا ہے۔ سِکھ دور کی بات ہے کہ اگر کسی سکھ کے ہاتھوں کوئی مقامی قتل ہو جاتا تو قاتل پر 16 سے لے کر 20 روپے تک جرمانہ کیا جاتا تھا۔ وہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوا کرتی تھی۔ قتل ہونے والے کے لواحقین کو اگر کوئی غیرمسلم ہوتا تو چار روپے اور اگر مقتول مسلمان ہوتا تو پھر مرنے والے کے گھر والوں کو دو روپے ملا کرتے تھے۔ 1947میں کشمیر میں 77فیصد مسلمان تھے مگر 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعدد کم ہو کر 67 فیصد رہ گئی ہے۔ ہندو 29.07 فیصد‘ سکھ 2.08 فیصد‘ بدھ مت1.07فیصد جبکہ دیگر قومیں 0.77فیصد ہیں۔

مسلمانوں کی تعداد بتدریج کم کی جا رہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت بھارت کے فٹ پاتھوں پر پڑے شودر‘ پاوندے اور دیگر کم ذات ہندو بھارت کشمیر کے لداخ ڈویژن میں لا کر آباد کر رہا ہے۔ جب کبھی کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہو جائے گی تو بھارت استصواب رائے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ مذہب کی بنیاد پر اگر الحاق کی بات ہوئی تو کشمیر تب تک مسلم اقلیتی سرزمین بن چکی ہو گی۔ بھارت نے کشمیر ویلی اور جموں میں بعض حساس نوعیت کے ادارے بالخصوص ایٹمی پروگرام سے متعلق ایک ایسے متنازعہ علاقے میں جہاں ہیوی واٹر کے ادارے کام کر رہے ہوں اس خطے کو چھوڑنے یا مسلمانوں کے حوالے کرنے کا بھارت تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سری نگر میں ہیوی واٹر کے ادارے کے علاوہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ بھی قائم ہے اسی طرح جموں میں ڈوڈہ کے علاقے میں اور ایک ویلی کے علاقے گلمرگ میں ہائی آلٹی چیوڈ ریسرچ لیبارٹری

(High Altitude Research Laboratory)

بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ویلی اور جموں کے تین انتظامی ڈویژن ہیں۔ (1) کشمیر ویلی (2) جموں ڈویژن (3) لداخ ڈویژن۔ کشمیر ویلی جس کی آبادی 6,90,7622 ہے وہ کشمیر کے 15.73 فیصد علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ جس کا رقبہ 15,948 مربع کلومیٹر ہے جبکہ جموں ڈویژن کی آبادی 5350811افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ 26293مربع کلومیٹر اور کل کشمیر کا 25.94 فیصد ہے۔ جبکہ لداخ ڈویژن رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا انتظامی ڈویژن ہے مگر اس کی آبادی سب سے کم ہے ۔ لداخ کی کل آبادی 290,492اور رقبہ 59,146مربع کلومیٹر ہے جبکہ کل علاقے کا 58.33فیصد ہے۔

کشمیر ویلی اور جموں میں 10-10ضلعے ہیں جبکہ لداخ 2دسٹرکٹ پر مشتمل ہے سرکاری زبان اردو اورانگریزی ہے دیگر علاقائی زبانوں میں ڈوگرہ‘ ہندی‘ کشمیری‘ رؤف‘ لداخی اور شِنا ہے۔ وادی کا قیام 27اکتوبر 1947سے شمار کیا جاتا ہے یہ وہی دن ہے جب بھارتی فوجیں ہوائی جہاز کے ذریعے کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اتاری گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر کے دو دارالحکومت ہیں۔ سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سری نگر‘ شرح خواندگی 66.07 ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف دستخط کر سکتے ہیں۔ یہاں دس بڑے شہر ہیں مگر سری نگر سب سے بڑا ہے۔ طرز حکومت صدارتی ہے مگر آج کل وہاں گورنر راج ہے۔ نریندر ناتھ وہرا‘ موجودہ گورنر ہے حالیہ نام نہاد انتخابات میں چونکہ بھارتی حکمرانوں کے مطلوبہ نتائج کے مطابق کوئی گروہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ اس لئے اقتدار عوام کے حوالے کرنے کی بجائے گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کل انسانی آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار نو سو پچیس ہے۔ (12,548,925) مردم شماری کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1951ء پہلی مردم شماری 3,254,000

1961ء دوسری مردم شماری 3,561,000 9فیصد اضافہ

1971ء تیسری مردم شماری 4,617,000 29.7فیصد اضافہ

1981ء چوتھی مردم شماری 5,987,000 29.70فیصد اضافہ

1991ء پانچویں مردم شماری 7,837,000 30.9فیصد اضافہ

2001ء چھٹی مردم شماری 10,143,000 29.4فیصد اضافہ

2011ء ساتویں مردم شماری 12,548,925

علاقے میں ہندو کمیونٹی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر کشمیر کے اندرونی حالات سے تنگ آ کر بھارتی فوجی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ چڑچڑاپن ان کے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لئے آئے دن بھارتی فوجی سرحدی خلاف ورزیاں کرتے رہتے ہیں۔ دسمبر 2014 میں فلیگ میٹنگ کی کال دے کر فائرنگ کر کے دو پاکستانی رینجرز کے جوانوں کو شہید کرنا اسی پاگل پن کا نتیجہ ہے جس میں سارا بھارتی حکمران ٹولہ مبتلا ہے۔

علاقے کے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے مگر بھارت روائتی ہندو بنیئے کی طرح بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی مالا جپتا ہے۔ پاکستان دامے‘ درمے‘ سخنے ہر حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مظلوم کا ساتھ دینا مسلمانوں کی تربیت میں شامل ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جہاں بھی کسی پر ظلم ہو رہا ہو پاکستان ان کے لئے آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جانا ایک مستقل روایت بن گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہ تعلق آج کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔


[email protected]


نمودِ سحر

اویس الحسن

کہہ دو اُس سے کہ کاٹ دیں گے

ہر ایک زنجیرِ آہنی کو

اور عزم و ہمت کے لشکروں سے

بُتانِ ظلمت کو توڑ دیں گے

مثالِ کوہِ گراں بنیں گے

کھڑے رہیں گے

اَڑے رہیں گے

گو اُس کے چنگل میں پھنس کے ہم نے

بہت سے لمحے گنوا دیئے ہیں

لٹا چکے ہیں عظیم بندے

اُٹھا چکے ہیں بہت سے لاشے

وچن ہے تجھ کو یہ یاد رکھنا

ہماری غیرت مری نہیں ہے

وہ آگ اب بھی سلگ رہی ہے

تمہارے خرمن کو جو جلا دے

تمہاری ہستی کو جو مٹا دے

ہمیں یقیں ہے فتح کا سورج

ہمارے حق میں بلند ہوگا

یقیں ہے باطل کا سر جھکے گا

پیامِ صبح بھی دے گا سورج

روپہلی کرنیں لئے افق سے

ہماری دھرتی سے جو اُٹھے گا

تمہارے حصے میں رات ہوگی

ہمارے آنگن میں دِن چڑھے گا

سکون دھرتی کو تب ملے گا

سحر کا جھونکا وہ جب چلے گا

امن کا دامن تبھی بھرے گا

وفا کے پھولوں کا رنگ اک دن

جہاں کو پھر سے یوں رنگ دے گا

شہادتوں کو امر کرے گا

رفاقتوں کو ثمر کرے گا

یہ یاد رکھنا

یہ یاد رکھنا

یہ تحریر 270مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP