متفرقات

لڑکیوں کی تعلیم کیونکر۔۔۔

 آج ہم جس دور میں جی رہے  ہیں وہاں جنریشن گیپ کی اصطلاح بہت عام ہے، اولاد بڑے دھڑلے سے ماں باپ اور اپنے درمیان دوری کو جنریشن گیپ کا نام دیتی ہے۔ درحقیقت اکثر والدین بالخصوص مائیں نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ انہی گیجٹ اور ٹیکنا لو جی کی اتنی سمجھ نہیں ہے نہ ہی وہ ان چیزوں کو اپنانے پر رضامند ہیں۔جس کے نتیجے میں بچے فطری طور پر خود کو ان سے لاتعلق محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایسی مائیں بھی ہیں جو ان چیزوں سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ ان کا بھرپور استعمال بھی کرتی ہیں۔ یہ اپنے بچوں سے ان کے مشاغل پر بات بھی کرسکتی ہیں اور ان کے معمولات پر نظر بھی رکھ سکتی ہیں۔
یہ تعلیم اور شعور کا فرق ہے۔ کل جن لڑکیوں کو ان کے ماں باپ نے صرف گھر داری کی تربیت دے کر رخصت کیا تھا وہ آج اپنے بچوں سے فاصلے پر ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کے سامنے بیٹھا ان کا بیٹا یا بیٹی موبائل پر کیا کررہا ہے نہ انہیں ان کی انگلش سمجھ آتی ہے نہ وہ ان کے سوشل سرکل کو پرکھ سکتی ہیں۔ 
بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر ماں پڑھی لکھی ہو تو ایک  پڑھی لکھی باشعورنسل پروان چڑھتی ہے۔ اور اگر ماں ان پڑھ ہو تو بچوں کی تربیت میں خلا رہ جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اب بھی بہت سے گھرانوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مڈل پاس کرتے ہی لڑکی کا رشتہ تلاش کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔ اگلے سال منگنی اور زیادہ سے زیادہ فرسٹ ائیر کے بعد شادی۔ یوں ایک لڑکی جو ابھی خود شعور کی منزلیں طے کر رہی تھی، آنے والی ایک پوری نسل کی ضامن بنا دی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس دلیل یہ ہے کہ ہم اور ہمارے بزرگوں کی شادیاں بھی اسی عمر میں ہوئی تھیں۔ زیادہ بحث کرو تو وہ اسلام کو بیچ میں لے آتے ہیں کہ دین میں کہاں لکھا ہے کہ لڑکی کو پڑھانا فرض ہے۔ نبی پاک حضرت محمدۖ نے فرمایا کہ 'علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرداور عورت پر فرض ہے' ایسے گھرانوں میں لڑکیاں خود بھی اپنے مستقبل سے آگاہ ہوتی ہیں کہ انہیں کون سا کوئی ڈگری لینی ہے سو ان کی دلچسپی تعلیم میں صفر ہوجاتی ہیں۔
کبھی والدین کے مالی حالات اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنے سب بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھا سکیں لہٰذا وہ بیٹے کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں بیٹیاں کتنی ہی قابل کیوں نہ ہوں، انہیں اپنا آپ مارنا پڑتا ہے۔ ایسے رویے اپناتے ہوئے والدین یہ نہیں سوچتے کہ اگر خدانخواستہ لڑکی کو اپنی آئندہ زندگی میں نوکری کرنے کی ضرورت پڑگئی تب کیا ہوگا۔ راقم نے خود ایسی خواتین کو دیکھا ہے جن کے حالات نے انہیں فکر معاش کی طرف دھکیلا اور وہ تعلیم ادھوری ہونے کے باعث زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئیں اور اپنے روز مرہ اخراجات کے لئے بھی دوسروں کی محتاج ہو گئیں۔ ایسی خواتین اکثر جائیداد میں اپنے شرعی حق سے بھی محروم کردی جاتی ہیں اور تعلیم نہ ہونے کے سبب انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ قانون اور شریعت نے ان کے کیا حقوق متعین کئے ہیں  اور کون کس حیلے بہانے سے ان کے حقوق غصب کررہا ہے۔
 اسلامی تاریخ دیکھیں یا تحریک پاکستان ہر جگہ ہمیں عورتیں اپنا کردار ادا کرتی نظرآتی ہیں۔ کہیں حضرت خدیجہ کے روپ میں کاروباری معاملات سنبھالتی ہیں توکہیں حضرت زینب بن کر عالیشان دربار کو لرزادیتی ہیں۔ کہیں بی اماں ہیں جواپنے بیٹوں کوقوم وملت کادرس دیتی ہیں توکہیں صغریٰ فاطمہ ہیں جوغلامی کی علامت یونین جیک کواتارپھینکتی ہیں۔ کہیں بانو قدسیہ ہیں تو کہیں مریم مختیار ہیں۔ یہ سب خواتین تعلیم اور شعور کے سبب زندہ جاوید ہوئیں نہ کہ سوچ پر پہرا بٹھانے سے یا خود کوکنوئیں کا مینڈک بنانے سے۔
نہ معلوم کتنی لڑکیاں کچھ بننے کا سپنا ٹوٹنے کی اذیت سہہ کر زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے گھروالوں کا خیال ہوتا ہے کہ ہم نے کون سا لڑکی سے نوکری کروانی ہے۔ کئی دفعہ والدین کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کا رشتہ نہیں ملے گا کیونکہ اکثر گھرانے بہو لاتے وقت یہ سوچ رکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ لڑکی دب کر نہیں رہے گی۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 37ہر عورت کو تعلیم کا حق دیتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ حق ہر پاکستانی لڑکی کے اختیار میں نہیں۔ ہمارے یہاں 21فیصد لڑکیوں کی شادی اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی کردی جاتی ہے۔ یوں وہ محض میٹرک یا انٹر پاس رہ جاتی ہیں۔ پاکستانی عورتوں میں شرح خواندگی اب بھی45فیصد ہے۔3فیصدلڑکیاں15سال کی عمر سے پہلے بیاہ دی جاتی ہیں یوں وہ معاشرے کاعضومعطل بن کر رہ جاتی ہیں۔ 
اگرچہ ہر حکومت لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کوشاں رہتی ہے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔والدین کی سوچ بدلے بغیریہ ناممکن ہے اور اس مائنڈسیٹ کو بدلنے کے لئے ہر مکتبہ فکرکو آگے آنا پڑے گا۔ علمائِ کرام یہ کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں کہ اسلام روشن اقداررکھنے والا مذہب ہے جوتعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں
۔ [email protected]

یہ تحریر 121مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP