قومی و بین الاقوامی ایشوز

طالبان سے مذاکرات اور سیز فائر کا سٹیٹس

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے 16اپریل کے روز اپنے ایک تفصیلی بیان میں نہ صرف یہ کہ سیزفائر میں توسیع سے انکار کر کے مذاکراتی عمل کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا بلکہ انہوں نے ریاست کے خلاف ایک باقاعدہ چارج شیٹ بھی جاری کر دی۔ 29دسمبر 2013کے روز قومی اسمبلی کے فلور پر جب وزیراعظم نوازشریف نے غیر متوقع طور پر طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی اس پر بعض حلقے حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے کیونکہ اس اعلان سے قبل ریاستی اور صحافتی حلقوں میں عام تاثر یہ بن گیا تھا کہ طالبان کی طرف سے لگاتار دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے وزیراعظم اپنی تقریر میں فل فلیج آرمی ایکشن یا آپریشن کا اعلان کرنے والے ہیں تاہم انہوں نے غیرمتوقع طور پر مذاکرات کی پیشکش کر ڈالی۔ جن حلقوں کو طالبان اور ان کے اتحادیوں کے نظریات اور اہداف کا علم تھا وہ پہلے ہی دن سے مذاکراتی عمل کی پیچیدگیوں اور رکاوٹوں سے آگاہ تھے اور ان کو اس پر اس کے متوقع انجام کا علم بھی تھا۔ تاہم ایسے حلقوں کی بھی کمی نہیں تھی جن کا موقف تھا کہ مذاکرات کا آپشن ایک بار پھر استعمال کر لینا چاہئے اور آپریشن سے بچنا چاہئے۔ میڈیا کے بعض باوثوق ذرائع نے یہ بھی لکھا کہ حکومت 28دسمبر کی شام یہ طے کر چکی تھی کہ وزیراعظم طالبان کے مسلسل حملوں کے جواب میں 29فروری کے اپنے خطاب میں فوجی آپریشن کا اعلان کریں گے۔ تاہم تقریر سے چند گھنٹے قبل طالبان کے بعض طاقتور حامیوں نے حکومت اور ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے بحال کر دیئے اور طالبان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اس دفعہ اگر وزیراعظم ایک مکینزم کے ذریعے مذاکرات کی پیشکش کریں تو اس کا بھرپور خیرمقدم اور مثبت جواب دیا جائے گا۔ انہی یقین دہانیوں اور پیغامات کے تبادلے کے بعد وزیراعظم نے 29 دسمبر کی صبح مذاکرات کا اعلان کیا اور انہوں نے عملی اقدام کے طور پر ایک مذاکراتی کمیٹی بھی قائم کی۔

بعد میں کمیٹیوں کے کچھ ممبران نے جو طرز عمل اختیار کیا اور یہ عمل نتائج دینے کے بجائے جس نوعیت کے غیرسنجیدہ رویوں اور ذاتی ‘ سیاسی پبلسٹی کا سبب بنتا گیا۔ اس پر سرے سے بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بات بات پر ناراضگی کا اظہار کرنا۔ بلیک میلنگ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا‘ مذاکرتی عمل کو ختم کرنے کی دھمکیاں دینا اور ایسی دوسری مشکلات پیدا کرنے کی پوری ریہرسل کی گئی اور مذاکراتی عمل ایک معمہ بن کر رہ گیا۔ دومہینے ریاست اور سوسائٹی مذاکراتی عمل کے سسپنس میں مبتلا رہی اور پھر دو مہینوں بعد یہ کہا گیا کہ یہ عرصہ محض اعتماد سازی میں استعمال ہوا ہے۔ کمیٹیوں کے ارکان اکثر ٹی وی سکرین پر دیکھے گئے مگر کوئی کام دیکھنے کو نہیں ملا۔

حکومت کو عالمی اور علاقائی سطح پر شدید مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ میڈیا کے اکثر حلقے اور بعض اہم سیاسی قوتیں اس عمل پر کھلے عام تنقید کرنے لگیں۔ اس کے باوجود حکومت اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ تاہم طالبان اور ان کے اتحادی ریاست اور عوام پر کسی وقفے کے بغیر مسلسل حملے کرتے رہے اور ہلاکتوں اور دھماکوں کا نیا ریکارڈ بنایا گیا۔ ان حملوں میں اُس وقت کمی آ گئی جب ایئرفورس نے تین مختلف مواقع پر مختلف مقامات کو ٹارگٹ کر کے طالبان قیادت کے خلاف گھیرا تنگ کیا اور ان کو واضع پیغام دیا گیا کہ ریاست کے صبر سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کیا جائے۔ انہی کارروائیوں کا نتیجہ تھا کہ حملوں کی تعداد میں کمی واقع ہو گئی۔ اور سیزفائر کا اعلان بھی کیا گیا۔ سیزفائر کے باوجود طالبان کے بعض اہم اور طاقتور کمانڈروں یا گروپوں کی کارروائیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہوا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود حکومت دباؤ‘ مخالف اور مزاحمت کا سامنا کرتی رہی۔ اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ سیاسی قوتوں، صحافتی اور عوامی حلقوں نے اس کو ریاست کے سرینڈر اور طالبان کی نفسیاتی برتری اور بالادستی سے تعبیر کیا۔

کئی بار ایسے محسوس ہوا جیسے طالبان طاقتور اور ریاست کمزور ہو گئی ہے۔ ڈھائی ماہ کی کوششوں کے دوران چار بار ڈیڈلاک کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ خدا خدا کر کے ڈھائی ماہ بعد اتحاد سازی کی راہ ہموار ہو گئی۔ تاہم مسئلہ اس وقت پھر سے خراب ہونے لگا جب حکومت اور طالبان شوریٰ کی کمیٹیوں کا براہ راست آمنا سامنا ہوا اور بات شرائط کے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ تاہم اس کہانی کے دوران جب طالبان نے پیس زون کے قیام‘ قیدیوں کی رہائی اور فوج کے انخلاء جیسے مطالبات سامنے رکھ دیئے تو حکومتی ٹیم کے لئے یہ ایک مشکل چیلنج بن گیا۔ کیونکہ ہر ایک مطالبے کا ایک مضبوط پس منظر تھا اور لگ یہ رہا تھا کہ طالبان مانگ تو بہت کچھ رہے ہیں مگر بدلے میں کچھ بھی نہیں دے رہے۔ طالبان کے یہ مطالبات ماننا واقعتا ریاست کے لئے سبکی اور پسپائی والامعاملہ تھا۔ مذاکرات کے حامی حلقوں کے پاس طالبان سے بات چیت اور امن معاہدے کے دفاع میں صرف دو دلائل تھے یا ہیں۔ پہلی دلیل یہ کہ دس سال کے دوران کئی آپریشن کئے گئے۔ مگر دہشت گردی بڑھتی گئی جبکہ دوسری یہ کہ مذاکراتی عمل کے دوران حملے کم ہو گئے اور لوگوں کی جانیں ضائع ہونے سے بچ گئیں۔

پہلی دلیل کے جواب میں صاحب الرائے اور باخبر حلقے کہتے گئے کہ اگر سوات اور بعض دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیاں نہ کی جاتیں تو اب کیا صورت حال ہوتی۔ یقیناًفوجی کارروائیوں کے ذریعے ہی نہ صرف یہ علاقے ریاستی رٹ میں واپس لائے گئے بلکہ طالبانائزیشن کے دوسرے علاقوں تک پھیلاؤ کا سلسلہ بھی روک دیا گیا۔ دوسری دلیل کے جواب میں کہا گیا کہ یہ محض خطرہ ٹالنے یا وقت گزاری کا ایک ذریعہ یا بہانہ ہے اور مسئلے کا کوئی دیرپا حل قطعاً نہیں۔ دیکھا جائے تو زمینی حقائق اور ریاستی سٹیٹس کے تناظر میں مذاکرات کے مخالفین کے دلائل میں زیادہ وزن تھا اور اب بھی ہے۔ تاہم بعض حلقے پھر بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں گے اور طالبان ریاستی رٹ کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ حکومت نے جب 19طالبان کو غیر عسکری کہہ کر رہا کر دیا تو طالبان نے اس کا خیرمقدم کرنے کی بجائے وہ ’’انکشاف‘‘ کیا کہ ان 19افراد کی رہائی کا تو انہوں نے مطالبہ ہی نہیں کیا تھا۔ ساتھ ہی 250طالبان کی وہ فہرست تھما دی گئی جس میں اکثریت ان قیدیوں کی تھی یا ہے جو کہ سنگین کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور وہ کھلے عام ثبوتوں کی بنیاد پر اپنے ’’کارناموں‘‘ کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔

یہ بہت عجیب منطق ہے کہ طالبان نے دوسروں کے علاوہ پروفیسر اجمل خان جیسے غیر متعلقہ اور بے بس انسان کو تو رہا کرنے سے انکار کر دیا تاہم اپنی فہرست میں ان چند افراد کے نام بطور خاص ڈال دیئے جو ان کے اغوا میں ملوث رہے ہیں اور اب اداروں کے پاس ہیں بعض دوسرے مغویان کے بارے میں کہا گیا کہ ون ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ بات عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ کون کس کے پاس ہیں اور کہاں ہیں۔ اس قسم کا طرز عمل اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مسئلے کے حل کی بجائے مزید مسائل پیدا کئے جاتے رہے۔

طالبان ترجمان کے 16اپریل کے بیان یا چارج شیٹ میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی سیزفائر اور تعاون کے دوسرے اقدامات کے باوجود حکومت نے کوئی سنجیدگی دکھائی اور نہ ہی مسئلے کے حل کے لئے ٹھوس فیصلے کئے۔ ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کے فیصلوں کا اختیار کہیں اور ہے۔ اور یہ کہ چالیس روزہ جنگ بندی کے دوران 50سے زائد وہ طالبان ہلاک کئے گئے جو کہ حکومت کی تحویل میں تھے۔ ساتھ میں یہ ’’انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ سیزفائر میں توسیع نہ کرنے کے باوجود مذاکراتی عمل کو اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا اور حکومت کی جانب سے واضح پیش رفت کی صورت میں ٹی ٹی پی کوئی بھی سنجیدہ قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔

سوال یہ ہے کہ مذاکرات کی واضح پیش رفت طالبان کی نظروں میں ہے کیا دوسرا سوال یہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو اتنی بڑی چارج شیٹ اور سیزفائر کے خاتمے کے اعلان کے باوجود آگے کیسے اور کیونکہ بڑھایا جائے گا۔ ان سوالات کا جواب ان لوگوں کے پاس بھی نہیں جو کہ مذاکرات کے پرجوش حامی ہیں یا جو کہ مذاکرتی عمل کا کسی نہ کسی شکل میں حصہ ہیں۔ اب کے بار یہ دلیل بھی کچھ خاص اثر نہیں ڈال رہی کہ حکومت بے اختیار ہے یا اختیار کہیں اور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تر حقیقی تحفظات اور مضبوط پس منظر کے باوجود ملک کی عسکری قیادت اور طالبان مخالف سیاسی قیادت عملاً حکومت کا ساتھ دیتی آئی ہیں اور انہوں نے حکومت کے اس پراسس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ یہ کوئی آسان کام قطعاً نہیں کہ چالیس پچاس ہزار انسانوں کی جانیں محض اس نکتے پر معاف کی جائیں کہ حملہ آور قوت مزید جانیں نہیں لے گی۔ اس کے باوجود متاثرہ قوتوں نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہر قسم کی معاونت کی۔ مگر یہ پوچھنا بھی تو ان قوتوں ‘ متاثرین یا عام پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران حکومت نے کیاپایا ہے؟

مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان نے آپریشن کی اطلاعات پا کر مذاکرات کی آڑ میں Time Gaining کے شاندار منصوبے میں حکومت کو الجھا دیا۔ اس کی بنیادی وجہ مبصرین یہ بتاتے ہیں کہ آپریشن کی صورت میں طالبان کی قیادت اور جنگجو نہ صرف متاثر ہوتے بلکہ ان کے ٹھکانے بھی ختم ہو جاتے اور یوں 2014کے آخر میں ان کے لئے افغانستان میں القاعدہ اور افغان طالبان کے ہمراہ ایک مشترکہ جنگ لڑنے کا خواب پورا کرنا کافی مشکل ہو جاتا۔ آپریشن سے بچنے کے لئے انہوں نے مذاکرات کا پیغام دے ڈالا تاکہ اپنی قوت‘ کمانڈ سسٹم اور ٹھکانے کو 2014کے آخر تک قائم اور محفوظ رکھا جا سکے۔ چند حلقوں کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت نے ایک پلاننگ کے تحت بعض طاقتور کمانڈروں یا گروپوں کو مذاکرات اور سیز فائر کے دوران یہ کہہ کر حملوں کی اجازت دے رکھی کہ وہ باغی ہو چکے ہیں یا ان کو مذاکراتی عمل پر اعتراض ہے۔ اس منصوبے کا مقصد حکومت کو مسلسل دباؤ کا شکار بنائے رکھنا تھا اور وہ اس مقصد میں بھی کامیاب ہوئے۔ اب بھی کہا یہ جا رہا ہے کہ طالبان ممکنہ حد تک خود کو دسمبر 2014تک بچائے رکھنے کی کوشش کریں گے اور جس رفتار سے مذاکراتی عمل جاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے ان کی اس کوشش کے کامیابی سے ہمکنار ہو نے کے کافی چانسز ہیں۔ ایک اور پہلو کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ سیز فائر کے خاتمے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب شمالی وزیرستان میں طالبان کے دو گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں تقریباً 100افراد جان بحق ہو گئے تھے اور دوسروں کے علاوہ افغان طالبان اور شوریٰ نے بھی اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کسی بھی گوریلا تنظیم کے لئے باہمی اختلافات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہر گوریلا تنظیم کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ اپنے جنگجوؤں کو ریاست یا مخالف فریق کے ساتھ جنگ میں الجھائے رکھا جا سکے تاکہ ان کو آپس میں لڑنے سے باز رکھا جائے اور انہیں مصروف رکھا جا سکے۔ سیزفائر کے خاتمے کے اعلان کو بھی اس پس منظر یا ضرورت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹی ٹی پی کے اہداف بہت وسیع ہیں اور یہ ایک عالمی نیٹ ورک کے ڈسپلن کی پابند قوت ہے۔ اس کی ڈیلنگ کے دوران اس کی عالمی وابستگی کو مد نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ باہمی اختلافات سے بچنے اور اپنی قوت قائم رکھنے کے لئے اس کو اب مذاکرات یا سیزفائر سوٹ نہیں کرتے اس لئے ٹی ٹی پی اپنی بقا کے لئے جنگ لڑے گی یا مذاکرات کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق چلا کر مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ تحریر 252مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP