یوم یکجہتی کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی حالات دِگرگوں

قیام پاکستان کے بعدمتحدہ جموں و کشمیرکے عوام کو پاکستان میں شامل ہونے کی  پوری اُمید تھی مگر کشمیر کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہیری سنگھ نے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کر کے کشمیری عوام کو ایک آزادی حاصل کرنے کی ایسی جدوجہدکی راہ میں ڈال دیا کہ 74 برس گزرنے کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کی فضاؤں میں بارود اورخون کی آمیزش اول دن سے لے کر آج تک تازہ ہے۔جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کے بعد آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا  تو 1948 میں بھارت مسئلہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ میں لے گیا جس کی رو سے کشمیرکے عوام سے استصواب ِرائے سے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے رائے شماری کا وعدہ کرکے جنگ بندی کروائی گئی مگر آج تک بھارت نے کشمیری عوام سے کیا گیا وعدہ وفا نہ کیا ۔ کتنی نسلیں آئیں، کتنے کشمیری آزادی کی آس لئے اِس دنیا سے چلے گئے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمان وہیں کھڑے ہیں اور بھارتی فوج کے دن بدن بڑھتے مظالم سہنے پر مجبور ہیں بلکہ اگست  2019  میں بھارت نے  قانون سازی کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ 
 انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کا آرٹیکل 26 کے تحت کہ ''ہر کسی کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے'' کے تحت مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے لیکن وہ اپنا حق ڈر ،خوف اور پُر تشدد ماحول میں جاری رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ بھارتی حکومتیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام پر ناجائز قوانین نافذ کرنے کا اپنا شوق گاہے بگاہے پورا کرتی رہتی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تنازعات ، انتشار اور پُر تشددحالات نے کشمیری معاشرے کے تقربیاً ہر پہلو پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔بالخصوص بی جے پی کی مودی سرکار نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے بھارت میں ضم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر معینہ مدت  کے لئے کرفیو لگا کر لاک ڈاؤن کر دیا۔جس کے تحت نہ صرف ریاست میں زندگی کے معمولات متاثر ہوئے بلکہ کاروبارِ  زندگی کے علاوہ ذرائع ابلاغ مثلاً موبائل، انٹر نیٹ  سروسز کوبھی مفلوج کر کے باہر کی دنیا سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا گیا تاکہ ریاست کے بدترین حالات کی خبریں کی دنیا تک نہ جاسکیں اور اُس لاک ڈاؤن کو جیل کا نام دیا گیا جس میں قید انسانوں کا جُرم یہ تھا کہ وہ بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی چاہتے تھے۔ جہاں ایک طرف کاروبارِ زندگی کو بریک لگ گئی تو دوسری طرف مقبوضہ وادی کے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل بھی داؤ پر لگاکر تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیئے گئے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کشمیری عوام کے لئے  آزادی سے سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہے۔ صرف بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کی بندوق کی نوک پرزندگی کی گاڑی چلانے کی اجازت ہے۔ وہاں اگلے پل کا نہیں پتہ کہ کب قابض فوج کوئی اقدام کرے  اور کشمیری عوام کو اُس اقدام کی کیا قیمت چُکانی پڑے ؟تعلیم جو کہ انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے لیکن بد قسمتی سے جب بھی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے حالات خراب ہوتے ہیں تو وہاں تعلیمی عمل  رُک  جاتا ہے اور اُس بندش کا دورانیہ طویل ہو کر کئی ماہ پر محیط ہو جاتا ہے۔انسانی زندگی اورمعاشی نقصانات کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تنازعات اور پابندیوں کی وجہ سے وہاں کے تعلیمی نظام کا بہت نقصان ہوا ہے ۔ ماضی اور حال میں بھی بھارتی حکومت یا قابض فوج کی جانب سے کسی ایک سانحہ کو بنیاد بنا کر خوف و ہراس عوام میں ڈالا جاتا ہے تو سب سے زیادہ ذ  ہنی طور پرمتاثر عام کشمیری بچہ ہی ہوتا ہے۔
 1990 ء کے بعد جب آزادی کی تحریک تیز ہوئی تو اُس وقت سے لے کر اب تک مقبوضہ ریاست میں حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔اگر ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو 1990 کے بعد سے اب تک کشمیری طلبہ نے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں کم اور گھروں پر وقت زیادہ گزارا ہے کیونکہ وہاں کئی سکول اور کالجوں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا گیا یا پھر مقبوضہ علاقوں میں بھارتی فوجیوں کے گشت ، آئے دن کی تلاشی  یا نوجوان طلبہ پر تشدد میں اضافہ طلبہ میں تحفظ کا فقدان پیدا کر رہا ہے۔ 
 تعلیم کو کسی معاشرے کی  ریڑھ کی ہڈی سمجھا  جاتا ہے۔ اگر کسی ریاست یا ملک میں تعلیمی نظام میں خلل پڑ جائے تو وہ عدمِ اطمینان کا باعث بنتا ہے اور اِس کا سب سے پہلا اثر سکول یا تعلیمی اداروں میں جانے والے بچوں پر پڑتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی حالت میں طلبہ کا متاثر ہونا فطری ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے بچوں کو درپیش تعلیم میں رکاوٹیں غیرمتوقع نہی ںہیں ۔صدمے ، خوف،ڈپریشن اور عدمِ تحفظ جیسے عناصرنے طلبہ کی سوچ پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ بھارت میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کا ذہنی موازنہ دوسرے شہروں کے طلبہ سے کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر طلباء کی ذہنی اور جذباتی صحت غیر تسلی بخش ہے۔ ریاست کی غیر یقینی صورت حال کشمیری بچوں اور خاص کر نوجوانوں میں تعلیم حاصل نہ کرنے کا رحجان بڑھا رہی ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔ 
 مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہونے والی ہڑتالوں، کرفیواور خاص طور پر اگست 2019 کے اقدام اور پھردنیا بھر میں بیماری کرونا لاک ڈاؤن کی چُھٹیوں سے ایک سال تک تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں جس کی وجہ سے وہاں بچوں میں اپنے تعلیمی اداروں میں جانے کے لئے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی ۔ماضی میں جب وادی کے حالات خراب ہوتے تھے توزیادہ سے زیادہ  چند  دن، چند ہفتوں تک چُھٹیاں ہوتی تھیں لیکن اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو اور لاک  ڈاؤ ن لگا کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو قید کر دیا اور اگر یہ کہا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک  جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے تو بے جا نہ ہو گا جبھی اسے کھلی جیل سے تشبیہہ دی گئی ۔
 آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی جانب سے سخت ردعمل اور فسادات پھوٹ پڑنے سے بچنے کے لئے بھارتی حکومت نے مقبوضہ ریاست میں کرفیو لگانے سے پہلے ہی بھاری تعداد میں فوج کی نفری بھیج کر نقل و حرکت بڑھا دی تاکہ کشمیری عوام کی طرف سے مزاحمت کی صورت میں عوام کے احتجاج کو روکا جا سکے۔ بھارتی حکومت نے انٹر نیٹ اور ذرائع ابلاغ تک رسائی کے ذریعے منقطع کر دیئے ۔ مسلم سیاسی رہنماؤں کوگھروں میں نظربند کر دیا گیا، تعلیمی ادارے بند کر دیئے۔ یہاں تک کہ محکوم کشمیری عوام کو طبی سہولیات سے بھی محروم کر دیاگیا ۔ایک طرف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ خدشہ و خوف لاحق تھا کہ کہیں بھارتی حکومت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی کرفیو لگا کرکشمیریوں کی نسل کشی نہ شروع کر دے،تو دوسری طرف  لاکھوں بچوں کی تعلیم میں بڑے پیمانے پر خلل ڈال سکتا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ حالات کب تک رہیں گے اور خوف و ہراس سے بچوں کا حوصلہ ختم ہونے کا ڈر تھا ۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا نظامِ تعلیم غیر یقینی تھا، وہاں طلبہ کو معیاری تعلیم میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ۔کئی دہائیوں سے جاری ریاست میں کشمیری عوام اور بھارتی حکومت کے درمیان تنازعے کی وجہ سے مسلسل تعلیمی اداروں کی بندش ، تعلیمی اداروں اور طلبہ پر بھارتی فوج کے حملوں نے جہاں کشمیریوں کی زندگی میں تلخیوں میں اضافہ کیا ہے وہاں تعلیمی نظام کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے۔طلبہ خاص طور پر نوجوان طبقہ تشدد کا شکارہے، آئے دن کی گرفتاریوں ، سرچ آپریشنز، نوجوانوں پر تشددنے کشمیری جوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کر دیا ہے ۔کشمیری  لڑکیوں  کیلئے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بھارتی فوج کی جانب سے لڑکیوں پر جنسی حملے بھی اُن کی تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر اِن تمام محرکات کا منفی اثر ظاہر ہورہا ہے کیونکہ عدمِ تحفظ، بدامنی ،شورش اورخراب امن و امان کے مسائل کشمیری خواتین کو نفسیاتی مریض بناکراِن کی مایوسی کوبڑھاتے جا رہے ہیں۔  
 بد قسمتی سے کشمیری طلبہ اور نوجوانوں میں اپنے بہتر مستقبل کے حوالے سے بہت سے خدشات ہیں کیونکہ خوف اور غیر یقینی صورتِ حال کے تناظر میں اُن کے سنہرے خواب ایک ڈراؤنے خواب کا روپ دھار چکے ہیں ۔کشمیری طلبہ کو بھارت بھر میں نسل پرستی کی وجہ سے ہندؤوں کی طرف سے نفرت انگیزرویے کا نشانہ بننے کے بعد خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ۔بات صرف مقبوضہ ریاست تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیری طلبہ کو ایک اور المیے سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے ناگفتہ حالات کی وجہ سے اگر بھارت کے دوسرے علاقوں میں جاکر اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کرنا پڑے  تو وہاں انتہا پسند جنونی ہندؤوں کی جانب سے غدار کا لیبل لگا کر اُن پر تشدد کیا جاتا ہے اور اُن علاقوں میں بھی اُنھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی نہ مقبوضہ علاقوں میں کشمیری طلبہ کے لئے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے مواقع ہیں اور نہ ہی بھارت کے دوسرے علاقوں میں اُن کے لئے آسانیاں ہیں ۔  ||


  مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں اور مختلفاخبارات  کے لئے لکھتی ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 127مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP