قومی و بین الاقوامی ایشوز

آپریشن ضربِ عضب کے دوسال اثرات و نتائج

انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کو دوسال مکمل ہوگئے ہیں۔ عسکری تاریخ میں اس آپریشن کو نمایاں مقام حاصل ہو چکا ہے کیونکہ اس پیچیدہ آپریشن کو دو سال تک کسی تعطل یا وقفے کے بغیر جاری رکھا گیا اور پاک فوج نے فاٹا کی تقریباً تمام ایجنسیوں میں سیکڑوں کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائیاں صرف فاٹا تک محدود نہیں رکھی گئیں بلکہ انہیں دوسرے مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا اور تیسرے مرحلے میں پورے پاکستان تک کامیابی کے ساتھ پھیلا یا گیا اور دوسال گزرنے کے باوجود یہ آپریشن فاٹا اور پختونخوا سمیت پورے ملک میں اب بھی جاری ہے۔

 

ایک محتاط اندازے کے مطابق سال2001 کے بعد پاک فوج نے فاٹا میں تقریباً تین درجن سے زائد آپریشن کئے ان میں سے زیادہ تر شمالی اورجنوبی وزیرستان میں کئے گئے کیونکہ نائن الیون کے بعد ہزاروں جنگجوپناہ کی تلاش میں ان دو ایجنسیوں میں گھس آئے تھے تاہم ماضی کے آپریشن محدود رہے اور بوجوہ یہ سلسلہ یا تو محدود رکھا گیا یا درمیان میں بعض کارروائیاں مقاصد حاصل کئے بغیر روک دی گئیں۔ تاہم اس بار آپریشن کو نہ صرف یہ کہ بلاامتیاز اور بلا تعطل جاری رکھا گیا بلکہ اس کو وقت گزرنے کے ساتھ ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت دوسرے علاقوں یا صوبوں تک بھی پھیلایا گیا اور ماضی کی طرح ان کو ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے یا ٹھکانے قائم کرنے نہیں دیئے گئے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس بار آپریشن کے حتمی فیصلے کو میڈیا یا عوام سے پوشیدہ رکھا گیا اور اس کے آغاز کا اعلان اس وقت کیا گیا جب فورسز نے شمالی وزیرستان کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور ایئر فورس نے شرپسندوں کے مستقل ٹھکانوں کو درجنوں حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔یہ صورت حال برسوں سے ڈیرے جمائے طالبان اور ان کے حامیوں کے لئے غیر متوقع اور اچانک تھی۔ یوں ان کو اس تعداد میں بھاگنے کا موقع نہیں ملا جو کہ ان کو پہلے ملا کرتا تھا۔ اگرچہ افغان بارڈر پر درکار سیکورٹی نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ موقع پاکر افغانستان کے سرحدی صوبوں میں منتقل ہوگئے تاہم ان کی تعداد بہت کم رہی۔ ان لوگوں کا راستہ روکنے میں افغان حکومت اور فورسز نے اس کے باوجود سُستی اور غفلت برتی کہ پاکستان نے افغان حکومت کو ان کا راستہ روکنے کے لئے پہلے سے کہہ رکھا تھا۔ اس سستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ اہم کمانڈر اور ان کے جنگجوبچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے بعد میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان کے اندر بھی کارروائیوں میں حصہ لے کر افغان فورسز‘ حکومت اور عوام کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ افغانستان اور نیٹو نے اس دوران اس تعاون کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی خطے کے امن کے لئے ضرورت تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر افغان حکومت نے پاکستان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بارڈر پر توجہ دے کر ان شرپسندوں کے بھاگنے کا راستہ روک لیا ہوتا اور پاکستان کی تجویز پر عمل کیا ہوتا تو آج خطے کی صورت حال نہ صرف یہ کہ بہت مختلف اور بہتر ہوئی بلکہ افغانستان لاتعداد حملوں سے بھی بچ جاتا۔ بہرحال پاکستانی فورسز نے جہاں ایک طرف شمالی وزیرستان‘ خیبر ایجنسی‘ کرم ایجنسی‘ جنوبی وزیرستان‘ مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں لاتعداد کارروائیاں کیں وہاں آئی ڈی پیز کی منتقلی یا عارضی آباد کاری کے کام پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کام کو بخوبی سرانجام دینے کے لئے بہت سے ایسے اقدامات کئے جو کہ عملاً سول حکومتوں کے کرنے کے تھے۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ قبائلی عوام کا فوج اور ریاست پر اعتماد بڑھ گیا اور ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ اس بار ان کی قربانی اور نقل مکانی کا نتیجہ ان کے علاقوں کے مستقل امن کی صورت میں نکل آئے گا۔ حکومت اور اس کے ریاستی اداروں نے اس آپریشن سے قبل کوشش کی کہ شدت پسند تنظیموں کو مذاکرات کے ذریعے راہِ راست پر لایا جائے اور آپریشن کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ اس مقصد کے لئے وزیرِاعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی بلکہ ایک مذاکراتی کمیٹی کا اعلان بھی کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے وقت ضائع کئے بغیر ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطے کئے اور ان کے لیڈروں کے پاس خود جا کر معاملات پر تبادلہ خیال کا آغاز کیا۔ اس پر اسیس پر پاکستان کے بعض اتحادی ممالک کے علاوہ بعض سیاسی قوتوں اور عوم نے بعض بنیادی سوالات اٹھاتے ہوئے شدید اعتراضات کئے تاہم حکومت مذاکرات کے آپشن پر ڈٹی رہی۔

 

مذاکراتی عمل جاری تھا کہ طالبان کے بعض اہم کمانڈروں یا گروپوں نے ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً پشاور پرخود کش حملوں کی یلغار کر دی جس کے نتیجے میں ایک تو صورت حال بہت سنگین ہوئی تو دوسری طرف یہ پیغام بھی ملا کہ یا تو ٹی ٹی پی کی قیادت آپس میں تقسیم ہے یا بعض گروپ کھلی مزاحمت اور جنگ پر اُتر آئے ہیں۔ مذاکراتی عمل کے چند ہفتوں کے پراسیس کے دوران صرف پشاور کو گیارہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں چھ خود کش حملے بھی شامل تھے۔ اس کے باوجود عسکری قیادت بعض جینیوئن تحفظات کے باوجود مذاکراتی عمل کے پیچھے کھڑی رہی حالانکہ بار باراس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ مذاکرات کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ طالبان ماضی کے تجربات اور نرم ریاستی رویوں کے باعث متعدد خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔

 

مئی 2014 کے دوران طالبان اور ان کے اتحادیوں نے حملوں کی تعداد بڑھا دی اور بعض ایسے مطالبات اور اعلانات کئے جس سے یہ واضح ہوگیا کہ وہ صلح‘ مفاہمت یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ طالبان نے حکومت کی مذاکراتی کوششوں کو آگے بڑھنے نہیں دیا جس کے باعث ریاستی اداروں پر عالمی برادری‘ عوام اور میڈیا کا دباؤ بڑھتا گیا اور ریاست کے متعلقہ اداروں کے لئے مزید خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔ اسی عرصے کے دوران کراچی ایئر پورٹ پر ایک خطرناک حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ بہت سے لوگ شہید ہوئے بلکہ پاکستان کی ریاستی ساکھ کو بھی ایک سوالیہ نشان کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعدپتہ چلا کہ حملے میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں براہ راست ملوث ہیں۔ یہاں تک کہ متعدد غیر ملکی جنگجوؤں نے اس حملے سمیت متعدد دیگر حملوں میں براہِ راست حصہ بھی لیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب اعلیٰ عسکری اور حکومتی قیادت کے لئے فیصلہ کن اقدامات یا کارروائیوں کا آغاز کئے بغیر دوسرا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ اعلیٰ ترین عسکری قیادت پر یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ ایک تو طالبان وغیرہ مذاکرات یا مفاہمت نہیں چاہتے اور دوسرا یہ کہ پاکستان عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کا مرکز بننے جارہا ہے اس لئے اعلیٰ قیادت نے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کیں اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ فیصلہ کیا گیا کہ فاٹا کو ہر قیمت پر مقامی‘ ملکی اور غیر ملکی شدت پسند تنظیموں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا جائے۔

 

پہلے مرحلے میں شمالی وزیرستان کا فضائی اور زمینی گھیراؤ کیا گیا کیونکہ یہ ایجنسی سال2001 کے بعد غیر ملکی تنظیموں اور گروہوں کا مرکز تھی۔ اسی عرصے کے دوران خیبر ایجنسی پر بھی فوکس کیا گیا جس کی دو تحصیلوں پر ایک مقامی تنظیم اور طالبان کا کئی برسوں سے قبضہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ باجوڑ‘ مہمند اور کرم کی قبائلی ایجنسیوں میں بھی ٹارگٹڈ کارروائیاں شروع کی گئیں جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کئے گئے اور سینکڑوں مسلح جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن ضربِ عضب کی کارروائیاں جاری تھیں کہ 16دسمبر2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں پر وہ ظالمانہ حملہ کیا گیا جس نے پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری مہذب دنیا اور عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہی وہ موقع تھا جب دہشت گردی سے متعلق معاملات اور ریاستی اپروچ نے پوائنٹ آف نو ریٹرن کی شکل اختیار کی اور ریاست اس بدترین حملے اور انسانیت سوز سانحے کے بعد پوری شدت اور قوت کے ساتھ حرکت میں آگئی۔ قوم اپنی فوجی اور سیاسی قیادت سے حتمی اور فیصلہ کن اقدام کا تقاضا اور مطالبہ کر رہی تھی اور اس آپشن پر یک زبان تھی کہ پاکستان کو ان حملہ آور قوتوں سے ہر قیمت نجات دلائی جائے۔ سانحۂ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل ہوئی جس میں قومی اور ادارہ جاتی سطح پر اس بات پر کلی اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ مزید کسی مصلحت یا رعایت سے گریز کرکے فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں۔ اس مقصد کے لئے مختصر المیعاد اور وسیع البنیاد نکات پر مشتمل ایجنڈا اور طریقہ کار وضع کیا گیا اوریوں آپریشن ضربِ عضب کے دائرہ کار کوپورے سیاسی اور عوامی مینڈیٹ اور عزم کے ساتھ پورے ملک میں پھیلانے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پاک فوج نے گزشتہ برسوں کے دوران فاٹا سمیت صوبہ خیبر پختونخوا‘ بلوچستان‘ سندھ اور اب پنجاب میں ہزاروں کارروائیاں کی ہیں جس کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زائد جنگجوؤں یا دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ اتنی ہی تعداد میں شدت پسندزخمی جبکہ اتنے ہی گرفتار ہوئے اس کے مقابلے میں فوج‘ ایف سی‘انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کے سینکڑوں جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جن میں48 افسران بھی شامل ہیں۔ شمالی وزیرستان سمیت فاٹا کا تقریباًتمام علاقہ طالبان اور ان کے اتحادیوں کے چنگل سے آزاد کرایا جا چکا ہے جبکہ وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے لاکھوں متاثرین کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے پاکستان کی داخلہ سکیورٹی کو کافی حد تک محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم یہ بھی طے ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔اب ملک کے سب سے بڑے صوبے یعنی صوبہ پنجاب میں بھی کالعدم تنظیموں کا پیچھا کیا جارہا ہے۔

 

دو معتبر تحقیقاتی اداروں آر آئی پی ایس اور سی آر ایس ایس کی 2016 کی سیکورٹی رپورٹس کے مطابق2015 کے دوران پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی تعداد یا شرح میں 40 سے45 فیصد تک کمی آئی۔ اس کے برعکس عالمی دہشت گردی کی شرح میں30 سے 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ جائزہ اس جانب اشارہ کررہا ہے کہ عالمی اور علاقائی دہشت گردی کے خطرات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں اور دوسروں کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کو اب داعش کی شکل میں ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ دوسری طرف بعض ماہرین اور سیاسی قوتوں کا خیال ہے کہ جب تک پنجاب کی کالعدم تنظیموں پر ٹی ٹی پی کی طرح ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تب تک انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خطرہ موجود رہے گا۔

 

وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کی تعداد 70 سے زائد ہے۔ ان میں پانچ ایسی بھی ہیں جن کے عالمی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں۔ 10 مشہور شدت پسند کمانڈرز پہلے ہی داعش کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان 10 کمانڈروں کے جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان میں سے بعض فاٹا بیسڈ کمانڈروں نے داعش کے ساتھ مل کر نصف درجن سے زائد کارروائیاں بھی کی ہیں۔ جبکہ درجنوں کمانڈرز ایسے ہیں جن کا افغانستان میں افغان طالبان اور داعش کے ساتھ باقاعدہ الحاق یا اتحاد ہو چکا ہے۔

 

رواں برس ایک سکیورٹی رپورٹ کے مطابق سال2016 کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں تین درجن سے زائد دہشت گرد کارروائیاں ہوئی ہیں‘ ان میں گیارہ خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ ان چند مثالوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی اور علاقائی دہشت گردی کے تناظر اور بعض بڑی قوتوں کے پسِ پردہ محرکات اور پالیسیوں کی روشنی میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات ختم ہوگئے ہیں۔ خطرات کم ضرور ہوئے ہیں تاہم ختم نہیں ہوئے ہیں۔

 

ایک ممتاز امریکی اخبار کی مئی2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے تقریباً 16 صوبوں میں نہ صرف طالبان بلکہ داعش اور سنٹرل ایشین دہشت گرد نیٹ ورکس موجود ہیں۔ پاکستان سے ملحقہ نصف درجن افغان صوبوں میں نہ صرف ان قوتوں کی موجودگی پائی جاتی ہے بلکہ متعدد علاقے ان کے قبضے میں بھی ہیں۔ ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادیوں کے بڑے کمانڈر بھی ان علاقوں میں قیام پذیر ہیں۔ اس تناظر میں یہ اندازہ لگانا یا تجزیہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ ابھی بہت سے مراحل طے کرنا باقی ہیں۔ پاکستان‘ افغانستان کے حالات اور دہشت گردی کی عالمی‘ علاقائی لہر سے براہِ راست متاثر ہوتا آیا ہے اور وارانڈسٹری کے عالمی کردار اورکھلاڑی اب بھی متحرک اور فعال ہیں۔ ایسے میں یہ کہناتو درست ہوگا کہ پاکستان ماضی کے مقابلے میں کافی محفوظ ہو چکا ہے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی گئی ہے تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ خطے کے مخصوص حالات کے تناظر میں انتہا پسندی یا دہشت گردی کا یقنی خاتمہ ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی مسلسل تعریف کی جارہی ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بلاامتیاز کارروائیاں کرتا آرہا ہے تاہم یہ کہنا کہ برسوں عالمی اور علاقائی آبیاری اور پراکسی وارز کا سلسلہ محض دو برسوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ختم ہوجائے گا‘ یہ ایک حقیقت پسندانہ دعویٰ نہیں ہوگا کیونکہ دہشت گردی علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔


a[email protected]

یہ تحریر 409مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP