قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارتی گولہ باری :کنٹرول لائن کے باسیظلم کا نشانہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدہ کیا گیا،مگر بھارت نے چند سال بھی اپنے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور گولہ باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے تاہم 2016سے بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تیز کردیا گیا۔ آزادکشمیرکے13انتخابی حلقوں نیلم،مظفرآباد،ہٹیاں بالا،لیپہ ،نوکوٹ، چکوٹھی، سیماری' باڑیاں، اٹھمقام، کیرن، نگدر، عباسپور، نیزہ پیر، باغ، راولاکوٹ، تیترینوٹ،جورا،نوسیری،تتہ پانی، نکیال ، لنجوٹ، گوئی،سما ہنی،بٹل سیکٹرز سمیت سیکڑوں دیہات کے عوام پر بھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔پاکستانی فوج اگرچہ بہت مؤثر جوابی کارروائی کررہی ہے تاہم کنٹرول لائن پر بسنے والے عوام اس شدید گولہ باری اور فائرنگ سے مکمل طورپر معاشی ،تعلیمی،سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ مذہبی رسومات کی ادائیگی،شادی بیاہ اور جنازوں  میں شرکت سمیت کاروبار، دفاترمیںحاضری،بچوںکے سکولوں،کالجزمیںتعلیم سمیت طبی سہولیات سے بھی محروم ہوکر رہ گئے ہیں۔بھارتی فوج ان علاقوں میں صرف سول آبادی کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں کی عمارات،ہسپتال اور دیہی طبی مراکز، مساجداور کاروباری مراکز کو بھی نہیں معاف کیا گیا۔شہداء کی لاشیں اٹھانے سے لے کر زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے مراحل انتہائی کربناک ہیں جو ان سطور میں بیان نہیں کئے جاسکتے کہ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے کے لئے کتنے گھنٹے محصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔پاک فوج کی جوابی کارروائی کے بعد جب دشمن کی گنیں خاموش ہوتی ہیں تو لوگ مکان،گاڑیاں،کاروبار کا نقصان بھول کر اپنے پیاروں کی طرف لپکتے ہیں جن پرکھیتوں میں کام کرتے وقت یا کسی شادی بیاہ کی تقریب میں شرکت کے دوران فائرکھول دیا جاتا ہے۔شہداء کی تدفین اور جنازے کے وقت بھی ان پر فائرنگ اور گولہ باری معمول بن چکا ہے۔ 26فروری 2019کو بھارتی طیاروں کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کے بعد پاکستان ائیرفورس کی جانب سے اگلے ہی روز بھارت کے دو طیارے گرا کر اسے سبق سکھایا گیا مگر بھارت پھر بھی باز نہ آیا اور کنٹرول لائن کے مختلف سیکٹر زپر ڈرون طیارے اُڑانے اور عوام کو ذہنی اذیت دینے کے لئے روشنی کے گولے چھوڑنے کے علاوہ جنگلات کو آگ لگانے کے لئے سموک بم اور دیگر ہتھیار استعمال کرتا آرہا ہے جس سے جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے 'اس سے عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ چکے ہیں، شہری گھروں سے باہر نکلتے ہیں تو ان پر گولہ باری اوربسا اوقات سنائپر شوٹرز کے ذریعے نشانہ بناکر خواتین اور بچوں کو بھی شہید کردیا جاتا ہے۔کئی ایسے واقعات بھی ہوئے کہ کھیتوں میں کام کرتی خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ بارات ،عیدین ،جنازوں اورسکولوں کی تقاریب پر حملے بھارتی فوج کی شاطرانہ اور جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے ، اس صورتحال کے بعد عوام کی بڑی تعداد ہجرت بھی کرجاتی ہے اور جن کا سارا کاروبار اور ذریعہ روزگار مال مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ وہ مجبوراً اپنے علاقوں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔بھارتی فوج مال مویشیوں کو بھی چن چن کر نشانہ بناتے ہیں ۔جنگلات کی بات کی جائے تو بھارتی فوج مجاہدین کی موجودگی کے نام پر جنگلات کاٹ رہی ہے کہ ان میں سرحد پار سے آنے والے کشمیری عسکریت پسند چھپ جاتے ہیں حالانکہ بھارتی حکومت  نے کنٹرول لائن پر نہایت وسیع آہنی خاردار تار لگائی ہے اور ان میں برقی رو چھوڑنے کے علاوہ جدید بائیو سینسرز لگائے گئے ہیں جس کے قریب کوئی بھی جاندار آجائے تو فوراً الارم بجنے کے ساتھ ساتھ رات کے اوقات میں تیز فلڈ لائٹس آن ہوجاتی ہیں اور ان تاروں کو ہاتھ لگانے کی صورت میں نہایت تیز کرنٹ لگتا ہے جس سے کوئی بھی جاندار کسی صورت نہیں بچ سکتا۔کنٹرول لائن پر فائرنگ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارتی فوج عرصہ دراز سے بہانے تراشتی ہے کہ عسکریت پسند ایل او سی عبور کرتے ہیں جسے کنٹرول لائن کے عوام مسترد کرتے آئے ہیں۔کنٹرول لائن کے باسیوں نے کہا ہے کہ بھارتی افواج کی گولہ باری سے جہاں ان کی معاشی، تعلیمی،سماجی اور مذہبی آزادیاں سلب ہوچکی ہیں وہاں وہ ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں۔ جس رات فائرنگ نہ بھی ہو تب بھی ہم راتیں جاگ کر گزارتے ہیں کہ کیا خبر کس وقت گولہ آکر ان کے گھر پر گرے اور وہ زندگی کی بازی ہار جائیں۔کنٹرول لائن کے چکوٹھی سیکٹر کے گائوں پاہل کے انٹرمیڈیٹ کے طالب علم محمد عقیل اعوان نے بتایا کہ وہ شدید سردی کی راتوں میں بھی لکڑی اور مٹی سے بنے اپنے گھر میں آرام کرنے کے بجائے گھر کے قریب زیر زمیں بنے مورچے میں فیملی کے ساتھ راتیں گزارتے ہیں کیونکہ بھارتی فوج کی جانب سے کسی اور سیکٹر پر گولہ باری شروع ہوجائے تو یہ خطرے کی گھنٹی شمار ہوتی ہے کہ کسی بھی وقت اب ان کے سیکٹر پر بھی بھارت بلااشتعال گولہ باری شروع کردے گا اور جب کبھی ہم تسلی رکھ کر آرام کرتے ہیں تو اچانک گولوں کی آواز  جگادیتی ہے اور نصف رات سے صبح تک رات جاگ کر ہی گزارتے ہیں۔ایک اور ایم اے کے طالبعلم محمد عاطف نے بتایا کہ وہ نہایت مشکل سے تعلیم مکمل کرسکے ہیں۔ گائوں میں کالج کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے مظفرآباد جانا پڑتا ہے مگر میں نے مشکل حالات میں اپنی مزدوری کر کے ایم اے تک تعلیم اوپن یونیورسٹی سے حاصل کی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گولہ باری کی وجہ سے میرا دل گھر کے ساتھ اٹکا رہتا تھا کہ کیا خبر میں شہر میں ہوں اور میرے گھر والوں پر کوئی برا وقت آن پڑے۔بچپن سے بھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات دیکھتا آرہا ہوں ہم نے کبھی بھی ہمسایہ ملک کی قابض اور جارح فوج کی جانب سے سکون نہیں دیکھا۔ اب امن ہونا چاہئے اور کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہئے تاکہ کنٹرول لائن کے عوام سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔



وادی نیلم کے جورا سیکٹر کی نازیہ عبدالرحمن نے بتایا کہ گزشتہ سال کلسٹر بموں کی زد میں آکر اس کا چھوٹا بھائی شہید ہوا اور ہمارے گائوں میں تین مزید اموات بھی ہوئیں۔ہم خوف وہراس میں وقت گزارتے ہیں کیونکہ دشمن فوج کا کوئی قانون کلیہ نہیں جو کسی بھی شادی یا کسی کے جنازے میں خواتین کے اجتماع کو دیکھ کر فائر کھول دیتے ہیں۔ جبکہ گلی میں کھیلنے والے بچوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے کے لئے خوش نماکھلونا بم پھینکتے ہیں۔ اب بچوں کو گھر کے کھلونوں سے  بھی ڈر لگتا ہے۔بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال جہاں جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے وہاں وہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے عالمی جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے ،بھارت  نے کلسٹر بموں کے استعمال کے بعد اپنے جھوٹے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کیا تو افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر  نے عالمی میڈیا کے نمائندوں کو وادی نیلم اور مظفرآباد کے ان علاقوں کا دورہ کروایا جہاں بھارتی فوج نے کلسٹر بموں کا استعمال کیا تھا اور جس سے دیگر نقصان کے ساتھ معصوم بچوں کی شہادتیں بھی ہوئیں۔ عالمی میڈیا جب علاقے میں پہنچا اور سول آبادی خصوصاً شہید بچوں کے والدین سے ملاقاتیں کیں تو وفد کے ارکان خود بھی حیران رہ گئے کہ بھارت کس قدر جھوٹ بول رہا ہے۔،دوسرا واقعہ رواں سال پیش آیا جب بھارتی فوج کی جانب سے وادی نیلم کے علاقہ بگنہ میں شہریوں کے مکانات پر گولے برسانے کے بعد بھارتی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طورپر خبریں جاری کیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشتگردوں کے کیمپ بھارتی فوج نے گولہ باری کر کے تباہ کردیئے ہیں۔تاہم اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو سامنے لاتا ہے اگلے ہی روز سپیکر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر اور مقامی سیاسی ،سماجی ومذہبی قیادت متاثرہ افراد کے گھروں میں گئے اور اس کی ویڈیو اور تصاویر منظر عام پر آئیں اور اس سے قبل گولہ باری والی رات مقامی صحافی نے سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ کے ذریعے براہ راست مناظر دکھا کر بھارتی میڈیا کے مسلسل جھوٹ اور بے ایمانی کو ایک بار پھر بے نقاب کیا۔بھارتی فوج وادی نیلم کے کیل سیکٹر سے لے کر مظفرآباد کے نوسیری سیکٹر تک،ہٹیاں بالا کے چکوٹھی سیکٹر سے لے کر باغ کے حاجی پیر اور راولاکوٹ،  پونچھ سیکٹر سے لے کر کوٹلی اور بھمبر کے تمام سیکٹرز تک گولہ باری اور فائرنگ کرکے جہاں عام آدمی کی زندگیوں کو تباہ کررہی ہے وہاں معاشی لحاظ سے عوام کو شدید نقصان پہنچایا جارہا ہے۔دکانیں تباہ ہوچکی ہیں،سکول ،کالجز، مساجد،بنیادی مراکز صحت،سڑکیں اور پل کچھ بھی سلامت نہیں۔بجلی کے کھمبے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،حکومت آزادکشمیران علاقوں کے لئے ہر سال زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کررہی ہے حال ہی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 8لاکھ غیر مستحق افراد کی نشاندہی پر انہیں لسٹ سے خارج کر کے کنٹرول لائن کے تمام شہریوں کو اس سکیم میں شامل کرلیا ہے جبکہ اربوں روپے کی لاگت سے کنٹرول لائن پر کمیونٹی بنکرز کی تعمیر کے لئے بھی فنڈز منظور ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ کنٹرول لائن کے ہر شہری کو انصاف صحت کارڈ دیا جائے گا۔ایک طرف حکومت پاکستان کشمیری عوام خصوصاً کنٹرول لائن پر بسنے والے لوگوں کو سہولیات دینے کے لئے کوششیں کررہی ہے تو دوسری جانب بھارت کشمیریوں پر مظالم کو مزید بڑھاکر انہیں جائز پیدائشی حق استصواب رائے سے محروم کررہا ہے۔تعجب خیز بات یہ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں عوام پر گولیاں برسائی جارہی ہیں اور کنٹرول لائن پر بسنے والوں پر گولے جو بھارت کے زیر قبضہ ہیں وہ پیلٹ گنوں کا شکار ہیں اور جو آزاد فضائوں میں جی رہے ہیں ان سے بھی جینے کاحق چھین کر سنائپر گنوں اور کلسٹر بموں کے ذریعے شہید کیا جارہا ہے۔عالمی برادری کب تک خاموش رہے گی اور اس پر مسلم امہ کی خاموشی بھی افسوسناک ہے۔حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی کاوشوں سے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جس طرح بھارت کے ساتھ وسیع تجارت اور دیرینہ تعلقات کے باوجود کشمیریو ں کے حق میں پاکستانی مؤقف کی حمایت کی اور بھارت کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لایا اور اس کے بعد ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے پاکستان کا دورہ اور کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔ اب اقوام عالم کا فرض ہے کہ وہ خطے کو ایٹمی جنگ سے بچانے کے لئے مسئلہ کشمیر کو فوری حل کرے اور اس سے بھی پہلے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کنٹرول لائن کے شہری جو عدم تحفظ کا شکار ہیں، عالمی برادری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت سے باز پرس کرے اور کنٹرول لائن کے شہریوں کو عزت اور سکون سے جینے دیا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو اور لاک ڈائون کو سات ماہ مکمل ہوچکے ہیں مگر امریکہ سمیت مہذب شمار ہونے والے ممالک خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔امریکہ ثالثی کے بجائے بھارت کو اس بات پر مجبو رکرے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرادادو ں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرے جس کا وعدہ اس نے ستر سال قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خود کیا تھا۔


کالم نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگار ہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک  روزنامہ  کے ایڈیٹر  ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 215مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP