قومی و بین الاقوامی ایشوز

مقبوضہ کشمیر  میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

حکومتِ پاکستان نے 131 صفحات پر مشتمل ڈوزیئر جاری کردیا بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب

5اگست2019ء مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں ''سیاہ دن'' کی حیثیت رکھتا ہے جب مودی سرکار نے آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی۔ بھارت نے یہ قدم مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے اٹھایا ہے۔ پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آواز بلند کی لیکن بین الاقوامی طاقتیں اپنے دوہرے معیار کی بناء پر اس حوالے سے مثبت کردار ادا نہیں کرتیں۔عالمی برادری بھارت کے ساتھ اپنے مالی مفادات کی وجہ سے'' خاموش تماشائی'' کا کردار ادا کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کم وبیش 800 دن سے بھارتی فوجی محاصرے میں ہیں '' ہندو توا'' حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے دو سال گزرنے کے باوجو د رک نہیں پا رہا۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں اور میڈیا کی محنت شاقہ سے حال ہی میں ایک جامع ڈوزئیر تیار کیا گیا ہے جو 12ستمبر2021کو  وزارت خارجہ پاکستان نے جاری کیا ہے۔ ڈوزئیر میں کشمیریوں کی نسل کشی ، اجتماعی قبور ، زیر حراست تشدد ، کیمیکل ہتھیاروں کا بے رحمانہ استعمال ، بچوں اور خواتین پر تشدد،جبری گمشدگیاں ،پیلٹ گنزکا استعمال ، اجتماعی سزائیں ، کالے قوانین ، فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی پولیس مقابلوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ بھارتی جرائم کا تذکرہ دنیا بھر کی رپورٹس میں ملتا ہے ڈوزیئر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے ثبوت فراہم کئے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تصاویر کو جامع شکل میں پوری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ ڈوزئیر کے ذریعے پوری معلومات اور اصل حقائق تمام دنیا تک پہنچائے جا رہے ہیں یہ ڈوزئیر اقوام متحدہ ، یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے تمام فورمز پر پیش کیا جا رہا ہے اور پوری دنیا کے سامنے بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔ ڈوزئیر میں سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جن کی پوری زندگی جدوجہد آزادی سے عبارت ہے ۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے ڈوزئیر جاری کیا ۔
 انسانی حقوق کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں کوئی نئی بات نہیں ہے مقبوضہ کشمیر میں پچھلے دو سال سے زائد عرصہ سے مسلسل ''لاک ڈائون ''ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جب مسلمان کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا یکم ستمبر کو انتقال ہوا تو بھارتی فوج نے ان کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ حکومت ان کی وصیت کے مطابق شہدائے کشمیر کے قبرستان میں سپرد خاک کرنے کی راہ میں حائل ہو گئی اور انہیں رات کی تاریکی میں تاجپورہ کے قبرستان میں فوج کی نگرانی میں دفن کیا گیا۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس طرح سید علی گیلانی جیسی عظیم شخصیت کو ''کفن اور دفن ''کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا۔ ان کی تدفین پر بھی دہلی سرکار نے نہ صرف منفی سوچ کا مظاہرہ کیا بلکہ ''کفن دفن '' تعصب کا مظاہرہ کیا۔
 حکومت پاکستان نے 131صفحات پر مشتمل ڈوزئیر تیار کیا ہے جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارتی حکومت کے اصل چہرے کو بے نقاب کردیا گیا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آہنی دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ وہ بین الاقوامی میڈیا کو اس لئے مقبوضہ کشمیر میں رسائی نہیں دے رہا کہ پوری دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جائے گا۔ اس صورت حال کو پیش نظر رکھ کر حکومت پاکستان نے ڈوزئیر تیار کیا ہے۔ ڈوزئیر تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا با ب مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم ، دوسرباب فالس فلیگ آپریشنز اور تیسرا باب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوںسے متعلق ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے ڈوزئیر میں 113 حوالے 26بین الاقوامی میڈیا سے لئے گئے ان میں 41 حوالے بھارت کے تھنک ٹینکس، 14حوالے پاکستان کے ہیں جب کہ 32 حوالوں کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے لیا گیا۔ اس لحاظ سے یہ انتہائی ''کریڈبل دستاویز''ہے۔ ڈوزئیر میں 3232کیسزکا تعلق جنگی جرائم سے ہے، ڈوزئیر میں 1128 افراد جن میں میجرجنرل، بریگیڈیئر و دیگر سینئر افسران شامل ہیں، کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانی حقوق کی پامالی میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ان میں ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنز کا استعمال شامل ہے، اس ڈوزئیر میں خواتین کی بے حرمتی کا تذکرہ بھی موجود ہے ایک لاکھ سے زائد ایسی املاک کا بھی ذکر موجود ہے جنہیں نذر آتش کر دیا گیا۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے جعلی آپریشنز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ڈوزئیر میں کشمیریوں کی پرامن جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے، اس سلسلے میں بھارت کے مکروہ پروپیگنڈہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ میں صحافیوں کو بھارتی سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر مبنی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ ڈوزئیر میں بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے آبرو  ریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پاکستان کو اس بات کا گلہ ہے کہ بھارت، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے مگر کوئی عالمی ادارہ اس کی سرزنش نہیں کر رہا۔یورپی ممالک، انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن یورپی یونین کی جانب سے 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
 اس وقت بھارت کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہے جب کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پیلٹ گنز کو جانوروں کے شکار کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن بھارت کشمیری بچوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے ۔کلسٹر بم کے استعمال پر انسانی حقوق کنونشن کے تحت پابندی عائد ہے مگر بھارت کی فسطائی حکومت دھڑلے سے ان ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کا تحفظ، بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اپنی یہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 
 ڈوزئیر میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں داعش کے 5کیمپ قائم ہیں جس میں ان کیمپوں کی جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بھار ت د اعش کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایک گلمرگ،3 راجستھان اور ایک اتراکھنڈ میں قائم ہے۔ پاکستان پہلے ہی بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ثبوت فراہم کر چکا ہے۔ اب داعش کی فورس تیار کرنے کے بارے میں ثبوت فراہم کئے ہیں۔ وزارت خارجہ کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے بھارت داعش کے جنگجوئوں کو تحریک آزادی ٔکشمیر میں شامل کرکے اس تحریک کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ 
مقبوضہ کشمیر میں 2016سے لے کر اب تک 72ایسے نوجوانوں کو قتل کیا گیا جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ان میں 45گریجویٹ ،15ماسٹر ڈگری ہولڈرز ،10ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز شامل ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوںعصمت دری کے 3,850 واقعات پیش آئے ہیں جب کہ650خواتین کو قتل کیا گیا۔ ڈوزئیر میں دی گارڈین(The Guardian) کا حوالہ دیا گیا ہے کہ 10ہزار کشمیریوں کو جبری طور لا پتہ کر دیا گیا۔ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی ، کیمیکل ہتھیاروں ، جبری گمشدگیوں اور جھوٹے جنگی آپریشنوں میں ملوث ہے۔ ڈوزئیر میں بھارت کے 3 ,432کیسز کا ذکر ہے ان میں1,128ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو جنگی جرائم کے اصل خالق ہیں۔ ان میں ایک میجر جنرل ، 5بریگیڈئیر ز،4آئی جیز، 7ڈی آئی جیز، 131کرنل ، 186میجرز اور کیپٹنز شامل ہیں۔ 118ایسی یونٹس کا ذکر بھی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث رہی ہیں۔ بھارتی مظالم سے ایک لاکھ کشمیری بچے یتیم ہوئے ہیں جب کہ بھارتی فوج نے ایک لاکھ املاک کو دانستہ نقصان پہنچایا۔ اسی طرح اسلحہ برآمد کرنے کی جعلی واردات کی آڑ میں کشمیریوں کو گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ ڈوزئیر میں مقبوضہ کشمیر میں قتل کئے گئے نوجوانوں سے متعلق بھارتی افسران کی آڈیوز بھی شامل ہیں۔ ڈوزئیر میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 6اضلاع کے 89دیہات میں 8,652اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں 154قبروں میں 2،2اور 23قبروں میں17سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ بھارت2017سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر رہا ہے جن سے 37 کشمیری شہید ہو چکے ہیں، 2014ء سے لے کر اب تک 120کشمیری بچے جام شہادت نوش کر چکے ہیں، بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لئے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا 1,246نو عمر لڑکے بینائی سے محروم ہو گئے ہیں جب کہ پیلٹ گن کے فائر سے 15,438شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے محاصرے کے دوران  سرچ آپریشن کے نام پر 6,479املاک کو تباہ کر دیا ہے۔ ایسے آپریشنز کی تعداد15,495ہے، بھارت نے 13ہزار بچوں کو غائب کیا ہے۔ 
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل نے دورۂ پاکستان کے دوران اپنے بیانات میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل کی یکے بعد دیگرے دو رپورٹس بھی آچکی ہیں، ہاؤس آف کامنز سمیت بین الاقوامی پارلیمان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف سے جنگی جرائم کے حوالے سے رائے لے کر عالمی سطح پر بھارت کی انسانی حقوق سے متعلق پامالی کو مزید اٹھائے گی۔ بھارت کی کشمیر پالیسی پر اس کی پوری قوم متفق نہیں۔ آج بھارت کے اندر ایک طبقہ دہلی سرکار کی کشمیر پالیسی کے خلاف کھل کر بول رہا ہے بھارت کے اندر سے بھارتی کشمیر پالیسی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لے کر تحقیقات کرانی چاہیے۔ حکومت پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی رکوانے کے لئے بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے بڑھانے چاہیں اور عالمی ضمیر کو جگانا چاہیے ۔
اس ڈوزیئر کے منظر عام پر آنے سے کچھ عرصہ قبل بھی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ڈوزیئر پیش کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بھارت کے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے ناقابلِ تردید شواہد اور ثبوت موجود ہیں اور بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ||


مضمون نگار سینئر صحافی ہیں۔ ایک اخبار کے ساتھ بطورِ کالم نویس منسلک ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 170مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP