جنگ دسمبر 1971

سانحۂ مشرقی پاکستان ۔ مفروضے اور حقائق

1971اور اب 2021۔ پوری نصف صدی۔
میں تو کبھی نہیں بھول سکتا اپنے اکثریتی صوبے کو۔ سنہرے بنگال کو۔ اپنے بنگالی بھائیوں کو جنہوں نے اپنے علاقے میں تحریک پاکستان ہم سے کہیں زیادہ جوش و جذبے سے چلائی۔ جو ہم سے کہیں زیادہ اسلامی ارکان اور فرائض کے پابند تھے۔ ان پچاس سال میں کتنا پانی دریا کے پلوں سے نیچے گزر چکا۔ کتنا خون بہہ چکا۔ کتنے پیارے بچھڑ چکے۔ ڈھاکا۔ چٹا گانگ۔ نارائن گنج، کھلنا اب بھی یاد آتے ہیں۔ سلہٹ کے چائے کے ہرے بھرے باغات کیسے فراموش کرسکتے ہیں۔
16 دسمبر سیاہ دن آئے گا۔ پھر آنسو بہیں گے۔ پھر بہت سی تلخ اور الم ناک یادیں تازہ ہوں گی۔ وہ محب وطن رہنما۔ با شعور خواتین۔ روشن خیال اساتذہ۔ جدید علوم کے ماہرین۔
اب جب بات شروع کرنی ہے تو اس عرصے میں نہ جانے کتنی کتابیں لکھی گئیں۔ کچھ بھارتی نقطۂ نظر کے زیر اثر۔ کچھ بنگلہ دیش حکومت نے لکھوائیں۔ کچھ اسلامو فوبیا کے تحت لکھی گئیں جن میں یہ فرض کرلیا گیا کہ پاکستان کے حکمرانوں اور فوج نے بنگالیوں پر بے حساب مظالم ڈھائے ۔ جبر کی انتہا کردی۔پاکستان میں بھی بعض مرکز گریزقوتوں نے بھارت کے بیانیے کو آگے بڑھایا۔ اب پچاس سال بعد اپنے اس اکثریتی حصّے کو یاد کرتے ہوئے میں اس معاملے کا حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے خیالات اور بصیرت کی روشنی میں تجزیہ کرنا چاہوں گا۔ پہلے یہ اقتباسات ملاحظہ کریں۔ اس کے بعد ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کہاں کہاں ہمارے حکمرانوں نے اپنے فرائض سے پہلو تہی کی۔ پاکستانیوں کو نظر انداز کیا۔ قائد اعظم کے ارشادات سے انحراف کیا۔قائد اعظم کے خیالات کتنے واضح تھے۔
20مارچ 1948 کو وہ ڈھاکا ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو فرماتے ہیں:
''افسرو اور جوانو!
آپ نے مجھے سلامی پیش کرکے ایسا اعزاز بخشا ہے جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ میرے لیے وقف کیے گئے یہ لمحات مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے۔
آپ کو علم ہے کہ پاکستان کو نئے سرے سے کام کا آغاز کرنا پڑا۔ مشرقی بنگال پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور اعضا میں سے ایک ہے۔ اب آپ کو وہ موقع حاصل ہے جس سے آپ گزشتہ دو صدی بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران محروم رہے۔ عام طور پر بنگال کو جس میں مشرقی بنگال بھی شامل ہے اور جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی تھی، فوجی مقاصد کے لیے تعداد اور معیار دونوں اعتبار سے قابل توجہ نہیں گردانا جاتا۔ بنگال کی عسکری صلاحیت پر تاریخ شاہد ہے بالخصوص وہ کردار جو مسلمانوں نے بنگال کی تاریخ میں ادا کیا ہے۔ لیکن دیگر بہت سے عظیم اوصاف کی طرح عسکری جذبہ کچلا گیا اور دبادیا گیا اور اس پر گویا منوں مٹی ڈال دی گئی اور یوں یہ عسکری جذبہ ماند پڑ کر رہ گیا اور بنگال میں ہم اب اس مقام پر جا پہنچے ہیں کہ جیسے میں نے عرض کیا ، فوجی مقاصد کے اعتبار سے یہ اب کسی شمار میں نہیں رہا۔ آزاد اور خود مختار پاکستان میں، جس کا شُمار دنیا کی عظیم ترین قوموں میں ہوگا، آپ کو ہر موقع حاصل ہوگا کہ آپ اپنی عسکری صلاحیت کے احیاء کا اہتمام کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ بنگال کیا کچھ کرسکتاہے؟ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو مملکت کے تحفظ اور اس کے دفاع کی ذمہ داری کا احساس ہوگا اور مجھے بھروسہ ہے کہ آپ ناکام نہیں ہوں گے بلکہ پوری وفاداری کے ساتھ اس کی خدمت کریں گے اور اس کے تحفظ اور دفاع کی خاطر جانیں نثار کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔''

 مشرقی پاکستان سے زرعی اور صنعتی طور پر بانیٔ پاکستان کو کیا امیدیں تھیں۔21مارچ 1948  کو ڈھاکے میں جلسۂ عام سے خطاب کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں:
''آپ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں اس صوبے کے عظیم زرعی اور صنعتی وسائل کو فروغ دینے، اس صوبے کے نوجوان مردوں اور عورتوں کو پاکستان کی مسلح افواج میں شمولیت کی غرض سے تربیت کی سہولتیں فراہم کرنے، چاٹگام کی بندرگاہ کو ترقی دینے، اس صوبے اور پاکستان کے دیگر حصّوں کے درمیان ذرائع مواصلات کوترقی دینے اور تعلیمی سہولتوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور سب سے آخر میں اس بات کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ مشرقی پاکستان کے باشندوں کو حکومت کے جملہ شعبوں کی سرگرمیوں میں ان کا واجب اور جائز حصّہ مل جائے۔ میں آپ کو فوراً ہی اس امر کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میری حکومت ان امور کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور نہایت بے چینی کے ساتھ ہمہ وقت اس امر کی یقین دہانی میں مصروف ہے کہ مشرقی پاکستان جلد سے جلد اپنا پورا مقام حاصل کرلے۔ اس صوبے کے لوگوں کی عسکری صلاحیت کے بارے میں تاریخ وافر شہادت فراہم کرتی ہے اور جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ حکومت پہلے ہی اس صوبے کے نوجوانوں کو باقاعدہ مسلح افواج کے اندر اور نیشنل گارڈز کے رضا کاروں کی حیثیت سے بھی تربیت کی سہولتیں بہم پہنچانے کی غرض سے بھرپور اقدام کرچکی ہے۔''
''15اگست کے دن ڈھاکے میں صوبائی حکومت گویا اپنے دیس میں اجنبی تھی۔ اس کے سامنے فوری مسئلہ یہ تھا کہ وہ ڈھاکے میں جو تقسیم سے قبل صرف ایک چھوٹا مضافاتی قصبہ تھا، ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اہلکاروں کے لیے جگہ کا بندوبست کرے۔ ابھی حکومت نے بمشکل تمام اس طرح کے پیدا شدہ انتظامی مسائل پر قابو پایا ہی ہوگا کہ تقریباً ستر ہزار ریلوے اور دیگر شعبوں کے ملازمین اور ان کے اہل و عیال اس صوبے میں آن وارد ہوئے۔ یہ لوگ تقسیم کے فوراً بعد ہونے والے ہنگاموں کے باعث پھیلی ہوئی افراتفری میں ہندوستان سے نکالے گئے تھے۔ مزید برآں بڑی تعداد میں ہندو اہلکاروں کی روانگی کی وجہ سے انتظامی ڈھانچے میں بڑے بڑے خلا پیدا ہوگئے۔ نقل و حمل کا نظام درہم برہم ہوگیا چنانچہ اس وقت حکومت کے سامنے فوری کام یہ تھا کہ وہ اپنی قوتوں کو جلدی سے مجتمع کرے اور انتظامیہ کی دوبارہ تنظیم کرے تاکہ نظم و نسق کو بالکل معطل ہوجانے سے بچایا جاسکے۔''

یہ تو امیدیں تھیں۔اب خدشات بھی ملاحظہ ہوں:
''لیکن میں آپ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں بیرونی اداروں سے مالی امداد ملتی ہے جو انتشار پھیلانے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ پاکستان میں افرا تفری پھیلادیں اور اسے ناکام بنادیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ خبردار رہیں۔ میں چاہتاہوں کہ آپ ہوشیار رہیں اور دلفریب نعروں کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان اور حکومت مشرقی بنگال آپ کی زبان کو تباہ کرنے پر تلی بیٹھی ہیں۔ کسی شخص نے بھی آج تک اس سے بڑا جھوٹ نہیں بولا۔ مجھے آپ کو نہایت وضاحت سے کھلے بندوں آگاہ کردینا چاہئے کہ آپ کے اندر چند ایک اشتراکی اور دیگر ایجنٹ ہیں جنہیں باہر سے مالی امداد ملتی ہے اور اگر آپ محتاط نہ رہے تو آپ لوگ انتشار کا شکار ہوجائیں گے۔ اس خیال کو کہ مشرقی بنگال کو بھارت میں پھر سے شامل کردیا جائے، ابھی تک ترک نہیں کیا گیا، اب بھی ان کا یہی مقصد ہے۔ میں پُر اعتماد ہوں۔ میں خوف زدہ نہیں ہوں لیکن ہوشیار رہنا بہتر ہوتا ہے۔ جو لوگ مشرقی بنگال کو انڈین یونین میں واپس لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، خوابوں کی دنیا میں بس رہے ہیں۔''



1971 کے بعد بھی بہت پروپیگنڈا ہوا ہے۔ مغربی اخبار نویسوں نے ہلاک شدگان کی تعداد میں مبالغہ کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کے واقعات بھی گھڑے گئے۔ تقریر کا یہ حصّہ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کے ایما پر یہ ہندو پریس اس وقت بھی مبالغہ آمیزی کر رہا تھا۔ قائد اعظم کی تقریر کا یہ حصّہ سنیں: 
''مجھے بتایا گیا ہے کہ اس صوبے سے ہندو فرقے کے کچھ لوگوں نے ترک وطن کیا ہے۔ میں نے ترک وطن کرنے والوں کی تعداد کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ہندو پریس نے اسے مبالغہ آرائی سے 10 لاکھ ظاہر کیا ہے۔ لیکن سرکاری اندازے کے مطابق اس کی تعداد کسی طرح 2لاکھ سے زائد نہیں۔ بہر نوع مجھے اطمینان ہے جتنا کچھ بھی ترک وطن ہوا ہے، وہ اقلیتوں کے ساتھ برے سلوک کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ اس کے بر عکس یہاں اقلیتوں کو بجا طور پر زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اور ہندوستانی ریاست کے کسی بھی علاقے کی اقلیتوں کے مقابلے میں ان کی فلاح و بہبود کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔''
''اس ترک وطن کے اسباب، ہندوستان کے جنگ پسند رہنمائوں کی بے سر و پا باتوں میں مل جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ آخر کار ہندوستان اور پاکستان میں ٹھن کر رہے گی اور اس بد سلوکی جو بعض ہندوستانی صوبوں میں اقلیتوں سے روا رکھی جارہی ہے ،سے اقلیتوں میں یہ خوف پیدا ہوا کہ ان بد سلوکیوں کا رد عمل ہمارے خلاف ظاہر ہوگا پھر علانیہ طور پر ہندوستانی صحافت کے ایک طبقے کی جانب سے ترک وطن کے لیے ہندوئوں کو اکسایا بھی جاتا رہا ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کی زبوں حالی کی فرضی داستانیں بھی بیان کی جارہی ہیں۔اسی طرح ہندو مہا سبھا کی طرف سے بھی مہم جاری رہی۔ اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی کے الزامات اور پروپیگنڈے کو یہ حقیقت بالکل باطل ثابت کردیتی ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ غیر مسلم اس صوبے میں امن و سکون کے ساتھ قیام پذیر ہیں اور انہوں نے ترک وطن سے صاف انکار کردیا ہے۔''
تقریر کے آخر میں بانیٔ پاکستان نے بجا طور پر فاصلے کے حوالوں سے خدشات اور خطرات کو بھی اہمیت دی اور جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا تھا اگر اس پر عمل کیا جاتا تو یہ سارے المیے رُونما نہ ہوتے۔
''صرف ایک بات اور، خود کو یکہ و تنہا محسوس نہ کریں، بہت سے لوگوں نے مجھ سے یہ بات کی کہ مشرقی بنگال خود کو باقی ماندہ پاکستان سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے۔ بلا شُبہ بہت طویل فاصلہ مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کرتا ہے، بلا شُبہ بہت سی مشکلات ہیں لیکن میں آپ کو بتادوں کہ ہمیں ڈھاکہ اور مشرقی بنگال کی اہمیت کا پورا ادراک اور احساس ہے۔ اس مرتبہ تو میں صرف ہفتے عشرے کے لیے یہاں آیا ہوں لیکن سربراہ مملکت کی حیثیت سے اپنے فرض منصبی کو بطریق احسن سر انجام دینے کے لیے یہاں آنا ہوگا اور یہاں دنوں اور ہفتوں کا قیام ہوگا اور اسی طرح پاکستان کے وزراء کو گہرا رابطہ قائم کرنا چاہئے، ان کو یہاں آنا چاہئے اور آپ کے رہنمائوں کو اور آپ کی حکومت کے اراکین کو کراچی جانا چاہئے جو پاکستان کا دارُالحکومت ہے لیکن آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا، ہم آپ کی اعانت اور حمایت سے پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنادیں گے۔''
بھارت ہمارا وہ ازلی دشمن ہمسایہ ہے جس نے پہلے دن سے ہی پاکستان کے وجود کو، نوزائیدہ ملک کی آزادی، جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے حقوق، اختیارات اور سیاسی وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پہلے دن سے ہی سازشوں کا ارتکاب کرتا آرہا ہے۔ اسے یہ سہولت رہی کہ وہاں پہلے سے ایک انتظامی ڈھانچہ سیکرٹریٹ سرکاری شعبے، ادارے ، نظم و نسق موجود تھا۔ پاکستان کو سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا تھا۔ سرکاری محکموں کا ایک ڈھانچہ تعمیر کرنا تھا۔ دفاعی افواج کو منظم کرنا تھا۔ دوسرے ملکوں سے تعلقات قائم کرنا تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ ہندوستان سے لٹ پٹ کر ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں جو مہاجرین واہگے سے، کھوکھرا پار سے مغربی پاکستان میں داخل ہورہے تھے، ادھر بہار، مغربی بنگال سے اسی طرح بڑی تعداد میں جو مسلمان مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں آرہے تھے، وقتی طور پر ان کی رہائش کا، کھانے پینے کے سامان کی فراہمی کا انتظام کرنا تھا۔ مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی تھیں، ان کے علاج کا اہتمام بھی کرنا تھا۔ 
حضرت قائد اعظم اور قائد ملت کی قیادت میں حکومت پاکستان اور مسلم لیگ ان آزمائشوں سے دوچار تھی۔ ادھر بھارت کی حکومت کانگریس اور انتہا پسند ہندو یہ پروپیگنڈے کررہے تھے کہ بھارت ماتا کے وجود سے ایک حصّہ کاٹ دیا گیا ہے، اسے واپس لانا ہے۔ قائد اعظم نے ڈھاکے کے جلسہ عام سے خطاب میں ان سازشوں کو بے نقاب بھی کردیا تھا۔
قائد اعظم اور قائد ملت کے جانے کے بعد آنے والے قائدین اور بانیان پاکستان کا فرض تھا کہ وہ قائد اعظم کی بصیرت کو سامنے رکھتے ہوئے ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑتے۔ مشرقی پاکستان خاص طور پر نازک صورت حال سے دوچار تھا۔ وہاں یہ محسوسات ایک طرف بھارت کا میڈیاپیدا کررہا تھا۔ دوسری طرف پاکستان میں مسلم لیگ سے بے زار قائدین اور نئی سیاسی جماعتیں بنانے والے سیاستدان بھی لا شعوری طور پر ان سازشوں کا آلۂ کار بن رہے تھے۔
بالآخر 1970 کا فیصلہ کن سال آتا ہے۔ ملک کے دونوں حصّے اس وقت سیاسی طور پر ایک ایسے موڑ پر کھڑے تھے کہ وہاں قیادتیں الگ الگ تھیں۔ پہلے دس سال میں حکومتیں اتنی تیزی سے تبدیلی ہوتی رہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام قائم نہ ہوسکا۔ پھر ایوب خان کے مارشل لاء کے خاتمے کے وقت سیاسی خلا اور زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا۔ صدر یحییٰ خان نے اس وقت صرف اپنی حکومت کو تنقید کی زد سے بچانے کے لیے اتنی کھلی آزادی دے دی کہ ملک کے دونوں حصّوں میں ہر قسم کی تقریریں ہورہی تھیں۔ ملک آئین سے محروم کردیا گیا تھا۔ صرف ایک لیگل فریم ورک آرڈر پر ملک چلایا جارہا تھا۔ انتخابات کا اعلان کردیا گیا تھا۔ قواعد و ضوابط مرتب کرنے میں تاخیر کی جارہی تھی۔ جنوری 1970 سے انتخابی مہم شروع ہوتی ہے۔ جس کی کوئی حدود نہ قیود۔ گزشتہ 24سال کے گلے شکوے سب انتخابی مہم کے موضوعات تھے۔ اخبارات کو سیاستدانوں کے بیانات شائع کرنے کی بھرپور آزادی تھی۔ یحییٰ خان چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ فوجی حکومت تھی۔ عدالتیں تھیں لیکن میرے خیال میں پاکستان کے مزاج۔ نظریے۔ انتظامی حدود کے حوالے سے سول ڈھانچہ بہت کمزور تھا۔ بیورو کریسی انتظام و انصرام میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔اس ذہنی انتشار سے بھارت نے بہت فائدہ اٹھایا۔ پاکستان کی اس انتخابی مہم میں فرقہ واریت، صوبائی تعصبات، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی دوریوں میں اور شدت پیدا کی گئی۔پاکستان الیکشن کمیشن کو اندازہ کرلینا چاہئے تھا کہ ملک سیاسی طور پر دو حصّوں میں بٹ چکا ہے۔ مشرقی پاکستان میں مقبول سیاسی جماعت عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں مضبوط امیدوار کھڑے کرنے اور مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے انتخابی اتحاد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں مقبول پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں امیدوار کھڑے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مشرقی پاکستان کی انتخابی مہم میں ذوالفقار علی بھٹو نہیں گئے۔ مغربی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نہیں آئے۔سیاسی طور پر دو انتہائیں قائم کردی گئیں۔ ان انتہائوں میں مزید دوریاں چھوٹی سیاسی جماعتوں نے پیدا کیں۔
کچھ تم کھنچے کھنچے رہے۔ کچھ ہم کھنچے کھنچے
اس کشمکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا
سیاسی بنیادوں پر جب کوئی فیصلہ اور مصالحت نہ ہوسکی، مشرقی پاکستان میں انتہا پسند عوامی لیگ نے جب امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا، بھٹو مجیب ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔ صدر، مجیب، بھٹو ملاقاتیں بے سود رہیں۔ تو مسئلے کا فوجی حل تلاش کیا گیا۔
یہاں سے بھارت کو پھر اپنی پرانی خواہشیں پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ بد نظمی اور بدامنی کی وجہ سے بھی اور بھارت کے ایماپر پروپیگنڈے کی وجہ سے بھی کچھ پناہ گزیں بھارت پہنچنے لگے جن میں عوامی لیگ کے لیڈر بھی شامل تھے۔ بھارت نے ان پناہ گزینوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا اور پاکستان کی فوجی حکومت کے خلاف دنیا بھر میں ایک محاذ قائم کردیا۔یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا۔ عین ممکن تھا کہ فوجی حکومت اور سیاستدان باہمی مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچ جاتے، لیکن بھارت کی کھلی مداخلت اور مغربی میڈیا کی یلغار نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کردیا۔
بھارت میں بھی اس حوالے سے کتابیں لکھی گئیں۔ بھارت کے انتہا پسند اخبارات اور مصنفین نے مشرقی پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھاکر پیش کی۔ 25مارچ کی فوجی کارروائی سے پہلے اُردو بولنے والے، بہار سے ہجرت کرکے آنے والے جتنی بڑی تعداد میں ہلاک کیے گئے، ان کا کتابوں میں بہت کم ذکر ہوا بلکہ انہیں بھی فوجی ایکشن کے ہلاک شدگان میں شُمار کیا گیا۔ اس طرح مشرقی پاکستان میں بنگالی خواتین کی بے حرمتی کے واقعات میں بھی بہت مبالغہ آرائی کی گئی۔
سقوط مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ پاکستان ایک المیے سے دوچار تھا۔ سیاسی اور فوجی دونوں حوالوں سے یہ ایک عظیم سانحہ تھا۔ مغربی پاکستان کے عوام کے لیے یہ ایک اعصاب شکن صدمہ تھا۔ یہاں لوگوں کے حوصلوں کی بحالی اوّلین ترجیح تھی۔ دنیا بھر میں پاکستان دشمن اور مسلمان مخالف اداروں کو پبلشرز اور میڈیا کو موقع مل گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو، مسلمان فوجیوں کو جابر اور اخلاقی طورپر بے لگام ثابت کریں۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا ہے، اصل حقائق سامنے آرہے ہیں۔ بڑے بڑے مصنّف مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ حقائق سامنے لائیں۔فوجی کارروائی کے دنوں میں پاکستان کے اتحادی ملکوں کے سفارت خانوں نے بھی ایسی مبالغہ آمیز رپورٹیں بھیجیں۔ ان ملکوں کی اس وقت کی حکومتوں نے ان رپورٹوں کی روشنی میں بعض فیصلے کیے۔ ان سے بھی پاکستان کی حکومت اور فوج کی کردار کشی ہوئی۔
میں ایک صحافی کی حیثیت سے جنوری 1971میں ڈھاکے سے شروع ہونے والی بک لانچ میں بھٹو مجیب مذاکرات کی رپورٹنگ کررہا تھا۔ بعد میں مئی 1971 میں فوجی کارروائی کے بعد امن وامان کی صورت حال جاننے کے لیے ڈھاکا ، چٹا گانگ، نرائن گنج، سلہٹ بھی جانا ہوا۔ وہاں جو سناٹا، خاموشی دیکھی، جن خاندانوں سے ملاقاتیں ہوئیں، وہ سب ان سازشوں سے نالاں تھے۔ سب کا خیال یہی تھا کہ بھارت نے صورت حال سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یہیں مختلف شہروں کے حوالات، جیلوں اور اسپتالوں میں مجھے مکتی باہنی اور انتہا پسند بنگالیوں کے ہاتھوں تشدد، ظلم کا شکار ہونے والے محب وطن پاکستانیوں کی داستانیں سننے کا اتفاق ہوا جن کا مغربی مصنّفین نے اپنی کتابوں میں بہت کم تذکرہ کیا ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر بھارت کے سرکاری پروپیگنڈے، بھارتی مصنّفین کے الزامات، امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کے مصنّفوں اور اخبار نویسوں کی لکھی گئی کتابوں کا با ضابطہ طور پر جواب دینے کی جامع کوشش نہیں کی گئی ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی سازشیں بھارت کی پیدا کردہ تھیں۔ بھارت نے ان کوششوں پر لاکھوں ڈالر زخرچ کیے اور بہت منظّم انداز سے اس مقصد کو حاصل کیا۔شیخ مجیب الرحمن نے بھی اپنے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ وہ پاکستان سے علیحدگی چاہتے تھے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دورے میں علیحدگی کی کوششوں کی بھارتی سرپرستی کا اعلان کیا۔ 
ہماری یونیورسٹیوں کے محققین کا ملّی فرض ہے کہ وہ اس عظیم سانحے کے بارے میں شائع ہونے والی کتابوں کا تجزیہ کریں۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھی پڑھیں۔ پھر حقائق کو یکجا کرکے ایک ایسی دستاویز مرتب کریں جو غیر جانبدارانہ طور پر اس سانحے کے تمام پہلو  اور صحیح اعداد و شُمارسامنے لائے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس عظیم سانحے کے بارے میں حقیقی معلومات میسر آسکیں۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 547مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP