قومی و بین الاقوامی ایشوز

تعمیرِ پاکستان

پاکستان کے پہلے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد علی نے 15اگست 1947کو ایک حکم نامہ نمبر1بی /سی ایف/ 47جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ
’’حکم دیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل فرمان کو پاکستان گزٹ میں شامل کر دیا جائے۔ قائداعظم محمد علی جناح کو ہر مجسٹی کی جانب سے پاکستان کا گورنر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس تقرر کی بذریعہ ہذا اطلاع دی جاتی ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے مذکورہ گورنر جنرل نے اسی روز اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔‘‘
حکم دیا جاتا ہے کہ اس فرمان کو مختلف چھاؤنیوں میں افواج کے سربراہوں اور تمام بحری، بری اور فضائی افواج کے اہم مراکز پر پڑھ کر سنا دیا جائے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ فرمان کی نقل اور مذکورہ قبل احکام کی نقلیں حکومت پاکستان کی وزارتوں کے پاس بغرض اطلاع بھیج دی جائیں۔ جب کبھی اس طرح کے احکامات کی ضرورت پیش آئے گی وہ فوراً جاری کر دیئے جائیں گے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے عہدہ گورنر جنرل کی ذمہ داری سنبھالنے کی اطلاع مشرقی بنگال، مغربی سرحدی صوبہ، صوبائی حکومتوں اور چیف کمشنر بلوچستان کو دی جائے۔‘‘

 

اس حکم نامے کو جاری ہوئے ستر (70)اگست گزر گئے جبکہ پاکستان کے قیام کی یہ 69ویں سالگرہ ہے۔ پلٹ کے دیکھیں تو ہم بندوق سے ایٹم بم تک آ گئے مگر لگتا ہے ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہم نے سفر شروع کیا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس ایک بھی ادارہ ایسا نہیں تھا جو مثالی ہو۔ آج بھی اگر دیانت داری سے تجزیہ کریں تو ایک آدھ کو چھوڑ کر ہمارے پاس کوئی مثالی ادارہ نہیں ہے۔ افواجِ پاکستان کی حد تک دیکھیں تو اپنا کام کر رہی ہیں دیگر قومی اداروں کو بھی اپنے اپنے تئیں اپنا کردار اادا کرنا ہے۔ بہر کیف فوج میں مختلف قسم کی چالیں ہیں۔ ’’کوئیک مارچ‘‘ ’’ڈبل مارچ‘‘ اور ’’سٹینڈنگ مارچ‘‘ یہ سٹینڈنگ مارچ بہت دلچسپ ہے۔ جو ایک جگہ جوان کھڑے کھڑے چلتے رہتے ہیں۔ یہ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ بعینہٖ ہم سب قوم کے سٹینڈنگ مارچ میں مصروف ہیں جس کا ترجمہ کھڑے کھڑے مارچ کیا گیا ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک چوتھی نسل نشو نما پا رہی ہے۔ تختی، سلیٹ اور ٹاٹ سے کاپی پین اور ڈیسک سے گزر کر وائے فائے سے بھی کوسوں آگے نکل گئے مگر کھڑے وہیں پر ہیں گویا کھڑے مارچ کر رہے ہیں۔ بحیثیت قوم یہ بہت تشویشناک صورت حال ہے۔

وطن کے نام

میرے وطن تیرے وجود سے ہے میرا وجود
اسی لئے ہوں میں سراپائے شُکر سربسجود
تیری ہر صبح میں رعنائیاں ہیں جنت کی
تیری ہر شام میں پنہاں ہیں اس کے شُہود
خودی ہے تیرے جوانوں کی صورتِ فولاد
ہے سربکف و سربلند مثل کوہِ طُور
ہیں مُبارک با سعادت تیری مٹی کے ذرّے
ہوئی ہے خونِ شہیداں سے جب اس کی نمود
نثار تیرے عَلم پر اے میرے پیارے وطن
تیرے ترانے کی دھن میں ہو دفن میرا وجود
میں رہوں یا نہ رہوں مجھ کو اس کی پروا نہیں
تُو رہے‘ آن تیری‘ شان تیری‘ تیرا وجود


میجر زاہد اسلام


نیلسن منڈیلا سے سیاست دان اور لیڈر میں فرق کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو منڈیلا نے کہا تھا کہ لیڈر آنے والی نسل کا سوچتا ہے اور سیاست دان آنے والے انتخابات پر نگاہیں مرکوز رکھتا ہے۔ ہماری گنتی کی چند قابل ذکر سیاسی جماعتیں ہیں، ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب نے انتخابات 2018پر نگاہیں گاڑھی ہوئی ہیں۔ اقتصادی راہ داری جس پر آنے والی نسلوں کے مستقبل کا انحصار ہے۔ اس کے راستے میں حیلے بہانوں سے رکاوٹیں کھڑ ی کی جا رہی ہیں۔ غیروں کی رکاوٹیں تو سمجھ آتی ہیں مگر اپنوں کا یہ وطیرہ نہیں ہوا کرتا اور پھر ملکی مفاد تو سانجھا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی دایاں بائیاں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کا نہیں، قوم کا اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہماری مثال اس خاتون جیسی ہے جس کا جوان بیٹا مر گیا، لوگ افسوس کو آئے تو اس نے کہا کہ بیٹا تو مرا مگر خوشی ہے کہ بہو کا مان اور غرور بھی تو ٹوٹا۔ ہمیں ایک دوسرے کے مان اور غرور کے ٹوٹنے پر شاداں نہیں ہونا، ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ اسلام میں احتساب بیورو کا کوئی تصور نہیں اگر ایسا ہوتاتو فتح مکہ کے بعد رسول پاک ﷺ ایک احتساب بیورو بناتے، عمرفاروقؓ کو اس کاچیئرمین مقرر کرتے اور پھر پکڑ دھکڑ کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں خود احتسابی ہے۔ ہر شخص اپنا محاسبہ خود کرے۔ یہ سمجھ کر اپنے آپ کو اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کرے۔ جہاں رب تعالیٰ کے سوا اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ ایسے میں بہت سارے معاملات خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ کوئی دیس نکالا دے گا اور نہ ہی خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی احتساب کے نام پر ہاتھ پاؤں پھولیں گے۔


قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کا جائزہ لیں تو کھلتا ہے کہ وہ بہت بڑے مسلمان تھے وہ ہرہر پل اپنا محاسبہ کیا کرتے تھے۔ ان کی آخری آرزو جو لاہور کے روزنامہ انقلاب کے آخری صفحے پر 22اکتوبر 1939 کو چھپی تھی کو پڑھ کر فخروانبساط کے دل کھل اٹھتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں۔


’’مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں، میرا ضمیر اور میرا اﷲ گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ میں آپ سے زور دار شہادت کا طلبگار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا ایمان، میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح! تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا۔ جناح! تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا اﷲ کہے کہ بیشک ! تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلم اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔‘‘
یہ خود کلامی خود احتسابی کی روشن مثال ہے۔ اس قسم کی گفتگو انہی لوگوں کا استحقاق ہے جو اپنے اور اﷲ کے درمیان دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں قیام پاکستان سے اب تک ان 69برسوں کی ہی پڑتال کر لی جائے تو اندازہ ہو گا کہاں کس نے دروازہ کھلا رکھا اور وہ کون ہے جس نے سارے دروازے بند کئے اور بے توقیر ہوا، لہٰذا وہ ایک دروازہ کھلا رکھنا


جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 191مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP