قومی و بین الاقوامی ایشوز

تحقیق‘ تجزیہ ‘ تربیت اور تیاری

میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ پاکستان کو میں نے ہمیشہ بحرانوں کا سامنا کرتے ہی پایا ہے۔ میری اپنی ذات بھی بحرانوں سے دوچار رہی ہے لیکن اس وقت ہم جس بحران سے گزر ر ہے ہیں۔وہ عمودی بھی ہے اور اُفقی بھی۔ نفسیاتی بھی اور اخلاقی بھی۔ سیاسی بھی اور معاشی بھی۔ علمی بھی اور فکری بھی۔ معلوم نہیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اس بحران کی سنگینی اور ہمہ گیریت کا احساس بھی ہے ۔ پہلے بھی قومیں ایسے حالات سے دوچار ہوئی ہوں گی۔ اس لئے قدرتی طور پر ہمارے لئے ان سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے کہ ان میں سے کتنی ان امتحانوں میں سر خرو رہیں۔ کتنی تاریخ کے دھندلکوں میں گُم ہوگئیں۔ واقعات و حادثات اور بحران اچانک نہیں آجاتے۔ وہ بتدریج شدت پارہے ہوتے ہیں۔ ان کا شکار ہونے والوں کی ان پر مطلوبہ توجّہ نہیں ہوتی۔ یہ تو قانون فطرت ہے کہ جب اسباب رونما ہورہے ہوں تو ان کے نتائج بھی یقیناًظاہر ہوتے ہیں۔ جو آپ بورہے ہوتے ہیں‘ فصلیں انہی کی پکتی ہیں۔

۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۷ء تک بھی اگرچہ یہی عالم رہا لیکن ۱۹۷۸ء سے ۱۹۹۸ء تک توہر بحران میں حکومت بچانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ مملکت کے تحفظ کونظر انداز کیا گیا۔ مملکت کی علامت ادارے بھی انہی کوششوں میں مصروف رہے اس لئے مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ۱۹۷۸ ء کے بعد تو مملکت اور حکومت کے درمیان فرق اور فاصلے کو شعوری طور پر مٹادیا گیا۔ مملکت کی علامت بھی وہی تھے جو حکومت میں پوری طرح شامل تھے۔ یہ تو ہمارا تاریخی پس منظر اور ورثہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اصولوں اور مسائل کے بجائے شخصیتوں کو مرکزیت دی گئی۔ اس عرصے میں بھی یہی ہوا۔ اب بھی یہی ہورہا ہے۔ اسی لئے ہم مملکت کے بجائے حکومت کو بچانے میں زیادہ قوّت صرف کرتے ہیں۔ حکومت چند شخصیتوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ اس لئے شخصیات اصولوں‘ افکار یا نظریات پر غالب آجاتی ہیں۔ ہماری نظر ان شخصیات کی حمایت یا مخالفت تک محددو ہوتی ہے۔ یہ شخصیتیں بھی اپنی کارروائی صرف اپنی ذات کے تحفّظ تک محدود رکھتی ہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے حساس‘ خطرناک اور مملکت کے لئے تباہ کن معاملے میں بھی ہم سب انہی رویوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ٹھوس منصوبہ بندی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی مسئلے پر فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تمام اعدادوشمار اور حقائق یک جا کرلئے جائیں۔ یہ تو ہوئی تحقیق‘ پھر ان کو ماضی‘ حال اور مستقبل کے وسیع تر تناظر میں رکھ کر جائزہ لیا جائے۔ تجزیہ کیا جائے۔

ماضی میں جو ہوا‘

کیوں ہوا‘

اس کے محرکات کیا تھے‘

عوامل کیا تھے‘

یہاں بھی شخصیتوں کی بجائے گردوپیش کے واقعات واسباب کو سامنے رکھا جائے۔

پھر یہ کہ اس وقت حال میں ان واقعات و اسباب کے کن نتائج کا سامنا ہے۔ آج ان نتائج سے ہم جس طرح نمٹ رہے ہیں۔ کل ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔سارے معاملے کو مجموعی طور پر دیکھنا چاہیے۔ ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ ہمارے ہاں ایڈہاک ازم ہر طرف غالب ہے۔ ہر مسئلے اور واقعے کو وقتی طور پر پرکھا جاتا ہے کہ ہم اس سے بری الذمّہ ہوجائیں۔ جیسے ہر تھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ وی آئی پی یا اپوزیشن کا جلوس اس کے علاقے سے بخیر گزر جائے۔ جیسے تھانہ ایک پورے نیٹ ورک کا حصہ ہے اور وہ الگ کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم بھی ایک پورے انسانی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ ایک طرف ہمارا رشتہ ماضی میں اپنے آبا ء و اجداد سے جڑا ہوا ہے‘ ہم ان سے کچھ ورثے میں بھی لے رہے ہیں اورہم ان کی نیک نامی یا بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں تو دوسری طرف مستقبل میں آنے والی نسلوں سے بھی ہم تعلق رکھتے ہیں۔ ہم جو بھی آج بورہے ہیں۔یہ ان کو کاٹنا ہے۔ جیسا معاشرہ ہم تشکیل دے رہے ہیں۔ اس میں ہمارے بیٹے‘ بیٹوں‘ پوتوں‘ پوتیوں‘ نواسیوں کو رہنا ہے۔ ہم ان کے لئے اچھا مضبوط گھر بناکر چھوڑنے پر توجّہ تو دیتے ہیں۔ کیا اچھا

مضبوط معاشرہ بھی ان کے لئے چھوڑنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے؟

ہمیں یہ بھی شدّت سے احساس ہونا چاہئے کہ جو جتنے زیادہ اہم‘ حساس اور کلیدی مقام پر فائز ہے ان کی اتنی ہی اہم‘ حساس اور کلیدی ذمّہ داری ہے۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے انہیں اچھی طرح سوچنا اور سمجھنا چاہئے۔ ایک گھر کے سربراہ پر اس کے کنبے کے درجنوں لوگوں‘ ایک شہر کے چیف پر اس کے ہزاروں باشندوں‘ ایک صوبے کے سربراہ پر اس کے صوبے کے لاکھوں لوگوں اور ایک ملک کے سربراہ پر اس کے ملک کے کروڑوں لوگوں کی جان اور مال کے تحفّظ کی ذمہ داری ہے۔ انہیں اسی حساسیت اور اہمیت کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ اس میں کسی کے بھی ذرا سے تساہل یا غلطی کا نتیجہ‘ اس کے دائرہ اثر کے مطابق بڑا اور درد ناک ہوگا۔ اس کے اثرات اتنے ہی سنگین اور دُوررس ہوں گے۔

اب خاندانی‘ شہری‘ صوبائی اور وفاقی سربراہوں کی ذمّہ داریوں میں مزید نزاکت اور حساسیت اس لئے شامل ہوگئی ہے کہ اب ہم میں سے کوئی بھی صرف اپنی ذات‘ اپنے گھر‘ شہر‘ صوبے یا ملک تک محدود نہیں رہا ہے اب ہم ایک عالمی برادری کا حصہ ہیں۔ عالمگیریت بتدریج اپنا دائرہ کار بڑھارہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین تشکیل پارہے ہیں۔ مملکتیں ان پر دستخط کررہی ہیں۔ کسی بین الاقوامی یا عالمی معاملے میں جب کسی بھی وقت کی حکومت دستخط کرتی ہے تو اس معاملے کی پابندی اس ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری بن جاتی ہے چاہے وہ حکومت وقت کی حمایت کرتا ہو یا مخالفت۔ یہ ایک حقیقت ہے اور آج کی عالمگیریت میں ایک کامیاب ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تحقیق‘ تجزیہ‘ تربیت اور تیاری کے چار مراحل کو سامنے رکھیں۔ کسی بھی مسئلے کا صرف وقتی تجزیہ آپ کو ماضی اور مستقبل دونوں سے لاتعلق کردیتا ہے۔ عارضی طور پر تو یہ حل بہت موثر اوراچھا لگتا ہے‘ لیکن کچھ ہی ماہ یا سال بعد یہ مسئلہ پھر سر اٹھالیتا ہے۔ آج کل چینلوں پر صبح وشام تجزیے ہوتے ہیں لیکن تحقیق‘ اور تیاری کے بغیر ہوتے ہیں کسی نے تربیت حاصل نہیں کی ہوتی۔اکثر کے پاس وقت نہیں ہوتا اس لئے یہ تجزیے کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے۔ ایک طرف بعض حلقے کچھ شخصیتوں کو آخری امید‘ اور مسائل کو حل کرنے کا واحد ذریعہ قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف دوسرے حلقے انہی شخصیتوں کے جسمانی یا سیاسی طور پر پیش منظر سے ہٹنے کو واحد حل ٹھہرارہے ہوتے ہیں۔ جیسے کہ آج کل بھی پاکستان سمیت اکثر ممالک میں ہورہا ہے۔ لیکن دونوں طرف بحرانوں کے اسباب پر تحقیق اور تجزیہ نہیں ہورہا ہوتا۔ نہ ان کے حل کے لئے تربیت دی جارہی ہوتی ہے اور نہ تیاری کی جاتی ہے۔ صرف شخصیتوں کو سب کچھ سمجھا جارہا ہوتا ہے۔ حالاں کہ یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ فرسودگی کا شکار ہورہی ہوتی ہیں اور فنا کی جانب رواں دواں ہوتی ہیں۔ حکومت‘ اس کے ادارے‘ حکمراں سیاسی جماعتیں‘ اپوزیشن پارٹیاں‘ ہماری یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے‘ کہیں بھی مسائل پر تحقیق اور تجزیہ کرنے کی نہ تربیت دی جارہی ہے اور نہ ہی مستقبل کے لئے تیاری کی جارہی ہے۔

پاکستان کو اس وقت جتنے اہم اور حساس مسائل پر فیصلہ کرنا ہے‘ شاید یہ وقت پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ اب کسی نہ کسی فارمولے کے تحت حل ہونا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی پر ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ یہ بھی طے ہونا ہے کہ کیا مذہب اور سیاست کو‘ دین اور مملکت کو الگ کیا جائے؟ معیشت کے استحکام کے لئے بھی ضروری پالیسیاں طے ہونی ہیں۔ عالمگیریت کے دور میں ہمیں آفاقی یا عالمی طور پر سوچ کر مقامی مسائل کے حل تلاش کرنے ہیں۔ مکمل تحقیق اور تجزیئے کے بعد مملکت کے مفاد میں پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ اگر وہ عام لوگوں کو ظاہری طور پر قابل قبول نہیں لگتیں تو انہیں قائل کرنے کے لئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔ نہ تو ایک طرف صرف تالیاں بجوانے‘ اور لوگوں کی واہ واہ حاصل کرنے اور اپنے آپ کو بہادر‘ بے باک قرار دلوانے کے لئے صحیح پالیسیاں بدلنا مملکت کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی اپنی پالیسیوں کو آرڈی نینسوں‘ طاقت اور بندوق کی بنیاد پر نافذ کرنامملکت کے مفاد میں ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں یہی صحیح راستہ ہے‘ آپ کے لئے بھی آنے والی نسلوں کے لئے بھی تو وقتی مقبولیت کو مقصد نہ بنائیں‘ تاریخ میں اپنے لئے جگہ بنائیں۔ لوگوں کے پاس جائیں‘ بار بار جائیں‘ انہیں سمجھائیں‘ قائل کریں‘ وہ یقیناًقائل ہوں گے کیوں کہ وہ بھی مملکت کا مفاد ہی عزیز رکھتے ہیں۔ ان کی موجودہ رائے ایک عرصے کے بعد بنی ہے اس لئے صرف ایک اعلان سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ہر ایک کی رائے کا احترام لازمی ہے اس کی یکسر تردید یا نفی سے بات شروع نہ کریں۔ اس کی عزّت کرتے ہوئے اپنے دلائل کا آغاز کریں۔پارلیمانی نظام اگر بے نتیجہ اور بے ثمر ثابت ہورہا ہے تو کیا کوئی دوسرا نظام آنا چاہئے ۔ یہ بھی تحقیق ضروری ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے جو کچھ کیا‘ جو کہا‘ جو وعدے کئے‘ وہ پورے نہ ہوسکے۔ اس لئے اب حکومت کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ خواہ وہ کتنی ہی اچھی بات کررہی ہو۔ حکومت اپنا اعتبار‘ قول اور فعل میں مطابقت سے ہی بحال کرسکتی ہے۔ حکومت اچھی باتیں کہتی بھی رہے‘ کرتی بھی رہے تو اس کے لفظوں کی حرمت قائم ہوتی رہے گی۔ حکومت سوچ سمجھ کر تحقیق‘ تجزیئے سے حکمت عملی تشکیل دے پھر اپنے ارکان اسمبلی‘ وزراء کی تربیت کرے اور پالیسیوں پر عملدرآمد کے لئے انہیں تیار کرے۔ وزراء کے بیانات میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔ انہیں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی فکر میں نہیں رہنا چاہئے بلکہ ایک ٹیم کی طرح کام کرنا چاہئے۔ اسی طرح اپوزیشن پارٹیوں کو چاہیے کہ کل انہیں بھی حکومت میں آنا ہے۔ وہ اگر مسائل کے حل میں تحقیق‘ تجزیئے‘ تربیت اور تیاری کے چار نکات پر عمل کریں گی تو وہ موجودہ حکومت کی طرف سے مسائل کے حل میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیں گی کیوں کہ آج اگر مسائل حل ہورہے ہیں تو کل انہیں ورثے میں کم مسائل ملیں گے۔

گزشتہ کل جن حکمرانوں نے اچھے کام کئے تھے‘ انہوں نے ہی مسائل کے حل کو تسلسل دیا۔ موجودہ حکمراں ان کا کریڈٹ دینے پر مجبور ہوئے۔ ماضی میں جو غلط کام ہوئے ان کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔ آج جو غلط کام ہوں گے‘ کل آنے والے ان کے اثرات کا سامنا کریں گے اس لئے ہم وقتی فیصلوں کی بجائے‘ ہر مسئلے کی ماضی‘ حال‘ مستقبل کے تناظر میں تحقیق کریں۔ مجموعی تجزیہ کریں۔ پھر جو حل سامنے آئے اس کے لئے متعلقہ محکموں اور شہریوں کو بھرپور تربیت دیں اس طرح مستقبل کے لئے ہم بھرپور تیاری کرسکیں گے اور آنے والی نسلیں ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے میں سانس لے سکیں گی۔


[email protected]

یہ تحریر 215مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP