یوم آزادی

پاکستان کا سفر

14 اگست 1947 سے 14 اگست 2022 تک 75 برس گزرے، ڈائمنڈ جوبلی پاکستان۔۔ ابتداء میں پاکستان میں گورنر راج تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح بانی و گورنر جنرل تھے۔ پاکستان کے چار گورنر جنرل گزرے، دیگر خواجہ ناظم الدین، غلام محمد ملک اور سکندر مرزا تھے۔ خواجہ ناظم الدین لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد دوسرے وزیراعظم بھی رہے۔



پاکستان کے ان گزرے پچھتر برسوں میں مملکت خداداد پاکستان کے، سکندر مرزا  سے ڈاکٹر عارف علوی تک،13 صدر صاحبان ہوئے اور لیاقت علی خان سے میاں شہباز شریف تک23 وزیرِاعظم، چودھری شجاعت کے علاوہ سات نگران وزیرِاعظم بھی ہوئے۔ ان میں ذوالفقار علی بھٹو وہ واحد وزیرِ اعظم تھے جو صدر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی رہے اور فیلڈ مارشل ایوب خان وہ واحد صدر تھے جو باوردی وزیرِاعظم بھی رہے۔ ایوب خان باوردی وزیرِ دفاع بھی رہے۔وہ پہلے فیلڈ مارشل اور پہلے ہی پاکستان کے مقامی اور مسلمان آرمی چیف تھے۔
پاکستان کے پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے، پہلے آرمی چیف 15 اگست1947 سے 10 فروری 1948 تک جنرل سرفرینک والٹر میسروی تھے اور دوسرے آرمی چیف11فروری 1948 سے16 جنوری 1951 تک جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی تھے۔
پاکستان کے پہلے آرمی چیف جنرل سرفرینک والٹر میسروی، قائداعظم محمدعلی جناح کی راست گوئی اور اصول پسندی کے مداح تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وائسرائے لارڈمائونٹ بیٹن اور کمانڈر انچیف جنرل سرروب لاک ہارٹ میسروی سے ناخوش تھے۔جنرل میسروی کے دور میں کشمیر میں پہلا فوجی آپریشن گلمرگ ہوا تھا جس میں قبائلی لشکر کی باز گشت سنائی دی تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو گلہ تھا کہ میسروی نے قبائل کی نقل و حمل سے  بروقت آگاہ کیوں نہ کیا جس پر جنرل میسروی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اصولی طور سے وہ اپنے گورنر جنرل یعنی قائداعظم کو حالات سے آگاہی کے پابند تھے، سو وہ فرض انہوں نے پورا کردیا تھا۔ اسی فوجی آپریشن گلمرگ کے دوران ہی 10 فروری1948 کو جنرل سرفرینک والٹر میسروی کی مدتِ ملازمت ختم ہوگئی تھی۔
یاد رہے کہ آپریشن گلمرگ  کے ساتھ ساتھ مہاجرین بالخصوص سرکاری ملازمین جو پاکستانی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور قیامِ پاکستان کے وقت بھارت کے شہر دہلی میں تھے، اُن کو لانے کے لیے چارٹرڈ جہازوں کے ذریعے جو آپریشن شروع ہوا تھا اسے آپریشن پاکستان کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا آغاز یکم ستمبر1947 سے ہوا تھا اوراس  پندرہ روزہ آپریشن کے دوران کل 482 پروازیں کی گئی تھیں۔


دفاع اور تعلیم قائداعظم کی دو بڑی ترجیحات تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے اثاثوں میں اپنے حصے کی رقم پاکستان کے تعلیمی اداروں ، لاہور ، پشاور اور کراچی کو تحفہ کردی تھی۔ ملٹری اکیڈمی کاکول کی بنیاد رکھی جس میں26جنوری 1948 کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ ڈیرہ دون کی ملٹری اکیڈمی بھی قائداعظم کی تحریک اور مطالبے پر قائم ہوئی تھی جس کا پہلا بیچ 1934 میں پاس آئوٹ ہوا تھا۔


قیامِ پاکستان کے فوری بعد اور آنے والے عشروں میں بھی ایک پروپیگنڈاہوتا رہا۔ہندوستان تو انگریز بھی آزاد کرنا چاہتے تھے، اس پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد قائداعظم کی کاوشوں اور دیانت دارانہ قیادت کی نفی تھی۔ اگر انگریز جانے والا ہوتا تو چُپ کرکے نکل جاتا۔ انگریز سرکارنے مسلمانوں کی بھرپور آواز اور قائداعظم کے عزمِ صمیم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے خطے کے وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن  نے3 جون 1947کو ہندوستان کی تقسیم کا اعلان تو کیا جسے اعلانِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے،اسی روز بنگال اور پنجاب کی تقسیم کا اعلان بھی ہوا تھا مگر فرنگی سرکار نے برٹش انڈیا کو دو ملکوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم کرنے کی قرار داد اور اعلان کو4 جولائی 1947 کو برطانوی پارلیمنٹ  میں پیش کیاجس پر15 روز تک بحث ہوتی رہی اور پھر تمام پہلوئوں کا جائزہ لے کر 18 جولائی 1947کو برٹش انڈیا کی تقسیم کی منظوری دی گئی۔ یوں انڈیا یا ہندوستان 14 اگست1947کو ختم ہوا اور پاکستان اور بھارت دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔ متحدہ ہندوستان کی فوج جس کی بنیاد 1895 میں رکھی گئی تھی، تقسیم ہوئی تو پاکستان کے حصے میں ایک بھی مکمل رجمنٹ نہ آئی۔ یوں دفاعی اعتبار سے پاکستان کا قیام ایک کمزور دفاعی نظام سے ہوا۔ معاشی طور سے بھی پاکستان کے حصے کا روپیہ پیسہ اور اثاثے بھارت نے دینے سے انکار کردیا تھا لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود  قائداعظم کی ہمت آمیز قیادت اور جذبے کی شدت سے پاکستانیوں نے ایک قوم کے طور سفر کا آغاز کیا۔ ہر چند کہ مہاجرین کی بھارت سے پاکستان منتقلی انتہائی کرب ناک کہانی ہے، کئی کتابیں اس موضوع پر چھپ چکی ہیں، ''نذرِ وطن'' نامی ایک کتاب کے انتساب میں سید انجم جعفری  لکھتے ہیں '' پاکستان کے لیے ہجرت کرنے والے اس قافلے کے نام جو پاکستان کی آرزولیے عازم سفرِ ہجرت ہوا مگر راستے ہی میں شہید کردیاگیا تھا۔''
قائداعظم پاکستان کے قیام کے بعد 394 روز حیات رہے، آزادی کے اس ایک سال 29 دنوں میں زندگی کے ہر شعبے اور پاکستان کے ہر ادارے کی خبر گیری کی۔ قومیں قیادت سے بنتی ہیں، قائداعظم کے حریف بھی اُن کے حوصلے ، ہمت، صاف گوئی اور ثابت قدمی کے معترف تھے۔ لندن کے اخبار 'نیوز کرانیکل'  نے قائداعظم کی وفات کے موقع پر اپنی 12ستمبر1948 کی اشاعت میں لکھا تھا کہ ''موت وہ پہلی طاقت ہے جس سے مسٹر جناح نے شکست قبول کی۔''
دفاع اور تعلیم قائداعظم کی دو بڑی ترجیحات تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوںنے اپنی وفات سے پہلے اپنے اثاثوں میں اپنے حصے کی رقم پاکستان کے تعلیمی اداروں ، لاہور ، پشاور اور کراچی کو تحفہ کردی تھی۔ ملٹری اکیڈمی کاکول کی بنیاد رکھی جس میں26جنوری 1948 کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ ڈیرہ دون کی ملٹری اکیڈمی بھی قائداعظم کی تحریک اور مطالبے پر قائم ہوئی تھی جس کا پہلا بیچ 1934 میں پاس آئوٹ ہوا تھا۔1948 ہی میں25 فروری کو اُردو کو قومی زبان کا درجہ دیا مگر75 برسوں میں بھی ملک میں نافذ نہ ہوسکی۔
بھارتی وزیراعظم جوہر لعل نہرو کا کشمیر کا مقدمہ یکم جنوری1948 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جانا بھی ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں بھارت نے اپنی درخواست میں سلامتی کونسل میں چار مطالبات پیش کیے تھے۔نمبر1 :'' فوری طور سے جنگ بندی ہو۔ نمبر 2: ریاست جموں وکشمیر سے دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کی افواج اور دیگر متحارب گروپ نکل جائیں۔نمبر3: ریاست میں ایک مخلوط حکومت قائم  ہو، جس میں مختلف جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔ نمبر4  :صورت حال معمول پر آجائے تو ریاست میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ  رائے شماری کرائی جائے۔'' پھر بھارت نے اپنی مطلوبہ خواہش کے مطابق اور اس مقصد کے حصول کے لیے اگست1949 تک کوئی مثبت پیش رفت کی اور نہ ہی اپنے نمائندے مشترکہ کمیٹی کے لیے پیش کیے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے بھارتی گورنر  جنرل سے کہا بھی تھا کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل لے جانے کی کیا ضرورت ہے وہاں تو معاملہ مسئلے کے حل میں تاخیر کا باعث بنے گا جس پر بھارتی گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے کہا کیا ہو سکتاہے؟ قائداعظم نے کہا دونوں گورنر جنرل کی کانفرنس منعقد کرتے ہیں اور مذاکرات کی میز پر کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں اس پر لارڈ مائونٹ بیٹن نے کہا تھا کہ اختیارات سارے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے پاس ہیں، میں مذاکرات سے قاصر ہوں اور پھر تب سے اب تک 1965 اور 1971کی جنگیں اور کارگل کے واقعہ کے علاوہ 5 اگست2019 سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کی زندگی لاک ڈائون کے جہنم میں دھکیل دی ہے۔5 اگست2022کو کشمیریوں کے لاک ڈائون کے تین سال مکمل ہو چکے ، دنیا کے منصفوں کو کوئی کچھ نہیں سمجھا۔
پاکستان کے مسائل ، سازشیں اور بھارتی ہٹ دھرمی روزِ اول سے ہی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ 1964 میں جب بھارتی وزیرِ اعظم  جواہر لعل نہرو فوت ہوئے تو اُن کی جگہ لعل بہادر شاستری وزیرِاعظم بنے تو انہوںنے اپنے اقتدار کے ابتدائی چند ماہ کے بعد 1965 کے آغاز پر 'رن آف کچھ ' کا محاذ کھول دیا تھا۔فیلڈمارشل محمدایوب خان ملکی عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سارا دھیان ترقیاتی منصوبوں پر تھا۔ ملک میں ڈیم بن رہے تھے، دریائے کابل پر پشاور کے نزدیک وارسک ڈیم کا آغاز 27 جنوری1961 کو ہوا۔ جہلم میں میر پور آزاد کشمیر کے سنگم پر منگلا بندپر 8 مئی1962 کو کھدائی کا آغاز ہوا، جبکہ کوئٹہ سے بارہ میل دُور کیچ بند کی کھدائی کا آغاز 17نومبر1963کو ہوا، منگلا کے افتتاح سے صرف9 دن بعد17 مئی 1962 کو اسلام آباد میں راول ڈیم کا آغاز ہوا۔ اسی عرصے میںاسلام آباد میں ہی سمبلی ڈیم کی کھدائی شروع ہوئی، ہری پور کی تحصیل خانپور میں دریائے ہروپر خانپور ڈیم کی فزیبلٹی پر غور شروع ہوا اور ڈیم کا آغاز آگے چل کر1968 میں ایوب خان کے دورِ اقتدار میں ہی ہوا۔ دنیا کا دوسرا بڑا اور کچا ہونے کی وجہ سے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم جو دریائے سندھ پر بنایاگیا، تربیلہ ڈیم۔ جس پر کافی عرصہ سوچ بچار ہوئی اور پھر 4 نومبر1968کو اس کی کھدائی کا آغاز کردیاگیا تھا، مقصد پاکستان میں آنے والے وقتوں کے لیے کام جاری تھا، زراعت میں قابلِ رشک حد تک پیش قدمی جاری تھی، ہمارے بچپن میں چاول اُس گھر میں پکتے تھے جہاں مہمان آتا تھا، لیکن بعد کے وقتوں میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سب سے سستا اناج چاول ہی تھا۔ گندم میں خود کفالت کی طرف بڑھ رہے تھے، 1965 کی جنگ سے پہلے پاکستان کی اقتصادی حالت خاصی بہتر تھی۔ ملک کی مجموعی پیداوار 8فیصد کی شرح سے ترقی کررہی تھی، ماہرین اقتصادیات کا خیال تھا کہ اگر ترقی کی یہ شرح دس سال تک برقرار رہی تو وہ دن دُور نہیں کہ جب پاکستان جاپان کی ہمسری کا دعویٰ کر دے گا۔
جنرل محمد ضیاء الحق کا دور طویل تھا اور بہت سے حوالوں سے یاد رہ گیا کہ اس دور میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل ہو۔ سوویت یونین جب افغانستان میں درآیا تو پاکستان کو اپنے دفاع میں ایک سال تک اکیلے لڑنا پڑا۔ دنیا کی دوسری بڑی قوت کو افغانستان سے آگے نہ آنے دیا۔ سوویت یونین کا نہ صرف گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب پورا نہ ہوا بلکہ اس یونین کا شیرازہ بکھرا۔ اس میں سے کئی اسلامی ملک وجود میں آئے۔
بھارت بخوبی آگاہ تھا کہ پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں 1980 کی دہائی میںاتنا آگے نکل چکا ہے کہ اُس کے لیے ایٹم بم بنانا کوئی مشکل نہ تھا۔ بھارت کے علاوہ یہ بات مغربی ممالک اور امریکہ کے علم میں بھی تھی۔ پاکستانی قیادت کی کامیاب پالیسی اور حکمتِ عملی کا اثر یہ ہوا کہ بھارت اپنی تمام تر فوجی طاقت کے باوجود اکتوبر1987 میں پاکستان پر حملہ نہ کرسکا۔ پاکستان بغیر لڑے وہ جنگ جیت چکا تھا۔ یہ قیادت کا ویژن تھا۔
مختلف حکومتیں آتی رہیں جو بھارت اور پاکستان کے مابین مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہیں۔ جنرل پرویز مشرف بھی بھارت دورے پر گئے ۔ بھارت نے کوئی گرمجوشی نہ دکھائی تو وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس آگئے تھے۔ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوا،14 اگست2001 کو حکومت جنرل پرویز مشرف نے قومی جانور، قومی پرندہ اور قومی درخت کا اعلان کیا تھا جو بالترتیب مارخور، چکور اور دیودار ہیں۔ قومی پھول یاسمین، چنبیلی کا فیصلہ تو1961 میں ہوگیا تھا۔ قومی کھیل ہاکی  لیکن سرپرستی کرکٹ کی کی جارہی ہے۔ قومی مشروب گنے کا رس، قومی شاعر علامہ اقبال اور زبان اُردو جو آج 75 برس گزر نے کے باوجود  نافذ نہ ہو سکی۔ پاکستان کاقومی نعرہ  ہے 'زندہ باد' ۔ جنرل پرویز مشرف نے 22مارچ2002 کو بلوچستان کے علاقے گوادر بندر گاہ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس بین الاقوامی ڈیپ سی پورٹ کے افتتاح کے موقع پر جنرل مشرف کے علاوہ چین کے وزیرِاعظم ژویانگ یو بھی شریک ہوئے تھے۔ یہ بہت دور رس کامیابیوں کا منصوبہ ہے۔ بہر حال حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں اور آتی جاتی رہیں گی لیکن ایک چیز جو قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ پاکستان نے الحمدﷲ گزشتہ 75 برسوں میں بہت مضبوطی دکھائی ہے اور عزت  بھی کمائی ہے۔ پاکستان کو یقینا بہت سے مشکل اور کٹھن مراحل سے گزرنا پڑ ا ہے لیکن پاکستان کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ پاکستان ڈٹ کر کھڑا رہا ہے۔ پاکستان الحمدﷲ آج ایک ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور اس کی کارکردگی دنیا کے دیگر ممالک سے بہت بہتر رہی۔ آج بھی پاکستان متعدد میدانوں میں باوقار ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ اور وہ وقت دُور نہیں جب پاکستان درپیش چیلنجز پر ایک ایک کرکے قابو پالے گا اور ملک صحیح معنوں میں ترقی و خوشحالی اور وقار کی منازل طے کرے گا ۔ ضرورت ہے توصرف اس امر کی کہ عوام یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں۔ ||


مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 1105مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP