متفرقات

پاکستان کی ضرورت کیوں پیش آئی 

اس سال وطن عزیزنے اپنی زندگی کے74 برس مکمل کرلیے۔گویااب قیام پاکستان پر پون صدی گزرنے والی ہے لیکن اس پون صدی کے دوران بیرونی دنیا کے سامنے شاید ہم نے اپنا مقدمہ پوری وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کیاہے جس کے باعث بیرونی دنیاقیام پاکستان کے اسباب کے بارے میں اب تک شکوک و شبہات کا شکار ہے ۔تعجب اس بات پر ہے کہ بعض صورتوں میں ہمارے دوست ممالک کے علمی حلقے بھی قیام پاکستان کے حقیقی اسباب سے بے خبر ہیں۔راقم الحروف عالم اسلام کی قدیم ترین یونی ورسٹی جامعہ الازہرقاہرہ میں تدریس کے زمانے میں اس امرکا مشاہدہ کرتارہا۔دوست اسلامی ملک مصرکے علمی حلقے بھی ابھی تک قیام پاکستان کے حقیقی اسباب سے کماحقہ واقف نہیں ہیں ۔ہمارے قلم کاروں، مصنفین اور اصحاب دانش کو اس جانب توجہ کرنی چاہیے ۔بیرون وطن پاکستان کے قیام کی نسبت پائی جانے والی غلط فہمیوں کی ایک مثال یہاں پیش کی جارہی ہے ۔شرق اوسط کا سب سے بڑاانگریزی اخبار The Egyptian Gazetteہے جسے جاری ہوئے ڈیڑھ صدی ہونے کو ہے ۔ اس میں مشہور عرب مصنف پین افریقی دانش ور، ہارورڈ اور برلن جیسی یونیورسٹیوں کے فاضلین لکھتے رہے ہیں ۔اس اخبار کی ایک کالم نگار منال عبدالعزیز کو ہندوستان کے سفرپر بھیجاگیا جہاں سے واپسی پر انھوں نے اپنے مشاہدات و تجربات ایک سفرنامے کی صورت میں قلمبندکیے ۔ان کا یہ سلسلہ وارسفرنامہ Mind's eyeکے عنوان سے  مذکورہ اخبارکے صفحات پر شائع ہوا جس میں انھوں نے لکھا کہ Still before leaving the country, Britain played its old game of dividing a wedge between the country 's biggest sects by encouraging the Muslims of India to seek creation of a new independent country of their own.(The Egptian Gazette Cairo, Egypt 2 August 2010) 
جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ پاکستان کا قیام انگریزوں کی سازش کا نتیجہ تھا ۔یہ بات نہ صرف تاریخی حقائق کے برعکس ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کی اس جدوجہدکی بھی نفی ہوتی ہے جو انھوں نے حصول آزادی کے لیے کی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانان برصغیر نے ایک صدی کی جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی۔ اس سفر میں ان کی اوّلین ترجیح اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر ہندوستان سے انگریزوں کا انخلاء تھااورابتدائی طور پر تمام مسلمان قیادت یہی عزم لے کر میدان میں اتری تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان پر یہ واضح ہوتا گیا کہ ان کے ہم وطن ہندو نہ صرف یہ کہ ان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ انگریزوں کے ہندوستان سے رخصت ہوجانے کے بعد انھیں اپنا غلام بنانے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ رفتہ رفتہ مسلم قیادت نے ایک الگ وطن کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا جس میں مسلمان اپنے مذہب اور تہذیب و تمدن کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔یہ بات تاریخی حقائق سے عیاں ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ اقبال سمیت تمام مسلم رہنما ابتدأ میں ہندوئوں کے ساتھ مل کر حصول آزادی کے حق میں رہے بلکہ ایک مدت تک ان کی قیادت بھی قبول کیے رکھی۔ اس دوران مسلمانوں کی وسعت ِظرفی کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ خلافت جیسے خالص مذہبی معاملے میں بھی انھوں نے قیادت کا تاج اپنی ہم وطن قوم کے سر پر رکھا لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے اس جذبے کی قدر نہیں کی گئی الٹا ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے وجود ہی سے انکار کیا گیا۔تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان پر اگرچہ مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی تھی لیکن انھوں نے اپنے دور اقتدار میں کبھی اقتدار کے زور پر ہم وطنوں کو مذہب کی تبدیلی پر مجبور نہیں کیا جس کے نتیجے میں وہ عددی اعتبار سے اقلیت میں رہے۔1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد فراخ دلی سے مسلمانوں کے وجود کو تسلیم کرنے اور اپنے زمانہ اقتدار میں ان کے حسن سلوک کا اعتراف کرنے کے بجائے ہندوئوں نے انھیں اپنی عددی اکثریت میں ضم کرنے کی کوشش کی اور ہر اس اقدام کی مخالفت کی روش اپنائی جس میں ذرا بھی مسلمانوں کا فائدہ تھا۔ تقسیم بنگال کی تنسیخ سے لے کر جداگانہ انتخاب کی مخالفت اور کانگریس حکومت تک ہندوستان کی تاریخ کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں۔  
1928کی نہرورپورٹ میں مسلمانوں کے تمام مطالبات رد کردیئے گئے۔ مولانا حسرت موہانی نے ایک ایک نکتے کا بدل پیش کیا تو ان کا مذاق اڑایاگیا۔مسٹر جناح نے جو  ترمیمات پیش کیں وہ سب مسترد کردی گئیں۔ مسٹر جناح نے اس موقع پر کہا کہ اکثریتیں جبر اور ظلم پر مائل ہوتی ہیں اور اقلیتوں کو یہ خوف اور خطرہ ہوتا ہے کہ ان کے مفاد اور حقوق کو ضرر پہنچے گا۔انھوں نے باہمی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مسلم اقلیت کے لیے انصاف کا مطالبہ کیااور اس سلسلے میں ٹھوس تجاویز پیش کیں لیکن افسوس کہ ان کی تمام تجاویز رد کردی گئیں اور مسلمانوں کا ایک تہائی تناسب کا مطالبہ بھی قبول نہیں کیا گیا۔حتیٰ کہ1936ء کے انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ نے مخلوط وزارت بنانے کی پیش کش کی تو کانگریس نے یہ شرط عائد کی کہ مسلم لیگی ارکان اپنی شناخت ختم کرکے کانگریس میں ضم ہوجائیں۔کانگرس نے اپنی اکثریت کے بل پر آزادانہ وزارت قائم کی اورمسلمانوں کے لیے نماز ،قربانی، مذہبی جلوسوں وغیرہ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کردی گئیں اور ایک ایسے مذہبی ترانے'بندے ماترم' کو ہر سکول میں گانا ضروری قرار دے دیا گیا جس کے بول مسلم تہذیب اور عقائد سے متصادم تھے۔مسلمان اقلیت کو یہ احساس دلوایا کہ اس ملک میں ان کا کوئی وجود ہے نہ اہمیت۔ انگریزوں کے جانے کے بعدانھیں اکثریت کا غلام بن کر رہنا ہوگا۔اکثریت کی قیادت نے واضح الفاظ میںاعلان کیا کہ ہندوستان میں صرف دو طاقتیں ہیں انگریز اور ہندوگویااس طرح مسلمانوں کے وجود کا انکار کردیاگیاجب ایک اقلیت کے وجود ہی کا انکار کردیا جائے تواس کے حقوق دینا تو بہت دور رہ جاتا ہے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی بلکہ ان سے ان کا مذہبی تشخص تک چھین لینے کی کوششیں بھی کی گئیں، شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں جس کا واضح ثبوت ہیں جن میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش کی گئی ۔
محترمہ منال عبدالعزیزنے  بعض قدیم مساجد کے انہدام کا ذکر کیا اور ایسے مندروں کے بارے میں بھی بتایا جن کے پس منظر میں مساجد کے آثار دکھائی دیتے ہیں جس سے یہ جاننا مشکل نہیں کہ آج کا ہندوستانی مسلمان اپنی شناخت کی بقا کی جنگ لڑرہا ہے اور ملک کا نظام تعلیم اس کی شناخت کو قائم نہیں رکھنا چاہتا ۔ ایسے میں نسل نوکے مستقبل کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ اپنے بچوں کوغیر سرکاری روایتی مدارس میں بھیجیں جہاں ان کے لیے روزگار اور ترقی کی راہیں مسدود ہیں یا پھرسرکاری ادارں میں بھیجیں جہاں انھیں اپنی شناخت کی قربانی دینا پڑتی ہے یہی صورت ِحال اردو زبان کی بھی ہے جس کا دائرہ رفتہ رفتہ محدود کیا جارہا ہے،اردو سے دوری کا لازمی نتیجہ اس تمام مذہبی اور ادبی سرمائے سے محرومی کی صورت میں نکلے گا جو اردو زبان میں موجود ہے ۔ یہی وہ رویہ تھا جس نے ہندوستان کی تاریخ میں دو قومی نظریے کو جنم دیا دوقومی نظریے سے مراد یہی ہے کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں جن کی اپنی تاریخ، ثقافت اور تہذیب ہے اور انھیں اپنے مذہب اور تہذیب وتمدن کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ایک آزاد و خود مختار ملک کی ضرورت ہے۔
 قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ ارشاد اس حقیقت کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے ابدی اصولوں پر عمل کرسکیں ۔ اس لیے آج اگر ہندوستان کے بیس فیصد مسلمان شناخت کے بحران کا شکار ہیں تو پاکستان قائم نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں بسنے والی عظیم مسلم اکثریت کا جو حال ہوتا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔محترمہ منال عبدالعزیز اس سے پہلے بھی یہ خیال ظاہر کرچکی ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا توآج ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل یہ خطہ دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت ہوتا لیکن منال عبدالعزیز اور ان جیسے دوسرے عرب دانشور یہ خیال نہیں فرماتے کہ اس بڑی طاقت کے مسلم باشندے ویسی ہی زندگی گزاررہے ہوتے جیسی زندگی کا نقشہ محترمہ منال عبدالعزیز نے  خوداپنی تحریر میں پیش کیا ہے اور جس سے عالمی منظرنامے پر نگاہ رکھنے والے بخوبی واقف ہیں۔اس لیے آزادی کی خاطرمتحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کا قیام انگریزوں کی سازش کا نتیجہ تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان کاقیام متحدہ ہندوستان کے معروضی حالات اور حقائق کا ایک فطری نتیجہ تھا ۔ ||


مضمون نگار ادارہ ٔ زبان وادبیات اُردو پنجاب یونیورسٹی لاھور کے ڈائریکٹر ہیں
۔ [email protected]

یہ تحریر 115مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP