قومی و بین الاقوامی ایشوز

انتہاؤں میں رابطہ

ہم بکھرتے جاتے ہیں ۔ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ ہم خود بھی سمٹنے کی کوشش بہت کم کرتے ہیں باہر سے کوئی ایسی کوشش کیوں کرے گا۔ ان کی خواہش تو دل سے یہ ہوتی ہے کہ ہم اور زیادہ تقسیم ہوں اور زیادہ بکھریں

ہم ٹوٹتے ہیں شامؔ سمٹتے نہیں کبھی

اس انتشار ذات کی کچھ انتہا بھی ہے

میری نسل پاکستان کی ہم عمر ہے اس پر ہمیں فخر بھی ہے لیکن ہمیں جس کرب سے گزرنا پڑا ہے یہ کبھی ہمارے دلوں میں جھانک کر دیکھئے کیسے الاؤ دہک رہے ہیں کتنے محشر برپا ہیں کتنی خانہ جنگی ہو رہی ہے راتیں کیسے بیتتی ہیں دن ہمیں کہاں کہاں لئے پھرتے ہیں ۔دل کیا کیا سوال کرتا ہے ذہن کیا کیا پوچھتا ہے ۔ضمیر کیسے کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے ۔

کہاں ہو کیوں ہو ہر اک سانس پوچھتی ہے مجھے

کبھی میں اپنے سوالوں میں یوں گھرا بھی نہ تھا

ویسے تو اکثر نئے آزاد ہونے والے ملکوں میں نسلیں اس کیفیت سے گزرتی ہیں یہی کربِ خود احتسابی آپ کو منزل مقصود کی طرف لے جاتا ہے اپنے آپ سے سوالات بھی آگے بڑھنے کے لئے لازمی ہیں لیکن جس قوم میں یہ رجحان غالب آنے لگے کہ بات اپنی سچ ہے‘ اگر دوسرا نہیں مانتا زور بازو سے منواؤ ہتھیار کی زبان میں بات تسلیم کرواؤ۔ اگر ایسا نہ ہو تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنالو گھر والوں سے الگ ہو جاؤ۔ تو سمجھئے کہ زوال کی علاماتیں ہیں۔ ایک دوسرے کی بات اطمینان سے سننے سمجھنے کا تمدن اب غائب ہوتا جا رہا ہے۔ انتہائیں بڑھتی جارہی ہیں ،محاذ کھلتے جارہے ہیں۔ معاشرہ تقسیم بلکہ تقسیم در تقسیم ہو رہا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی جگہ ایک اکائی یا وحدت ہوتا ہے اس میں مختلف مذاہب، مختلف عقائد کے ماننے والے شہریت رکھتے ہیں‘ الگ الگ قبیلے‘ الگ الگ ذاتیں‘ برادریاں آباد ہوتی ہیں۔ مختلف زبانیں بولنے والے اس کے باشندے ہوتے ہیں‘ یہ تو کئی صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ امریکہ جو اس وقت سیاسی اقتصادی اور سائنسی ترقی کے حوالے سے بڑا ملک ہے سب سے زیادہ تنوع یہیں پایا جاتا ہے یورپ‘ ایشیااور افریقہ کے باسیوں نے بڑی تعداد میں اسے اپنا وطن بنایا ہے۔ وہاں اس امر پر فخر کیا جاتا ہے کہ مختلف ملکوں سے آنے والے اپنا اپنا تمدن لے کر آئے‘ نئی اقدار‘ نئی روایات متعارف ہوئیں۔ اس سے امریکی تہذیب نے وسعتیں حاصل کی ہیں۔ ہمارا تمدن مالامال ہوا ہے، دوسرے ملکوں سے آنے والے اپنے ساتھ نئی شاعری‘ نیا ادب‘ نئی مصوری‘ نئی فکر لے کر آئے‘ جس سے ہمار ا ثقافتی منظرنامہ مزید خوبصورت ہو گیا۔ سب نے کھلے دل و دماغ سے نئی سوچوں کو سمجھا‘ سنا‘ اسے اپنا مان لیا، اس رویّے نے معاشرے کو لچکدار بنایا۔ دلوں میں کشادگی پیدا کی سیکھنے کی لگن پختہ ہوئی۔ دنیا اسی طرح آگے بڑھی ہے۔ انسانوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے‘ سننے‘ برداشت کرنے کی عادتیں سیکھیں‘ تب ہی نئی تہذیبیں وجود میں آئیں‘ نئے کلچر پھلے پھولے۔ادبیات عالیہ تخلیق سے ہم کنار ہوئیں، نثری شاہپارے قارئین کے سامنے آئے۔ شاہکار پینٹنگز گیلریوں کی زینت بن پائیں۔ نئے فلسفے بھی اسی انداز سے متعارف ہو سکے‘ نئی ایجادات بھی اسی رویّے سے قبولیت پا سکیں اور انسانی زندگی کو آسانیاں میسر ہو سکیں ۔جہاں جہاں نئی سوچ کو ماننے نئی ایجاد جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے میں مزاحمت کی گئی‘ وہ قومیں ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے جاتی رہیں اگرچہ انہوں نے بھی ان ایجادات اس ٹیکنیک کو استعمال کرنا شروع کیا‘ لیکن بڑی خرابیوں اور پسماندگی کے بعد۔

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

اس وقت پاکستان کا معاشرہ اسی کشمکش سے دو چار ہے ۔ایک دوسرے کو سمجھنے کی بجائے اپنی اپنی بات پر اڑنے کی ضد شدت پکڑ رہی ہے ۔محاذ آرائی انتہا کو چھو رہی ہے ،جس طرف آنکھ اُٹھائیں انتہائیں طوفان کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں‘ ہر معاشرے میں کچھ حلقے یا افراد ایسے ہوتے ہیں‘ جو ان انتہاؤں کے مابین خلیج پاٹنے کے لئے دردمندی سے کوششیں کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسی سعید روحیں ہوں گی جو بظاہر نظر نہیں آتیں ۔اس کے بر عکس ایسی قوتیں زیادہ نمایاں اور متحرک ہیں جن کی دلی خواہش یہ رہتی ہے کہ انتہاؤں کے درمیان فاصلوں کو اور بڑھایا جائے، نفرتوں میں مزید شدت پیدا کی جائے،سلگتی آگ میں بھڑکنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے‘ جب یہ انتہا پسند حلقے جلتی پر تیل پھینکتے ہیں اور جب شعلے آسمان کی جانب لپکتے ہیں تو ان ظالموں کے چہروں پر شرانگیز مسکراہٹ دیدنی ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ میڈیا جو آج کے معاشرے میں پیغمبرانہ منصب پر فائز ہے‘ جسے ٹوٹے دلوں کو جوڑنا چاہئے‘ ناراضیاں کم کرنے کا کردار ادا کرنا چاہئے‘ وہ دانستہ‘ نا دانستہ صرف توجہ حاصل کرنے کے لئے برعکس کارکردگی میں مصروف ہے ۔ہماری تہذیبی روایات میںیہ مشغلہ بی جمالو سے منسوب رہا ہے اسے کبھی قبولیت کا درجہ نہیں ملا۔

آئیے ایک نظر ڈالیں اپنے معاشرے میں انتہاؤں پر۔اس کے بعد دیکھیں گے کہ بات اس نوبت تک کیوں پہنچتی ہے کوئی بھی پیدائشی انتہا پسند نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں انتہا یا شدت پسندی ہر شعبے میں پائی جاتی ہے لیکن ذکر صرف مذہبی انتہا پسندی کا ہوتا ہے۔ حالانکہ زبان کے معاملے میں‘ ثقافت کے حوالے سے‘ اپنی قبائلی رسموں کے سلسلے میں بھی ہم بہت شدت پسند ی کے مظاہرے کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے پیاروں کا خون بھی بہانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ماہرین عمرانیات کو یہ تحقیق کرنی چاہئے کہ کیا ہماری سرزمین کی مٹی میں تو یہ خمیر نہیں ہے، کہا جاتا ہے کہ جغرافیے کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے۔ہم اگرچہ انتہا کا لاحقہ مذہب اور فرقہ واریت کے ضمن میں استعمال کر رہے ہیں اور ترجیح بھی اسی انتہاپسندی کے اثرات کو دے رہے ہیں مگر ضرورت ہر شعبے میں انتہاؤں کا جائزہ لینے کی ہے اور پھر یہ سوچنے کی کہ ا ن کے درمیان فاصلے کیسے کم کئے جائیں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظرکو واضح طور پر سمجھ کر قریب لانے کے لئے نکات تلاش کئے جائیں جس طرح یہ فاصلے بتدریج بڑھے ہیں اسی طرح بتدریج کم بھی ہو سکتے ہیں خلوص اور عزم کی شرط ہے۔

عام طور پر یہ انتہائیں معاشرے میں لبرل یعنی روشن خیالوں‘ بنیادپرستوں، وفاق پرستوں‘ قوم پرستوں، سول اور ملٹری یا سیاستدانوں‘ جنرلوں‘ پارلیمنٹ‘ عدلیہ‘ جاگیرداروں‘ ہاریوں‘ کسانوں‘ صنعتکاروں‘ مزدوروں‘ مختلف قبیلوں میں پختگی حاصل کر رہی ہیں۔ مشرق اور مغرب میں بھی یہ خلیج موجود ہے۔ اس حوالے سے بھی ہمارے ہاں گروہ بندی ہورہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے شراکت نے بھی دو انتہاؤں کو جنم دیا ہے ۔اسی طرح نظام تعلیم میں بھی انتہائیں پائی جاتی ہیں‘ یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ عام درسگاہوں اور دینی مدارس میں تو زمین آسمان کا فرق ہے ہی خود عام سکولوں‘ کالجوں میں بھی بہت زیادہ تضادات ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے رہن سہن میں‘ سماجی روایات میں‘ تضادات ہیں۔ ان سے بھی انتہائیں جنم لیتی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بھی یہ انتہائیں شدت سے اپنا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں۔کئی علاقوں میں یہ اے اور بی کی تخصیص کی صورت میں موجود ہیں۔ماضی کی مداخلتوں کے باعث فوج سیاستدانوں کی سخت تنقید کاہدف بنی ہوئی ہے سیاستدانوں کو جب بھی اقتدار ملا ہے۔ انہوں نے اچھی حکمرانی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے‘ اس لئے جب بھی فوج نے نظم و نسق سنبھالا ہے‘ متاثرہ سیاسی حکمران پارٹی کے علاوہ سب نے خیر مقدم کیا ہے‘ فوج اور اہلِ سیاست دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنا چاہئے اور ان اسباب کو دور کرنا چاہئے جس کی وجہ سے نوبت مداخلت تک پہنچتی ہے۔ دونوں ملک کی طاقت ہیں‘ حالات اور سوچ یکدم تبدیل نہیں ہوسکتی ‘ محنت کرنا ہوگی۔

ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی یہ انتہائیں بھرپور انداز میں دکھائی دیتی ہیں‘ غریب اور امیر تو ہے ہی مگر نصابی کتابوں میں انداز تدریس میں بھی نمایاں ہے‘ عام کالجوں‘ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے نصاب، علوم، لباس سوچ اور منزل کے تعین میں بہت ٖفاصلے ہیں‘ بلکہ یہ ایک دوسرے کے متوازی بھی ہیں اور متضاد بھی ہیں۔ یہ ایک خو ش آئند امر ہے کہ اب کچھ مدارس میں درس نظامی کی تکمیل کے بعد دو سے چار سال میں جدید علوم کی تحصیل کا اہتمام بھی کردیا گیا ہے۔ کراچی میں جامعہ رشیدیہ میں ہم اس کا مشاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ اسی تجربے کو در اصل زیادہ بہتر مؤثر اور منظم انداز میں قومی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ انتہاؤں میں ربط ایسے ہی قائم کیا جا سکتا ہے‘ دو کناروں کو اسی طرح پل کے ذریعے ملایا جاسکتا ہے‘ ہماری منزل ایک پاکستانی ذہن کی ساخت ہونا چاہئے‘ پاکستانیت ہونی چاہئے۔

زندہ معاشرے اور فعال قومیں اپنے درمیان خلاؤں کو پر کرتے ہیں‘ فاصلے مٹاتے ہیں‘ دریاؤں ندیوں پر پل تعمیر کر کے انسانوں کے لئے آسانیاں تخلیق کرتے ہیں ۔اپنے اپنے گھر ‘محلے‘ گاؤں‘ شہر‘ ضلع اور صوبے کی تقسیم ہوتی ہے۔ اسی طر ح اپنے مسلک فرقے مذہب سے وابستگی بھی لازمی ہے اور لائق احترام بھی‘ لیکن ایک دائرے کا تعین کیا جاتا ہے جسے ملکی اور قومی مفاد کہا جاتا ہے۔ یہاں سب اپنے ہر قسم کے اختلافات اور حد بندیاں ختم کرکے ایک ہو جاتے ہیں لیکن ہم گزشتہ چھے دہائیوں میں بھی اپنے قومی مفادات طے نہیں کرسکے ہیں۔ کسی قوم کے آگے بڑھنے ترقی کرنے کے لئے یہ مرحلہ اور تعین ناگزیر ہے اب یہ نازک وقت آیا ہوا ہے۔ یہی لمحہ ہے جب ہمیں ایک ایسا دائرہ کار مشترکہ اور متفقہ طور پر طے کر لینا چاہئے ‘جس سے کسی کو اختلاف نہ ہو جو سب کے لئے قابل قبول اور مسلمہ ہو ایسی فضا اور ماحول تیار کرنے کے لئے انتہاؤں میں رابطہ قائم کرنا ہوگا ہر دوسرے کی رائے کا احترام لازمی ہوگا ہر پاکستانی محترم اور مقتدر ہے چاہے وہ کسی مسلک سے تعلق رکھتا ہو‘ کوئی بھی زبان بولتا ہو‘ کسی بھی علاقے میں رہائش پذیر ہو‘کسی بھی صنف سے وابستہ ہو‘ رابطہ ہر ایک سے کرنا ہوگا۔ پہلے اس کو اس کی سوچ کو پورے ادب‘ محبت سے سمجھنا ہوگا۔ اس کے دل میں گھر کرنے کے بعد اختلافی امور پر ٹھنڈے دل سے بات کی جائے۔ مقصد دو ریوں کو قربتوں میں بدلنا اور فاصلوں کو مٹانا ہے۔ لاکھوں انسانوں‘ بزرگوں‘ بچوں‘ بہنوں‘ ماؤں‘ فوجی افسروں‘ جوانوں‘ پولس افسروں‘ سپاہیوں کی قربانیوں سے طاقت پانے والا ملک ہم سے صرف لہجے کی نرمی مانگتا ہے۔ الفت طلب کرتا ہے‘ انتہاؤں کو قریب لانے کا آغازکرنا ہے۔

BRIDGING EXTREMES ایک مقدس عمل ہے‘ پیغمبرانہ مشن ہے‘ ہمارا پاکستان ‘ہمارا مستقبل‘ ہماری آئندہ نسلیں ہم سے تقاضا کر رہی ہیں کہ انتہاؤں کو آپس میں ملانے کے لئے اپنے دن رات ایک کر دیں‘ ایک دوسرے کو سمجھیں‘ ساتھ بیٹھیں‘ ایک دوسرے کی سنیں‘ آنکھوں میں جھانکیں‘ دوسرے کی تڑپ اور درد کی شدت محسوس کریں۔


 [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں آپ کی رائے قابل قدر ہے میں آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں

یہ تحریر 248مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP