یوم آزادی

پاکستان زندہ باد !

 ہجرت کی شب حضورۖنے آنسو بہائے تھے
سائل میرے عقیدے میں حب وطن بھی ہے!
 ہجرت کے وقت رسول اللہ  ۖ نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا :
اے مکہ تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا ۔(سنن ترمذی(
وطن سے الفت صرف انسانوں کا ہی شیوہ نہیں حیوانوں کو بھی اپنے وطن سے عشق ہوتا ہے ، چیونٹی کو دیکھیں تو اسے بھی اپنا گھر بار بہت عزیز ہوتا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اشرف المخلوقات کے دل میں وطن سے محبت نہ ہو۔وطن سے محبت، وطن کی خاطر ہجرت اور وطن کی خاطر جان تک قربان کر دینے کی ترغیب قرآن کریم میں موجود ہے۔سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے دیگر نعمتوں کے ساتھ مسلمانوں کو آزاد وطن ملنے پر شکر بجا لانے کی ترغیب دلانے کو فرمایا :
اور (وہ وقت یاد کرو)جب تم (مکی زندگی میں( تھوڑے تھے (یعنی عدداً اقلیت میں تھے(۔۔۔ملک میں دبے ہوئے تھے (یعنی معاشی طور پر کمزور و استحصال زدہ تھے(۔۔۔تم اس بات سے (بھی( خوفزدہ رہتے تھے کہ (طاقتور) لوگ تمہیں اچک لیں گے)یعنی سماجی طور پر بھی تمہیں آزادی و تحفظ حاصل نہ تھا(۔۔۔پس (ہجرت مدینہ کے بعد( اس (اللہ( نے تمہیں (آزاد اور محفوظ( ٹھکانا(وطن( عطا فرما دیا اور(اسلامی حکومت و اقتدار کی صورت میں)تمہیں اپنی مدد سے قوت بخش دی۔۔۔اور(مواخات، اموالِ غنیمت اور آزاد معیشت کے ذریعے)تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا فرما دی۔۔۔تا کہ تم(اللہ کی بھرپور بندگی کے ذریعے اس کا) شکر بجا لا سکو۔


گزشتہ برس کالاش کی وادی بمبوریت میں سکول کے ننھے بچوں کو جب میں نے ٹافیاں اور چاکلیٹس دیں،تو روایتی لباس میں ملبوس ایک چھوٹی سی کالاشی بچی نے ٹافی پکڑ کر میرا ہاتھ چھوڑے بنا کالاشہ زبان میں کچھ کہاجس کا اردو ترجمہ مقامی گائیڈ نے یہ کیا کہ یہ بچی آپ کے بیگ پہ لگا جھنڈا مانگ رہی ہے ۔میں نے اپنے رک سیک پر چپکا چھوٹا سا پاکستانی جھنڈا اتار کے اسے دیتے ہوئے پیار سے اس کا گال چھوتے ہوئے پوچھا:کیا تمہیں پتہ ہے یہ کیا ہے؟تو جواب میں اس نے اس جھنڈے کو سلیوٹ کر کے چوم لیا۔کتنا مکمل جواب تھا اس کا،کچی عمر کا کتنا پکا عشق تھا۔


آج کے اس دور پر فتن میں شہر اقتدار کے ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر کافی کے سپ لیتے ہوئے،ریموٹ کنڑول تھامے لاپروائی سے نیوز چینل بدلتے ہوئے کسی چینل پہ فوجی پریڈ کی جھلکیاں دیکھتے ہوئے یا اپنی مہنگی گاڑی میں بد یسی موسیقی پہ سر دھنتے ہوئے، بانٹ اور ڈگی پہ سبز جھنڈے لہرا کر خود کو دیسی ثابت کرتے ہوئے، شہر کی عالیشان سڑکوں پر لانگ ڈرائیو کا لطف اٹھاتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن شہر اقتدار سے سیکڑوں میل دورکسی منہدم ہوتے مکانوں کی کچی بستی کی بوسیدہ گلیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرانا اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا سرفروشوں کا کام ہوتا ہے۔

شہر اقتدار سے تقریباً چار سو کلو میٹر دورمعدوم ہوتے کالاشہ کلچر کی زندگی کی بنیادی سہولیات سے عاری چھوٹی چھوٹی وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا بڑے دل گردے کا کام ہے۔مٹی کی محبت مٹی میں رہنے والے ہی سمجھ پائے ہیں،جب دو وقت کا اچھا کھانا بھی دستیاب نہ ہو لیکن سبز ہلالی پرچم کو چوم کر آنکھوں سے لگایا جاتا ہو تو پھر پاکستان زندہ باد فقط اک نعرہ نہیں رہتا ،دل سے نکلی آواز بن جاتا ہے، روح کی پکار ہو جاتا ہے، وطن سے محبت کا بے لوث جذبہ عشق بن کر جنون بن جاتا ہے۔

وطن عزیز کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں کوہ ہندوکش کے سنگلاخ پہاڑوں میں نورستان قوم سے تعلق رکھنے والے اور دنیا میں اپنی منفرد ثقافت کے لیے مشہور کم و بیش چالیس ہزار نفوس پہ مشتمل کالاش قبیلہ آباد ہے۔ان میں سے اکثریت کالاش مذہب کی پیرو کار جب کہ چند سو افراد اب مسلمان بھی ہیں۔

کالاش قبائل اپنی جداگانہ ثقافت کے سبب دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ان کی ثقافت مقامی مسلم آبادی سے ہر لحاظ سے بالکل مختلف ہے اور اس ثقافت کو دیکھنے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے سیاح ہر سال بڑی تعداد میں وادیِ کالاش آتے ہیں۔یہ قبائل مذہبی طور پر کئی خدائوں کو مانتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر قدرت اور روحانی تعلیمات کا اثر رسوخ ہے۔یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے جو ان کی تین وادیوں میں خوشحالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔کالاش قبائل میں مشہور مختلف رواج اور کئی تاریخی حوالہ جات اور قصے عام طور پر قدیم روم کی ثقافت سے تشبیہ دیے جاتے ہیںلیکن وقت کے ساتھ ساتھ قدیم روم کی ثقافت کے اثرات میں کمی آئی ہے اور موجودہ دور میں زیادہ تر ہند اور فارس کی ثقافتوں کے زیادہ اثرات واضح ہیں۔یونیسکو کی جانب سے کالاش کی ثقافت کو بین الاقوامی ثقافت قرار دے دیا گیا۔

مجھے کالاش پہنچنے پر پہلی حیرت جو ہوئی وہ ان لوگوں کی جنرل پرویزمشرف سے محبت تھی۔ بات کوئی بھی ہوتی،ذکر کوئی بھی ہوتا، کالاشی لوگ کسی نہ کسی طرح اس میں جنرل صاحب کا ذکر ضرور کرتے اور پھر ذرا سا کریدنے پہ عقدہ کھلا کہ سہولیات سے عاری اس وادی کو شاندار سڑک کا تحفہ جنرل پرویز مشرف نے دیا تھا جس کے سبب یہ لوگ آج بھی ان کا نام محبت و عقیدت سے لیتے ہیںاور ایک سڑک کے بدلے میں جنرل صاحب نے پاک فوج کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والی بے لوث محبت کو خرید لیا ہے۔یہ کالاشی پاکستان زندہ بار کے ہر نعرے کے ساتھ پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانے میں حق بجانب ہیں۔

گزشتہ برس کالاش کی وادی بمبوریت میں سکول کے ننھے بچوں کو جب میں نے ٹافیاں اور چاکلیٹس دیں،تو روایتی لباس میں ملبوس ایک چھوٹی سی کالاشی بچی نے ٹافی پکڑ کر میرا ہاتھ چھوڑے بنا کالاشہ زبان میں کچھ کہاجس کا اردو ترجمہ مقامی گائیڈ نے یہ کیا کہ یہ بچی آپ کے بیگ پہ لگا جھنڈا مانگ رہی ہے ۔میں نے اپنے رک سیک پر چپکا چھوٹا سا پاکستانی جھنڈا اتار کے اسے دیتے ہوئے پیار سے اس کا گال چھوتے ہوئے پوچھا:کیا تمہیں پتہ ہے یہ کیا ہے؟تو جواب میں اس نے اس جھنڈے کو سلیوٹ کر کے چوم لیا۔کتنا مکمل جواب تھا اس کا،کچی عمر کا کتنا پکا عشق تھا۔


پاکستانی ہونے کے ناتے وطن سے محبت میری گھٹی میں شامل ہے لیکن وطن سے عشق میں نے بنیادی سہولیات سے عاری دور دراز وادیوں میں زندگی کو کسی آزمائش کی طرح کاٹنے والوں سے سیکھا۔چند سال پیشتر پاکستان کے ساحلی شہر جیونی کے ساحل پہ ننگے پائوں ،الٹے قدموں کی زنجیر بناتے جب ایک مقامی بلوچی بچے کو میں نے سبز ہلالی پرچم تحفے میں دیا تو اس نے فوراً سے پیشتر اسے لبوں سے چوم کر آنکھوں سے لگایا، پھر پیشانی سے لگا کر سینے سے لپٹا لیا اور بولا تو فقط اتنا: کیا میں یہ رکھ لوں، تب مجھے بلوچوں کی اس پرچم سے محبت سمجھ آئی۔ 


محض ایک دہائی قبل جنت نظیر وادیِ سوات تاریخ کی بد ترین دہشت گردی کے حصار میں تھی۔ وطن عزیز پہ دہشت گردی کا عفریت عذاب بن کے مسلط رہااور پھر بیس سال کی طویل جدو جہد کے بعد بالآخر سوات کے غیور بیٹوں نے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ جرأت و بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے شعلوں کو اپنے لہو سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھا دیااور ایک طویل جنگ میں بے شمار قربانیوں کے بعد بالآخر جنت ارضی سوات کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کیااور اس امن کا سورج آج بھی وادی سوات میں پوری آب و تاب سے روشن ہے۔وہ گلیاں جہاں لوگ دہشت گردوں کے خوف سے جھانکنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، وہاں اب ننھے بچے یوم آزادی منانے کے لیے سبز ہلالی جھنڈیاں لیے تزئین و آرائش میں مگن ہوتے ہیں۔۔۔اور امن کی ان مناظر کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔اہل سوات کی پاک فوج سے اس محبت کے چشم دید گواہوں میں میرا نام بھی شامل ہے اور یقین مانیے یہ محبت بے جا نہیں ہے۔یہ امن بہت قربانیوں کے بعد ملا ہے۔سکھ کا یہ اجلا سویرا دکھ کی بہت لمبی رات کاٹنے کے بعد اترا ہے۔ نہ جانے کتنے بیٹوں نے دھرتی ماں کو اپنے لہو سے سیراب کیا ہے تب جا کے یہ ہریالی آئی ہے۔

پاکستانی ہونے کے ناتے وطن سے محبت میری گھٹی میں شامل ہے لیکن وطن سے عشق میں نے بنیادی سہولیات سے عاری دور دراز وادیوں میں زندگی کو کسی آزمائش کی طرح کاٹنے والوں سے سیکھا۔چند سال پیشتر پاکستان کے ساحلی شہر جیونی کے ساحل پہ ننگے پائوں ،الٹے قدموں کی زنجیر بناتے جب ایک مقامی بلوچی بچے کو میں نے سبز ہلالی پرچم تحفے میں دیا تو اس نے فوراً سے پیشتر اسے لبوں سے چوم کر آنکھوں سے لگایا، پھر پیشانی سے لگا کر سینے سے لپٹا لیا اور بولا تو فقط اتنا: کیا میں یہ رکھ لوں، تب مجھے بلوچوں کی اس پرچم سے محبت سمجھ آئی،اس ڈھلتی شام گوادر کے گرم پانیوں میں ڈوبتا سورج اپنے ساتھ میرے دل و دماغ میں بلوچوں کی وطن عزیز سے نفرت کی وہ تمام جھوٹی کہانیاں جو میڈیا نے بھری تھیں، سب کی سب ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے کر ڈوب گیا اور ساحل پہ میرے ساتھ وطن کے عشق میں ڈوبا وہ بلوچی بچہ سبز ہلالی پرچم سینے سے لپٹائے سرحد پہ کھڑے فوجی کی مانند کھڑا رہ گیا۔

گزشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز میں جس بری طرح نفرتوں کا بازار گرم ہے، اس میں نئی نسل کے دلوں میں پاکستان اور افواج پاکستان سے محبت کا یہ عالم نرم ہوا کا وہ جھونکا ہے جو ہم ایسے دیوانوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہ نئی نسل ہمارا مستقبل ہی نہیں بلکہ نئی سحر کی وہ روپہلی کرن ہے جو نفرتوں کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا میں اجالا بن کے پھیلے گی۔ُمجھے یقین ہے کہ پاکستان قیامت تک قائم و دائم رہنے کے لیے بنا ہے اور خدا خود اس کی حفاظت کرے گا۔۔۔انشااللہ
اے وطن! ہے آرزو کہ
زیست میں تیرے کسی کام آ سکوں
تو اک بار پکارے اور
میں سو بار آ سکوں
میرے محبوب وطن!
میری محبت
میرے شوق کا کبھی
امتحان تو لے!
ان عنایات کے صلے میں
اور کچھ نہیں تو
میری جان ہی لے!
زندگی تجھ پہ نثار کروں
مجھے یہ اعزاز ہی دے
اک بار ہی سہی
مجھے آواز تو دے
مجھے آواز تو دے____!!! ||


مضمون نگار کی حال ہی میں 'جوگی، جوگ اور ٹلہ' نامی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان کی تین کتب دیوسائی ، وطن، فرض اور محبت اور کوسٹل ہائی وے سے متعلق کتاب ہوا کا دروازہ' مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 224مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP