قومی و بین الاقوامی ایشوز

استحکام پاکستان اور بھارتی سازشوں کے تانے بانے

پاکستان اور چین کی دوستی خطے میں امن اور خوشحالی کی علامت ہے‘ مگر بھارت اپنی روایتی تنگ نظری اور فطری کج فہمی کی بنا پر اقتصادی راہداری منصوبہ سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ بھارت کی فوجی اور جمہوری قیادت ساری کی ساری پاکستان کے خلاف میدان میں اتری ہوئی ہے۔ یوں تو پاکستان کے قیام ہی سے بھارت پاکستان کی سلامتی‘ استحکام اور ترقی کے بارے میں حاسدانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہے اور گزشتہ 68 برس سے مجال ہے جو بھارت کی بوسیدہ خیالی میں رتی برابر بھی تبدیلی آئی ہو۔ اب عالم یہ ہے کہ بھارت کا ہر چھوٹا بڑا وزیر‘ مشیر‘ حتیٰ کہ وزیرِاعظم بھی‘ جس کے منہ میں جو آتا ہے‘ کہے جا رہا ہے‘ عدمِ برداشت کی انتہا اس وقت دیکھنے میں آئی جب 15 مئی 2015 کو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی چین جا پہنچے اور چینی صدر شی چن پنگ سے جا کرکہا کہ بھارت ’’ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے سخت خلاف ہے۔‘‘ اس بات کا انکشاف 2 جون کو اپنی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ سشما نے کہا کہ بھارت کو یہ منصوبہ کسی صورت قبول نہیں۔ حتیٰ کہ چینی سفیر کو نئی دہلی وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا۔ ہر چند کہ چین نے بھارتی احتجاج مسترد کردیا ہے مگر بھارت کی سرشت میں چونکہ پاکستان دشمنی رچی بسی ہے اس لئے اب ایک اور اسلام دشمن یہودی ریاست اسرائیل یاترا کے لئے نریندر مودی بے تاب و مضطرب ہے۔ فی الحال بھارتی وزیرِاعظم مودی کے مذکورہ دورے کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا مگر نئی دہلی میں اسرائیلی سفیر نے نریندر مودی کے مذکورہ دورے کا بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ہے جو کسی بھی بھارتی رہنما کا پہلا دورۂ اسرائیل ہوگا ۔اس سے پہلے 2000 میں اعلیٰ بھارتی وفد اس وقت کے وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ کی قیادت میں اسرائیل گیا تھا۔ اسرائیل‘ فلسطینی مسلمانوں کے لئے اگر نفرت کی علامت بن چکا ہے تو بھارت پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو لعن طعن کرتے بھی 68 برس بیت گئے ہیں۔ بھارت ہمیشہ ہی سے اس خوش گمانی میں مبتلا رہا ہے کہ وہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے زیرِ تسلط رکھ کر اپنی چودھراہٹ قائم کرلے گا۔ اس نے اسی گھمنڈ اور شیخی میں 11 اور13 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر دھماکے کرکے اپنی برتری ثابت کرنا چاہی مگرپندرہ دن کے انتہائی قلیل وقت میں پاکستان نے 28 مئی کو چاغی کے مقام پردھماکے کرکے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔

 28مئی2015 کو جب پاکستان اپنے ایٹمی دھماکوں کی 17 ویں سالگرہ منارہا تھا اور دوسری آل پارٹی کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے پاک چائنا اقتصادی راہ داری منصوبے پر پورے اتفاق رائے سے منظوری دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی تو نئی دہلی میں صف ماتم بچھ گئی تھی ۔ بھارت کے لئے یہ بات بالکل ناقابلِ برداشت ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ مل کر چلنے کا عہد کرلیا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ حواس باختگی کے عالم میں اس روز بھارت کے وزیرِ دفاع منوہر نے نئی دہلی میں کہہ دیا کہ ’’بھارت کی تیرہ لاکھ فوج امن کی تبلیغ کے لئے نہیں ہے‘ فوج کا کام ہی ملکی دفاع ہے‘‘ منوہر نے مزید کہا کہ ’’میں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ اگر اُن پر کوئی فائرنگ کرے تو وہ اسے قتل کردیں‘ کانٹے سے کانٹا نکالنا پڑتا ہے‘ دہشت گردی کے جواب کے لئے میدان میں دہشت گرد لانا ہوں گے۔‘‘

سب سے بڑھ کر وہ اعترافِ جرم ہے جو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ڈھاکہ میں اٹل بہاری واجپائی کے لئے بنگلہ دیش لبریشن وار آنر کے ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر بھارتی چاہتا تھاکہ بنگلہ دیش بنے‘ بھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑی‘‘ مودی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مکتی باہنی کی حمایت میں ستیہ گرہ تحریک میں بطورِ رضا کار وہ شامل رہے۔ اب بھی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے کہ بھارت کو سازشی اور بدطینت ملک نہ سمجھا جائے کیا اس سے بھارتی جنتا کا بھرم پاش پاش نہیں ہوا۔ کہاں گئی وہ ہمسائیگی‘ کیا اب بھی بھارتی اخلاق کے چہرے کی بے رونقی کا سبب بتانا ضروری ہے‘ کہاں گیا بھارت کا دانشور قلمکار‘ تاریخ کو کیا منہ دکھائے گا ؟

بھارتی وزیر دفاع کے بصیرت سے بے نیاز اس بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان خلیل اﷲ قاضی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’’منوہر کے اشتعال انگیز بیان سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ہم اقتصادی راہداری سبوتاژکرنے کے بھارتی منصوبے سے آگاہ ہیں۔ بھارت کو اس کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ جبکہ مشیرِ خارجہ جناب سرتاج عزیز نے اس بیان کی سب سے پہلے زبردست الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بھارت کے وزیرِ دفاع نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارا موقف درست ہے۔‘‘

پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اسی تناظر میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’’دشمن دہشت گردی کو ہوا دے کر ملک میں عدمِ استحکام پیدا کررہا ہے‘ دشمن نہ صرف تنازعات پیدا کرکے بلکہ پاکستان میں دہشت گردوں کی حمایت کرکے ہمیں آپس میں لڑانا اور غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ دشمن کے ناپاک ارادوں کو شکست دینے کے لئے ہم ہر وقت تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں‘ کسی صورت جدا نہیں ہوسکتے۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے‘ خطے اور پاکستان میں قیامِ امن کے لئے دعا گو ہوں‘ کشمیر برعظیم کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے‘ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی قابلِ قبول ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔‘‘

جنرل راحیل شریف نے مزید کہا ’’مستقبل کے حوالے سے جنگی حکمتِ عملی میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب نے شہری علاقوں میں فیصلہ کن کارروائیوں کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ ضربِ عضب سے سیاسی وعسکری قیادت میں ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی ہم آہنگی سے ہی دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے ہمیشہ ہمیشہ خاتمے کے لئے پُراُمید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پراکسی وار کے خلاف ہے‘ کسی ملک کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

جنرل راحیل شریف کے اس طرح دوٹوک اور کھل کر کشمیر کا ذکر کرنے نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اورمظلوم مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ ا دی ہے۔ وادی میں ہر طرف پاکستانی پرچم لہراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستان اور کشمیر کو لازم و ملزوم قرار دے کر دراصل قائدمحمدعلی جناح کے تصورِ کشمیر کو واضح کیا ہے۔ اس کے ایک دن بعد صدرِ مملکت ممنون حسین کے سالانہ خطاب کی شام سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے استقبالیہ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے واضح طور سے کہا کہ ‘’’بھارتی دھمکی آمیز رویے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ مسلح افواج ہر طرح کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘

موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو فوج‘ سول انتظامیہ‘ سیاسی قیادت‘ قوم اور اپوزیشن جماعتیں ساری کی ساری ہم خیال ایک پیج پر کھڑی ہیں۔ بھارت تلملاہٹ کا شکار ہو کراسی اتفاق اور بھائی چارے کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے دورے پر وزیرِاعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ ’’ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں ہم قوم کی حمایت سے انہیں شکستِ فاش دیں گے‘‘ بھارتی اول فول بیانات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ ’’ جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے‘ پاکستان کے خلاف عزائم ناکام بنا دیں گے۔‘‘

بھارت کو چاہئے اپنے عوام پر توجہ دے کہ اس کے ہزاروں لاکھوں لوگ رات کو فٹ پاتھوں پر پڑے ہوتے ہیں۔ سیاچن پر بیٹھنے سے بھارتیوں کی تقدیر نہیں بدل جائے گی‘ بلا وجہ کے محاذ خود کو دیوالیہ کرنے کے مترادف ہے۔ کبھی مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا‘ کبھی گلگت بلتستان پر معترض ہونا‘ کبھی آزاد کشمیر سے اقتصادی راہداری کے گزرنے پر سیخ پا ہونا‘ یہ چلن کسی طور بھی بھارت جیسے ملک‘ جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ ہے‘ کو زیب نہیں دیتا۔

بھارت کا اگریہ خیال ہو کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی پشت پناہی کرکے یا سانحۂ صفورا جیسے واقعات کا ارتکاب کرکے فتح مند ٹھہرے گا یا مستونگ میں مسافروں کے خون کی ہولی کھیل کر مہان ہوجائے گاتو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ خطے کے ہر فرد نے بھارتی عزائم بھانپ لئے ہیں۔ بھارت اب ڈھکا چھپا نہیں رہا۔

پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت کے جرأت مندانہ بیانات اور دو ٹوک جواب نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور برسوں سے بھارتی نیتاؤں کی ہٹ دھرمیوں میں زندگی بسر کرنے والے کشمیریوں میں ولولہ تازہ پیدا کردیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (علی گیلانی) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جنرل راحیل شریف کے نام ایک خط ارسال کیا ہے‘ جس میں3 جون کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر پر واضح اور دو ٹوک موقف کا اظہار کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بھارت حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف کے بیان پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ تسلط ختم کرنے اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقدامات کرے‘ علی گیلانی نے‘ اپنے مکتوب میں لکھا کہ جنرل راحیل شریف کے خطاب کے لئے تقسیمِ ہند کے فارمولے کے حوالے سے 3 جون1947 کی تاریخ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پاکستانی اور غیر ملکی افسران کی موجودگی کے دونوں وقت اور جگہ بہت زیادہ تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ’’ جنرل راحیل نے کشمیریوں کے موقف کی تائید کرکے تحریکِ آزادی کو جلا بخشی ہے۔‘‘

ادھر بھارت کی دریدہ دہنی کا یہ عالم ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں گلگت اور بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے ہونے والے حالیہ انتخابات کو پاکستان کی جانب سے خطے کی ہیئت میں تبدیلی کی بزورِ طاقت کوشش قرار دیا ہے۔ جبکہ بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ اس نے کہا ہے کہ کشمیر میں امن دشمن سرگرمیاں قابلِ قبول نہیں۔ پتا نہیں راج ناتھ نے یہ بات کس سے کہی ہے کیونکہ جموں کشمیر کا امن تہہ و بالا تو بھارت کے فوجی مورکھوں نے کررکھا ہے۔

سب سے بڑھ کر وہ اعترافِ جرم ہے جو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ڈھاکہ میں اٹل بہاری واجپائی کے لئے بنگلہ دیش لبریشن وار آنر کے ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر بھارتی چاہتا تھاکہ بنگلہ دیش بنے‘ بھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑی‘‘ مودی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مکتی باہنی کی حمایت میں ستیہ گرہ تحریک میں بطورِ رضا کار وہ شامل رہے۔ اب بھی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے کہ بھارت کو سازشی اور بدطینت ملک نہ سمجھا جائے کیا اس سے بھارتی جنتا کا بھرم پاش پاش نہیں ہوا۔ کہاں گئی وہ ہمسائیگی‘ کیا اب بھی بھارتی اخلاق کے چہرے کی بے رونقی کا سبب بتانا ضروری ہے‘ کہاں گیا بھارت کا دانشور قلمکار‘ تاریخ کو کیا منہ دکھائے گا ؟وہ نریندر مودی پر تھُو تھُو کیوں نہیں کرتا۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اپنا تعارف چھوڑ کے جائے گا کہ وہ ایک غیر مہذب اور غیر شائستہ قوم کا دانشور تھا۔ قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی رہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہندو قوم کی شناخت ہے مگر تاریخ نے ہمیشہ جرأت مند قوموں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ سازش کرنا بزدلی ہے۔ بزدل بے وقعت اور بے توقیر ہوتا ہے۔منوہر نے اپنے جن تیرہ لاکھ فوجیوں کا ذکر کیا ہے اور ترنگ میں آکر جانے کیا کچھ کہہ گیا ہے‘ اُس کو اس بات کا اندازہ کرلینا چاہئے کہ یہ دور روایتی جنگوں اور عددی برتری کا نہیں ہے۔۔۔ ڈیجیٹل میپنگ کا زمانہ ہے‘ کنکریٹ کی تہوں میں زندگی تلاش کر لی جاتی ہے‘ میزائل ٹیکنالوجی کا دور ہے‘ فضائیہ کی حکمرانی ہے‘ بھارت کسی طور پر بھی پاکستان سے بہتر پوزیشن میں نہیں ہے‘ نہ ایٹمی حوالے سے نہ بحری اور فضائی طور سے حتیٰ کہ روایتی ہتھیاروں میں بھی پاکستان بھارت سے بہت آگے ہے۔ محض تیرہ لاکھ فوجی اکٹھے کر لینے سے محاصرے نہیں ہوا کرتے۔ بھارتی فوج میں ویسے بھی ذہنی مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں کہ بھارتی فوجی نے اپنے ساتھی پر فائر کرکے ہلاک کردیا‘ خود کشی کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں‘ایسی فوج پر بھروسہ کرنا نادانی ہے۔

بھارت کو چاہئے اپنے عوام پر توجہ دے کہ اس کے ہزاروں لاکھوں لوگ رات کو فٹ پاتھوں پر پڑے ہوتے ہیں۔ سیاچن پر بیٹھنے سے بھارتیوں کی تقدیر نہیں بدل جائے گی‘ بلا وجہ کے محاذ خود کو دیوالیہ کرنے کے مترادف ہے۔ کبھی مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا‘ کبھی گلگت بلتستان پر معترض ہونا‘ کبھی آزاد کشمیر سے اقتصادی راہداری کے گزرنے پر سیخ پا ہونا‘ یہ چلن کسی طور بھی بھارت جیسے ملک‘ جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ ہے‘ کو زیب نہیں دیتا۔ اسے بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ امریکی صدر اوباما 27 جنوری سال رواں میں بھارت کے دورے پرآئے‘ ہم نے کسی قسم کے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔ 15 مئی 2015 کو نریندر مودی چین گئے‘24 معاہدوں پر دستخط کر آئے‘ ہم نے کوئی واویلا نہیں نہ کیا تو بھارت پاکستان چین دوستی اقتصادی راہداری پر حواس باختہ کیوں ہو رہا ہے‘ اس منصوبے سے سارے ایشیا اور دوسرے برِاعظموں تک اس کے ثمرات پہنچیں گے‘ چین کے جنوب مشرقی علاقے سنکیانگ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر سے ملانے کا ایک میگا ترقیاتی منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے مشرقی وسطیٰ اور چین‘ وسط ایشیا کے لئے ایک گیٹ وے کی حیثیت اختیار کرلے گا‘ اس منصوبے کی تعمیرسے 12 ہزار کلو میٹر فاصلہ کم ہوگا‘ دنیا سمٹ رہی ہے‘ گلوبل ولیج بن چکی ہے اور بھارت توسیع پسندانہ عزائم میں مبتلا ہے بھارت کو اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرنا ہوگی۔

بھارت کا اگریہ خیال ہو کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی پشت پناہی کرکے یا سانحۂ صفورا جیسے واقعات کا ارتکاب کرکے فتح مند ٹھہرے گا یا مستونگ میں مسافروں کے خون کی ہولی کھیل کر مہان ہوجائے گاتو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ خطے کے ہر فرد نے بھارتی عزائم بھانپ لئے ہیں۔ بھارت اب ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ کمانڈر سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کے وہ الفاظ تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں جو انہوں نے مستونگ کے شہیدوں کی تعزیتی تقریب میں کہے ہیں کہ ’’ہمارا دشمن ذہنی پستی کا شکار ہے‘ ہمارے بچوں کو مارنے لگا ہے‘ یہ کیسا دشمن ہے‘ اس کی کیا سوچ ہے؟ یہ دشمن چھپ کر وار کرتا ہے‘ دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان کا خون ہمیشہ بہتا رہے ‘ مستونگ واقعے کے ذریعے پشتون اور بلوچ کو لڑانے کی سازش کی گئی تھی‘ آپ دشمن کی وجہ سے آپس میں نہ لڑیں‘ ہم سب مل کر دشمن سے لڑیں گے‘ میرا ایمان ہے کہ اگلی صدی روشن بلوچستان کی صدی ہے ہم یہاں روشن مستقبل اور امن کے لئے لڑیں گے‘ ہمیں امن چھین کر لانا پڑا تو لائیں گے۔‘‘

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

یہ تحریر 185مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP