قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان کی تعمیر و ترقی، حکومت کی اولین ترجیح 

بلوچستان میں جاری ترقیاتی سکیموں اور محکموں کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ اور مختلف ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بلوچستان حکومت سرگرم عمل ہے۔ صوبے بھر میں ڈی ایچ کیو سطح کے ہسپتالوں میں مختلف پراجیکٹس پر کام کئے جارہے ہیں ۔انسدادِپولیو مہم کامیابی سے جاری ہے۔ محکمہ صحت بلوچستان اور پولیو ٹیمیں دن رات ایک کرکے اپنے ہدف پورے کر رہی ہیں ۔اس حوالے سے نچلی سطح پر بھی ٹیموں کی بہتر کارکردگی لائق تحسین ہے۔ صحت کے مسائل کے حل کیلئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہر ضلع میں ٹیم ورک کے ذریعے کام کرنے سے صحت کے مسائل حل کئے جارہے ہیں۔ کرونا کے حوالے سے ہنگامی طور پر سینٹرز قائم کئے گئے ہیں اورویکسین کا عمل بھی جاری ہے۔ ویکسین لگوانے کے لئے عوام میں شعور وآگہی مختلف پروگرامز کے توسط سے دی جارہی ہے۔ ویکسین کی ٹیمیں گھر گھر جا کے بھی ویکسین لگا رہی ہیں۔ 
 حکومت کی جانب سے اس بات کی بار بار یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے پولیو کے خاتمے کیلئے پولیو پروگرام کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ رپورٹ شدہ پولیو کیسز اور منفی ماحولیاتی نمونوں کا گرتا ہوا رجحان پولیو کے خاتمے کے لیے مثبت وبائی امراض کی نشاندہی کرتا ہے' صوبے سے پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ان کا حق ہے اور یہ بچوں کی اچھی صحت کو یقینی بنانے کا سب سے محفوظ طریقہ ہے کیونکہ بچوں کو مستقل طور پر معذوری سے بچانے کے لیے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔بلوچستان کو پولیو فری بنانے کے لیے صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔ نئی نسل کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے صوبائی سطح پر پولیو کے تدارک کے لیے بھر پور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ والدین اور معاشرے کے ہر مکتبہ فکر کو مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پولیو وائرس کے خاتمے کو ایک چیلینج کے طور پر لیا جائے اور اس کے خاتمے کیلئے مہم کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات ایک کرنا ہوگا۔ پولیو ورکرز کی تنخواہیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔اسی حوالے سے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ملاقات میں پولیو ویکسینیشن، روٹین امیونائزیشن، صحت سہولت پروگرام، کووڈ 19کی مجموعی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں روٹین ایمیونائزیشن اور انسداد پولیو مہم کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے حکمت عملی پرغور بھی کیا گیا۔ اس موقع پراعادہ کیاگیا کہ انسداد پولیو کی مہم کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اورحکومت روٹین ایمیونائزیشن کی افادیت سے بخوبی آگاہ ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا ہے اور صوبائی حکومت نے ہر ضلع میں ماڈل بورڈنگ سکول کے قیام کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی ہے۔ ملاقات میں بلوچستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
ادھر سی پیک کے تحت گوادر میں 100بستر پر مشتمل جدید ہسپتال، بین الاقوامی ایئرپورٹ اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنایاجا رہا ہے، ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر جاری ہے ۔ تعلیم ' صحت' پانی ، بجلی ، سڑکیں روزگار اس علاقے کے مسائل ہیں جو جنوبی بلوچستان پیکج سے حل ہوں گے اور یہاں پر ترقی کا ایک نیادور شروع ہو گا ۔ حکومت نے اس ضمن میں طویل المدت اور قلیل المدت منصوبوں کی درجہ بندی کر رکھی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ عوام ان سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔ حکومتِ بلوچستان  کوئٹہ شہر کی خوبصورتی سمیت صحت 'تعلیم 'پینے کے صاف پانی 'نکاسی آب' سڑکوں کی توسیع ومرمت، ٹف ٹائل اور کھیلوں کے میدانوں کی تزئین وآرائش سمیت عوام کے مفاد عامہ کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ کوئٹہ شہر کی خوبصورتی کی بحالی اور لوگوں کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی عمل جاری ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کو نظرانداز کیا اور صوبے کی پسماندگی کے خاتمے پرخاطر خواہ  توجہ نہیں دی گئی۔ بلوچستان کی تعمیر و ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے سدرن اضلاع جن کا شمار صوبہ بلوچستان کے انتہائی پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے ان کے لئے640 ارب کا خصوصی پیکج دیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا 80فیصد بجٹ بلوچستان میں خرچ کیا جار رہا ہے اور گزشتہ دوسال 10ماہ کے عرصے میں 3300 کلومیٹرسڑکوں کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ریجن میں کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)کے تحت جاری میگا ترقیاتی پراجیکٹس پر کام جاری ہے 'جن کی تکمیل سے صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ ہو گا اور صوبہ ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن ہو گا۔ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جارہا ہے' جس کے تحت صحت انصاف کارڈ ہولڈ 10لاکھ روپے تک سرکاری کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں سے بھی مفت علاج کرا سکتے ہے ۔کے پی کے کی حکومت جس نے اپنے تمام شہریوں جو قومی شناخت کے حامل ہیں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کر دئیے ہیں' بلوچستان حکومت بھی اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سال کے آخر تک بلوچستان کے عوام کو بھی صحت انصاف کارڈ جاری کر دیئے جائیں گے۔ ادھر بلوچستان ترقیاتی پیکیج کے حوالے سے654ارب کے مجموعی پیکیج میں سے رواں مالی سال میں 99.38 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس میں ٹرانسپورٹ و بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی و بہتر استعمال، زراعت و لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، صنعت و تجارت، افرادی قوت و تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں،پیکیچ میں کل 1100کلومیٹر کا سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے ،پیکیج میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے 7 بڑے ڈیمز اور 100کے  قریب چھوٹے ڈیمز کی تعمیر بھی شامل ہے،انکڑا، سواد اور شادی کور ڈیم گوادر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان بلوچستان کی ترقی کو اولین ترجیحات میں شامل کئے ہوئے ہیں کہ اسی میں پاکستان کی خوشحالی ہے۔ ||

یہ تحریر 68مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP