قومی و بین الاقوامی ایشوز

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے

بلوچستان میں پائے جانے والے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے مرحلہ وار کام جاری رکھا گیا جس کے شارٹ ٹرم پلان کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ مڈٹرم پلان پر عمل درآمد جاری ہے ۔انہی کے تحت لانگ ٹرم پلان کی پلاننگ اور اس پر عملی کام کا آغاز ہوچکا ہے جہاں میگا پراجیکٹس کیساتھ سو شو اکنامک اپ لفٹ پر کام جاری ہے۔


گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے جن بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ان میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرکے خیبر پختونخوا بلوچستان سمیت امن و امان کی بحالی کا تھا۔ ملک میں جاری دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کا فیصلہ سوات آپریشن کی ابتداء سے ہوا اب اس ناسور کے خاتمے کا وقت قریب نظر آنے لگا ہے دہشت گردی کے واقعات نے جہاں ملک کے تمام بڑے شہروں کو متاثر کیا، وہیں سب سے زیادہ متاثر صوبوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان شامل تھے۔ خیبر پختونخوا میں جہاں بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن کئے گئے، وہیں بلوچستان میں چھوٹے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کئے گئے جس کی بدولت آج دونوں صوبوں میں امن بحال ہو چکا ہے ،تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے مختلف حکمت عملی اختیار کی گئی خیبر پختونخوا میں آپریشن علاقے کی کلئیرنس کے بعد ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا وہیں بلوچستان میں چھوٹے پیمانے پر تخریب کاروں  کے خلاف کارروائیوں کیساتھ ساتھ سوشو (Socio Economic)اکنامک اپ لفٹ کا کام بھی جاری رکھا گیا۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے80 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے جبکہ ملک کی معیشت کو ایک سو ستائیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا- اس جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ملک میں امن کی بحالی کے لئے پانچ ہزار سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کئے جبکہ اٹھارہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ۔ سترہ ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ بلوچستان میں امن کی بحالی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں دو ہزار نو سے دو ہزار اٹھارہ تک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاک فوج، ایف سی اور حساس اداروں کے خلاف 727 حملے ہوئے جن میں 464 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ1337 زخمی ہوئے جبکہ بلوچستان پولیس پر پانچ سو کے قریب حملے ہوئے جن میں 575 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ لیویز پر 2013 سے2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 74 حملے ہوئے جن میں ساٹھ جوان شہید ہوئے جبکہ پچاس کے قریب زخمی ہوئے۔ دو ہزار نو سے دو ہزار انیس تک سالانہ تین سو کی اوسط سے3229 واقعات میں3415 لوگ لقمہ اجل بنے۔ تاہم گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ان کارروائیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جسکی بنیادی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وہ قربانیاں ہیں جو انہوں نے امن و امان کے قیام کی قیمت کے طور پردی ہیں۔ بلوچستان میں پائے جانے والے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے مرحلہ وار کام جاری رکھا گیا جس کے شارٹ ٹرم پلان کے ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ مڈٹرم پلان پر عمل درآمد جاری ہے ۔انہی کے تحت لانگ ٹرم پلان کی پلاننگ اور اس پر عملی کام کا آغاز ہوچکا ہے جہاں میگا پراجیکٹس کیساتھ سو شو اکنامک اپ لفٹ پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں لسانی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کی کارروائی میں واضح کمی ہوچکی ہے تاہم اب بھی اِکادُکا واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔خیبر پختونخوا کے برعکس بلوچستان میں جو پالیسی اپنائی گئی تھی اس کی ابتداء 2009 میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج سے ہوئی، تاہم اس وقت کی حکومت نے پیکج کے اعلان اور پانچ ہزار اساتذہ کی بھرتی کے علاوہ اس کے دیگر نکات پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔ اس کے بعد دو ہزار پندرہ میں سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا تو حیران کن طور پر اس وقت کی بلوچستان حکومت اس ارلی ہار ویسٹ فیز سے بھر پور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی جس کا اعتراف موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال برملا کرتے ہیں اور اب وہ کوشش کررہے ہیں کہ سی پیک کے دوسرے فیز میں وہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرسکیں تاہم طویل عرصہ بعد بلوچستان میں موجودہ وفاقی ہو یا صوبائی حکومت دونوں نے بھر پور کوآرڈینیشن کے ساتھ ترقی کے پہیئے کو چلانے کی کوشش کی ہے اور کسی حد تک ترقی کا یہ پہیہ بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں کو چیرتا ہوا پتھریلے میدانوں کو عبور کرکے بلیک ٹاپ روڈ کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ اس ترقی کے پہیئے کو بلیک ٹاپ روڈ پر لانے کے لئے جن منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے ان میں تعلیم، صحت، روڈ نیٹ ورک، پینے کا صاف پانی، سیاحت مائنز اینڈ منرلز، متبادل توانائی،  زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس ترقی کے سفر کو کامیاب بنانے کے لئے سی پیک کے منصوبے سائوتھ بلوچستان ڈویلپمنٹ پیکج وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے منصوبوں پر اگر برقت کام کا آغاز ہوتا ہے تو بلوچستان میں ترقی زمین پر نظر آئے گی اور اس ترقی کے ثمرات بلوچستان کے عام آدمی، بلوچستان کے چرواہے تک پہنچیں گے۔
 بلوچستان کی اس ترقی کے سفر کے لئے انتہائی اہم منصوبے کون سے ہیں ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں :
سی پیک 
چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے آغاز پر بلوچستان میں گوادر کو رتو ڈیرو سے منسلک کرنے کا کام تیزی سے شروع ہوا تاہم بلوچستان سی پیک کے پہلے مرحلے میں بڑا شئیر لینے میں ناکام رہا جس کا ادراک تمام قومی اداروں اور موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو ہے اس لئے اب دوسرے مرحلے میں بلوچستان کو بھرپور ترجیح دی جارہی ہے اس وقت سی پیک کے تحت گوادر میں انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر کام جاری ہے جبکہ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے، گوادر اکنامک فری زون، پینے کے صاف پانی کا منصوبہ ،پاک چین دوستی ہسپتال، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور گوادر اسمارٹ سٹی منصوبے پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں بوستان اور حب میں نئے صنعتی زونز قائم کئے جارہے ہیں، تربت کو ضلع چاغی سے منسلک کرنے کے لئے تربت ماشکیل نوکنڈی شاہراہ تجویز کی گئی ہے ژوب سے کچلاک مغربی روٹ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے ۔اسی طرح دیگر اہم منصوبوں کے لئے بلوچستان اور وفاقی حکومت ورکنگ پیپر تیار کررہے ہیں جس میں گوادر کو ریل نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔
سائوتھ بلوچستان ڈویلپمنٹ پیکج
موجودہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ملک کے سب سے پسماندہ ترین نو اضلاع جو کہ بلوچستان کے جنوبی حصے میں واقع ہیں، کے لئے سائوتھ بلوچستان ڈویلپمنٹ پیکج کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق اس پیکج کے تحت تین سالوں میں بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں چھ سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے دستیاب معلومات کے مطابق اس پیکج کے تحت بجلی، گیس، روڈ، ڈیمز اورزراعت کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ بنیادی صحت اور تعلیم کے مراکز پر کام کیاجائے گا 
بلوچستان میں وفاقی سکیمیں 
 بلوچستان میں اس وقت وفاقی وزارت مواصلات کے تحت ایم سیونٹی اور ایم ٹوئنٹی ٹو پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں تین ہزار تراسی کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی جارہی ہیں۔ بلوچستان میں وزارت مواصلات کے تحت جاری منصوبوں پر اڑھائی سو ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس ،خضدار بسیمہ شاہراہ پر کام کیا جارہا ہے جبکہ سوئی کو کشمور کے ذریعے سکھر ملتان موٹر وے سے منسلک کرنے کے لئے فزیبلیٹی سٹڈی کی جارہی ہے۔ کراچی سے چمن تک ڈوئیل کیریج وے کے لئے ابتدائی فزیبلٹی پر کام کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ انویسٹمنٹ سے شروع ہوگا۔ ہوشاب، آواران، خضدار سیکشن ایم ایٹ تعمیر کے مراحل میں ہے۔ زیارت، کچھ ہرنائی شاہراہ اور ہرنائی سنجاوی شاہراہ پر بھی کام کیا جارہا ہے جھل جھائو بیلہ سیکشن  پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ کوئٹہ ڈھاڈر روڈ کی توسیع و مرمت کا کام بھی تجویز ہوچکا ہے۔ گوادر میں فش لینڈنگ جے ٹیز پیشکان میں بنائی جارہی ہے۔ صوبے کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی کے قیام پر کام جاری ہے صوبے کی اولین مائنز اینڈ منرلز یونی ورسٹی کے نوکنڈی میں قیام کی فزیبلٹی سٹڈی پر کام کیا جارہا ہے۔ کوئٹہ میں سریاب روڈ کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ بھی پلان کا حصہ ہے جس پر ابتدائی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ سکلیجی ڈیم کی فزیبلٹی سٹڈی کی جارہی ہے جبکہ وندر ڈیم پر کام شروع کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ درمیانے اور چھوٹے ڈیمز بھی وفاقی منصوبوں میں شامل ہیں جبکہ مختلف اضلاع میں بجلی کی ترسیل کی بہتر ی کے لئے گرڈ سٹیشن بھی بنائے جارہے ہیں وزارت دفاعی پیداوار کی جانب سے بلوچستان کی پہلی شپ یارڈ گوادر میں قائم کی جارہی ہے یہ معاہدہ ایکویٹی کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ حکومت بلوچستان نے اس کے لئے زمین فراہم کی ہے اور وہ اس منصوبے میں حصے دار بھی ہوگی۔ 


تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں محکمہ تعلیم نے صوبے میں تیس کے لگ بھگ ریزیڈینشیل سکولوں اور کالجو ں کے قیام کا ورکنگ پیپر تیار کرلیا ہے جبکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سات کے قریب گرلز کیڈٹ کالجز پاک فوج کے تعاون سے  بنانے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔پاک فوج کے تعاون سے نسٹ یونی ورسٹی کا کوئٹہ میں کیمپس تعمیر کیا جارہا ہے،ایک درجن سے زائد گرلز اور بوائز کالجز مختلف اضلاع میں بنائے جارہے ہیں۔


بلوچستا ن حکومت کے اہم منصوبے  
بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کے برعکس ترقیاتی سکیموں کی منظوری کے لئے ایک مربوط نظام پر عمل کا آغاز کیا ہے جہاں کانسیپٹ پیپر یا ضروری جانچ پڑتال کے بغیر کسی سکیم کو پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت نے تمام اضلاع اور سیکٹرز جو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، انہیں اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ بلوچستان میں جن سیکٹرز کو اہمیت دی گئی ہے ان میں روڈ نیٹ ورک، صحت، تعلیم آبنوشی و آبپاشی کیساتھ ساتھ لائیو اسٹاک، فشریز، زراعت اور مائنز اینڈ منرلز شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ وفاقی منصوبوں کیساتھ صوبائی منصوبوں اور ان کی اہمیت کا لنک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں صوبے میں بڑی شاہراہیں وفاقی منصوبوں کا حصہ ہیں، وہیں بین الاضلاع شاہراہوں کو صوبائی منصوبوں میں فوقیت دی گئی ہے جبکہ ایسی شاہراہوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے جن سے عوام کی رسائی تفریحی مقامات پر آسان ہو اور دوسری جانب مائنز اینڈ منرلز سمیت جن شعبوں میں بلوچستان کی استعداد کار اچھی ہے ان شعبوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بھی سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا دعویٰ ہے کہ ڈھائی ہزار کلومیٹر سڑکیں صوبائی حکومت بنا رہی ہے جبکہ ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سڑکیں بنانے کی پلاننگ پر کام جاری ہے۔ بلوچستان کے میگا پراجیکٹ کچھی کینال کا فیز ون مکمل ہوچکا ہے فیز ٹو کے کام کا آغاز وفاقی حکومت نے کرنا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے فیز کے کمانڈ ایریا کو قابل کاشت بنانے کے لئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے جس سے سبی نصیر آباد ڈویژن جو صوبے کا گرین بیلٹ کہلاتا ہے، وہاں زرعی استعمال کے لئے پانی کی قلت ختم ہوگی اور کسان خوشحال ہونگے جبکہ بارانی علاقوں میں ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کیساتھ ساتھ ٹنل فارمنگ کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ خضدار میں ایم ایٹ میں ونگو کے مقام پر ٹریفک کی روانی کی بہتری کے لئے پہاڑوں کے بیچ سے ٹنل بنانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ ڈھاڈر سے گنداواہ روڈ پر بھی کام کیا جائے گا۔ بلیدہ کو تربت سے ملانے کے لئے جاری پراجیکٹ جو گزشتہ کئی سالوں سے تعطل کا شکار تھا، اس کے کام کی رفتار تیزکردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اہم شاہراہوں کی ترقی و توسیع کا کام کیا جارہا ہے کیونکہ جب تک بلوچستان میں بڑی ہائی ویز اور چھوٹی سڑکیں نہیں بنتی، ترقی کا پہیہ تیزی سے نہیں چل سکتا ۔ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں محکمہ تعلیم نے صوبے میں تیس کے لگ بھگ ریزیڈینشیل سکولوں اور کالجو ں کے قیام کا ورکنگ پیپر تیار کرلیا ہے جبکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سات کے قریب گرلز کیڈٹ کالجز پاک فوج کے تعاون سے  بنانے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔پاک فوج کے تعاون سے نسٹ یونی ورسٹی کا کوئٹہ میں کیمپس تعمیر کیا جارہا ہے،ایک درجن سے زائد گرلز اور بوائز کالجز مختلف اضلاع میں بنائے جارہے ہیں، تربت اور لورالائی میں پہلا گرلز بورڈنگ سکول قائم کیا جارہا ہے صحت کے شعبے میں پاک فوج کے تعاون سے صوبے کا پہلا کارڈیک انسٹی ٹیوٹ بنانے کے کام کا آغاز کیا جارہا ہے جبکہ صوبے کے پہلے کینسر ہسپتال پر کام شروع ہوچکا ہے  اسی انڈس ہسپتال کے تعاون سے شیخ زید ہسپتال میں پیڈز آنکالوجی کا وارڈ قائم کیا جارہا ہے جرمنی کے اشتراک سے قائم چلڈرن ہسپتال کا مکمل کنٹرول بلوچستان حکومت نے سنبھال لیا ہے اور اسے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کا درجہ دیدیا گیا ہے۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں گائناکالوجی کا سینٹر آف ایکسی لینس بنایا جارہا ہے۔ نیفرالوجی انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ صوبے کے آٹھ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو ٹیچنگ ہسپتالوں کا درجہ دیکر تین نئے میڈیکل کالجز کو مکمل کرنے پر کام جاری ہے جس میں تربت کا ہسپتال پنجاب حکومت بنا کر دے رہی ہے۔ کوئٹہ میں قائم فاطمہ جناح ہسپتا ل کی توسیع پر کام کیا جارہا ہے کیونکہ کرونا کی صورتحال میں یہ صوبے کا واحد ہسپتال تھا جس نے فرنٹ لائن ہسپتال کے طور پر کام کیا تھا۔ صوبے کے جو اضلاع بہتر ریونیو فراہم کرتے ہیں ان کے لئے ایک علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکج تیار کیا جارہاہے تاکہ ان کی ریونیو جنریشن کی استعداد کار کو مزید بڑھایا جائے ۔مائنز اینڈ منرلز کے شعبے کی ترقی کے لئے جہاں نوکنڈی میں یونیورسٹی کے قیام کا وفاقی منصوبہ فزیبلٹی کے مراحل میں ہے، وہیں دالبندین میں آئرن پروسیسنگ پلانٹ، قلعہ سیف اللہ میں کروم کا پروسسنگ پلانٹ، بیلہ میں  بیریٹ کا کرشنگ پلانٹ، دالبندین بیلہ خضدار اور لورالائی میں ماربل پلانٹس کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے جبکہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایک سو ملین کی لاگت سے ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹرز کا قیام کوئٹہ خضدار خاران لورالائی اور گوادر میں عمل میں لایا جارہا ہے ،ایک سو ملین روپے کی لاگت سے ویمن بازار کوئٹہ خضدار خاران اور لورالائی اور گوادر میں قائم کئے جارہے ہیں۔ 
چھ سو ملین کی لاگت سے ورکنگ ویمن ہاسٹلز تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں قائم کئے جارہے ہیں۔ ویمن سینٹرز اور شیلٹرز ہوم ڈویژنل لیول پر پہلے مرحلے میں کیچ نصیر آباد اور لورالائی میں قائم کئے جارہے ہیں جینڈر ایکوالیٹی اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کا ترمیمی مسودہ منظور اور نافذ کیا جاچکا ہے۔ محکمہ ماہی گیری، ساحلی سیاحت و ترقی کے شعبے میں پانچ سو ملین کی لاگت سے بلوچستان گرین بوٹ سکیم متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت 92 چھوٹی فائبر کشتیاں ماہی گیروں کو فراہم کی جائیںگی ڈیڑھ سو ملین کی لاگت سے بلوچستان کی ساحلی پٹی کا ماسٹر پلان تیار کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر آٹھ بوٹ ریپئر ورکشاپس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ایک ہزار ملین کی لاگت سے ساحلی پٹی پر دو سیاحتی مقامات بنائے جارہے ہیں جس کے لئے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ پانچ کے قریب بیچ پارکس کا قیام بلوچستان کی ساحلی پٹی پر گڈانی اورماڑہ پسنی اور حیوانی میں قائم کئے جارہے ہیں ۔بلوچستان کے ماہی گیروں کے لئے فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا بلوچستان کی پہلی فشریز پالیسی کی تیاری پر کام جاری ہے ۔
پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور ترقی کے سفر میں ہم قدم 
 بلوچستان میں پاک فوج اور ایف سی نے بیرونی سرحدوں کے ساتھ صوبے کے اندر موجود شرپسندوں کی صرف بیخ کنی نہیں کی بلکہ بلوچستان کی ترقی کے لئے اہم منصوبوں کو اپنی سطح پر یا پھر وفاقی و صوبائی حکومت کو تعاون فراہم کرکے مختلف پراجیکٹس کی تکمیل اور انہیں کامیابی سے چلانے کی ذمے داری بھی اٹھا رکھی ہے جن میں بلوچستان کے دو بڑے اہم شہروں کے سیف سٹی منصوبے شامل ہیں۔
 کوئٹہ سیف سٹی منصوبہ، گوادر سیف سٹی منصوبہ جبکہ کمیونی کیشن اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ ان میں ایم ایٹ کی تعمیر وفاق پاکستان کا منصوبہ تربت بلیدہ روڈ کی تعمیر کلئیرنگ الائننگ اور ایکسٹینشن سبزل روڈ کوئٹہ سبی رکھنی روڈ شامل ہیں جبکہ تعلیم کے شعبے میں نسٹ کیمپس کوئٹہ کا قیام، کیڈٹ کالج آوارا ن، کیڈٹ کالج تربت، کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آ ف میڈیکل سائنسز میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر، تکنیکی تعلیم کے شعبے میں اپ لفٹ گورنمنٹ بوائز پولی ٹیکنیک خانوزئی ،اپ لفٹ گورنمنٹ بوائز پولی ٹیکنیک مسلم باغ، اپ لفٹ گورنمنٹ بوائز پولی ٹیکنیک کوئٹہ، اپ لفٹ گورنمنٹ گرلز پولی ٹیکنیک کوئٹہ صحت کے شعبے میں صوبے کے پہلے کارڈیک سینٹر کا قیام چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی دلچسپی سے ہونے جارہا ہے جس کا ایک سینٹر صوبائی حکومت خضدار میں بنانے کی خواہاں ہے ۔اپ گریڈیشن آف سینار کینسر ہسپتال کوئٹہ، اپ لفٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال آواران ، خضدار، پنجگور ، ژوب  کی ذمہ داری بھی پاک فوج نے اٹھائی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے ڈیٹ پراسسنگ پلانٹ تربت اور پنجگور کا قیام اور انہیں فنکشنل کرنے کی ذمے داری چمن بارڈر ٹرمینل کا قیام بھی شامل ہے۔ مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں کول مائن دکی اور چمالانگ کامیابی سے کام کررہے ہیں۔ آبپاشی و آبنوشی کے شعبے میں کچھی کنال اورپٹ فیڈر کنال مرمت و  توسیع ڈی سیلینیشن پلانٹ سربندر گوادر کو آپریشنل بنانے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے واٹر سپلائی سکیم آواران کا کام کیا جارہا ہے جبکہ ویلفیئر پروجیکٹس متعدد سرکاری سکولوں، بیسک ہیلتھ یونٹس کی تزئین و آرائش اور تحصیل اور اضلاع کی سطح پر کھیلوں کے میدان کی تزئین و آرائش کے متعدد منصوبے مکران رخشان جھالاوان کے علاقوں میں مکمل کئے گئے اور دور افتادہ اضلاع میں فری میڈیکل کیمپس کا قیام وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے  تاکہ عوام کو سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔
  پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں ترقی کے اس سفر کی کامیابی کے لئے قربانیاں دینے والے پاکستان کے ان سویلینز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ہر گز نہ بھلائیں۔ آج جس امن کا قیام ہوا ہے اور ترقی کے سفر میں جس سمت کا تعین ہوا ہے وہاں راستوں کی آبیاری ان کے  لہوسے ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر قومی ومقامی اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 147مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP